Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2708

2708 - فَحَدَّثْنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، قَالَ: قَرَأَ عَلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَهُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا، فَإِنْ نُكِحَتْ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا، فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ»

یحیی بن ایوب کی سند کے ہمراہ بھی مذکورہ حدیث منقول ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى الدِّمَشْقِيَّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ← قَرَأَ عَلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ وَأَنَا أَسْمَعُ، ← فَحَدَّثْنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ،

Hadith 2708

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2709

2709 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» فَقَدْ صَحَّ وَثَبَتَ بِرِوَايَاتِ الْأَئِمَّةِ الْأَثْبَاتِ سَمَاعُ الرُّوَاةِ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ، فَلَا تُعَلَّلُ هَذِهِ الرِّوَايَاتُ، بِحَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَسُؤَالِهِ ابْنَ جُرَيْجٍ عَنْهُ وَقَوْلِهِ: إِنِّي سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ فَقَدْ يَنْسَى الثِّقَةُ الْحَافِظُ الْحَدِيثَ بَعْدَ أَنْ حَدَّثَ بِهِ، وَقَدْ فَعَلَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ حُفَّاظِ الْحَدِيثِ "، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: وَذُكِرَ عِنْدَهُ أَنَّ ابْنَ عُلَيَّةَ يَذْكُرُ حَدِيثَ ابْنِ جُرَيْجٍ فِي: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَلَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، وَأَثْنَى عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: " إِنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ لَهُ كُتُبْ مُدَوَّنَةٌ، وَلَيْسَ هَذَا فِي كُتُبِهِ يَعْنِي حِكَايَةَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَىَ بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ فِي حَدِيثِ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» الَّذِي يَرْوِيهِ ابْنُ جُرَيْجٍ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ ابْنَ عُلَيَّةَ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ فَقَالَ: لَسْتُ أَحْفَظُهُ، فَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: لَيْسَ يَقُولُ هَذَا إِلَّا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَإِنَّمَا عَرَضَ ابْنُ عُلَيَّةَ كُتُبَ ابْنِ جُرَيْجٍ عَلَى عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ فَأَصْلَحَهَا لَهُ، وَلَكِنْ لَمْ يَبْذُلْ نَفْسَهُ لِلْحَدِيثِ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: قَالَ لِيَ الزُّهْرِيُّ: إِنَّ مَكْحُولًا يَأْتِينَا، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، وَلَعَمْرُ اللَّهِ إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى لَأَحْفَظُ الرَّجُلَيْنِ قَالَ الْحَاكِمُ: «رَجَعْنَا إِلَى الْأَصْلِ الَّذِي لَمْ يَسَعِ الشَّيْخَيْنِ إِخْلَاءُ الصَّحِيحَيْنِ عَنْهُ، وَهُوَ حَدِيثُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةِ، عَنْ أَبِي مُوسَى»

مذکورہ سند کے ہمراہ بھی سابقہ حدیث منقول ہے۔ قابل اعتماد دائمہ حدیث کی روایت سے اس حدیث کے تمام راویوں کا ایک دوسرے سے سماع ثابت ہوچکا ہے۔لہذا یہ روایت ابن علیہ کی حدیث اور ابن جریح سے سوال اور ان کے اس قول کے (میں نے ظاہری سے اس روایت کے متعلق پوچھا تو نہ پہچان سکے تو ایک ثقہ حافظ الحدیث روایت بیان کرنے کے بعد بھول گیا ) کی وجہ سے معلل قرار نہیں دی جا سکتی ۔ کیونکہ یہ فعل تو متعدد حافظ الحدیث راویوں سے ثابت ہے۔(امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: )ہمیں حسین بن حسن بن ایوب نے بتایا کہ ابو حاتم محمد بن ادریس رازی نے امام احمد بن حنبل کا یہ قول نقل کیا ہے: ان کے ہاں یہ گفتگو ہوئی کہ ابن علیہ ابن جریج کے حوالے سے یہ حدیث ’’ لا نکاح الا بولی ‘‘ بیان کرتے ہیں۔ جبکہ ان جریح کا کہنا ہے۔ کہ میں خود زہری سے ملا اور ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو وہ اس کو نہ پہچان سکے تاہم انہوں نے سلیمان بن موسی کی تعریف ۔کی امام احمد بن حنبل نے کہا: ابن جریح کی کتابیں مدون ہو چکی ہے۔ یہ ا بن علیہ کی ابن جریح کے حوالے سے سے جو حکایت ہے۔ یہ ان میں موجود نہیں ہے۔ میں نےیحیی بن معین نے ’’لا نکاح الا بولی ‘‘ والی حدیث کے متعلق فرمایا: یہ وہی ہے۔ جس کو ابن جریح روایت کرتے ہیں ۔میں نے ان سے کہا: ابن علیہ فرماتے ہیں: کہ ابن جریر نے کہا: میں نے زہری سے پوچھا تو وہ بولے مجھے یاد نہیں ، تو یحییٰ بن معین بولے ، یہ قول ابن علیہ کے سوا اور کسی کا ہو ہی نہیں سکتا ، اور ابن علیہ نے ابن جریح کی کتابیں عبد المجید بن عبد العزیز بن ابی رواد کے سامنے پیش کی تو انہوں نے کتابوں کی اصلاح کردی لیکن حدیث کے لئے خود محنت نہیں کی ۔ شعیب بن ابو حمزہ فرماتے ہیں: مجھے زہری نے بتایا کہ ہمارے پاس مکحول اور سلیمان بن موسی دونوں آیا کرتے تھے تھے لیکن سلیمان بن موسی دونوں میں زیادہ حافظہ کے مالک تھے۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اب ہم اپنی اصل کی طرف لوٹ آتے ہیں جس سے صحیحین کو خالی رکھنے کی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے پاس کوئی گنجائش نہیں ہے۔ وہ ابواسحاق کیا بوالبردہ کے حوالے سے ابوموسی سے روایت کردہ حدیث ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے۔)

أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ← أَنَّ عُرْوَةَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أبو يحيى أحمد بن محمد السمرقندي، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ إسماعيل بن قتيبة

Hadith 2709

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2710

2710 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، وَأَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو قِلَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، وَأَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَاقَرْحِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» قَدْ جَمَعَ النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ بَيْنَ الثَّوْرِيِّ وَشُعْبَةَ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَوَصَلَهُ عَنْهُمَا وَالنُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ «وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ عَلَى حِدَةٍ، وَعَنْ شُعْبَةَ عَلَى حِدَةٍ، فَوَصَلُوهُ، وَكُلُّ ذَلِكَ مُخَرَّجٌ فِي الْبَابِ الَّذِي سَمِعَهُ مِنِّي أَصْحَابِي، فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنْ إِعَادَتِهِمَا، فَأَمَّا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الثِّقَةُ الْحِجَّةُ فِي حَدِيثِ جَدِّهِ أَبِي إِسْحَاقَ فَلَمْ يَخْتَلِفِ عَنْهُ فِي وَصْلِ هَذَا الْحَدِيثِ»

حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔نعمان بن عبدالسلام نے اس حدیث کی سند میں ثوری اور شعبہ دونوں کا ذکر کیا ہے۔ اور دونوں کے حوالے سے حدیث کو متصل کیا ہے۔ اور نعمان بن عبدالسلام ثقہ ہیں ۔ مامون ہیں اور ثقہ راویو ں کی پوری ایک جماعت ہے۔ جس نے اس حدیث کو ثوری سے الگ کیا اور شعبہ سے الگ روایت کیا اور علیحدہ علیحدہ دونوں حدیثوں کو متصل کیا اور یہ تمام اس باب میں مذکور ہیں۔ جس میں وہ احادیث جمع کی گئی ہیں ۔ جن کو میرے شاگردوں نے مجھ سے سنا ہے۔ اس لئے ان کے لئیے اعادہ کی چنداں ضرورت نہیں۔ اسرائیل بن یونس بن ابو اسحاق ثقہ ہے۔ اور اپنے دادا ابو اسحاق کی روایت میں حجت ہے۔ اس لیے اس حدیث کے وصل کے سلسلے میں ان سے کوئی اختلاف ثابت نہیں ہو سکا۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شعبة وسفيان الثوري، ← النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ ← مخلد بن جعفر الباقرحي، ← أبو قلابة بن عبد الملك بن محمد الرقاشي ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، وَأَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Hadith 2710

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2711

2711 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، الْفَقِيهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، الْفَقِيهُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحَارِثِيُّ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» هَذِهِ الْأَسَانِيدُ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ، وَقَدْ عَلَوْنَا فِيهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ، وَقَدْ وَصَلَهُ الْأَئِمَّةُ الْمُتَقَدِّمُونَ الَّذِينَ يَنْزِلُونَ فِي رِوَايَاتِهِمْ، عَنْ إِسْرَائِيلَ مِثْلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَوَكِيعٌ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ وَيَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ وَغَيْرُهُمْ، وَقَدْ حَكَمُوا لِهَذَا الْحَدِيثِ بِالصِّحَّةِ " سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ أَحْمَدَ بْنَ سَهْلٍ الْفَقِيهَ بِبُخَارَى، يَقُولُ: سَمِعْتُ صَالِحَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يَقُولُ: «كَانَ إِسْرَائِيلُ يَحْفَظُ حَدِيثَ أَبِي إِسْحَاقَ كَمَا يَحْفَظُ الْحَمْدَ» سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ بْنَ مَنْصُورٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى يَقُولُ: «كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ يُثْبِتُ حَدِيثَ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ يَعْنِي فِي النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ» حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا حَاتِمُ بْنُ يُونُسَ الْجُرْجَانِيُّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيِّ: مَا تَقُولُ فِي النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ؟ فَقَالَ: «لَا يَجُوزُ» قُلْتُ: مَا الْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالَ: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قُلْتُ: فَإِنَّ الثَّوْرِيَّ، وَشُعْبَةَ يُرْسِلَانِ، قَالَ: فَإِنَّ إِسْرَائِيلَ قَدْ تَابَعَ قَيْسًا، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَبَلَةَ، سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ: حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ صَحِيحٌ فِي «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ بْنَ مَنْصُورٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الْإِمَامَ، يَقُولُ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى عَنْ هَذَا الْبَابِ، فَقَالَ: حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ صَحِيحٌ عِنْدِي فَقُلْتُ لَهُ: رَوَاهُ شَرِيكٌ أَيْضًا فَقَالَ: مَنْ رَوَاهُ؟ فَقُلْتُ: حَدَّثَنَا بِهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَقُلْتُ لَهُ: رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ، «هَكَذَا رَوَيَاهُ، وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا يُحَدِّثُونَ بِالْحَدِيثِ فَيُرْسِلُونَهُ، حَتَّى يُقَالَ لَهُمْ عَمَّنْ فَيُسْنِدُونَهُ» سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ: أَحَبُّ إِلَيْكَ أَوِ ابْنُهُ إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ؟ فَقَالَ: «كُلٌّ ثِقَةٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2711 - صحيح

مذکورہ متعدد سندوں کے ہمراہ ابو موسی کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے۔ کہ ’’ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا‘‘ ۔ یہ تمام سند یں صحیح ہے۔ ان میں اسرائیل کے حوالے سے ہماری سند ‘’عالی ‘‘ ہے۔ اور اس کو متقدمین ائمہ حدیث نے متصل کیا ہے۔ جن کی اسرائیل کے حوالے سے سند ’’عالی ‘‘نہیں ہے۔ مثلا عبدالرحمن بن مہصدی ، وکیع ، یحیی بن آدم ، یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور دیگر محدثین نے ان سب نے اس حدیث کے صحیح ہونے کا فیصلہ دیا ہے۔ عبدالرحمن بن محصدی کا کہنا ہے۔ کہ اسرائیل کو ابو اسحاق کی روایت فاتحہ کی طرح یاد ہوتی تھیں۔ابوالحسن منصور نے ابوبکر محمد بن اسحاق کے حوالے سے ابو موسی کا یہ قول نقل کیا ہے۔ عبدالرحمن بن مہدی ’’ بغیر ولی کے نکاح ‘‘ کے متعلق اسرائیل کی ابو اسحاق سے روایت کردہ احادیث پر زیادہ اعتماد لیا کرتے تھے۔ حاتم بن یونس جرجانی فرماتے ہیں: میں نے ابو الولیدالطیالیسی سے کہا: ’’بغیر ولی کے نکاح ‘‘ کے متعلق آپ کا کیا موقف ہے؟انہوں نے کہا: جائز نہیں ہے۔ میں نے کہا: اس کی دلیل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: قیس بن ربیع کے ابو اسحاق سے ذریعے ابوبردہ کے واسطے سے ان کے والد سے مروی حدیث ۔میں نے کہا: ثوری اور شعبہ تو ارسال کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا: کہ اسرائیل نے قیس کی متابعت کی ہے۔ علی بن مدینی فرماتے ہیں: کہ ’’لا نکاح الا بولی ‘‘کے متعلق اسرائیل کی حدیث صحیح ہے۔ ابوبکر محمد بن اسحاق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس سلسلے میں محمد بن یحییٰ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: کہ میرے نزدیک اسرائیل کی حدیث صحیح ہے۔ ہے۔ میں نے کہا: اس کو شریک نے بھی روایت کیا ہے۔ انہوں نے پوچھا آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی ؟ میں نے کہا: علی بن حجر نے ۔ میں نے اور میں نے ان سے یونس کی ابو اسحاق سے روایت کردہ حدیث کا بھی ذکر کیا اور ان سے کہا: کہ اس کو شعبہ اور ثوری نے ابو اسحاق کے ذریعے ابو بردہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں ! ان دو نوں نے ایسے ہی روایت کی ہے۔ لیکن وہ حدیث روایت کرتے ہوئے ارسال کرتے ہیں ۔ اور جب ان سے پوچھا جائے کہ تم مجھے یہ حدیث کس کے حوالے سے بیان کرتے ہو تو وہ اس کی سند بیان کرتے ہیں۔ ابو الحسن احمد بن محمد الغزی ، عثمان بن سعید الدارمی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین سے پوچھا : آپ یونس بن ابی اسحاق کو زیادہ اچھا سمجھتے ہیں یا ان کے بیٹے اسرائیل بن یونس کو ؟ تو انہوں نے جواب دیا دونوں ہی ثقہ ہیں۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحَارِثِيُّ، ← إِسْرَائِيلُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، الْفَقِيهُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ الْحِمْصِيُّ ← أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْواسِطِيُّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، الْفَقِيهُ ← اِسْرَائِیْلُ ← هِشَامُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، ← الفضل بن عبد الجبار ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Hadith 2711

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2712

2712 - حَدَّثَنَا بِحَدِيثِ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» وَقَدْ وَصَلَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بَعْدَ هَؤُلَاءِ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ، وَأَبُو عَوَانَةَ الْوَضَّاحُ «وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ النَّقْلِ عَلَى تَقَدُّمِهِمَا وَحِفْظِهِمَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2712 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔ان تمام کے بعد یہ حدیث زہیر بن معاویہ الجعفی اور ابو عوانہ الوضاح نے ابو اسحاق سے روایت کی ہے۔ اور اس میں وصل کیا ہے۔ اور تمام اہل نقل ان دونوں کے حافظے اور ان کے ’’تقدم ‘‘پر متفق ہیں۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← أبو الوليد محمد بن أحمد بن برد الأنطاكي ← بِحَدِيثِ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي،

Hadith 2712

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2713

2713 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمَيْحٍ النَّخَعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ هَاشِمٍ الْكَاغَذِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ: «إِذَا وَجَدْتَ الْحَدِيثَ مِنْ وَجْهِ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَلَا تَعُدْ إِلَى غَيْرِهِ، فَإِنَّهُ مِنْ أَثْبَتِ النَّاسِ حَدِيثًا»

حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولی کی اجازت کے بغیر ر نکاح نہیں ہوتا ۔امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: جب کوئی حدیث زھیربن معاویہ کے سندکے ہمراہ مل جائے پھر حدیث کی کوئی سند ڈھونڈ نے کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ حدیث کے اعتبار سے یہ سب سے زیادہ قابل اعتماد ہیں

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← محمد بن إسحاق الإمام، ← فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ،

Hadith 2713

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2714

2714 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ مُكْرَمٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَوَكِيعٌ، وَغَيْرُهُمَا، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ وَقَدْ وَصَلَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، جَمَاعَةٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ غَيْرُ مَنْ ذَكَرْنَاهُمْ مِنْهُمْ: أَبُو حَنِيفَةَ النُّعْمَانُ بْنُ ثَابِتٍ، وَرَقَبَةُ بْنُ مَصْقَلَةَ الْعَبْدِيُّ، وَمُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ الْحَارِثِيُّ، وَعَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَغَيْرُهُمْ، «وَقَدْ ذَكَرْنَاهُمْ فِي الْبَابِ، وَقَدْ وَصَلَهُ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ جَمَاعَةٌ غَيْرُ أَبِي إِسْحَاقَ»

حضرت ابو عوانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اسحاق کے واسطے سے ابوبردہ کے ذریعے ان کے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے۔ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ۔اس حدیث کو عبدالرحمان مہدی وکیع اور دیگر محدثین نے بھی ابو عوانہ سے روایت کہا ہے۔ اور متقدمتہ الذکر محدثین کے علاوہ ائمہ مسلمین کی ایک جماعت ہے۔ جس نے اس حدیث کو ابو اسحاق سے متصلاً روایت کیا ہے۔ اور ان میں سے بعض کے اسماء درج ذیل ہے۔ نعمان بن ثابت ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ ، رقبہ بن مصقلہ عبدی ، مطرف بن طریف الحارثی ، عبدالحمید بن حسن الھلالی ، زکریا بن ابی زائدہ اور دیگر محدثین ۔اور ایک جماعت نے اس کو ابو اسحاق کی بجائے ابوبردہ سے روایت کیا ہے۔ اور اس میں وصل کیا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل ہے۔

أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو بكر بن ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Hadith 2714

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2715

2715 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، الْفَقِيهُ ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيِّ»

حضرت یونس بن ابو اسحاق رضی اللہ تعالی عنہ نے ابوبردہ کے ذریعے ابوموسی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے۔’’ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہو تا‘‘

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Hadith 2715

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2716

2716 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الضُّبَعِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» قَالَ ابْنُ عَسْكَرٍ: فَقَالَ لِي قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ: " جَاءَنِي عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ فَسَأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثْتُهُ بِهِ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَدِ اسْتَرَحْنَا مِنْ خِلَافِ أَبِي إِسْحَاقَ "، قَالَ الْحَاكِمُ: «لَسْتُ أَعْلَمُ بَيْنَ أَئِمَّةِ هَذَا الْعِلْمِ خِلَافًا عَلَى عَدَالَةِ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، وَإِنَّ سَمَاعَهُ مِنْ أَبِي بُرْدَةَ مَعَ أَبِيهِ صَحِيحٌ، ثُمَّ لَمْ يَخْتَلِفْ عَلَى يُونُسَ فِي وَصْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، فَفِيهِ الدَّلِيلُ الْوَاضِحُ أَنَّ الْخِلَافَ الَّذِي وَقَعَ عَلَى أَبِيهِ فِيهِ مِنْ جِهَةِ أَصْحَابِهِ، لَا مِنْ جِهَةِ أَبِي إِسْحَاقَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ» وَمِمَّنْ وَصَلَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ نَفْسِهِ وَأَبُو حُصَيْنٍ عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الثَّقَفِيُّ

مذکورہ سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ ابن عسکر فرماتے ہیں: مجھے قبیصہ بن عقبہ نے بتایا کہ میرے پاس علی بن المدینی آئے اور انہوں نے مجھ سے اس حدیث کی بابت دریافت کیا تو میں نے ان کو یہ حدیث بیان کردی ، تو علی بن المدینی نے کہا: مجھے ابو اسحاق کے اختلاف سے اب اطمینان ہے۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کے اس فن کے علماء میں یونس بن ابو اسحاق کی عدالت میں کوئی اختلاف ہو ۔نیز ابوبر دہ اور ان کے والد سے ان کا سماع صحیح ہے۔ پھر یونس پر وصل میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس حدیث میں یہ واضح دلیل موجود ہے۔ کہ اس میں ان کے والد پر جو اختلاف ہے۔ وہ ان کے شاگردوں کے اعتبار سے ہے۔ نہ کہ ابواسحاق کے اعتبار سے اور جنہوں نے اس حدیث کو ابوبردہ سے متصلاً روایت کیا ہے۔ وہ ایک خود ہیں۔ اور دوسرے ابو حصین عثمان بن عاصم الثقلی۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے۔)

عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَدِ اسْتَرَحْنَا مِنْ خِلَافِ أَبِي إِسْحَاقَ ← هذا الحديث فحدثته به ← لي قبيصة بن عقبة جاءني علي بن المديني فسألني ← ابْنُ عَسْكَرٍ ← لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الضُّبَعِيُّ،

Hadith 2716

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2717

2717 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ خَلِيفَةَ بْنِ حَسَّانَ الْأَيْلِيُّ بِالْأَيْلَةَ وَصَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ الْأَزْهَرِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو شَيْبَةَ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الطَّبِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» فَقَدِ اسْتَدْلَلْنَا بِالرِّوَايَاتِ الصَّحِيحَةِ، وَبِأَقَاوِيلِ أَئِمَّةِ الْعِلْمِ عَلَى صِحَّةِ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى، بِمَا فِيهِ غَنِيَّةٌ لِمَنْ تَأَمَّلَهُ " وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ، وَالْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَأَكْثَرُهَا صَحِيحَةٌ، وَقَدْ صَحَّتِ الرِّوَايَاتُ فِيهِ عَنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ

حضرت ابو حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابوبردہ کے واسطے سے ابو موسی کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے ’’ لا نکاح الا بولی ‘‘۔ ہم روایت صحیحہ اور اس فن کے متجر علماء کے قول سے ابو موسی کی روایت کی صحت پر استدلال کیا ہے جس میں غور و فکر کا ذہن رکھنے والوں کے لیے کافی فائدہ موجود ہے ۔ اس باب میں علی ابن ابی طالب ، عبد اللہ بن عباس ، معاذ بن جبل ، عبداللہ بن عمر ، ابوذر غفاری ، مقداد بن اسود د ، عبداللہ بن مسعود ، جابر بن عبد اللہ ، عمران بن حصین ، عبداللہ بن عمرو ، مسور بن مخرمہ ، اور انس بن مالک (رضو ان اللہ علیہم اجمعین ) سے بھی روایت منقول ہیں۔ ان میں سے اکثر صحیح ہیں ۔اور اس سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ازواج عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ ،ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ اور زینب بنت حجش رضی اللہ تعالی عنہا کی صحیح روایات بھی منقول ہیں ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← خالد بن يزيد الطبيب، ← أبو شيبة بن أبي بكر بن أبي شيبة، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَزْهَرِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ خَلِيفَةَ بْنِ حَسَّانَ الْأَيْلِيُّ

Hadith 2717

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2718

2718 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً - فِي رَجَبٍ سَنَةَ ثَمَانٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ - ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا رَبِيعَةُ، أَلَا تَتَزَوَّجُ؟» قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ، مَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ الْمَرْأَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْكَ شَيْءٌ، قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ قَالَ لِي بَعْدَ ذَلِكَ: «يَا رَبِيعَةُ، أَلَا تَتَزَوَّجُ؟» قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ، وَمَا عِنْدِي مَا يُقِيمُ الْمَرْأَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ يَشْغَلَنِي عَنْكَ شَيْءٌ، فأعرض عني، قَالَ: ثم رَاجَعْتُ نَفْسِي فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْتَ أَعْلَمُ بِمَا يُصْلِحُنِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، قَالَ: وَأَنَا أَقُولُ فِي نَفْسِي: لَئِنْ قَالَ لِي الثَّالِثَةَ لَأَقُولَنَّ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ لِيَ الثَّالِثَةَ: «يَا رَبِيعَةُ أَلَا تَتَزَوَّجُ؟» قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِمَا شِئْتَ أَوْ بِمَا أَحْبَبْتَ قَالَ: " انْطَلِقْ إِلَى آلِ فُلَانٍ، إِلَى حَيٍّ مِنَ الْأَنْصَارِ، فِيهِمْ تَرَاخي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْ لَهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُكُمُ السَّلَامَ، وَيَأْمُرُكُمْ أَنْ تُزَوِّجُوا رَبِيعَةَ فُلَانَةً - امْرَأَةً مِنْهُمْ - "، قَالَ: فَأَتَيْتُهُمْ فَقُلْتُ لَهُمْ ذَلِكَ قَالُوا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ لَا يَرْجِعُ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِحَاجَتِهِ، قَالَ: فَأَكْرَمُونِي وَزَوَّجُونِي وَأَلْطَفُونِي، وَلَمْ يَسْأَلُونِي الْبَيِّنَةَ، فَرَجَعْتُ حَزِينًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُكَ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْتُ قَوْمًا كِرَامًا فَزَوَّجُونِي وَأَكْرَمُونِي وَأَلْطَفُونِي وَلَمْ يَسْأَلُونِي الْبَيِّنَةَ، فَمِنْ أَيْنَ لِيَ الصَّدَاقُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ: «يَا بُرَيْدَةُ، اجْمَعُوا لَهُ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ» قَالَ: فَجَمَعُوا لِهُ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ بِهَذَا إِلَيْهِمْ، وَقُلْ هَذَا صَدَاقُهَا» فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِمْ، فَقُلْتُ: هَذَا صَدَاقُهَا، قَالَ: فَقَالُوا: كَثِيرٌ طَيِّبٌ، فَقَبِلُوا وَرَضُوا بِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: مِنْ أَيْنَ أُولِمُ؟ قَالَ: فَقَالَ: «يَا بُرَيْدَةُ اجْمَعُوا لَهُ فِي شَاةٍ» قَالَ: فَجَمَعُوا لِهُ فِي كَبْشٍ سَمِينٍ، قَالَ: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلِ: انْظُرِي إِلَى الْمِكْتَلَ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ فَابْعَثِي بِهِ " قَالَ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ لَهَا ذَاكَ، فَقَالَتْ: هَا هُوَ ذَاكَ الْمِكْتَلُ فِيهِ سَبْعَةُ آصُعٍ مِنْ شَعِيرٍ، وَاللَّهِ إِنْ أَصْبَحَ لَنَا طَعَامٌ غَيْرُهُ قَالَ: فَأَخَذْتُهُ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اذْهَبْ بِهَا إِلَيْهِمْ فَقُلْ: لِيُصْلَحْ هَذَا عِنْدَكُمْ خُبْزًا " قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهِ وَبِالْكَبْشِ، فَقَالَ: فَقَبِلُوا الطَّعَامَ، وَقَالُوا: اكْفُونَا أَنْتُمُ الْكَبْشَ، قَالَ: وَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ فَذَبَحُوا، وَسَلَخُوا وَطَبَخُوا، قَالَ: فَأَصْبَحَ عِنْدَنَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ، فَأَوْلَمْتُ، وَدَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا، وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا، فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ، قَالَ: وَجَاءَتِ الدُّنْيَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ فِي حَدِّي وَقُلْتُ: لَا بَلْ هِيَ فِي حَدِّي. قَالَ: فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهْتُهَا وَنَدِمَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ لِي: يَا رَبِيعَةُ قُلْ لِي مِثْلَ مَا قُلْتُ لَكَ، حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَنَا بِقَائِلٍ لَكَ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: وَاللَّهِ لَتَقُولُنَّ لِي كَمَا قُلْتُ لَكَ، حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا، وَإِلَّا اسْتَعْدَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَنَا بِقَائِلٍ لَكَ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: فَرَفَضَ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْضَ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَتْلُوَهُ، فَقَالَ أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ هُوَ الَّذِي قَالَ مَا قَالَ، وَيَسْتَعْدِي عَلَيْكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا أَبُو بَكْرٍ هَذَا ثَانِيَ اثْنَيْنِ، هَذَا ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ، إِيَّاكُمْ لَا يَلْتَفِتْ فَيَرَاكُمْ تَنْصُرُونِي عَلَيْهِ، فَيَغْضَبَ فَيَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَغْضَبَ لِغَضَبِهِ، فَيَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِهِمَا فَيَهْلِكَ رَبِيعَةُ، قَالَ: فَرَجَعُوا عَنِّي، وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَصَّ الَّذِي كَانَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا رَبِيعَةُ مَا لَكَ وَالصِّدِّيقُ؟» قَالَ: فَقُلْتُ مِثْلَ مَا قَالَ كَانَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي: قُلْ: مِثْلَ مَا قُلْتُ لَكَ فَأَبَيْتُ أَنْ أَقُولَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجَلْ، فَلَا تَقُلْ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ، وَلَكِنْ قُلْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ " قَالَ: فَوَلَّى الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَبْكِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2718 - لم يحتج مسلم بمبارك

حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا (ایک دفعہ ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ربیعہ ! تم شادی نہیں کرو گے ؟ میں نے کہا نہیں ، یار رسول اللہ میں شادی کا ارادہ نہیں رکھتا ہوں (ایک بات تو یہ ہے کہ میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ میں ایک عورت کا نان ونفقہ برداشت کر سکوں ۔(اور دوسری بات یہ ہے کہ ) میں آپ کی خدمت سے دور نہیں ہونا چاہتا ۔ (ربیعہ ) فرماتے ہیں: اس بات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا ۔ میں نے اپنے نظریہ پر نظر ثانی کی ۔ اور پھر عرض کیا یارسول اللہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ میری دنیا اور آخرت کے اعتبار سے میرے لئے کیا بہتر ہے ۔ (ربیعہ ) فرماتے ہیں: میں نے دل میں سوچا تھا کہ اب کی بار اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کے متعلق کہا تو میں حامی بھر لوں گا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا :اے ربیعہ ! کیا تو شادی نہیں کرے گا ؟ میں نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو جو پسند ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو چاہتے ہیں ، میرے لئے حکم فرمائیے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کے فلاں قبیلے والوں کے پاس چلے جاؤ ۔( یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کافی دور تھے ) ان سے کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو سلام کہاہے اور فرمایا ہے کہ تم اپنی فلاں عورت کا ربیعہ سے نکاح کر دو۔ ( ربیعہ )فرماتے ہیں: میں ان کے پاس گیا اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا ۔انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اور ان کے قاصد کو خوش آمدید ،خدا کی قسم! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو ان کی حاجت پوری کئے بغیر ہرگز واپس نہیں بھیجیں گے ۔ (ربیعہ) فرماتے ہیں: انہوں نے میری خوب خاطر مدارت اور آؤ بھگت کی اور اس خاتون کا میرے ساتھ نکاح کر دیا ۔انہوں نے میرے اوپر مہربانی کی اور مجھ سے کوئی گواہی طلب نہیں کی ۔میں بہت پریشان واپس لوٹا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے پریشان دیکھ کر )فرمایا: تجھے کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ان شریف با عزت لوگوں کے پاس گیا تھا ، انہوں نے میری بہت عزت و توقیر کی اور انہوں نے اس لڑکی کے ساتھ میرا نکاح بھی کر دیا ۔ نہ ہی انہوں نے مجھ سے کوئی گواہی کا مطالبہ کیا ۔ تو حق مہر کا بندوبست کیسے ہوگا ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: اے بریدہ اس کے لئے ایک نواۃ(سو نے کی ایک مخصوص مقدار کو کہتے ہیں جو تقریبا پانچ درہم کے برابر ہوتا ہے )سونا جمع کرو (ربیعہ ) فرماتے ہیں: انہوں نے میرے لئے ایک نواۃکے برابر سونا جمع کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سونا ان کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو: یہ اس کا حق مہر ہے ۔ میں وہ سونا لے کر گیا اور ان سے کہا: کہ یہ اس کا حق مہر ہے ۔( ربیعہ ) فرماتے ہیں: انہوں نے کہا: یہ بھی بہت ہے اور انہوں نے بہت خوش دلی کے ساتھ اسے قبول کر لیا ۔ ربیعہ فرماتے ہیں : پھر میں نے کہا کہ میں ولیمہ کا انتظام کہاں سے کروں؟ آپ ﷺنے بریدہ سے فرمایا: ایک بکری کا انتظام کرو ، انہوں نے میرے لئے ایک بہت صحت مند دودھ چھڑ ائے ہوئے ایک مینڈھے کا انتظام کر دیا ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کھانے کی ٹوکری میں جو کچھ طعام ہو وہ بھیج دیں۔ ربیعہ فرماتے ہیں: میں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گیا اور ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا ، انہوں نے ٹوکری لا کر میرے حوالے کی اور کہا: یہ ہے وہ ٹوکری اس میں سات صاع جؤ ہے ۔خدا کی قسم آج کے دن کا یہی طعام ہے ۔ ربیعہ فرماتے ہیں: میں نے ٹوکری پکڑی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو گے اس کی روٹیاں پکا لیں ۔ ربیعہ فرماتے ہیں: میں وہ جؤ اور مینڈھا لے کر ان کے پاس گیاتو انہوں نے وہ طعام قبول کر لیا اور کہا: تمہارا مینڈھا ہمارے لیے کافی ہے پھر قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے اس کو ذبح کیا اس کی کھال اتاری اور اس کو پکایا ۔ جب روٹی اور گوشت تیار ہوگیا تو میں نے ولیمہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی ۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ) وہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ زمین مجھے دی اور کچھ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو ۔ میرے اور ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے درمیان ایک پھل دار کھجور کے درخت کے متعلق اختلاف ہو گیا ۔(کیونکہ دنیا جو آگئی تھی ) ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: یہ درخت میری حدود میں ہے ،میں نے کہا: میری حدود میں ہے ۔اس دوران حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سخت جملہ بول دیا لیکن فوراً ہی نادم ہو گئے اور فرمانے لگے اے ربیعہ جو کچھ میں نے تجھے بولا ہے تم بھی مجھے ویسے ہی بولو تاکہ حساب برابر ہو جائے ۔میں نے کہا: میں آپ کے لئے بھلائی کے سوا کچھ نہیں بول سکتا ۔ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: اللہ کی قسم تمہیں کہنا پڑے گا تاکہ قصاص ہو جائے ورنہ میں تیرے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد حاصل کرو گا ۔ میں نے پھر بھی یہی جواب دیا خدا کی قسم !میں آپ کے ساتھ بھلائی کے سوا کچھ نہیں بولوں گا ۔ یہ معاملہ دیکھ کر قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ بولے : اللہ تعالی ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ پر رحم کرے ایک نا حق گفتگو کی ہے اور دوسرا تیرے خلاف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔میں نے کہا: ایسے مت بولو ۔تم جانتے ہو یہ کون ہے ؟ یہ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ، یہ ’’ثانی اثنین ‘‘ہیں۔ یہ مسلمانوں کی بزرگ شخصیت ہیں۔خبردار ! ایسے بات مت کرو کہ اگر وہ تمہیں دیکھ لیں کہ تم ان کے خلاف میری مدد کر رہے ہو تو وہ ناراض ہو جائیں گے ۔پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو ان کی ناراضگی کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ناراض ہو جائیں گے اور ان دونوں کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ تعالی ناراض ہو جائے گا تو یہ ربیعہ ہلاک ہو جائے گا ۔ ربیعہ فرماتے ہیں: میری طرف سے یہ جواب سن کر وہ لوگ واپس چلے گئے اور میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے پیچھے پیچھے چلتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچا ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے تمام قصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ سنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ربیعہ یہ تمہارے اور صدیق کے درمیان نزاع واقع ہوگیا ہے ۔ میں نے تمام واقعات سنا دیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے جو کچھ تم سے کہا: ہے تم بھی ان کو ایسے ہی کہہ لو ۔لیکن میں نے وہ بات کہنے سے انکار کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے مت بولو ، جس طرح اس نے بولا ہے لیکن یہ تو بول دو کہ اللہ تعالی ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو بخش دیں ۔ ربیعہ فرماتے ہیں: تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ وہاں سے خوف الہی میں روتے ہوئے واپس آئے۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ ← لِيَ النَّبِيُّ «يَا رَبِيعَةُ، أَلَا تَتَزَوَّجُ؟» ← «كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ ← رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2718

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2719

2719 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: 232] قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ، قَالَ: كُنْتُ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا، حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، جَاءَ يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ لَهُ: زَوَّجْتُكَ: وَفَرَّشْتُكَ، وَأَكْرَمْتُكَ فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لَا وَاللَّهِ لَا تَعُودُ إِلَيْهَا أَبَدًا. قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا لَا بَأْسَ بِهِ، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ، فَقُلْتُ: «الْآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَزَوَّجْتُهَا إِيَّاهُ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: «فِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلَالَةٌ وَاضِحَةٌ عَلَى أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ عَقْدَ النِّكَاحِ إِلَى الْأَوْلِيَاءِ دُونَهُنَّ، وَإِنَّهُ لَيْسَ إِلَى النِّسَاءِ، وَإِنْ كُنَّ ثَيِّبَاتٍ مِنَ الْعَقْدِ شَيْءُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجْهُ مُسْلِمٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2719 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت معقل بنی یسار رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت ’’ ﴿ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ ﴾ [البقرة: 232] ‘‘ ’’تو اے عورتوں کے والیوں!انہیں نہ روکو اس سے کے اپنے شوہر سے نکاح کرلیں ‘‘ (ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا )انھی کے متعلق نازل ہوئی ۔آپ فرماتے ہیں: میں نے ایک آدمی سے اپنی بہن کی شادی کر دی ۔اس نے ایک طلاق دے دی ۔جب اس کی عدت گزر گئی تو اس نے پھر پیغام نکاح بھیجا میں نے کہا: میں نے کس قدر عزت اور احترام سے تیرے ساتھ اس کی شادی کی تھی تو نے اس کو طلاق دے دی ۔ اور اب دوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے ۔نہیں ، خدا کی قسم یہ کبھی بھی تیری طرف لوٹ کر نہیں آئے گی ۔ وہ شخص بہت لاپرواہ تھا اور عورت اس کی طرف لوٹ کر جانا چاہتی تھی ۔ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرما دیں دی تو میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب میں یہ کر دیتا ہوں پھر میں نے دوبارہ اپنی بہن کا نکاح اسی کے ساتھ نکاح کر دیا ۔ ابو بکر محمد بن اسحاق فرماتے ہیں: اس حدیث میں اس بات کی واضح دلیل موجود ہے کہ اللہ تعالی نے عقد نکاح کا حق صرف عورت کے اولیاء ہی کو دیا ہے ۔اور اگر وہ عورتیں ثیبہ ہی کیوں نہ ہو ں عقد کا کچھ اختیار نہیں رکھتی ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ ← الْحَسَنِ ،فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يحيى بن أبي طالب أنبأ عبد الوهاب بن عطاء ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل،

Hadith 2719

chevron_left Previous
12345…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section