Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2696

2696 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْشٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى بَعْضِ مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ» فَخَطَبْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَكُنْتُ أَتَخَبَّأُ لَهَا فِي أُصُولِ النَّخْلِ حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا مَا دَعَانِي إِلَى نِكَاحِهَا فَتَزَوَّجْتُهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا أَخْرَجَ مُسْلِمٌ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثَ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ مُخْتَصَرًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2696 - على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم کسی عورت کو پیغام نکاح بھیجوں تو اگر اسے دیکھنا ممکن ہو تو دیکھ لو (جابر فرماتے ہیں: ) میں نے بنی سلیم کی ایک خاتون کو پیغام نکاح بھیجا ، تو میں نے درختوں کے پیچھے چھپ کر چپکے سے دیکھ لیا وہ مجھے پسند آگئی تو پھر میں نے اس سے شادی کر لی ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اسے صحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اس باب میں امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابو حازم کے حوالے سے یزید بن کیسان کی حدیث نقل کی ہے۔

جَابِرٍ ← وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ، ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عمرُ بنُ عليِّ بنِ مُقَدَّمٍ: ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرَيْشٍ،

Hadith 2696

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2697

2697 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ خَطَبَ امْرَأَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا» قَالَ: فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا، «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2697 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک عورت کو پیغام نکاح بھیجا ،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: : جا کر اس کو دیکھ لو کیوں کہ اس سے تم دونوں کے درمیان اتفاق ہو گا ( انس ) فرماتے ہیں: : انہوں نے اس کو دیکھا اور پھر موافقت کا اظہار کیا ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمہ اللہ علیہ نے دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا ← رَسُولُ اللَّهِ «اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا» ← أَنَسٍ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ خَطَبَ امْرَأَةً، ← ثَابِتٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 2697

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2698

2698 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ أَبِي الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي أَنُّ أَيُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اكْتُمِ الْخُطْبَةَ ثُمَّ تَوَضَّأْ فَأَحْسِنِ وُضُوءَكَ، ثُمَّ صَلِّ مَا كَتَبَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ، ثُمَّ احْمَدْ رَبَّكَ وَمَجِّدْهُ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، فَإِنْ رَأَيْتَ لِيَ فِي فُلَانَةٍ، - يُسَمِّيهَا بِاسْمِهَا - خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْدُرْهَا لِي، فَإِنْ كَانَ غَيْرُهَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْدُرْهَا لِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2698 - صحيح

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پیغام نکاح کو چھپا کر رکھو ،پھر وضو کرو اور اچھا وضو کرو پھر نوافل ادا کرو پھر اپنے رب کی حمد کرو اور اس کی بزرگی بیان کرو پھر یوں دعا مانگو اے اللہ تو قادر ہے۔ ہے۔ میں قادر نہیں ہوں ، تو جانتا ہے۔ اور میں نہیں جانتا تو علام الغیوب ہے۔ اگر تو جانتا ہے۔ کہ فلانہ (یہاں اس کا نام لے ) کر میری دنیا اور آخرت کے حوالے سے میرے لیے بہتر ہے۔ تو وہ میرے مقدر میں کر دے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور میری دنیا اور آخرت کے حوالے سے میرے لیے بہتر ہے۔ تو وہ میرے لیے مقدر کر دے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ خَالِدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ أَبِي الْوَلِيدٍ،

Hadith 2698

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2699

2699 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَبَعَثَ امْرَأَةً لِتَنْظُرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: «شُمِّي عَوَارِضَهَا، وَانْظُرِي إِلَى عُرْقُوبَيْهَا» قَالَ: فَجَاءَتْ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا: أَلَا نُغَدِّيكِ يَا أُمَّ فُلَانٍ؟ فَقَالَتْ: لَا آكُلُ إِلَّا مِنْ طَعَامٍ جَاءَتْ بِهِ فُلَانَةٌ قَالَ: فَصَعِدْتُ فِي رَفٍّ لَهُمْ فَنَظَرَتْ إِلَى عُرْقُوبَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: أَفْلِينِي يَا بُنَيَّةُ، قَالَ: فَجَعَلَتْ تُفْلِيهَا وَهِيَ تَشُمُّ عَوَارِضَهَا، قَالَ: فَجَاءَتْ فَأَخْبَرَتْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2699 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے نکاح کا ارادہ کیا تو ایک خاتون کو اسے دیکھنے کے لئے بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ ہدایت کر کے بھیجا تھا کہ کہ اس کے روخسار سونگھ کر اور اس کی کونچوں کو دیکھ کر آنا ۔ وہ خاتون ان کے گھر گئیں، انہوں نے اس سے پوچھا : اے فلانہ کیا تو کھانا نہیں کھائے گی ؟ اس نے کہا: میں تو صرف وہ کھانا کھاؤ ں گی جو فلانا لے کر آئے گی ۔ (انس ) فرماتے ہیں: وہ عورت ان کی خدمت کے لیے جب آئی تو اس نے اس کی کوچوں کو دیکھ لیا یا پھر اس نے کہا: یہ بیٹی ذرا میری جو ئیں نکالنا ۔ اس کی جو ئیں نکالنے لگ گئی گیاور اس خاتون نے اس کے رخسار سونگ لئے ۔ پھر اس نے واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع دی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2699

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2700

2700 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا لَا يَنْكِحِ الزَّانِي الْمَجْلُودُ إِلَّا مِثْلَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2700 - صحيح

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار !وہ زانی جس کو کوڑے مارے گئے ہو وہ اپنے ہی جیسی سے نکاح کرے ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، وَقَدْ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 2700

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2701

2701 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ يَحْمِلُ الْأُسَارَى بِمَكَّةَ، وَكَانَ بِمَكَّةَ بَغِيٌّ، يُقَالُ لَهَا عَنَاقُ، وَكَانَتْ صَدِيقَتَهُ، قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْكِحُ عَنَاقَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنِّي، فَنَزَلَتْ: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً، وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ، وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ} [النور: 3] فَقَرَأَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «لَا تَنْكِحْهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2701 - صحيح

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں: مرثد بن ابی مرثد غنوی قیدیوں کو مکہ لے جایا کرتے تھے اور مکہ میں طوائفہ تھی جس کو عناق کہا: جاتا تھا ، وہ اس کی جان پہچان والی تھی ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں عناق سے نکاح کر لوں؟ (راوی ) فرماتے ہیں: : آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اور یہ آیت نازل ہوگئی ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [النور: 3] : ’’بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی سے اور بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک اور یہ کام ایمان والوں پر حرام ہے‘‘۔(ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ آیات سنا کر فرمایا: اس سے نکاح مت کرنا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أبو المثنى

Hadith 2701

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2702

2702 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ رِضَاهَا، وَإِنْ كَرِهَتْ فَلَا كُرْهَ عَلَيْهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2702 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یتیم لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ کیا جائے ، اگر وہ خاموش رہے۔ تو یہ رضامندی کی علامت ہے۔ اور اگر وہ ناپسند کرے تو اس پر کوئی جبر نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے ہی سے نقل نہیں کیا۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ،

Hadith 2702

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2703

2703 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةَ خَالِهِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ: فَذَهَبَتْ أُمُّهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي تَكْرَهُ وَاللَّهِ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفَارِقَهَا، فَفَارَقَهَا وَقَالَ: «لَا تَنْكِحُوا النِّسَاءَ حَتَّى تَسْتَأْمِرُوهُنَّ، فَإِذَا سَكَتْنَ فَهُوَ إِذْنُهُنَّ» ، فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2703 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے اپنے ماموں عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی سے نکاح کیا ، ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: اس کی والدہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بیٹی کو یہ شادی پسند نہیں ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ اس کو جدا کر دو ۔ تو (ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ) اس کو اس سے الگ کر دیا ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کا نکاح کرنے سے پہلے ان کی رائے لے لیا کرو ، اگر وہ خاموش رہیں،تو یہی اجازت ہے۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد اس نے مغیرہ بن شعبہ سے شادی کی ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

فذهبت امها إلى النبي ← ابن عمر انه تزوج ابنة خاله عثمان بن مظعون ← نَافِعٍ ← عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ← أَبِي ذِئْبٍ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ،

Hadith 2703

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2704

2704 - أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَاقَرْحِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ الْأَوْقَصِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَذَلِكَ بِمَكَّةَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَزَوَّجُ؟ قَالَ: «وَمَنْ؟» قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ بِكْرًا، وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا، قَالَ: «وَمَنِ الْبِكْرُ؟» قَالَتِ: ابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْكَ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ: «وَمَنِ الثَّيِّبُ؟» قَالَتْ: سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ بْنِ قَيْسٍ قَدْ آمَنَتْ بِكَ، وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا أَنْتَ عَلَيْهِ. قَالَ: فَاذْهَبِي فَاذْكُرِيهِمَا، فَجَاءَتْ فَدَخَلَتْ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ. قَالَ: ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْهُ، فَجَاءَ فَأَنْكَحَهُ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ ابْنَةُ سَبْعِ سِنِينَ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2704 - على شرط مسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں جب ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا تو عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی ، حکیم بن امیہ بن الا وقص کی بیٹی خولہ نے کہا: : (یہ مکہ کا واقعہ ہے) یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺشادی کیوں نہیں کر لیتے ؟ آپ نے پوچھا : اچھاکس کے ساتھ ؟ اس نے کہا: اگر آپ کنواری لڑکی سے کرنا چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے ۔ اور ’’ثیبہ ‘‘ کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی مل سکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلم نے پوچھا : اچھا کنواری لڑکی کون سی ہے۔ اس نے کہا: ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ جو کہ آپ کو ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : اور ثیبہ کون سی ہے؟ ۔ اس نے کہا: زمعہ بن قیس کی بیٹی سودہ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان بھی لاچکی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پیروی بھی کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ !دونوں کی بات کرکے آؤ تو خولہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر آئی اور بولیں : اے ابو بکر اللہ تعالی نے تجھے کیسی خیر و برکت سے نوازا ہے۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی طرف عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس بلا کر لاو، وہ بلا کر لے آئیں ۔تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی دن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا یا اس وقت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر صرف سات سال تھی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں جب ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا تو عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی ، حکیم بن امیہ بن الا وقص کی بیٹی خولہ نے کہا: : (یہ مکہ کا واقعہ ہے) یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺشادی کیوں نہیں کر لیتے ؟ آپ نے پوچھا : اچھاکس کے ساتھ ؟ اس نے کہا: اگر آپ کنواری لڑکی سے کرنا چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے ۔ اور ’’ثیبہ ‘‘ کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی مل سکتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلم نے پوچھا : اچھا کنواری لڑکی کون سی ہے۔ اس نے کہا: ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ جو کہ آپ کو ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : اور ثیبہ کون سی ہے؟ ۔ اس نے کہا: زمعہ بن قیس کی بیٹی سودہ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان بھی لاچکی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی پیروی بھی کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ !دونوں کی بات کرکے آؤ تو خولہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر آئی اور بولیں : اے ابو بکر اللہ تعالی نے تجھے کیسی خیر و برکت سے نوازا ہے۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی طرف عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس بلا کر لاو، وہ بلا کر لے آئیں ۔تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی دن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا یا اس وقت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر صرف سات سال تھی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَائِشَةَ ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← مخلد بن جعفر الباقرحي،

Hadith 2704

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2705

2705 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ الْبَاشَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ فَاطِمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا صَغِيرَةٌ» فَخَطَبَهَا عَلِيٌّ فَزَوَّجَهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2705 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے۔ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ وہ بہت چھوٹی ہے۔ پھر علی نے پیغام بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح کر دیا ۔یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم رحمہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن دونوں نے ہی سے نقل نہیں کیا۔

خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَاطِمَةَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ الْبَاشَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ

Hadith 2705

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2706

2706 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى، يَقُولُ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا، فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَهَا، وَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ تَابَعَ أَبَا عَاصِمٍ عَلَى ذِكْرِ سَمَاعِ ابْنِ جُرَيْجٍ، مِنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَسَمَاعِ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، مِنَ الزُّهْرِيِّ وَعَبْدِ الرَّزَّاقِ بْنِ هَمَّامٍ، وَيَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ لَهِيعَةَ، وَحَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمِصِّيصِيِّ، أَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے۔ اس کا نکاح باطل ہے۔ اس کا نکاح باطل ہے۔ اور اگر ان کے درمیان اذدواجی تعلق قائم ہوجائے تو ان تعلقات کی وجہ سے اس کے لئے مہر لازم ہوگا ۔ اور اگر ان میں جھگڑا پڑ جائے تو جس کا کوئی ولی نہیں ہوتا حاکم اسلام اس کا ولی ہوتا ہے۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمہ اللہ علیہ ، دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے ہی سے نقل نہیں کیا ۔ابن جریح کے سلیمان بن موسی سے سماع کے ذکر کے متعلق اور سلیمان بن موسی کے زہری سے سماع کے متعلق عبد الرزاق بن ھمام ، یحیی بن ایوب ، اور حجاج بن محمد المصیصی نے ابو عاصم کی مطابقت کی ہے۔

عَائِشَةَ تَقُولُ: ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ← محمد بن الجهم السمري ← عبد الرحمن بن حمدان الجلاب ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Hadith 2706

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2707

2707 - فَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، أَنَّ الزُّهْرِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

حضرت عبد الرزاق رضی اللہ تعالی عنہ کے سند کے ہمراہ بھی ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان منقول ہے۔

رَسُولَ اللَّهِ نَحْوَهُ ← أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ← أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ← سليمان بن موسى أن الزهري ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ← فَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ،

Hadith 2707

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section