المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2684
2684 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ مِنَ السَّعَادَةِ، وَثَلَاثٌ مِنَ الشَّقَاوَةِ، فَمِنَ السَّعَادَةِ: الْمَرْأَةُ تَرَاهَا تُعْجِبُكَ، وَتَغِيبُ فَتَأْمَنُهَا عَلَى نَفْسِهَا، وَمَالِكَ، وَالدَّابَّةُ تَكُونُ وَطِيَّةً فَتُلْحِقُكَ بِأَصْحَابِكَ، وَالدَّارُ تَكُونُ وَاسِعَةً كَثِيرَةَ الْمَرَافِقِ، وَمِنَ الشَّقَاوَةِ: الْمَرْأَةُ تَرَاهَا فَتَسُوءُكَ، وَتَحْمِلُ لِسَانَهَا عَلَيْكَ، وَإِنْ غِبْتَ عَنْهَا لَمْ تَأْمَنْهَا عَلَى نَفْسِهَا، وَمَالِكَ، وَالدَّابَّةُ تَكُونُ قَطُوفًا، فَإِنْ ضَرَبْتَهَا أَتْعَبَتْكَ، وَإِنْ تَرْكَبْهَا لَمْ تُلْحِقْكَ بِأَصْحَابِكَ، وَالدَّارُ تَكُونُ ضَيِّقَةً قَلِيلَةَ الْمَرَافِقِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ مِنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ خَالِدٍ إِنْ كَانَ حَفِظَهُ فَإِنَّهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2684 - محمد قال أبو حاتم صدوق يغلط وقال يعقوب بن شيبة ثقة
حضرت محمد بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں سعادت کی علامت ہے۔ اور تین چیزیں بدبختی کی ۔ سعادت میں سے یہ چیزیں ہیں : ایسی عورت کے جب تو اس کو دیکھے تو وہ تجھے خوش کرے ۔جب تو اس سے غائب ہو تو وہ اپنے نفس اور تیرے مال کی نگرانی کرے ۔تیز رفتار سواری جو تجھے تیرے ہمراہیوں کے ساتھ ساتھ رکھے ۔ایسا وسیع گھر جس میں تمام سہولتیں موجود ہوں۔( جو تین چیزیں انسان کی )بد بختی (ہیں وہ )یہ ہیں۔ ایسی بیوی کے جب تو اسے دیکھے تو تجھے پریشان کر دے تیرے خلاف زبان درازی کرے اور اگر تو اس سے غائب ہو تو وہ اپنی ذات کی اور تیرے مال کی حفاظت نہ کرے ۔ایسی سست سواری اگر تو اس کے ساتھ پیدل چلے تو وہ تجھ کو تھکا دے اور اگر تو اس پر سواری کرے تو وہ تجھے تیرے ساتھیوں کے ساتھ نہ ملا سکے۔ ایسا تنگ مکان جس میں بہت کم سہولیات ہوں ۔ خالد بن عبداللہ واسطی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ اس حدیث کو خالد سے روایت کرنے میں محمد بن بکیر منفرد ہے۔ اگر یہ اس تفرد سے سلامت ہے۔ تو یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔
أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبهاني، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بطة الأصبهاني،
Hadith 2684
