Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2684

2684 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ مِنَ السَّعَادَةِ، وَثَلَاثٌ مِنَ الشَّقَاوَةِ، فَمِنَ السَّعَادَةِ: الْمَرْأَةُ تَرَاهَا تُعْجِبُكَ، وَتَغِيبُ فَتَأْمَنُهَا عَلَى نَفْسِهَا، وَمَالِكَ، وَالدَّابَّةُ تَكُونُ وَطِيَّةً فَتُلْحِقُكَ بِأَصْحَابِكَ، وَالدَّارُ تَكُونُ وَاسِعَةً كَثِيرَةَ الْمَرَافِقِ، وَمِنَ الشَّقَاوَةِ: الْمَرْأَةُ تَرَاهَا فَتَسُوءُكَ، وَتَحْمِلُ لِسَانَهَا عَلَيْكَ، وَإِنْ غِبْتَ عَنْهَا لَمْ تَأْمَنْهَا عَلَى نَفْسِهَا، وَمَالِكَ، وَالدَّابَّةُ تَكُونُ قَطُوفًا، فَإِنْ ضَرَبْتَهَا أَتْعَبَتْكَ، وَإِنْ تَرْكَبْهَا لَمْ تُلْحِقْكَ بِأَصْحَابِكَ، وَالدَّارُ تَكُونُ ضَيِّقَةً قَلِيلَةَ الْمَرَافِقِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ مِنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ خَالِدٍ إِنْ كَانَ حَفِظَهُ فَإِنَّهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2684 - محمد قال أبو حاتم صدوق يغلط وقال يعقوب بن شيبة ثقة

حضرت محمد بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں سعادت کی علامت ہے۔ اور تین چیزیں بدبختی کی ۔ سعادت میں سے یہ چیزیں ہیں : ایسی عورت کے جب تو اس کو دیکھے تو وہ تجھے خوش کرے ۔جب تو اس سے غائب ہو تو وہ اپنے نفس اور تیرے مال کی نگرانی کرے ۔تیز رفتار سواری جو تجھے تیرے ہمراہیوں کے ساتھ ساتھ رکھے ۔ایسا وسیع گھر جس میں تمام سہولتیں موجود ہوں۔( جو تین چیزیں انسان کی )بد بختی (ہیں وہ )یہ ہیں۔ ایسی بیوی کے جب تو اسے دیکھے تو تجھے پریشان کر دے تیرے خلاف زبان درازی کرے اور اگر تو اس سے غائب ہو تو وہ اپنی ذات کی اور تیرے مال کی حفاظت نہ کرے ۔ایسی سست سواری اگر تو اس کے ساتھ پیدل چلے تو وہ تجھ کو تھکا دے اور اگر تو اس پر سواری کرے تو وہ تجھے تیرے ساتھیوں کے ساتھ نہ ملا سکے۔ ایسا تنگ مکان جس میں بہت کم سہولیات ہوں ۔ خالد بن عبداللہ واسطی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ اس حدیث کو خالد سے روایت کرنے میں محمد بن بکیر منفرد ہے۔ اگر یہ اس تفرد سے سلامت ہے۔ تو یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبهاني، ← أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بطة الأصبهاني،

Hadith 2684

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2685

2685 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَمَنْصِبٍ وَمَالٍ، إِلَّا أَنَّهَا لَا تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2685 - صحيح

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے۔ کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ایک مالدار صاحب منصب بڑے خاندان کی عورت کا رشتہ مل رہا ہے۔ لیکن اس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تو کیا میں اس کے ساتھ شادی کر لو ں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرما دیا ۔ وہ ایک مرتبہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور یہی عرض کی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس کو منع کردیا۔ وہ تیسری مرتبہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھی منع فرما دیا اور فرمایا: محبت کرنے والی ،بچے پیدا کرنے والی عورتوں سے شادی کیا کرو کیونکہ تمہاری کثرت کی وجہ سے میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ لیکن امام بخاری علیہ السلام امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Hadith 2685

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2686

2686 - أَخْبَرَنِي الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ يَا عَلِيُّ لَا تُؤَخِّرْهُنَّ: الصَّلَاةُ إِذَا آنَتْ، وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدَتْ كُفْؤًا " هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2686 - صحيح

حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے علی : تین چیزوں میں تاخیر مت کرنا ۔نماز ،جب اس کا وقت ہوجائے ۔جنازہ ،جب میت تیار ہو جائے ۔بیوہ (کا نکاح کرنے میں )جب اس کا ہم پلہ رشتہ مل جائے ۔یہ حدیث غریب صحیح ہے۔ لیکن شیخین نے ان کو نقل نہیں کیا ہے۔

سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بن معروف ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ،

Hadith 2686

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2687

2687 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُخَيِّرُوا لِنُطَفِكُمْ، فَانْكِحُوا الْأَكْفَاءَ، وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِمْ» تَابَعَهُمْ عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ [ص:177]،

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے نطفوں کو سنبھال کر رکھو ، اپنے ہم پلہ کو رشتہ دو اور انہی سے رشتہ لو۔اس حدیث کو ھشام بن عروہ سے روایت کرنے میں عکرمہ بن ابراہیم نے حارث کی متابعت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے۔ )

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الْحَارِثُ بْنُ عِمْرَانَ الْجَعْفَرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Hadith 2687

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2688

2688 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2687 - الحارث متهم وعكرمة ضعفوه

مذکورہ سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Hadith 2688

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2689

2689 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ الزَّاهِدُ بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحْسَابَ أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِي يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ هَذَا الْمَالُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2689 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا والے جس خاندانی شرافت پر مرتے ہیں وہ یہی مال و دولت ہی ہے۔ ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ الزَّاهِدُ بِبَغْدَادَ،

Hadith 2689

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2690

2690 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُؤَدِّبِ، ثنا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَسَبُ الْمَالُ، وَالْكَرَمُ التَّقْوَى» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2690 - على شرط البخاري

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا حسب’’ مال ‘‘ہے۔ اور کرم ’’تقویٰ ‘‘ ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُؤَدِّبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ بْنِ الْمُنَادِي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2690

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2691

2691 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، الْفَقِيهُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَرَمُ الْمُؤْمِنِ دِينُهُ، وَمُرُوءَتُهُ عَقْلُهُ، وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2691 - الزنجي ضعيف

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کا کرم اس کا دین ہے۔ اس کی مروت اس کی عقل ہے۔ اور اس کا حسب اس کے اخلاق ہیں۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، الْفَقِيهُ

Hadith 2691

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2692

2692 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا هَاشِمُ بْنُ يُونُسَ الْعَصَّارُ، بِمِصْرَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ هُوَ ابْنُ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدَ ابْنَةَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَتَبَنَّاهُ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا، وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ، فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ، فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ} [الأحزاب: 5] فَرَدُّوهُمْ إِلَى آبَائِهِمْ فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ، كَانَ مَوْلَاهُ أَوْ أَخَاهُ فِي الدِّينِ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَإِنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْعَامِرِيِّ وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ ذَلِكَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَرَى سَالِمًا وَلَدًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ آوَاهُ، فَكَانَ يَأْوِي مَعَهُ، وَمَعَ أَبِي حُذَيْفَةَ فِي بَيْتٍ وَاحِدٍ، وَيَرَانِي وَأَنَا فَضْلٌ، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَمَا تَرَى فِي شَأْنِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْضِعِيهِ» فَأَرْضَعَتْهُ خَمْسَ رَضَعَاتٍ، فَحُرِّمَ بِهِنَّ، وَكَانَ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا مِنَ الرَّضَاعَةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَفِيهِ أَنَّ الشَّرِيفَةَ تُزَوَّجُ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2692 - على شرط البخاري

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں، ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں۔ انہوں نے ایک انصاری خاتون کے غلام ’’ سالم‘‘ کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا اور اپنے بھائی ولید بن عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی ہند کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا ۔جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا ، اسی طرح حذیفہ نے بھی سالم کو منہ بولا بیٹا بنا لیا ۔ ان لوگوں کی عادت یہ تھی لوگ اس بیٹے کو اسی متنبی( یعنی جس نے بیٹا بنایا ہے) کہ نسب سے پکارا کرتے تھے اور اس کی وراثت سے بھی حصہ دیتے تھے ۔پھر یہ آیت نازل ہوگئی: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ﴾ [الأحزاب: 5] ’’انہیں ان کے باپ کا ہی کہہ کر پکارا کرو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے۔ پھر اگر تمہیں معلوم نہ ہو تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد ‘‘ (ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا ) تو لوگوں نے ان کو ان کے باپوں کے ناموں سے پکارنا شروع کر دیا اور جس کے باپ کا پتا نہ چل سکے تو پھر اس کا آقا یا دینی بھائی زیادہ مستحق ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہے۔ سہیل بن عمرو القرشی عامری کی بیٹی سھلہ، ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کے نکاح میں تھیں ۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو سالم بچہ کو سمجھتے ہیں ، اور رسول اللہ نے اپنے منہ بولے بیٹے کو اپنے گھر میں رہائش دے دی تھی اس طرح یہ بھی اب ابو حزیفہ کے ہمراہ انہی کے گھر میں رہتے ہیں ۔ اور میں گھر کے کپڑوں میں ہوتی ہوں اور مجھ پر اس کی نظر پڑتی ہے۔ اور اب تو قرآن کریم کی آیت بھی نازل ہوچکی ہے۔ جس کو آپ بخوبی جانتے ہیں ۔تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس سلسلے میں کیا کروں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مشورہ دیا کہ تو اس کو دودھ پلا دے ۔اس نے اس کو پانچ گونٹ دودھ پلا دیا تو وہ ان پر حرام ہو گیا ، اس کے بعد وہ اس کے رضاعی بیٹوں کی طرح ہوگیا ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور اس میں یہ ہے۔ کہ ’’ شریف عورت کا ہر مسلمان سے نکاح ہوسکتا ہے‘‘۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ هُوَ ابْنُ مُسَافِرٍ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← هَاشِمُ بْنُ يُونُسَ الْعَصَّارُ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ،

Hadith 2692

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2693

2693 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا بَنِي بَيَاضَةَ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ» قَالَ: وَكَانَ حَجَّامًا، «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2693 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بنی بیاضہ : تم ابو ہند کو رشتہ دیا کرو اور ان سے بھی لیا کرو ۔(ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ) فرماتے ہیں: وہ جام تھا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2693

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2694

2694 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ، وَأَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَنْكَحَ لِلَّهِ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2694 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس جہنی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو اللہ کی رضا کی خاطر دے، اسی کی رضا کے لئے منع کرے، اسی کی رضا کے لیے کسی سے محبت کرے ،اسی کی رضا کے لیے بغض رکھے اور اسی کی رضا کے لئے نکاح کرے تو اس نے اپنا ایمان کا مل کر لیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے ہی اس سے نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ الْجُهَنِيُّ، ← أَبِي مَرْحُومٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Hadith 2694

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2695

2695 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ وَثِيمَةَ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ خُلُقَهُ وَدِينَهُ، فَأَنْكِحُوهُ، أَلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا جب تمہیں کوئی رشتہ ملے جس کے دین اور اخلاق پر تمہیں اطمینان ہو تو وہاں نکاح کر لو ۔ورنہ روئے زمین پر بہت بڑا فتنہ اور فساد عظیم ہوگا ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← وَثِيمَةَ الْبَصْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي

Hadith 2695

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section