Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2780

2780 - فَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ وَيَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي قَالَا نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ نا أَبُو عُبَيْدَةَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ «فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا»

محاربی کی سند کے ہمراہ مروی ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غیلان بن سلمہ جب مسلمان ہوئے تو جاہلیت میں ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں وہ سب بھی ان کے ساتھ ہی مسلمان ہو گئیں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو فرمایا ان میں سے صرف چار کا انتخاب کرلو ۔ باقیوں کوچھوڑدو ۔ عیسٰی کی حدیث

سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ وَيَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Hadith 2780

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2781

2781 - فَحَدَّثْنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، «فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَخَيَّرَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا، وَيَتْرُكَ سَائِرَهُنَّ» وَهَكَذَا وَجَدْتُ الْحَدِيثَ عِنْدَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ عَنْ مَعْمَرٍ "

عیسیٰ بن یونس کی سند کے ہمراہ مروی ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غیلان بن سلمہ الثقفی اسلام لائے تو اس وقت ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان میں سے چار کا انتخاب کر لے اور باقی تمام کو چھوڑ دے ۔ یونہی خراسان کے ائمہ کی بھی معمر سے روایت موجود ہے ۔ جو کہ درج ذیل ہے۔

أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، «فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← محمد بن أيوب أنبأ إبراهيم بن موسى أنبأ عيسى بن يونس ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Hadith 2781

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2782

2782 - حَدَّثَنِي الْحُسَيْنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَّ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَسْلَمَ غَيْلَانُ بْنُ سَلَمَةَ الثَّقَفِيُّ وَلَهُ ثَمَانِ نِسْوَةٍ، «فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَخَيَّرَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا» وَهَكَذَا وَجَدْتُ الْحَدِيثَ عِنْدَ الْأَئِمَّةِ الْخُرَاسَانِيِّينَ عَنْ مَعْمَرٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2782 - أحمد بن محمد كذاب

حضرت عبداللہ رضی اللہ فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی اسلام لائے تو اس وقت ان کی دس بیویاں تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیا کہ ان میں سے چار رکھ یں ۔ خراسانی ائمہ بھی اس حدیث کو حضرت معمر سے اسی طرح روایت کرتے ہیں ۔

محمد بن محمد بن سليمان، ← الْحُسَيْنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ،

Hadith 2782

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2783

2783 - حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ بِبُخَارَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْخَلَّالُ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ، وَعِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ «فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمْسِكَ أَرْبَعًا، وَيُفَارِقَ سَائِرَهُنَّ» وَالَّذِي يُؤَدِّي إِلَيْهِ اجْتِهَادِي أَنَّ مَعْمَرَ بْنَ رَاشِدٍ حَدَّثَ بِهِ عَلَى الْوَجْهَيْنِ، أَرْسَلَهُ مَرَّةً، وَوَصَلَهُ مَرَّةً، وَالدَّلِيلُ عَلَيْهِ أَنَّ الَّذِينَ وَصَلُوهُ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَقَدْ أَرْسَلُوهُ أَيْضًا، وَالْوَصْلُ أَوْلَى مِنَ الْإِرْسَالِ، فَإِنَّ الزِّيَادَةَ مِنَ الثِّقَةِ مَقْبُولَةٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ "

مذکورہ سند کے ہمراہ بھی مروی ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی اسلام لائے تو اس وقت ان کے پاس دس عورتیں تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان میں سے چار کا انتخاب کر لے اور باقی تمام کو الگ کر دے ۔ میں نے اپنی کوششوں اور محنتوں کا جو نتیجہ نے ا ن کو حکم دیا کہ ان میں سے چار کا انتخاب کر لے اور باقی تمام کو الگ کر دے ۔ میں نے اپنی کوششوں اور محنتوں کا جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ یہ ہے کہ معمر بن راشد نے یہ حدیث دو سندوں کے ہمراہ روایت کی ہے ایک سند میں وہ " ارسال " کرتے ہیں اور دوسری میں " وصل "۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اہل بصرہ میں سے جن راویوں نے اس حدیث کو معمر میں وہ " ارسال " کرتے ہیں اور دوسری میں وصل ان کی دلیل یہ ہے کہ اہل برہ یمں سے جن راویوں نے اس حدیث کو معمر سے موصولا بیان کیا انہوں نے ارسال بھی کیا ہے اور ارسال سے وصل بہتر ہوتا ہے کیونکہ ثقہ کی جانب سے زیادتی مقبول ہوتی ہے ( واللہ اعلم بالصواب )

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْخَلَّالُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ بِبُخَارَى،

Hadith 2783

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2784

2784 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّيْمِيُّ، ثنا الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، فَقَالَ: أَلَا تَعْجَبُ أَنَّ الْحَسَنَ يَقُولُ: «إِنَّ الزَّانِيَ الْمَجْلُودَ لَا يَنْكِحُ إِلَّا مَجْلُودَةً مِثْلَهُ» فَقَالَ عَمْرٌو: وَمَا يُعْجِبُكَ؟ حَدَّثَنَاهُ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يُنَادِي بِهَا نِدَاءً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2784 - صحيح

حضرت حبیب المعلم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص اہل کوفہ سے عمروبن شعیب کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ کو حسن کی اس بات سے تعجب نہیں ہوتا کہ " سزا یافتہ زانی کے ساتھ اسی جیسی سزا یافتہ زاینہ ہی کا نکاح کیا جائے " عمرو بولے اس میں تعجب کی بات کیا ہے ؟ سعید المقبری نے ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمان بیان کیا ہے ۔ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تو اس کا اعلان کروایا کرتے تھے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَمْرٌو: وَمَا يُعْجِبُكَ؟ ← «إِنَّ الزَّانِيَ الْمَجْلُودَ لَا يَنْكِحُ إِلَّا مَجْلُودَةً مِثْلَهُ» ← ألا تعجب أن الحسن ← جاء رجل من أهل الكوفة إلى عمرو بن شعيب ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّيْمِيُّ،

Hadith 2784

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2785

2785 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنا أَبُو الْمُثَنَّى، نا مُسَدَّدٌ نا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ثنا الْحَضْرَمِيُّ بْنُ لَاحِقٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اسْتَأْذَنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ، يُقَالُ لَهَا أُمُّ مُهَرْوِلٍ كَانَتْ تُسَافِحُ، وَتَشْتَرِطُ أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهِ، وَأَنَّهُ اسْتَأْذَنَ فِيهَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ لَهُ أَمْرَهَا " فَقَرَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: 3] وَنَزَلَتْ: {الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} [النور: 3] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2785 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، ایک مسلمان شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک پیشہ ورطوائفہ کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا ۔ ( الزانی لا ینکح الا زانیہ اومشرکۃ( النور 3) ( بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی ہے ) ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا ۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( الزانیۃ لاینکحھا الا زان اومشرک ( النور 3) " بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مر د یا مشرک ( ترجمہ کنز الایمان امام احمد رضا ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الْحَضْرَمِيِّ بْنِ لَاحِقٍ، ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Hadith 2785

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2786

2786 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: 3] قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ بِالنِّكَاحِ، وَلَكِنَّهُ الْجِمَاعُ لَا يَزْنِي بِهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2786 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ( الزانی لا ینکح الا زانیۃ او مشرکۃ " میں نکاح مراد نہیں ہے بلکہ " جماع " مراد ہے (یعنی جواس سے جما ع کر ےگا وہ زانی یامشرک ہی ہو گا ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← خلاد بن يحيى وعبد الصمد بن حسان ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Hadith 2786

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2787

2787 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ بِغَيْرِ إِذَنِ سَيِّدِهِ كَانَ عَاهِرًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2787 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرے تو وہ زنا کار ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Hadith 2787

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2788

2788 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَأَبُو غَسَّانَ قَالَا: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2788 - على شرط مسلم

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا ( کسی غیر محرمہ کی طرف ) ایک نظر ( جو اچانک پڑ جائے) کے بعد دوسری نظر ( قصداً) مت ڈالو کیونکہ پہلی ( اچانک) نظر معاف ہے لیکن دوسری معاف نہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ ← شَرِيکٍ ← أبو نعيم وأبو غسان ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 2788

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2789

2789 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةٍ، فَرَأَى امْرَأَةً مُجِحَّةً، فَقَالَ: «لَعَلَّ صَاحِبَهَا أَلَمَّ بِهَا» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ، وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2789 - على شرط مسلم

حضرت ابوالدرداء (رر ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ میں شریک تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لگتا ہے کہ اس کا شوہر اس کو تکالیف دیتا ہے ۔ صحابہ اکرم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر میں بھی اس کے ساتھ جائے ۔ اس نے اس کی کس قدر بیماری میں مبتلاکر رکھا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے اور یہ کس طرح اس سے خدمت لےرہا ہے حالانکہ یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Hadith 2789

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2790

2790 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا جَدِّي، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا شَرِيكٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسٍ: «لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ، حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2790 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم " اوطا س" کی لونڈیوں کے متعلق ارشاد فرمایا کسی حاملہ کے ساتھ بچہ پیدا ہونے پہلے وطی نہ کی جائے اور جس کو حمل نہ ہواس کے ساتھ حیض آنے سے پہلے وطنی نہ کی جائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أبي سعيد الخدري، رفعه، أنه ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ← شَرِيکٍ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ،

Hadith 2790

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2791

2791 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو الْأَصْبَغِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، وَهَمَ إِنَّمَا كَانَ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَهُمْ أَهْلُ وَثَنٍ، مَعَ هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْيَهُودِ، وَهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، كَانُوا يَرَوْنَ لَهُمْ فَضْلًا عَلَيْهِمْ، فَكَانُوا يَقْتَدُونَ بِكَثِيرٍ مِنْ فِعْلِهِمْ، وَكَانَ مِنْ أَمْرِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَنْ لَا يَأْتُوا النِّسَاءَ إِلَّا عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ، وَذَلِكَ أَسْتَرُ مَا تَكُونُ الْمَرْأَةُ، فَكَانَ هَذَا الْحَيُّ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَدْ أَخَذُوا بِذَلِكَ مِنْ فِعْلِهِمْ، وَكَانَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ يَشْرَحُونَ النِّسَاءَ شَرْحًا مُنْكَرًا، وَيَتَلَذَّذُونَ مِنْهُنَّ مُقْبِلَاتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِيَاتٍ، فَلَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ، تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنْهُمُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَذَهَبَ يَصْنَعُ بِهَا ذَلِكَ، فَأَنْكَرَتْهُ عَلَيْهِ، وَقَالَتْ: إِنَّمَا كُنَّا نُؤْتَى عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ، فَاصْنَعْ ذَلِكَ، وَإِلَّا فَاجْتَنِبْنِي حَتَّى سَرَى أَمْرُهُمَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} [البقرة: 223] «أَيْ مُقْبِلَاتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِيَاتٍ، يَعْنِي ذَلِكَ مَوْضِعَ الْوَلَدِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ فِي هَذَا الْبَابِ " هَذَا آخِرُ [ص:214] كِتَابِ النِّكَاحِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2791 - على شرط مسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ عمر رضی اللہ عنہ کا وہم معاف فرمائے انصاریوں کا یہ قبیلہ بت پرست تھا اور ان کے قریب اہل کتاب یہودیوں کا قبیلہ تھا وہ لوگ اپنے آپ کو ان انصاریوں سے افضل سمجھتے تھے اور انصاری لوگ بہت سارے امور میں ان یہودیوں کی پیروی کیا کرتے تھے اور اہل کتاب کی ایک عادت یہ تھی کہ وہ اپنی بیویوں سے صرف ایک ہی انداز میں ہمبستری کیا کرتے تھے اور وہ انداز ایسا تھا جس میں عورت کا پردہ کا انتہائی خیال رکھا جاتاتھا تو انصاریوں کے اس قبیلے نے بھی ان کی اس عادت کو اپنا رکھا تھا جبکہ قریش کے اس قبیلے میں یہ عادت تھی کہ ان کے مرد عورتوں کو نا پسند یدہ طریقے سے بے پردہ کر لیا کرتے تھے اور ان کو کبھی سیدھا الٹا کر ، کبھی الٹا لٹا کر کبھی اگلی جانب سے اور کبھی پچھلی جانب سے شرمگاہ سے لذت حاصل کرتے تھے جب مکہ کے لوگ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ان میں سے ایک مرد کی ایک انصاری خاتون سے شادی ہو گئی اس کے شوہر نے اپنے اسی طریقہ سے عورت سے مزہ لینا چاہتا تو اس عورت نے منع کر دیا اور بولی : ہمارے قبیلے میں عورتوں کے ساتھ صڑف ایک ہی طریقے سے ہمبستری کی جاتی ہے اس لیے ہمارے طریقہ کے مطابق ہمبستری کرنی ہے تو کرو ورنہ مجھے چھوڑ دو۔ یہاں تک کہ میں اپنے معاملہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں ۔ یہ بات جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔نساؤکم حرث لکم فاتو احرثکم انی شئتم۔(البقرہ 223)(ترجمہ )۔" تمہاری عورتیں تمہارے لیے کھتیاں ہیں تو آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو " ( یعنی ان کے آگے سے یا پیچھے سے یا لٹا کر لیکن بہرحال وطی اس مقام سے کروجہاں سے بچہ پیدا ہوتا ہے ۔ )۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ جبکہ شیخین نے اس باب میں محمد بن المنکدر کے حوالے سے جابر کی روایت نقل کی ہے ۔

أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو الْأصْبَغِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2791

chevron_left Previous
1…78910
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section