Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2668

2668 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي ثَوْرٍ الْحُدَّانِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ إِلَى الْكُوفَةِ، قَالَ: فَخَرَجُوا إِلَيْهِ فَرَدُّوهُ، قَالَ: وَكُنْتُ قَاعِدًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنْ يَرْجِعَ هَؤُلَاءِ وَلَمْ يُهْرَقْ فِيهَا مِحْجَمَةٌ مِنْ دَمٍ، وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، إِلَّا شَيْئًا عَلِمْتُهُ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ «أَنَّ الرَّجُلَ يُصْبِحُ مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي وَمَا مَعَهُ شَيْءٌ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبِحُ وَمَا مَعَهُ شَيْءٌ، يُقَاتِلُ فِي الْفِتْنَةِ الْيَوْمَ، وَيَقْتُلُهُ اللَّهُ غَدًا، يَنْكُسُ قَلْبُهُ وَتَعْلُوهُ اسْتُهُ» قُلْتُ: أَسْفَلُهُ، قَالَ: بَلْ اسْتُهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2668 - صحيح

حضرت ابو ثور حدانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: : جرعہ کے دن عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے سعید بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کو جرعہ کے دن (جس دن اہل کوفہ نے حضرت سعید بن العاص کے خلاف بغاوت کی تھی ) کو کوفہ بھیجا( ابو ثور) فرماتے ہیں: : لیکن اہل کوفہ نے ان کے خلاف بغاوت کر دی اور ان کو واپس بھیج دیا ۔میں ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ اور حذ یفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بولے :میں نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ واپس آجائیں گے اور تھوڑا سا بھی خون نہ بہے۔ ۔ اور میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جان لی تھی کہ ایک شخص ایمان کی حالت میں صبح کرتا ہے۔ لیکن شام کے وقت اس کے پاس (ایمان نام کی )کوئی چیز نہیں ہوگی ۔ اور ایک شخص شام کے وقت صاحب ایمان ہو گا لیکن صبح کے وقت اس کے پاس (ایمان نام کی )کوئی شے نہیں ہوگی آج وہ فتنوں میں جنگ کرتا ہے۔ اور کل اس کو اللہ تعالی اس حالت میں مارے گا کہ اس کا دل اندھا کر دے گا اس کی سرین اونچی کر دے گا ۔ میں نے کہا: : اس کا نچلا حصہ ؟ اس نے کہا: :(نہیں بلکہ )سرین ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

وَكُنْتُ قَاعِدًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ، ← فَخَرَجُوا إِلَيْهِ فَرَدُّوهُ، ← بَعَثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمَ الْجَرَعَةِ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ إِلَى الْكُوفَةِ، ← أبي ثور الحداني ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Hadith 2668

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2669

2669 - أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ غُلَامًا كَانَ لِبَابَى، وَكَانَ بَابَى يَضْرِبُهُ فِي أَشْيَاءَ، وَيُعَاقِبُهُ وَكَانَ الْغُلَامُ يُعَادِي سَيِّدَهُ فَبَاعَهُ، فَلَقِيَهُ الْغُلَامُ يَوْمًا، وَمَعَ الْغُلَامِ سَيْفٌ، وَذَلِكَ فِي إِمْرَةِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، فَشَهَرَ الْعَبْدُ عَلَى بَابَى السَّيْفَ، وَتَفَلَّتَ بِهِ عَلَيْهِ، فَأَمْسَكَهُ النَّاسُ عَنْهُ، فَدَخَلَ بَابَى عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرَهَا بِمَا فَعَلَ الْعَبْدُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَشَارَ بِحَدِيدَةٍ إِلَى أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُرِيدُ قَتْلَهُ، فَقَدْ وَجَبَ دَمُهُ» قَالَتْ: فَخَرَجَ بَابَى مِنْ عِنْدِهَا، فَذَهَبَ إِلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ الَّذِي ابْتَاعَهُ مِنْهُ فَاسْتَقَالَهُ، فَأَقَالَهُ فَرَدَّ إِلَيْهِ فَأَخَذَهُ بَابَى فَقَتَلَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2669 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت علقمہ بن ابو علقمہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی والدہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: بابی کا ایک غلام تھا جس کو ’’بابی ‘‘ اکثر طور پر مارا کرتا تھا اور سزائیں دیا کرتا تھا اور وہ غلام اپنے آقا کے متعلق شدید غصہ رکھتا تھا ۔آقا نے اس کو بیچ دیا ۔ایک دن اس غلام سے ملاقات ہوگئی اور غلام کے پاس اس وقت تلوار تھی ۔یہ واقعہ سعید بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کی ولایت میں پیش آیا ۔ اس غلام نے ’’بابی ‘‘ پر تلوار سونت لی اور اس پر حملہ کر دیا ۔ لوگوں نے بیچ بچاؤ کرادیا ۔پھر ’’بابی ‘‘حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گیا اور ان کو غلام کا واقعہ بتایا ۔ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ کہ جو شخص کسی مسلمان کو قتل کرنے کے لئے ہتھیار اٹھائے وہ ’’مباح الدم ‘‘ ہو جاتا ہے۔ ۔(علقمہ کی والدہ )کہتی ہیں :’’بابی‘‘ ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں سے نکلا اور اس شخص کے پاس گیا جس نے اس سے یہ غلام خریدا تھا ۔ اور اس نے کہا: : اپنے دام واپس لے لو یہ غلام مجھے واپس کر دو ۔وہ مان گیا ۔اور غلام بھابی کے حوالے کر دیا ۔ بابی اسے لے آیا اور لا کر اسے مار ڈالا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ جو نو کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

أُمِّهِ2، ← عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Hadith 2669

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2670

2670 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وهَيْبٌ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَهَرَ سَيْفَهُ، ثُمَّ وَضَعَهُ، فَدَمُهُ هَدَرٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2670 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن الزبیر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: : جو تلوار سونت لے پھر (چاہے۔ )اس کو نیچے (ہی )کرلے (بہرحال ) اس کا خون رائیگاں ہو گیا ۔ (یعنی وہ مباح الدم ہو گیا ) یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنُ الزُّبَيْرِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، ← وُهَيْبٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 2670

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2671

2671 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يُغَرْبَلُ النَّاسُ غَرْبَلَةً، وَيَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ، وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا» وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالُوا: فَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ، وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ، وَتَدَعُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2671 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: :(قابل ) لوگ قتل کر دیے جائیں گے اور فالتو قسم کے لوگ رہ جائیں گے ،جو امانت اور عہد کے کچے ہوں گے ، آپس میں اختلاف کریں گے ۔ اور یوں ہو جائیں گے (یہ کہتے ہوئے ) انہوں نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں ڈالیں ، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارا کیا بنے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صرف اسی چیز کو اختیار کرو گے جس کو تم خود پہچانتے ہوں گے اور اپنی پسندیدہ چیز کو چھوڑ دو گے اپنے خاص امر کو قبول کرو گے اور عام امر کو چھوڑ دو گے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن شیخین نے اس سے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2671

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section