المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2668
2668 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي ثَوْرٍ الْحُدَّانِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ إِلَى الْكُوفَةِ، قَالَ: فَخَرَجُوا إِلَيْهِ فَرَدُّوهُ، قَالَ: وَكُنْتُ قَاعِدًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: مَا كُنْتُ أَرَى أَنْ يَرْجِعَ هَؤُلَاءِ وَلَمْ يُهْرَقْ فِيهَا مِحْجَمَةٌ مِنْ دَمٍ، وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، إِلَّا شَيْئًا عَلِمْتُهُ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ «أَنَّ الرَّجُلَ يُصْبِحُ مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي وَمَا مَعَهُ شَيْءٌ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبِحُ وَمَا مَعَهُ شَيْءٌ، يُقَاتِلُ فِي الْفِتْنَةِ الْيَوْمَ، وَيَقْتُلُهُ اللَّهُ غَدًا، يَنْكُسُ قَلْبُهُ وَتَعْلُوهُ اسْتُهُ» قُلْتُ: أَسْفَلُهُ، قَالَ: بَلْ اسْتُهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2668 - صحيح
حضرت ابو ثور حدانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: : جرعہ کے دن عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے سعید بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کو جرعہ کے دن (جس دن اہل کوفہ نے حضرت سعید بن العاص کے خلاف بغاوت کی تھی ) کو کوفہ بھیجا( ابو ثور) فرماتے ہیں: : لیکن اہل کوفہ نے ان کے خلاف بغاوت کر دی اور ان کو واپس بھیج دیا ۔میں ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ اور حذ یفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بولے :میں نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ واپس آجائیں گے اور تھوڑا سا بھی خون نہ بہے۔ ۔ اور میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جان لی تھی کہ ایک شخص ایمان کی حالت میں صبح کرتا ہے۔ لیکن شام کے وقت اس کے پاس (ایمان نام کی )کوئی چیز نہیں ہوگی ۔ اور ایک شخص شام کے وقت صاحب ایمان ہو گا لیکن صبح کے وقت اس کے پاس (ایمان نام کی )کوئی شے نہیں ہوگی آج وہ فتنوں میں جنگ کرتا ہے۔ اور کل اس کو اللہ تعالی اس حالت میں مارے گا کہ اس کا دل اندھا کر دے گا اس کی سرین اونچی کر دے گا ۔ میں نے کہا: : اس کا نچلا حصہ ؟ اس نے کہا: :(نہیں بلکہ )سرین ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
وَكُنْتُ قَاعِدًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ، ← فَخَرَجُوا إِلَيْهِ فَرَدُّوهُ، ← بَعَثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمَ الْجَرَعَةِ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ إِلَى الْكُوفَةِ، ← أبي ثور الحداني ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،
Hadith 2668
