المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2656
2656 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْحَرُورِيَّةُ اجْتَمَعُوا فِي دَارٍ، وَهُمْ سِتَّةُ آلَافٍ، أَتَيْتُ عَلِيًّا، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَبْرِدْ بِالظُّهْرِ لَعَلِّي آتِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَأُكَلِّمُهُمْ. قَالَ: إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ. قُلْتُ: كَلَّا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ وَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَمِيلًا جَهِيرًا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُهُمْ، وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ فِي دَارِهِمْ، قَائِلُونَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَمَا هَذِهِ الْحُلَّةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ، لَقَدْ رَأَيْتُ عَلَىَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنَ الْحُلَلِ، وَنَزَلَتْ: {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ} [الأعراف: 32] قَالُوا: فَمَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، لِأُبَلِّغُكُمْ مَا يَقُولُونَ الْمُخْبَرُونَ بِمَا يَقُولُونَ فَعَلَيْهِمْ نَزَلَ الْقُرْآنُ، وَهُمْ أَعْلَمُ بِالْوَحْيِ مِنْكُمْ، وَفِيهِمْ أُنْزِلَ: وَلَيْسَ فِيكُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تُخَاصِمُوا قُرَيْشًا، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: 58] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَتَيْتُ قَوْمًا لَمْ أَرْ قَوْمًا قَطُّ أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْهُمْ مُسْهِمَةٌ وجُوهُهُمْ مِنَ السَّهَرِ، كَأَنَّ أَيْدِيَهِمْ وَرُكَبَهُمْ تُثَنَّى عَلَيْهِمْ، فَمَضَى مَنْ حَضَرَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَنُكَلِّمَنَّهُ وَلَنَنْظُرَنَّ مَا يَقُولُ. قُلْتُ: أَخْبِرُونِي مَاذَا نَقَمْتُمْ عَلَى ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصِهْرِهِ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ؟ قَالُوا: ثَلَاثًا. قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالُوا: أَمَّا إِحْدَاهُنَّ فَإِنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي أَمْرِ اللَّهِ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ} [الأنعام: 57] وَمَا لِلرِّجَالِ وَمَا لِلْحَكَمِ؟ فَقُلْتُ: هَذِهِ وَاحِدَةٌ. قَالُوا: وَأَمَّا الْأُخْرَى فَإِنَّهُ قَاتَلَ، وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، فَلَئِنْ كَانَ الَّذِي قَاتَلَ كُفَّارًا لَقَدْ حَلَّ سَبْيُهُمْ وَغَنِيمَتُهُمْ، وَلَئِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ مَا حَلَّ قِتَالُهُمْ. قُلْتُ: هَذِهِ اثْنَتَانِ، فَمَا الثَّالِثَةُ؟ قَالَ: إِنَّهُ مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَهُوَ أَمِيرُ الْكَافِرِينَ. قُلْتُ: أَعِنْدَكُمْ سِوَى هَذَا؟ قَالُوا: حَسْبُنَا هَذَا. فَقُلْتُ لَهُمْ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَمِنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرَدُّ بِهِ قَوْلُكُمْ أَتَرْضَوْنَ؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَقُلْتُ: أَمَّا قَوْلُكُمْ: حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي أَمْرِ اللَّهِ فَأَنَا أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ مَا قَدْ رَدَّ حُكْمَهُ إِلَى الرِّجَالِ فِي ثَمَنِ رُبْعِ دِرْهَمٍ فِي أَرْنَبٍ، وَنَحْوِهَا مِنَ الصَّيْدِ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} [المائدة: 95] إِلَى قَوْلِهِ {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: 95] فَنَشَدْتُكُمُ اللَّهَ أَحُكْمُ الرِّجَالِ فِي أَرْنَبٍ وَنَحْوِهَا مِنَ الصَّيْدِ أَفْضَلُ، أَمْ حُكْمُهُمْ فِي دِمَائِهِمْ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ؟، وَأَنْ تَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَوْ شَاءَ لَحَكَمَ وَلَمْ يُصَيِّرْ ذَلِكَ إِلَى الرِّجَالِ، وَفِي الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا} [النساء: 35] فَجَعَلَ اللَّهُ حُكْمَ الرِّجَالِ سُنَّةً مَأْمُونَةً، أَخَرَجْتُ عَنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: قَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، أَتَسْبُونَ أُمَّكُمْ عَائِشَةَ ثُمَّ يَسْتَحِلُّونَ مِنْهَا مَا يُسْتَحَلُّ مِنْ غَيْرِهَا؟ فَلَئِنْ فَعَلْتُمْ لَقَدْ كَفَرْتُمْ وَهِيَ أُمُّكُمْ، وَلَئِنْ قُلْتُمْ: لَيْسَتْ أَمَّنَا لَقَدْ كَفَرْتُمْ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: 6] فَأَنْتُمْ تَدْورُونَ بَيْنَ ضَلَالَتَيْنِ أَيُّهُمَا صِرْتُمْ إِلَيْهَا، صِرْتُمْ إِلَى ضَلَالَةٍ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قُلْتُ: أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ مَحَا اسْمَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنَا آتِيكُمْ بِمَنْ تَرْضَوْنَ، وَأُرِيكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ كَاتَبَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ: " اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَا وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَوْ نَعْلَمُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا قَاتَلْنَاكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " فَوَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عَلِيٍّ، وَمَا أَخْرَجَهُ مِنَ النُّبُوَّةِ حِينَ مَحَا نَفْسَهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَرَجَعَ مِنَ الْقَوْمِ أَلْفَانِ، وَقُتِلَ سَائِرُهُمْ عَلَى ضَلَالَةٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2656 - على شرط مسلم
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: جب خوارج نے بغاوت کی تو وہ ایک حویلی میں جمع ہوئے ، اس وقت ان کی تعداد چھ ہزار تھی ۔ میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آیا اور کہا: : اے امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ آج ظہر کی نماز ذرا تا خیر سے پڑھائیے گا۔ میں ارادہ رکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے پاس آکر ان سے مذاکرات کروں ۔آپ نے فرمایا: : مجھے تیرے بارے میں خدشہ ہے۔ (کہ یہ لوگ تجھے کوئی نقصان نہ پہنچا دیں)میں نے کہا:: ایسا نہیں ہوگا (ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ) میں بہت ہی قیمتی یمنی جبہ زیب تن کرکے ان کی طرف روانہ ہوا ۔ ابو زمیل فرماتے ہیں: : ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بہت خوبصورت نوجوان تھے ۔ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میں ان کے پاس آیا اس وقت وہ اس حویلی میں موجود باتیں کر رہے۔ تھے ۔ میں نے ان کو سلام کیا انہوں نے جواباً مجھے خوش آمدید کہا: ۔ یہ کیسا جبہ ہے۔ ؟ میں نے کہا: تم اس کی وجہ سے مجھ پر کیوں عیب لگا رہے۔ ہو ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی زیادہ قیمتی جبہ پہنے دیکھا ہے۔ اور قرآن کریم کی اس آیت میں اس کی اجازت بھی موجود ہے۔ : ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ﴾ [الأعراف: 32] ’’تم فرماؤ کس نے حرام کیا اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی اور پاک رزق ‘‘ (ترجمہ کنزالایما ن ، امام احمد رضا ) ۔ وہ کہنے لگے تم کہنے کیا آئے ہو ؟ میں نے کہا: : میں تمہارے پاس مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی پاس سے آیا ہوں تا کہ تمہارے پاس ان کی جانب سے جو خبر یں پہنچ رہی ہیں ، ان کی حقیقت ہے۔ حال تم تک پہنچاؤں ۔ان لوگوں کی موجودگی میں قرآن نازل ہوا ہے۔ اور وہ لوگوں وحی کو تم سے بہتر جانتے ہیں اور ان کے متعلق ہیں یہ حکم نازل ہوا ہے۔ اور تم میں ان میں سے کوئی نہیں ہے۔ ۔تو ایک شخص بولا : تم قریش سے بلاوجہ مت جھگڑو ۔کیونکہ قرآن کہتا ہے۔ : ﴿ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [الزخرف: 58] ’’ بلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ ‘‘ ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: :میں ایسی قوم کے پاس آیا ہوں کہ ان سے بڑھ کر اجتہاد کی صلاحیت رکھنے والا میں نے کسی قوم کو نہیں پایا ۔شب بیداریوں کی وجہ سے ان کی چہرہ کی رنگت بدلی ہوئی تھی ۔یوں لگتا تھا کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کی تعریف کر رہے۔ ہیں ،ان میں سے بعض نے کہا: :ہمیں اس کے ساتھ گفت و شنید ضرور کرنی چاہیے تاکہ اس کے نظریات ہم پر آشکار ہو ں، لیکن میں نے کہا: : تم مجھے یہ بات بتاؤ کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ، ان کے داماد اور مہاجرین و انصار پر کیا اعتراض ہے۔ ؟ انہوں نے کہا: : (ہمیں ان پر ) تین اعتراض ہیں۔ میں نے پوچھا : وہ کیا ؟ انہوں نے کہا: : پہلا تو یہ ہے۔ کہ انہوں نے اللہ تعالی کی بادشاہی میں بندوں کو حاکم بنا دیا ہے۔ جب کہ اللہ تعالی نے فرمایا: : ﴿ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ﴾ [يوسف: 40] ’’حکم نہیں مگر اللہ کا ‘‘ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) بندوں کا امر سے کیا تعلق ؟ میں نے کہا: یہ تو ایک ہوا ۔انھوں نے کہا: دوسرا یہ ہے۔ کہ انہوں نے جنگ کی ہے۔ لیکن نہ تو کسی کو قیدی بنایا اور نہ مال غنیمت حاصل کیا ۔ یہ جن سے لڑ رہے۔ ہیں اگر وہ کافر ہیں تو ان کو قیدی بنانا اور ان کا مال غنیمت لینا جائز ہوتا اور اگر وہ مومن ہیں تو ان سے جہاد جائز نہیں ۔میں نے کہا: : دو ہوگئے ۔تیسرا اعتراض کیا ہے۔ ؟ انہوں نے کہا:: (تیسری بات یہ ہے۔ کہ ) انہوں نے اپنے نام سے لفظ ’’ امیرالمومنین ‘‘ ہٹا دیا ہے۔ ، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ ’’امیر الکافرین ‘‘ ہوئے ۔میں نے کہا: : اس کے علاوہ آپ لوگوں کے کوئی تحفظات ہو تو وہ بھی بتا دو ۔ انہوں نے کہا: ہمارے اعتراضات یہی تھے ۔میں نے ان سے کہا: اگر میں قرآن پاک کی وہ آیات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث سنا دو ں جس سے تمہارے موقف کی تردید ہوتی ہے۔ تو کیا مان لو گے ؟ انہوں نے کہا: : جی ہاں ۔ میں نے کہا: جو تم نے یہ اعتراض کیا ہے۔ کہ بندوں کو حاکم بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں میں تمہیں ایک آیت سناتا ہوں جس میں خرگوش وغیرہ کے شکار کے متعلق ربع درہم کے آٹھ ویں حصے میں بندوں کو حاکم بنایا گیا ہے۔ ۔ وہ آیت یہ ہے۔ ’’ یا ایھا الزین امنو ا لا تقتلو ا الصید و انتم حرم الی قولہ یحکم بہ ذوا عدل منکم‘‘ ۔اے ایمان والو شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو اور تم میں سے جو اسے قصداً قتل کرے تو اس کا بدلہ یہ ہے۔ کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے تم میں کے دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں ۔(ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا ) میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بندوں کا خرگوش وغیرہ کے شکار کے متعلق حاکم بننا افضل ہے۔ یا ان کے خونوں اور ان کے درمیان اصلاح کا حاکم بنا زیادہ افضل ہے۔ ؟ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ اگر اللہ تعالی چاہتا تو ان میں خود ہی فیصلہ کر دیتا اور ان کو دوسروں کے سپرد نہ کرتا ۔ نیز اللہ تعالی نے مرد اور عورت کے متعلق فرمایا: : ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾ [النساء: 35]اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پہنچ مرد والوں کی طرف سے سے اور 15 عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں صلح کرانا اگر چاہے۔ اللہ تعالی ان میں رجحان پیدا کر دے گا ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا رضا تو اللہ تعالی کے بندوں کو حکم بنانا سنت ہے۔ مامون قرار دیا ہے۔ جو ان کو اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا: کیا ہے۔ کہ یہ جنگ کر رہے۔ ہیں لیکن نہ کہہ دیں بنا رہے۔ ہیں نہ مال غنیمت کیا تم اپنی اماں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو قیدی بنایا گے اور پھر ان کے ساتھ وہ سلوک کروگے آگے جو ایک قیدی خاتون کے ساتھ کرنا جائز ہے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کافر ہو جاؤ گے کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے۔ اور ان کے ایمان کا انکار کرو تو بھی تمہیں کافر ہوگئے کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ہے۔ یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔ اور اس کی بیویاں ان کی ماں ہے۔ ہے۔ ترجمہ کنجری امام احمد رضا تو تم لوگ دو گمراہیوں کے درمیان گھوم رہے۔ ہو ان میں سے کسی کی طرف بھی جاؤں بہرحال گمراہی ہیں تمہارا مقدر ہے۔ ہے۔ میری یہ دلیل سن کر انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا میں نے کہا: میں نے تمہارے دوسرے اعتراض کا بھی جواب دے دیا انہوں نے کہا: جی ہاں میں نے کہا: اور تمہارا یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے اپنے نام سے امیر المومنین کا نام ہٹا دیا ہے۔ تو میں تمہیں ایسی شخصیت کی بات بتاتا ہوں سب لوگ راضی ہو اور میرا خیال ہے۔ کہ تم لوگوں نے سن رکھا ہوگا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ اور ابو سفیان بن حرب اللہ تعالی عنہ کی طرف جو محبوب لکھا تھا ہم نے امیرالمومنین سے فرمایا: تھا اے علی لکھو یہ وہ معاہدہ ہے۔ جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح کی ہے۔ ہے۔ اس پر مشرکین نے اعتراض کیا کہ نہیں خدا کی قسم ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے ہوتے تو تمہارے ساتھ جنگ کیوں کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بولے اے اللہ تو جانتا ہے۔ کہ میں رسول اللہ تعالی اس کی عبارت یوں کر دو یہ وہ معاہدہ ہے۔ جس پر پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی کی تو خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی سے کہیں افضل ہے۔ لیکن جب آپ نے اپنے نام سے رسول اللہ مٹا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ختم نہیں ہوئی وی عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میری یہ گفتگو سن کر دو ہزار آدمیوں نے ان کی جماعت سے رجوع کرلیا اور باقی سب گمراہی پر قتل ہوئے ہوئے یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِيُّ ← عمر بن يونس بن القاسم اليمامي ← أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّرَسُوسِيُّ ← أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه،
Hadith 2656
