Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2656

2656 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ الْيَمَامِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا خَرَجَتِ الْحَرُورِيَّةُ اجْتَمَعُوا فِي دَارٍ، وَهُمْ سِتَّةُ آلَافٍ، أَتَيْتُ عَلِيًّا، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَبْرِدْ بِالظُّهْرِ لَعَلِّي آتِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَأُكَلِّمُهُمْ. قَالَ: إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ. قُلْتُ: كَلَّا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ وَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَمِيلًا جَهِيرًا. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَتَيْتُهُمْ، وَهُمْ مُجْتَمِعُونَ فِي دَارِهِمْ، قَائِلُونَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا: مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَمَا هَذِهِ الْحُلَّةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا تَعِيبُونَ عَلَيَّ، لَقَدْ رَأَيْتُ عَلَىَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مَا يَكُونُ مِنَ الْحُلَلِ، وَنَزَلَتْ: {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ} [الأعراف: 32] قَالُوا: فَمَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: أَتَيْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، لِأُبَلِّغُكُمْ مَا يَقُولُونَ الْمُخْبَرُونَ بِمَا يَقُولُونَ فَعَلَيْهِمْ نَزَلَ الْقُرْآنُ، وَهُمْ أَعْلَمُ بِالْوَحْيِ مِنْكُمْ، وَفِيهِمْ أُنْزِلَ: وَلَيْسَ فِيكُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ. فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تُخَاصِمُوا قُرَيْشًا، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: 58] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَتَيْتُ قَوْمًا لَمْ أَرْ قَوْمًا قَطُّ أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْهُمْ مُسْهِمَةٌ وجُوهُهُمْ مِنَ السَّهَرِ، كَأَنَّ أَيْدِيَهِمْ وَرُكَبَهُمْ تُثَنَّى عَلَيْهِمْ، فَمَضَى مَنْ حَضَرَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَنُكَلِّمَنَّهُ وَلَنَنْظُرَنَّ مَا يَقُولُ. قُلْتُ: أَخْبِرُونِي مَاذَا نَقَمْتُمْ عَلَى ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصِهْرِهِ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ؟ قَالُوا: ثَلَاثًا. قُلْتُ: مَا هُنَّ؟ قَالُوا: أَمَّا إِحْدَاهُنَّ فَإِنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي أَمْرِ اللَّهِ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ} [الأنعام: 57] وَمَا لِلرِّجَالِ وَمَا لِلْحَكَمِ؟ فَقُلْتُ: هَذِهِ وَاحِدَةٌ. قَالُوا: وَأَمَّا الْأُخْرَى فَإِنَّهُ قَاتَلَ، وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، فَلَئِنْ كَانَ الَّذِي قَاتَلَ كُفَّارًا لَقَدْ حَلَّ سَبْيُهُمْ وَغَنِيمَتُهُمْ، وَلَئِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ مَا حَلَّ قِتَالُهُمْ. قُلْتُ: هَذِهِ اثْنَتَانِ، فَمَا الثَّالِثَةُ؟ قَالَ: إِنَّهُ مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَهُوَ أَمِيرُ الْكَافِرِينَ. قُلْتُ: أَعِنْدَكُمْ سِوَى هَذَا؟ قَالُوا: حَسْبُنَا هَذَا. فَقُلْتُ لَهُمْ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَمِنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرَدُّ بِهِ قَوْلُكُمْ أَتَرْضَوْنَ؟ قَالُوا: نَعَمْ. فَقُلْتُ: أَمَّا قَوْلُكُمْ: حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي أَمْرِ اللَّهِ فَأَنَا أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ مَا قَدْ رَدَّ حُكْمَهُ إِلَى الرِّجَالِ فِي ثَمَنِ رُبْعِ دِرْهَمٍ فِي أَرْنَبٍ، وَنَحْوِهَا مِنَ الصَّيْدِ، فَقَالَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} [المائدة: 95] إِلَى قَوْلِهِ {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: 95] فَنَشَدْتُكُمُ اللَّهَ أَحُكْمُ الرِّجَالِ فِي أَرْنَبٍ وَنَحْوِهَا مِنَ الصَّيْدِ أَفْضَلُ، أَمْ حُكْمُهُمْ فِي دِمَائِهِمْ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ؟، وَأَنْ تَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَوْ شَاءَ لَحَكَمَ وَلَمْ يُصَيِّرْ ذَلِكَ إِلَى الرِّجَالِ، وَفِي الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا} [النساء: 35] فَجَعَلَ اللَّهُ حُكْمَ الرِّجَالِ سُنَّةً مَأْمُونَةً، أَخَرَجْتُ عَنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ: قَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ، أَتَسْبُونَ أُمَّكُمْ عَائِشَةَ ثُمَّ يَسْتَحِلُّونَ مِنْهَا مَا يُسْتَحَلُّ مِنْ غَيْرِهَا؟ فَلَئِنْ فَعَلْتُمْ لَقَدْ كَفَرْتُمْ وَهِيَ أُمُّكُمْ، وَلَئِنْ قُلْتُمْ: لَيْسَتْ أَمَّنَا لَقَدْ كَفَرْتُمْ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: {النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} [الأحزاب: 6] فَأَنْتُمْ تَدْورُونَ بَيْنَ ضَلَالَتَيْنِ أَيُّهُمَا صِرْتُمْ إِلَيْهَا، صِرْتُمْ إِلَى ضَلَالَةٍ فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، قُلْتُ: أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: وَأَمَّا قَوْلُكُمْ مَحَا اسْمَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنَا آتِيكُمْ بِمَنْ تَرْضَوْنَ، وَأُرِيكُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ كَاتَبَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ: " اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَا وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَوْ نَعْلَمُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا قَاتَلْنَاكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، اكْتُبْ يَا عَلِيُّ: هَذَا مَا اصْطَلَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " فَوَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عَلِيٍّ، وَمَا أَخْرَجَهُ مِنَ النُّبُوَّةِ حِينَ مَحَا نَفْسَهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: فَرَجَعَ مِنَ الْقَوْمِ أَلْفَانِ، وَقُتِلَ سَائِرُهُمْ عَلَى ضَلَالَةٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2656 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: جب خوارج نے بغاوت کی تو وہ ایک حویلی میں جمع ہوئے ، اس وقت ان کی تعداد چھ ہزار تھی ۔ میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آیا اور کہا: : اے امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ آج ظہر کی نماز ذرا تا خیر سے پڑھائیے گا۔ میں ارادہ رکھتا ہوں کہ ان لوگوں کے پاس آکر ان سے مذاکرات کروں ۔آپ نے فرمایا: : مجھے تیرے بارے میں خدشہ ہے۔ (کہ یہ لوگ تجھے کوئی نقصان نہ پہنچا دیں)میں نے کہا:: ایسا نہیں ہوگا (ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ) میں بہت ہی قیمتی یمنی جبہ زیب تن کرکے ان کی طرف روانہ ہوا ۔ ابو زمیل فرماتے ہیں: : ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بہت خوبصورت نوجوان تھے ۔ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میں ان کے پاس آیا اس وقت وہ اس حویلی میں موجود باتیں کر رہے۔ تھے ۔ میں نے ان کو سلام کیا انہوں نے جواباً مجھے خوش آمدید کہا: ۔ یہ کیسا جبہ ہے۔ ؟ میں نے کہا: تم اس کی وجہ سے مجھ پر کیوں عیب لگا رہے۔ ہو ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی زیادہ قیمتی جبہ پہنے دیکھا ہے۔ اور قرآن کریم کی اس آیت میں اس کی اجازت بھی موجود ہے۔ : ﴿قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ﴾ [الأعراف: 32] ’’تم فرماؤ کس نے حرام کیا اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی اور پاک رزق ‘‘ (ترجمہ کنزالایما ن ، امام احمد رضا ) ۔ وہ کہنے لگے تم کہنے کیا آئے ہو ؟ میں نے کہا: : میں تمہارے پاس مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی پاس سے آیا ہوں تا کہ تمہارے پاس ان کی جانب سے جو خبر یں پہنچ رہی ہیں ، ان کی حقیقت ہے۔ حال تم تک پہنچاؤں ۔ان لوگوں کی موجودگی میں قرآن نازل ہوا ہے۔ اور وہ لوگوں وحی کو تم سے بہتر جانتے ہیں اور ان کے متعلق ہیں یہ حکم نازل ہوا ہے۔ اور تم میں ان میں سے کوئی نہیں ہے۔ ۔تو ایک شخص بولا : تم قریش سے بلاوجہ مت جھگڑو ۔کیونکہ قرآن کہتا ہے۔ : ﴿ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ [الزخرف: 58] ’’ بلکہ وہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ ‘‘ ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: :میں ایسی قوم کے پاس آیا ہوں کہ ان سے بڑھ کر اجتہاد کی صلاحیت رکھنے والا میں نے کسی قوم کو نہیں پایا ۔شب بیداریوں کی وجہ سے ان کی چہرہ کی رنگت بدلی ہوئی تھی ۔یوں لگتا تھا کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کی تعریف کر رہے۔ ہیں ،ان میں سے بعض نے کہا: :ہمیں اس کے ساتھ گفت و شنید ضرور کرنی چاہیے تاکہ اس کے نظریات ہم پر آشکار ہو ں، لیکن میں نے کہا: : تم مجھے یہ بات بتاؤ کہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی ، ان کے داماد اور مہاجرین و انصار پر کیا اعتراض ہے۔ ؟ انہوں نے کہا: : (ہمیں ان پر ) تین اعتراض ہیں۔ میں نے پوچھا : وہ کیا ؟ انہوں نے کہا: : پہلا تو یہ ہے۔ کہ انہوں نے اللہ تعالی کی بادشاہی میں بندوں کو حاکم بنا دیا ہے۔ جب کہ اللہ تعالی نے فرمایا: : ﴿ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ﴾ [يوسف: 40] ’’حکم نہیں مگر اللہ کا ‘‘ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) بندوں کا امر سے کیا تعلق ؟ میں نے کہا: یہ تو ایک ہوا ۔انھوں نے کہا: دوسرا یہ ہے۔ کہ انہوں نے جنگ کی ہے۔ لیکن نہ تو کسی کو قیدی بنایا اور نہ مال غنیمت حاصل کیا ۔ یہ جن سے لڑ رہے۔ ہیں اگر وہ کافر ہیں تو ان کو قیدی بنانا اور ان کا مال غنیمت لینا جائز ہوتا اور اگر وہ مومن ہیں تو ان سے جہاد جائز نہیں ۔میں نے کہا: : دو ہوگئے ۔تیسرا اعتراض کیا ہے۔ ؟ انہوں نے کہا:: (تیسری بات یہ ہے۔ کہ ) انہوں نے اپنے نام سے لفظ ’’ امیرالمومنین ‘‘ ہٹا دیا ہے۔ ، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ ’’امیر الکافرین ‘‘ ہوئے ۔میں نے کہا: : اس کے علاوہ آپ لوگوں کے کوئی تحفظات ہو تو وہ بھی بتا دو ۔ انہوں نے کہا: ہمارے اعتراضات یہی تھے ۔میں نے ان سے کہا: اگر میں قرآن پاک کی وہ آیات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث سنا دو ں جس سے تمہارے موقف کی تردید ہوتی ہے۔ تو کیا مان لو گے ؟ انہوں نے کہا: : جی ہاں ۔ میں نے کہا: جو تم نے یہ اعتراض کیا ہے۔ کہ بندوں کو حاکم بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں میں تمہیں ایک آیت سناتا ہوں جس میں خرگوش وغیرہ کے شکار کے متعلق ربع درہم کے آٹھ ویں حصے میں بندوں کو حاکم بنایا گیا ہے۔ ۔ وہ آیت یہ ہے۔ ’’ یا ایھا الزین امنو ا لا تقتلو ا الصید و انتم حرم الی قولہ یحکم بہ ذوا عدل منکم‘‘ ۔اے ایمان والو شکار نہ مارو جب تم احرام میں ہو اور تم میں سے جو اسے قصداً قتل کرے تو اس کا بدلہ یہ ہے۔ کہ ویسا ہی جانور مویشی سے دے تم میں کے دو ثقہ آدمی اس کا حکم کریں ۔(ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا ) میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بندوں کا خرگوش وغیرہ کے شکار کے متعلق حاکم بننا افضل ہے۔ یا ان کے خونوں اور ان کے درمیان اصلاح کا حاکم بنا زیادہ افضل ہے۔ ؟ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ اگر اللہ تعالی چاہتا تو ان میں خود ہی فیصلہ کر دیتا اور ان کو دوسروں کے سپرد نہ کرتا ۔ نیز اللہ تعالی نے مرد اور عورت کے متعلق فرمایا: : ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا﴾ [النساء: 35]اور اگر تم کو میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پہنچ مرد والوں کی طرف سے سے اور 15 عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں صلح کرانا اگر چاہے۔ اللہ تعالی ان میں رجحان پیدا کر دے گا ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا رضا تو اللہ تعالی کے بندوں کو حکم بنانا سنت ہے۔ مامون قرار دیا ہے۔ جو ان کو اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا: کیا ہے۔ کہ یہ جنگ کر رہے۔ ہیں لیکن نہ کہہ دیں بنا رہے۔ ہیں نہ مال غنیمت کیا تم اپنی اماں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو قیدی بنایا گے اور پھر ان کے ساتھ وہ سلوک کروگے آگے جو ایک قیدی خاتون کے ساتھ کرنا جائز ہے۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کافر ہو جاؤ گے کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے۔ اور ان کے ایمان کا انکار کرو تو بھی تمہیں کافر ہوگئے کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ہے۔ یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔ اور اس کی بیویاں ان کی ماں ہے۔ ہے۔ ترجمہ کنجری امام احمد رضا تو تم لوگ دو گمراہیوں کے درمیان گھوم رہے۔ ہو ان میں سے کسی کی طرف بھی جاؤں بہرحال گمراہی ہیں تمہارا مقدر ہے۔ ہے۔ میری یہ دلیل سن کر انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا میں نے کہا: میں نے تمہارے دوسرے اعتراض کا بھی جواب دے دیا انہوں نے کہا: جی ہاں میں نے کہا: اور تمہارا یہ اعتراض تھا کہ انہوں نے اپنے نام سے امیر المومنین کا نام ہٹا دیا ہے۔ تو میں تمہیں ایسی شخصیت کی بات بتاتا ہوں سب لوگ راضی ہو اور میرا خیال ہے۔ کہ تم لوگوں نے سن رکھا ہوگا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سہیل بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ اور ابو سفیان بن حرب اللہ تعالی عنہ کی طرف جو محبوب لکھا تھا ہم نے امیرالمومنین سے فرمایا: تھا اے علی لکھو یہ وہ معاہدہ ہے۔ جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح کی ہے۔ ہے۔ اس پر مشرکین نے اعتراض کیا کہ نہیں خدا کی قسم ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے ہوتے تو تمہارے ساتھ جنگ کیوں کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بولے اے اللہ تو جانتا ہے۔ کہ میں رسول اللہ تعالی اس کی عبارت یوں کر دو یہ وہ معاہدہ ہے۔ جس پر پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی کی تو خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی سے کہیں افضل ہے۔ لیکن جب آپ نے اپنے نام سے رسول اللہ مٹا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ختم نہیں ہوئی وی عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: میری یہ گفتگو سن کر دو ہزار آدمیوں نے ان کی جماعت سے رجوع کرلیا اور باقی سب گمراہی پر قتل ہوئے ہوئے یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْعِجْلِيُّ ← عمر بن يونس بن القاسم اليمامي ← أَبُو أُمَيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الطَّرَسُوسِيُّ ← أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه،

Hadith 2656

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2657

2657 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَبَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَهَا جُلُوسٌ مَرْجِعُهَا مِنَ الْعِرَاقِ لَيَالِي قُوتِلَ عَلِيٌّ إِذْ قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ، هَلْ أَنْتَ صَادِقِيَّ عَمَّا أَسْأَلُكَ عَنْهُ؟ حَدَّثَنِي عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ. قُلْتُ: وَمَالِي لَا أَصْدُقُكَ؟ قُلْتُ: فَحَدِّثْنِي عَنْ قِصَّتِهِمْ. قُلْتُ: إِنَّ عَلِيًّا لَمَّا كَاتَبَ مُعَاوِيَةَ وَحَكَّمَ الْحَكَمَيْنِ خَرَجَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةُ آلَافٍ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ، فَنَزَلُوا أَرْضًا مِنْ جَانِبِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهَا: حَرُورَاءُ، وَإِنَّهُمْ أَنْكَرُوا عَلَيْهِ، فَقَالُوا: انْسَلَخْتَ مِنْ قَمِيصٍ أَلْبَسَكَهُ اللَّهُ وَأَسْمَاكَ بِهِ، ثُمَّ انْطَلَقْتَ فَحَكَّمْتَ فِي دَيْنِ اللَّهِ وَلَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ. فَلَمَّا بَلَغَ عَلِيًّا مَا عَتَبُوا عَلَيْهِ وَفَارَقُوهُ، أَمَرَ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ لَا يَدْخُلَنَّ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَّا رَجُلٌ قَدْ حَمَلَ الْقُرْآنَ، فَلَمَّا أَنِ امْتَلَأَ الدَّارُ مِنَ الْقُرَّاءِ دَعَا بِمُصْحَفٍ عَظِيمٍ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَطَفِقَ يَصُكُّهُ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: أَيُّهَا الْمُصْحَفُ حَدِّثِ النَّاسَ، فَنَادَاهُ النَّاسُ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَسْأَلُهُ عَنْهُ إِنَّمَا هُوَ وَرَقٌ وَمِدَادٌ، وَنَحْنُ نَتَكَلَّمُ بِمَا رَأَيْنَا مِنْهُ فَمَاذَا تُرِيدُ؟ قَالَ: أَصْحَابُكُمُ الَّذِينَ خَرَجُوا بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ كِتَابُ اللَّهِ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا فَأُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْظَمُ حُرْمَةً مِنِ امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ، وَنَقَمُوا عَلَيَّ أَنْ كَاتَبْتُ مُعَاوِيَةَ وَكَتَبَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَقَدْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ حِينَ صَالَحَ قَوْمُهُ قُرَيْشًا فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» فَقَالَ سُهَيْلٌ: لَا تَكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. قَالَ: «فَكَيْفَ أَكْتُبُ؟» قَالَ: اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتُبْ» ثُمَّ قَالَ: " اكْتُبْ: مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ " قَالُوا: لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ نُخَالِفْكَ، فَكَتَبَ: «هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قُرَيْشًا» يَقُولُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ} [الأحزاب: 21] فَبَعَثَهُ إِلَيْهِمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَخَرَجْتُ مَعَهُمْ حَتَّى إِذَا تَوَسَّطْنَا عَسْكَرَهُمْ، قَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: يَا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ إِنَّ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهُ، فَأَنَا أَعْرِفُهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، هَذَا مَنْ نَزَلَ فِي قَوْمِهِ: {بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ} [الزخرف: 58] فَرُدُّوهُ إِلَى صَاحِبِهِ، وَلَا تُوَاضِعُوهُ كِتَابَ اللَّهِ. قَالَ: فَقَامَ خُطَبَاؤُهُمْ فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ لَنُوَاضِعَنَّهُ كِتَابَ اللَّهِ، فَإِذَا جَاءَ بِالْحَقِّ نَعْرِفُهُ اسْتَطَعْنَاهُ، وَلَئِنْ جَاءَ بِالْبَاطِلِ لَنُبَكِّتَنَّهُ بِبَاطِلِهِ، وَلَنَرُدَّنَّهُ إِلَى صَاحِبِهِ، فَوَاضَعُوهُ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَرَجَعَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ كُلُّهُمْ تَائِبٌ بَيْنَهُمُ ابْنُ الْكَوَّاءِ، حَتَّى أَدْخَلَهُمْ عَلَى عَلِيٍّ فَبَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى بَقِيَّتِهِمْ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا وَأَمْرِ النَّاسِ مَا قَدْ رَأَيْتُمْ فَقِفُوا حَيْثُ شِئْتُمْ حَتَّى تَجْتَمِعَ أُمَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَنْزِلُوا حَيْثُ شِئْتُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ نَقِيَكُمْ رِمَاحَنَا مَا لَمْ تَقْطَعُوا سَبِيلًا أَوْ تُطِيلُوا دَمًا، فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَقَدْ نَبَذْنَا إِلَيْكُمُ الْحَرْبَ عَلَى سَوَاءٍ، إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ. فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: يَا ابْنَ شَدَّادٍ فَقَدْ قَتَلَهُمْ؟ . فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا بَعَثَ إِلَيْهِمْ حَتَّى قَطَعُوا السَّبِيلَ، وَسَفَكُوا الدِّمَاءَ بِغَيْرِ حَقِّ اللَّهِ، وَقَتَلُوا ابْنَ خَبَّابٍ وَاسْتَحَلُّوا أَهْلَ الذِّمَّةِ فَقَالَتْ: آللَّهِ؟ قُلْتُ: آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. قَالَتْ: فَمَا شَيْءٌ بَلَغَنِي عَنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يَتَحَدَّثُونَ بِهِ يَقُولُونَ: ذُو الثُّدَيِّ ذُو الثُّدَيِّ، فَقُلْتُ: قَدْ رَأَيْتُهُ وَوَقَفْتُ عَلَيْهِ مَعَ عَلِيٍّ فِي الْقَتْلَى فَدَعَا النَّاسَ، فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَكَانَ أَكْثَرُ مَنْ جَاءَ يَقُولُ: قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي، وَرَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي، فَلَمْ يَأْتِ بِثَبْتٍ يُعْرَفُ إِلَّا ذَلِكَ، قَالَتْ: فَمَا قَوْلُ عَلِيٍّ حِينَ قَامَ عَلَيْهِ كَمَا يَزْعُمُ أَهْلُ الْعِرَاقِ؟ قُلْتُ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ. قَالَتْ: وَهَلْ سَمِعْتَهُ أَنْتَ مِنْهُ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: اللَّهُمَّ لَا. قَالَتْ: أَجَلْ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، إِلَّا ذِكْرَ ذِي الثُّدَيَّةِ فَقَدْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ بِأَسَانِيدَ كَثِيرَةٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2657 - على شرط البخاري ومسلم وأخرج منه ذكر ذي الثدية

حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ حضرت علی کی لڑائی سے لوٹ کر واپس آئیں تو میں ان کے پاس گیا ، ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ جنگ کے متعلق گفتگو کر رہے۔ تھے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: : میں جو بات تم سے پوچھوں کیا تم سچ سچ بتاؤ گے ؟ آپ مجھے ان لوگوں کے متعلق بتائیے جن کو علی نے قتل کیا ۔میں نے کہا: : میں تمہیں سچ کیوں نہیں بتاؤں گا ۔ ا م لمومنین رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: : تو مجھے اس کا واقعہ سناؤ۔ میں بولا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے معاویہ کی جانب مکتوب لکھا اور دو حاکموں کا فیصلہ سنایا تو آٹھ ہزار قراء نے ان کے خلاف بغاوت کر دی پھر وہ کوفہ کی جانب ایک حرور ا ء نامی مکان پر جمع ہوگئے اور انہوں نے علی کے احکام کا انکار کیا اور کہنے لگے : تم نے وہ قمیض اتار دی ہے۔ جو اللہ تبارک و تعالی نے تمہیں پہنائی تھی اور اس کے ساتھ تمہیں بلند کیا تھا ، پھر تم نے اللہ کے دین میں حاکم مقرر کر دیا حالا نکہ حکم کا اختیار صرف اللہ تعالی کو ہے۔ ۔ جب ان کی بغاوت اور ہرزہ سرائی کی خبر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ تک پہنچی تو آپ نے منادی کو حکم دیا کہ لوگوں میں یہ منادی کر دی جائے کہ امیر المومنین کے پاس صرف حامل قرآن حاضر ہو سکتا ہے۔ ، جب حویلی قرا ء سے بھر گئی تو آپ نے قرآن پاک کا ایک بڑا نسخہ منگوایا یا ۔ اپنے ہاتھ اس پر رکھے اور اس پر ہاتھ پھیر پھیر کر کہنے لگے : اے قرآن تو ہی ان لوگوں کو حقیقت بتا ۔ لوگوں نے آپ کو آواز دی اور کہنے لگے :امیرالمومنین آپ جس سے سوال کر رہے۔ ہیں وہ تو محض ورق اور سیاہی ہے۔ ۔ ہم اس میں پڑھ کر آپ کو سنا دیتے ہیں ، آپ بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: تمہارے وہ ساتھی ہیں جنہوں نے بغاوت کی ہے۔ ، اللہ تعالی ایک عورت اور ایک مرد کے متعلق فرماتا ہے۔ : ’’ وان خفتم شقاق بینھما فابعثو حکما من اھلہ و حکما من اھلھا‘‘ ’’اگر تمہیں میاں بیوی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے ‘‘تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی حرمت ایک مرد اور ایک عورت کی حرمت سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے مجھ پر یہ الزام لگایا ہے۔ کہ میں نے معاویہ سے خط و کتابت کی ہے۔ اور علی بن ابی طالب نے لکھا ہے۔ (آپ نے آپ کو امیر المومنین کیوں نہیں لکھا ؟ تو سنیے)ہم حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے سہیل بن عمرو آپ کے پاس آیا ،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم قریش کے ساتھ صلح کی ۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘‘لکھ دی ۔تو سہیل نے کہا: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم مت لکھو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیسے لکھو ں؟ اس نے کہا: لکھو ’’با سمک اللھم ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: : میں لکھتا ہوں ۔پھر فرمایا: :لکھو’’من محمد رسول اللہ ‘‘تو وہ کہنے لگے : اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت نہ کر تے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکھا ’’ ھذا ما صالح علیہ محمد بن عبداللہ قریشا ‘‘ اللہ تعالی اپنی کتاب میں فرماتا ہے۔ ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ ﴾ [الأحزاب: 21] ’’ بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہوں ‘‘ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا )

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يحيى بن سليم وعبد الله بن واقد ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← هشام بن علي السدوسي، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ

Hadith 2657

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2658

2658 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ الْحَارِثِ، يَقُولُ: شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ النَّهْرَوَانِ طَلَبَ الْمُخَدَّجِ فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ جَبِينُهُ يَعْرَقُ، وَأَخَذَهُ الْكَرْبُ، ثُمَّ إِنَّهُ قَدَرَ عَلَيْهِ فَخَرَّ سَاجِدًا، فَقَالَ: «وَاللَّهِ مَا كَذَبْتَ وَلَا كُذِّبْتَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِذِكْرِ سَجْدَةِ الشُّكْرِ، وَهُوَ غَرِيبٌ صَحِيحٌ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2658 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت مالک بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: : نھروان کے دن میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ ناقص بازو والے کو ڈھونڈ رہے۔ تھےلیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکے تو ان کی پیشانی پر پسینہ آنا شروع ہو گیا اور آپ شدید پریشان ہوگئے ۔پھر جب آپ کو اس کی لاش مل گئی تو سجدہ شکر ادا کیا اور بولے خدا کی قسم ، میں نے جھوٹ نہیں بولا ، خدا کی قسم میرے ساتھ جھوٹ نہیں بولا گیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن انہوں نے اس کو سجدے کے ذکر کے ہمراہ نقل نہیں کیا اور یہ حدیث سجدہ شکر کے حوالے سے غریب صحیح ہے۔

مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ الْغِفَارِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 2658

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2659

2659 - أَخْبَرَنَا مُكْرَمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُكْرَمٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ الدَّلَّالُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ فَجَعَلَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ فِيهِ، فَيُعْطَى يَمِينًا وَشِمَالًا، وَفِيهِمْ رَجُلٌ مُقَلَّصُ الثِّيَابِ، ذُو سِيمَاءَ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُ يَدَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا حَتَّى نَفدَ الْمَالُ، فَلَمَّا نَفدَ الْمَالُ وَلَّى مُدْبِرًا، وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ. قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُ كَفَّهُ وَيَقُولُ: «إِذَا لَمْ أَعْدِلْ فَمَنْ ذَا يَعْدِلُ بَعْدِي، أَمَا إِنَّهُ سَتْمَرُقُ مَارِقَةٌ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَرْجِعَ السَّهْمُ عَلَى فَوْقِهِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يُحْسِنُونَ الْقَوْلَ، وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، فَمَنْ لَقِيَهُمْ فَلْيُقَاتِلْهُمْ، فَمَنْ قَتَلَهُمْ فَلَهُ أَفْضَلُ الْأَجْرِ، وَمَنْ قَتَلُوهُ فَلَهُ أَفْضَلُ الشَّهَادَةِ، هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ، بَرِيءٌ اللَّهُ مِنْهُمْ، يَقْتُلُهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي نَضْرَةَ مِنْ أَعَزِّ الْبَصْرِيِّينَ حَدِيثًا، وَلَا أَعْلَمُ أَنِّي عَلَوْتُ لَهُ فِي حَدِيثٍ غَيْرِ هَذَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2659 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: : کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ (غنیمت کا ) مال آیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مال اپنے دائیں بائیں (بیٹھے ہوئے لوگوں کو ) دینا شروع کر دیا ۔ان میں ایک سمٹے ہوئے کپڑوں والا شخص بھی موجود تھا ۔اس کی پیشانی پر سجدوں کا اثر تھا ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں بائیں مال بانٹتے رہے۔ ، حتی کہ سارا مال ختم ہو گیا ۔جب مال ختم ہوگیا تو وہ شخص وہاں سے چلا گیا اور جاتے جاتے بولا ! خدا کی قسم آج تو نے عدل نہیں کیا ۔( راوی ) فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہتھیلیوں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے بولے جب میں ہی عدل نہیں کروں گا تو میرے بعد اور کون عمل کرے گا ۔ اور عنقریب کچھ لوگ خارجی ہو جائیں گے ۔یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے ، پھر یہ دین کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے جیسے تیر آپ نے سو فار کی طرف لوٹ کر نہیں آتا ۔ یہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ،یہ گفتگو بہت اچھی کریں گے لیکن ان کے اعمال برے ہوں گے ۔ جس کو یہ ملیں اس کو چاہیے کہ وہ ان کو قتل کردے ۔جو ان کو قتل کرے گا ، اس کے لئے بہترین اجر ہے۔ اور جو ان کے ہاتھوں قتل ہوگا وہ بہترین شہید ہے۔ ۔ یہ تمام مخلوق سے بدتر لوگ ہوں گے ۔ اللہ ان سے بری ہے۔ ۔ان کو دو جماعتوں میں سے وہ قتل کرے گی جو حق کےسے سب سے زیادہ قریب ہو گی ۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ لیکن شیخین نے ان کو اس کے انداز کے ساتھ نقل نہیں کیا ہے۔ اور عبدالملک بن ابی نظرہ بصرہ کے تمام محدثین سے زیادہ عزیز الحدیث ہیں۔اور میرے علم میں نہیں ہے۔ کہ اس کے علاوہ کسی اور حدیث میں میری سند (اس جیسی ) عا لی ہو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي نَضْرَةَ ← أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ الدَّلَّالُ، ← أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ← مُكْرَمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُكْرَمٍ الْقَاضِي،

Hadith 2659

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2660

2660 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، أَنَّ كَثِيرَ بْنَ هِشَامٍ حَدَّثَهُمْ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «شَهِدْتُ صِفِّينَ فَكَانُوا لَا يُجْهِزُونَ عَلَى جَرِيحٍ، وَلَا يَقْتُلُونَ مُوَلِّيًا، وَلَا يَسْلُبُونَ قَتِيلًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ فِي هَذَا الْبَابِ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2660 - صحيح

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: : میں جنگ صفین میں موجود تھا ، تھا وہ لوگ نہ تو کسی زخمی کو قتل کرتے تھے نہ پیٹھ دے کر بھاگنے والے کو قتل کرتے تھے نہ کسی مقتول کا سامان لوٹتے تھے ۔یہ حدیث اس باب میں ’’صحیح الاسناد ‘‘ہے۔ ۔درج ذیل صحیح حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ

Hadith 2660

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2661

2661 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ ضُبَيْعَةَ الْعَبْسِيِّ، قَالَ: نَادَى مُنَادِي عَمَّارٍ يَوْمَ الْجَمَلِ وَقَدْ وَلَّى النَّاسُ: «أَلَا لَا يُذَافَّ عَلَى جَرِيحٍ، وَلَا يُقْتَلُ مُوَلٍّ، وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ» فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا «وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2661 - صحيح

حضرت یزید بن ضبعیہ عبسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ جنگ جمل کے دن جب لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تو حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ کے منادی نے یہ اعلان کیا : خبر دار ! کسی زخمی کو مت مارنا ،اور پیٹھ دے کر بھاگنے والے کو بھی نہ مارنا ، اور جو ہتھیار ڈال دے ، وہ امن والا ہے۔ ۔ان کا یہ اعلان ہم پر بہت شا ق گزرا ۔ اس باب میں درج ذیل مسند حدیث بھی منقول ہے۔ ۔

يَزِيدَ بْنِ ضُبَيْعَةَ الْعَبْسِيِّ ← السُّدِّيِّ ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَبُو سَعِيدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 2661

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2662

2662 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُوَارِزْمِيُّ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدٍ الْجَزَّارُ، ثنا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، ثنا كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ، أَتَدْرِي مَا حُكْمُ اللَّهِ فِيمَنْ بَغَى مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟» قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَنْ لَا يُتْبَعَ مُدْبِرَهُمْ، وَلَا يُقْتَلُ أَسِيرُهُمْ، وَلَا يُذَفَّفُ عَلَى جَرِيحِهِمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2662 - كوثر بن حكيم متروك

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا:: اے ابن مسعود ! کیا تم جانتے ہو کہ اس امت کے باغیوں کے متعلق اللہ تعالی کا کیا فیصلہ ہے۔ ؟ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے متعلق اللہ تعالی کا ایک یہ فیصلہ ہے۔ کہ ان میں پیٹھ دے کر بھاگنے والے کو قتل نہ کیا جائے ۔ ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے اور ان کے زخمیوں کو قتل نہ کیا جائے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← كوثر بن حكيم ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدٍ الْجَزَّارُ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، ← يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُوَارِزْمِيُّ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2662

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2663

2663 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، دَخَلَ عَمْرِو بْنُ حَزْمٍ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَزِعًا حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قُتِلَ عَمَّارٌ فَمَاذَا؟ فَقَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: دُحِضْتَ فِي بَوْلِكَ، أَوَ نَحْنُ قَتَلْنَاهُ، إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ، جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا - أَوْ قَالَ: بَيْنَ سُيُوفَنَا - «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2663 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت محمد بن عمر بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: جب عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کیا گیا تو حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ کے پاس آ کر کہنے لگے : عمار کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: تھا ’’تجھے باغی گروہ قتل کرے گا ‘‘۔تو عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ گھبرا کر اٹھے اور فورا ًحضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے اور ان کو بتایا کہ عمار کو شہید کر دیا گیا ہے۔ ۔معاویہ بولے : عمار کو قتل کردیا گیا ہے۔ تو کیا ہوا ؟ عمر وبولے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے۔ کہ ’’ اس کو باغی گروہ قتل کرے گا ‘‘ تو معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے کہا: : تو خود اپنے ہی پیشاب میں پھسلا ہے۔ ہم نے اس کو تھوڑی قتل کیا ہے۔ ۔ اس کے قتل کے ذمہ دار ’’علی ‘‘ اور اس کے ساتھی ہیں جو ان کو لاکر ہمارے نیزوں میں ڈال گئے ہیں یا( شاید یہ فرمایا: ) ہماری تلواروں میں ڈال گئے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَزْمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني

Hadith 2663

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2664

2664 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَغِبَتْ عَنْهُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي، حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ} [الحجرات: 9] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں: یہ امت جس قدر اس آیات (پر عمل کرنے ) سے اعراض کرتی ہے۔ ، میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا (وہ آیت یہ ہے۔ ) ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ ﴾ [الحجرات: 9] ’’اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک ، دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے ‘‘( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا )یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بن محمد بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← أَبِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بن الحَسَن بن عيسى

Hadith 2664

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2665

2665 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْحَلِيمِيُّ، جَمِيعًا بِمَرْوَ، وَأَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ، الْفَقِيهُ الْبُخَارِيُّ بِنَيْسَابُورَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ - وَرَفَعَ يَدَيْهِ - فَمَنْ رَأَيْتُمُوهُ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمْ جَمِيعٌ فَاقْتُلُوهُ كَائِنًا مَنْ كَانَ مِنَ النَّاسِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا حَكَمْتُ بِهِ عَلَى الشَّيْخَيْنِ لِأَنَّ شُعْبَةَ بْنَ الْحَجَّاجِ، وَسُفْيَانَ بْنَ سَعِيدٍ، وَشَيْبَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمَعْمَرَ بْنَ رَاشِدٍ قَدْ رَوَوْهُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ثُمَّ وَجَدْتُ أَبَا حَازِمٍ الْأَشْجَعِيَّ، وَعَامِرًا الشَّعْبِيَّ، وَأَبَا يَعْفُورَ الْعَبْدِيَّ، وَغَيْرَهُمْ تَابَعُوا زِيَادَ بْنَ عِلَاقَةَ عَلَى رِوَايَتِهِ، عَنْ عَرْفَجَةَ، وَالْبَابُ عِنْدِي مَجْمُوعٌ فِي جُزْءٍ فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنْ ذِكْرِ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ " وَقَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا بُويعَ لِلْخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا» ، وَشَرَحَهُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَدْ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2665 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عرفجہ بن شریف اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: : میرے بعد عنقریب مصیبتیں ہی مصیبتیں ہو گی۔( یہ فرماتے ہوئے ) آپ نے اپنے ہاتھ بلند کئے ۔(اور فرمایا: ) تم جس شخص کو دیکھو کہ وہ امت محمدیہ کا شیرازہ بکھیرنا چاہتا ہے۔ تو اس کو قتل کر ڈالو ۔لوگوں میں اس کی کوئی بھی حیثیت ہو ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے ہی اس سے نقل نہیں کیا اور میں نے شیخین کے متعلق جو یہ بات کہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے۔ کہ شعبہ بن حجاج ، سفیان بن سعید، شیبان بن عبدالرحمن اور معمر بن راشد نے اس حدیث کو زیادہ بن علاقہ سے روایت کیا ہے۔ ۔ پھر میں نے دیکھا کہ یہ حدیث عرفجہ سے روایت کرنے میں ابوحازم اشجعی ، عامر الشعبی اور ابو یعفورعبدی اور دیگر محدثین نے زیاد بن علاقہ کی متابعت کی ہے۔ ۔ اور میرے نزدیک یہ باب ایک جز میں جمع ہے۔ ۔ جس کی بنا پر ان روایات کو بیان ذکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ ۔البتہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ابو نظرہ کے واسطے سے ابوسعید کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔ ’’جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو ان میں ان میں سے دوسرے یعنی بعد والے کو قتل کر دو اور اس حدیث کی شرح وہ حدیث ہے۔ جس کو عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا ہے۔

عَرْفَجَةَ بْنِ شُرَيْحٍ الْأَسْلَمِيِّ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← أَبُو حَمْزَةَ مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، ← عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو الْمُوَجَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ، الْفَقِيهُ الْبُخَارِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَلِيمِيُّ، جَمِيعًا ← أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ

Hadith 2665

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2666

2666 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ أَنْتَ وَمَوْتٌ يُصِيبُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْوَصِيفِ؟» - يَعْنِي الْقَبْرَ - قُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتَ وَجُوعٌ يُصِيبُ النَّاسَ حَتَّى تَأْتِيَ مَسْجِدَكَ، فَلَا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى فِرَاشِكَ، وَلَا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكَ إِلَى مَسْجِدِكَ؟» قُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ. قَالَ: «عَلَيْكَ بِالْعِفَّةَ» ثُمَّ قَالَ: «كَيْفَ أَنْتَ وَقَتْلٌ يُصِيبُ النَّاسَ حَتَّى تُغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ بِالدَّمِ؟» قُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ أَوِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «الْزَمْ مَنْزِلَكَ» قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا آخُذُ سَيْفِي فَأَضْرِبُ بِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «فَقَدْ شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذًا» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ دَخَلَ بَيْتِي؟ قَالَ: «إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَقُلْ هَكَذَا، فَأَلْقِ طَرَفَ ثَوْبِكَ عَلَى وَجْهِكَ فَيَبُوءَ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ، وَيَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " لِأَنَّ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ رَوَاهُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُنْبَعِثُ بْنُ طَرِيفٍ - وَكَانَ قَاضِيًا بِهَرَاةَ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2666 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: : اس وقت تو کیسا ہوگا جب لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہو گا یہاں تک کہ قبر ہی اصل مکان ٹھہرے گی ۔ میں نے کہا: : جو اللہ اور اس کا رسول میرے منتخب کریں گے ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: : تو اس وقت کیا کرے گا جب لوگ شدید بھوک کا شکار ہوں گے (اور کمزوری اس قدر شدید ہو چکی ہوگی کہ ) تم میں نماز پڑھ کر بستر تک آنے یا بستر سے اٹھ کر سے نماز تک آنے کی بھی ہمت نہ ہوگی ۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول جو میرے لئے منتخب کریں گے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عفت ‘‘کو اختیار کر لو ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تو کیا کرے گا جب لوگوں میں قتل عام ہوگا یہاں تک کہ (مقام ) حجارۃ الذیت خون میں ڈوب جائے گا ۔میں نے کہا: : اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو منتخب فرما دے ۔(شاید یہ فرمایا: ) اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: : اپنے گھر سے باہر مت نکلنا ۔( ابوذر ) فرماتے ہیں: : میں نے عرض کی : کیا ( ایسے حالات میں ) میں، ایسا کرنے والوں کی گردن نہ مار وں؟ آپ نے فرمایا: : تب تو بھی انہی کا شریک ہوگا میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر وہ میرے گھر میں گھس آئے (تو کیا پھر بھی میں تلوار نہ اٹھاؤ ں؟)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھے اپنے قتل کا خوف ہو تو اپنے چہرے پر یوں کر کے کپڑے کا پلو ڈال لینا تو تیرے اور اس کے گناہ کا ذمہ دار وہی ہو گا اور وہ جہنمی ہوگا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔کیونکہ حماد بن زید نے اس حدیث کو ابو عمران جو نی سے روایت کیا ہے۔ ، وہ فرماتے ہیں: : یہ حدیث مجھے منبعث بن طریف نے روایت کی ہے۔ ۔اور وہ ہرات میں قاضی تھے ۔ انہوں نے عبداللہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ کے ذریعہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان نقل کیا ہے۔ ۔(جو کہ درج ذیل ہے۔ )

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني

Hadith 2666

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2667

2667 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْمُسَيِّبِ الضَّبِّيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَعَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَا: قَالَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ لِأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ: أَلَا تَخْرُجْ فَتُقَاتِلْ مَعَنَا؟ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي وَعَمِّي شَهِدَا بَدْرًا، وَإِنَّهُمَا عَهِدَا إِلَيَّ أَنْ لَا أُقَاتِلَ أَحَدًا يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِنْ أَنْتَ جِئْتَنِي بِبَرَاءَةٍ مِنَ النَّارِ، قَاتَلْتُ مَعَكَ، قَالَ: فَاخْرُجْ عَنَّا، قَالَ: فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: [البحر الوافر] وَلَسْتُ بِقَاتِلٍ رَجُلًا يُصَلِّي ... عَلَى سُلْطَانٍ آخَرَ مِنْ قُرَيْشِ لَهُ سُلْطَانُهُ وَعَلَيَّ إِثْمِي ... مُعَاذَ اللَّهِ مِنْ جَهْلٍ وَطَيْشِ أَأَقْتُلُ مُسْلِمًا فِي غَيْرِ جُرْمٍ ... فَلَيْسَ بِنَافِعِي مَا عِشْتُ عَيْشِي « هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَالصَّحَابِيَّانِ اللَّذَانِ ذُكِرَا وَشَهِدَا بَدْرًا يَصِيرُ الْحَدِيثُ بِهِ فِي حُدُودِ الْمَسَانِيدِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2667 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت قیس بن ابو حازم رضی اللہ تعالی عنہ اور عامر شعبی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: : مروان بن حکم نے ایمن بن خزیم سے کہا: : تم ہمارے ساتھ جنگ کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا: : میرے والد اور میرے چچا بدر میں شریک ہوئے ہیں ، انہوں نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میں کسی کلمہ گو کے خلاف نہیں لڑ وں گا ۔اگر دوزخ سے براء ت کا یقین دلاتے ہو تو میں آپ کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوتا ہوں ۔ (مروان نے )کہا: : یہاں سے نکل جاؤ ۔ تو وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل آئے ’’میں ایسے کسی شخص سے نہیں لڑو گا جو قریش کے کسی دوسرے سلطان کی تعریف کرتا ہے۔ ۔اس کے لیے اس کی سلطنت اور میرے اوپر گناہ ۔میں ایسے جہل اور زوال عقل سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔کیا میں ایک مسلمان کو بلاوجہ قتل کروں گا ۔تو پھر میں جتنی بھی زندگی جی لوں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا اور وہ دو صحابی جن کا ذکر ہوا ہے۔ جو بدر میں شہید ہوئے ہیں ان کے متعلق حدیث مسائید کی حدود میں ہے۔ ۔

فَخَرَجَ وَهُوَ ← فَاخْرُجْ عَنَّا، ← لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِنْ أَنْتَ جِئْتَنِي بِبَرَاءَةٍ مِنَ النَّارِ، قَاتَلْتُ مَعَكَ، ← إِنَّ أَبِي وَعَمِّي شَهِدَا بَدْرًا، وَإِنَّهُمَا عَهِدَا إِلَيَّ أَنْ لَا أُقَاتِلَ أَحَدًا ← مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ لِأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ: أَلَا تَخْرُجْ فَتُقَاتِلْ مَعَنَا؟ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَعَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْمُسَيِّبِ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Hadith 2667

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section