Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2644

2644 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأُمَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ يَقْسِمُ تَمْرًا يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اعْدِلْ. قَالَ: «وَيْحَكَ، وَمَنْ يَعْدِلُ عَلَيْكَ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟ - أَوْ عِنْدَ مَنْ تَلْتَمِسُ الْعَدْلُ بَعْدِي؟ -» ثُمَّ قَالَ: «يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ قَوْمٌ مِثْلُ هَذَا، يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَهُمْ أَعْدَاؤُهُ، يَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ مُحَلَّقَةٌ رَءُوسُهُمْ، فَإِذَا خَرَجُوا فَاضْرِبُوا رِقَابَهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2644 - محمد بن سنان كذبه أبو داود وغيره

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے موقع پر کھجور یں تقسیم فرمار ہے تھے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! انصاف کیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہو، اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو تجھے کون انصاف دے گا ؟ یا( شاید یہ فر مایا) تم میرے بعد کس سے انصاف طلب کروگے؟ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام سلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عُمَرَ بْنِ الْحَکَمِ ← أَبِي ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ← محمد بن سنان القزاز ← أبو العباس محمد بن يعقوب الأموي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2644

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2645

2645 - أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي أَشِدَّةٌ ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ الْمَأْجُورَ مَنْ قَتَلَهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2645 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بہت خوبصورت لہجے میں قرآن پڑھیں گے لیکن (ان کا قرآن) ان کے حلق سے نیچنےنہیں اترے گا ‘وہ دین سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیرنشانے سے نکل جا تا ہے ۔ جب تم ان سے ملوتو انہیں مار ڈالو کیونکہ اس شخص کوا جر دیا جائے گا جوان کوقتل کرے گا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور اسی حدیث کو حماد بن زید نے عثمان شحام کے حوالے سے روایت کیا ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

أَبِيهِ ← مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، ← عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2645

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2646

2646 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، قَالَ: أَتَيْتُ مُسْلِمَ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، وَفَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يَذْكُرُ فِي حَدِيثِ الْفِتَنِ؟ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ أَبِيَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَكُونُ فِي أُمَّتِي قَوْمٌ أَعْدَاءٌ ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ»

حضرت ابوبکر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: میری امت میں کچھ دشمن ایسے ہوں گے جو بہت خوبصورت لہجے میں قرآن کی تلاوت کر یں گے ، جب تم ان کو دیکھوتو ان کو( موت کی نیند) سلا دو ۔

أَبِي ← نَعَمْ ← فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا: أَسَمِعْتَ أَبَاكَ يَذْكُرُ فِي حَدِيثِ الْفِتَنِ؟ ← أَتَيْتُ مُسْلِمَ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، ← عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2646

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2647

2647 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَرَىَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُحَدِّثُنِي عَنِ الْخَوَارِجِ قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَرْزَةَ، حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْخَوَارِجِ. قَالَ: أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَرَأَتْ عَيْنَايَ، أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِيرَ مِنْ أَرْضٍ فَكَانَ يَقْسِمُهَا وَعِنْدَهُ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ، فَتَعَرَّضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا، فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ شِمَالِهِ، فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا، فَأَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ فِي الْقِسْمَةِ. فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ» قَالَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ قَوْمٌ كَأَنَّ هَدْيَهُمْ هَكَذَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ، لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ - قَالَهَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا - هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ - قَالَهَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا وَقَالَ: قَالَ أَيْضًا - لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2647 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت شریک بن شھاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری بہت خواہش تھی کہ کسی ایسے صحابی رسول سے ملاقات کروں جو مجھے خوارج کے حوالے سے کوئی حدیث سنائے ۔ چنانچہ عرفہ کے دن صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ کی ایک جماعت میں ابو برزہ کے ساتھ میری ملاقات ہوگئی ۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ نے خوارج کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان سن رکھا ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: (جی ہاں) میں آپ کو وہ بات سناؤں گا ، جومیرے کانوں نے سنی اور آنکھوں نے دیکھی ہے ۔ ( ایک دفعہ) کسی علاقے سے مال غنیمت آیا ہوا تھا جس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فر مار ہے تھے ، آپ کے قریب کٹے ہوئے بالوں والا ، کالے رنگ کا ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے اوپر سفید رنگ کی دو چادر یں تھیں اور اس کی پیشانی پر سجدوں کا اثر تھا ، وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہی پڑا ہوا تھا۔ وہ (ایک بار) رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے آیا ‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کچھ نہیں دیا‘ وہ ( دوبارہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب سے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر بھی) اس کو کچھ نہیں دیا‘ وہ ( تیسری بار) پیچھے سے آیا اور کہنے لگا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو نے آج تک تقسیم میں انصاف نہیں کیا ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراض ہو کر فرمایا میرے بعد تمہیں ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا جو مجھ سے بڑ ھ تمہیں انصاف دے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دھرایا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی طرف سے کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جن کا یہی انداز ہوگا ، وہ قرآن کی تلاوت کر یں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ دین سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کی طرف ( تیزی سے )نکلتا ہے پھر وہ اس ( دین ) کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر تے ہوئے فرمایا: ان کی نشانی ’’سرمنڈانا‘‘ ہے، وہ مسلسل ظاہر ہوتے رہیں گے حتی کہ جب ان میں سب سے آخری ظاہر ہوتو جب اس کو دیکھو، وہیں مار ڈالو ، حماد نے یہ بات تین مرتبہ کہی ۔ وہ بدترین مخلوق ، بداخلاق ہوں گے ،حماد نے یہ بات تین مرتبہ دھرائی اور یہ بھی کہا کہ وہ دین کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

کُنْتُ أَتَمَنَّی ← شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2647

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2648

2648 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبُرِّيُّ، ثنا أَبِي، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، وَسَيَجِيءُ قَوْمٌ يُعْجِبُونَكُمْ، وَتُعْجِبُهُمْ أَنْفُسُهُمْ، الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ، وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، وَيَدْعُونَ إِلَى اللَّهِ، وَلَيْسُوا مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْعَتْهُمْ لَنَا. قَالَ: «آيَتُهُمُ الْحَلْقُ وَالتَّسْبِيتُ» يَعْنِي اسْتِئْصَالَ التَّقْصِيرِ. قَالَ: وَالتَّسْبِيتُ اسْتِئْصَالُ الشَّعْرِ، «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2648 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: عنقریب میری امت میں اختلافات اور فرقہ بندیاں شروع ہو جائیں گی اور ایک ایسی قوم آئے گی جنہیں تم بہت اچھا سمجھو گے اور وہ خوداپنے آپ کو بہت اچھا سمجھیں گے جوان کو قتل کرے گا، وہ اللہ کا مقرب ہوگا ۔ وہ بہت نرم وشیر یں گفتگو کر یں گے لیکن بے عمل ہوں گے۔ اللہ کی طرف دعوت دیں گے لیکن اللہ کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔ جب تم ان سے ملوتو ان کو( موت کی نیند) سلا دو ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ہمیں ان کے اوصاف بتادیجئے ! آپ نے فرمایا: ان کی نشانی ’’حلق‘‘(سرمنڈ وانا ) اور’’تسبیب‘‘یعنی جڑ سے بال اکھیٹر نا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور یہی حدیث اوزاعی نے قتادہ کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور یہ بھی امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اس کونقل نہیں کیا۔ (وہ روایت درج ذیل ہے )

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← هشام بن يوسف الصنعاني، ← أَبِي ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبَرِّيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2648

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2649

2649 - حَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَزَّازُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ، وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُ حَتَّى يُرَدَّ السَّهْمُ عَلَى فَوْقِهِ، وَهُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ مَنْ قَاتَلَهُمْ، كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ: «التَّحْلِيقُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2649 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: عنقریب میری امت میں اختلافات اور فرقہ داریت ہوگی ۔ایک ایسی قوم ہوگی جو گفتار کے غازی ہوں گے لیکن بد کر دار ہوں گے قرآن کی تلاوت کر یں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ تم ان کی نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو اور ان کے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کو حقیر جانو گے، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کی طرف نکلتا ہے، وہ دین میں لوٹ کر نہیں آئیں گے، جیسا کہ تیراپنے سوفار کی طرف لوٹ کر نہیں آتا ۔ یہ لوگ ساری دنیا سے بدتر مخلوق ہوں گے ۔ اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جوان کوقتل کرے گا۔اور وہ اس کوقتل کر یں گے۔ یہ لوگوں کو کتاب اللہ کی دعوت دیں گے لیکن ان کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ جوان کوقتل کرے گا وہ اللہ کامقرب بندہ ہو گا۔ صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہ ! ان کی نشانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : ’’سرمنڈانا‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَزَّازُ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2649

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2650

2650 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ بْنُ دِعَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ، وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يُرَدَّ عَلَى فَوْقِهِ، شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا سِيمَاهُمْ؟ قَالَ: «التَّحْلِيقُ» لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ قَتَادَةُ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا:عنقریب میری امت میں اختلافات اور فرقہ واریت ہوگی ،ان میں ایک ایسی قوم بھی ہوگی جو گفتار کے غازی ہوں گے لیکن بدکر دار ہوں گے،وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچےنہیں اترے گا ۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جا تا ہے اور وہ دین کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے جیسا کہ تیراپنے سوفار کی طرف لوٹ کر نہیں آ تاوہ بدترین مخلوق ہوں گے ،اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جوان کوقتل کرے گا اور جس کووہ قتل کر یں گے۔ یہ لو گوں کو کتاب اللہ کی دعوت دیں گے لیکن اس کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔ جوان کوقتل کرے گا وہ سب سے زیادہ اللہ کا مقرب ہوگا ۔ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے) پوچھا: یا رسول اللہ! ان کی نشانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’سرمنڈانا‘‘ قتادہ نے یہ حد یث ابوسعید سے بلا واسطہ نہیں سنی بلکہ ’’ابوالمتوکل‘‘ کے واسطے سے سنی ہے۔(جیسا کہ درج ذیل روایت سے واضح ہے)

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ← قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2650

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2651

2651 - أَخْبَرَنِيهِ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، بِهَرَاةَ، وَعُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَلِيٍّ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُهُمْ مَثَلُ رَجُلٍ يَرْمِي رَمْيَةً، فَيَتَوَخَّى السَّهْمَ حَيْثُ وَقَعَ، فَأَخَذَهُ فَنَظَرَ إِلَى فَوْقِهِ، فَلَمْ يَرَ بِهِ دَسَمًا وَلَا دَمًا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى رِيشِهِ، فَلَمْ يَرَ بِهِ دَسَمًا وَلَا دَمًا، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى نَصْلِهِ فَلَمْ يَرَ بِهِ دَسَمًا وَلَا دَمًا، كَمَا لَمْ يَتَعَلَّقْ بِهِ شَيْءٌ مِنَ الدَّسَمِ وَالدَّمِ، كَذَلِكَ لَمْ يَتَعَلَّقْ هَؤُلَاءِ بِشَيْءٍ مِنَ الْإِسْلَامِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2651 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

۲۶۵۱-حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: : ان کی مثال اس شخص کی سی ہے۔ جو تیر پھینکے ، جہاں پر تیر گرے، یہ اس کو وہاں سے ڈھونڈ کر اٹھا لےاور اس کے سو فار کی طرف دیکھے لیکن اس پر گوشت، چربی اور خون وغیرہ نہ لگا ہو ، پھر وہ اس کے پر کی طرف دیکھے لیکن اس پر بھی گوشت، چربی یا خون وغیرہ نہ نظر آئے، پھر اس کے پھل کو دیکھے لیکن اس پر بھی گوشت، چربی یا خون وغیرہ نظر نہ آئے۔ جیسا کہ اس پر گوشت، چربی یا خون لگا ہی نہ ہو، اسی طرح یہ لوگ بھی اسلام کی کسی چیز کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتے ہوں گے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَلِيٍّ النَّاجِيِّ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← أَبُو الْجُمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، بِهَرَاةَ، وَعُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ شَرِيكٍ بِبَغْدَادَ، ← أَخْبَرَنِيهِ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2651

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2652

2652 - أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْهَاشِمِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، عَنْ خَالِدٍ الْعُرَنِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَلَى حُذَيْفَةَ فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ، قَالَ حُذَيْفَةُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دُورُوا مَعَ كِتَابِ اللَّهِ حَيْثُ مَا دَارَ» فَقُلْنَا: فَإِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ فَمَعَ مَنْ نَكُونُ؟ فَقَالَ: «انْظُرُوا الْفِئَةَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ سُمَيَّةَ فَالْزَمُوهَا، فَإِنَّهُ يَدُورُ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ» قَالَ: قُلْتُ: وَمَنِ ابْنُ سُمَيَّةَ؟ قَالَ: أَوَ مَا تَعْرِفُهُ؟ قُلْتُ: بَيِّنْهُ لِي، قَالَ: «عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ» ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَمَّارٍ: «يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَقْتُلَكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ عَنِ الطَّرِيقِ» هَذَا حَدِيثٌ لَهُ طُرُقٌ بِأَسَانِيدَ صَحِيحَةٍ، أَخْرَجَا بَعْضَهَا وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2652 - مسلم بن كيسان تركه أحمد وابن معين

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کتاب اللہ پر مکمل طور پر عمل پیرا رہو ۔ہم نے عرض کی :جب لوگوں میں اختلاف واقع ہوجائے تو ہم کس کا ساتھ دیں ؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: : جس جماعت میں ابن سمیہ ہو ، تم اس کا ساتھ دینا ۔ کیوں کہ وہ قرآن کے احکام پر عمل پیرا ہے۔ (حذیفہ ) فرماتے ہیں: : میں نے پوچھا : ابن سمیہ کون ہے۔ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو نہیں پہچانتے ہو ؟میں نے کہا: : آپ میری مدد فرما دیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: : ’’عمار بن یاسر ‘‘ ۔میں نے عمار بن یاسر کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہوا ہے۔ ’’اے ابو الیقظان ! ایک باغی گروہ کے تجھے قتل کرنے سے تیری موت واقع ہوگی ۔اس حدیث کے متعدد صحیح سندیں ہیں جن میں سے بعض کو شیخین میں بھی نقل کیا ہے۔ ،لیکن اس حدیث کو نقل نہیں کیا ۔

حُذَيْفَةَ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فِي الْفِتْنَةِ، ← مَا ← وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَلَى حُذَيْفَةَ فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ← دَخَلْتُ ← خَالِدٍ الْعُرَنِيِّ، ← مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، ← مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْهَاشِمِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2652

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2653

2653 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ لَهُ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ: انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَاسْمَعَا مِنْهُ حَدِيثَهُ فِي شَأْنِ الْخَوَارِجِ، فَانْطَلَقَا فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ يُصْلِحُ، فَلَمَّا رَآنَا أَخَذَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ احْتَبَى، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى عَلَا ذِكْرُهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَعَمَّارٌ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْ رَأْسِهِ، وَيَقُولُ: «يَا عَمَّارُ أَلَا تَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً كَمَا يَحْمِلُ أَصْحَابُكَ؟» قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ الْأَجْرَ عِنْدَ اللَّهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَنْفُضُ وَيَقُولُ: «وَيْحَ عَمَّارٍ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» قَالَ: وَيَقُولُ عَمَّارٌ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2653 - على شرط البخاري

حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: : ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے مجھے اور اپنے بیٹے علی سے کہا: : تم دونوںابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس چلے جاؤ اور ان سے خوارج کے متعلق کوئی حدیث سن کر آؤ ۔ ہم دونوں چل دیے ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ اپنے باغ میں کام کر رہے۔ تھے ۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو اپنی چادر درست کر کے ہم سے باتیں کرنے لگ گئے حتی کہ مسجد کے متعلق بات چل نکلی وہ کہنے لگے : ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے۔ تھے جب کہ عماردو ،دواینٹیں اٹھا رہے۔ تھے ۔جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو ان کے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے بولے : اے عمار !اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح تم بھی ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھا رہے۔ ؟ عمار نے جواباً کہا: : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اجر کا طلب گار ہوں ۔( ابو سعید ) فرماتے ہیں: : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (پھر ان کے سر سے ) مٹی جھاڑنے لگ گئے اور فرمایا: : اے عمار ! افسوس ہے۔ کہ تجھے ایک باغی گروہ قتل کردے گا ۔ ابوعمار بولے :میں فتنوں سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ہے۔ ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2653

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2654

2654 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ مُوسَى الْحُنَيْنِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ النَّهْدِيُّ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رَأْسِ الْحَرُورِيَّةِ عِنْدَ بَابِ دِمَشْقَ وَهُوَ يَقُولُ: «كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ - قَالَهَا ثَلَاثًا - خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ» ، وَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا أُمَامَةَ، أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ هَؤُلَاءِ كِلَابُ النَّارِ أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ مِنْ رَأْيِكَ؟ قَالَ: إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَعَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنِّي رَأَيْتُكَ قَدْ دَمَعَتْ عَيْنَاكَ، قَالَ: إِنَّهُمْ لَمَّا كَانُوا مُؤْمِنِينَ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ} [آل عمران: 105] الْآيَةُ فَهِيَ لَهُمْ مَرَّتَيْنِ

حضرت شداد بن عبداللہ بن ابی عمار رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: : میں نے ابو امامہ کو با ب د مشق کے قریب خوارج کے سروں پر کھڑے دیکھا ۔وہ کہہ رہے۔ تھے یہ جہنم کے کتے ہیں ، یہ بات تین مرتبہ کہی ۔سب سے اچھا مقتول وہ ہے۔ جس کو انہوں نے مار ڈالا یہ بات کرتے ہوئے ہو وہ آبدیدہ ہوگئے ،ایک شخص نے ان سے کہا: : تم اپنی رائے سے ان کو دوزخ کے کتے کہہ رہے۔ ہو یا رسول اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے متعلق کوئی ارشاد سن رکھا ہے۔ ؟ (ابو امامہ) بولے : اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار ،دو بار ،تین بار یا سات بار (سے کم مرتبہ ) سنا ہوتا تو میں بہت بڑی جسارت کرتا اور میں تمہیں یہ حدیث نہ سنا تا۔ ایک شخص نے ان سے کہا: میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے۔ ہیں ۔ انھوں نے فرمایا: : یہ لوگ پہلے مسلمان تھے لیکن ایمان قبول کرنے کے بعد یہ لوگ دوبارہ کافر ہوگئے ہیں ، پھر یہ آیت تلاوت کی : ’’ وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَٱخۡتَلَفُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُۚ ‘‘ (آل عمران:۱۰۵) ’’اور ان جیسے نہ ہو جانا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑ گئی بعد اس کے کہ روشن نشانیاں نہیں آ چکی تھیں‘‘۔( ترجمہ کنزالایمان ،امام احمد رضا ) ۔ پس یہ (آیت )ان ہی کے لیے ہے۔ (یہ بات انہوں نے )دو مرتبہ (کہی)۔

شَدَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبِي عَمَّارٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو حُذَيْفَةَ النَّهْدِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ مُوسَى الْحُنَيْنِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2654

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2655

2655 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رُءُوسِ الْحَرُورِيَّةِ عَلَى بَابِ حِمْصَ - أَوْ بَابِ دِمَشْقَ - وَهُوَ يَقُولُ: «كِلَابُ النَّارِ كِلَابُ النَّارِ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ، خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ» . ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي حُذَيْفَةَ، «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَحَدِيثُ مُسْلِمٍ فِي الْمُسْنَدِ الصَّحِيحُ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ تَبْذُلُ الْفَضْلَ ". الْحَدِيثَ وَإِنَّمَا شَرَحْنَا الْقَوْلَ فِيهِ لِأَنَّ الْغَالِبَ عَلَى هَذَا الْمَتْنِ طُرُقُ حَدِيثِ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2654 - صحيح على شرط مسلم

حضرت شداد بن عبد اللہ ابو عمار رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: ، میں نے ابو امامہ کو باب حمس یا باب دمشق کے پاس خوارج کے سروں پر کھڑے یہ کہتے سنا ہے۔ : یہ دوزخ کے کتے ہیں ، یہ دوزخ کے کتے ہیں ، یہ آسمان کے نیچے سب سے برے مقتول ہیں اور سب سے اچھا مقتول وہ ہے۔ جس کو انہوں نے قتل کیا ۔ اور پھر ابو حذیفہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے المسند الصحیح میں نصر بن علی بن عمر بن یونس بن القاسم کے ذریعے عکرمہ بن عمار سے روایت کی ہے۔ کہ شداد ابو عمار نے ابو امامہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل فرمایا: ہے۔ : اللہ تعالی فرماتا ہے۔ : اے ابن آدم ! تو اضافی چیزیں خرچ کرتا ہے۔ ۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی ۔ اور ہم نے اس سلسلے میں تفصیلی کلام سے اس لیے کیا کہ اس متن پر ابو غالب کی ابو امامہ سے روایت کردہ سند غالب ہے۔۔ لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔۔

أَبَا أُمَامَةَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى رُءُوسِ الْحَرُورِيَّةِ عَلَى بَابِ حِمْصَ أَوْ بَابِ دِمَشْقَ وَهُوَ ← شداد بن عبد الله أبو عمار، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fighting the People of the Badghi, which is the last of jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2655

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section