Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2620

2620 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَا: ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فِي فِدَاءِ أُسَارَى أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ أَرْبَعَ مِائَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2620 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل جاہلیت کے قیدیوں کا فد یہ چارسو( درہم ) مقر رکیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الشَّعْثَاءِ، ← أَبُو الْعَنْبَسِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ، ← عمرو بن علي وأحمد بن المقدام ← إِبْرَاهِيمُ أَبِي طَالِبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ،

Hadith 2620

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2621

2621 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ لَيْسَ لَهُمْ فِدَاءٌ، «فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ، أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ» قَالَ: فَجَاءَ غُلَامٌ مِنْ أَوْلَادِ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهِ فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي، قَالَ: الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِدَخْلِ بَدْرٍ وَاللَّهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2621 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر کچھ قیدی ایسے تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لئے کچھ نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے یہ فد یہ مقررکیا کہ وہ انصار کے بچوں کولکھنا( پڑھنا) سکھا دیں‘ ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : ایک انصاری بچہ اپنے والد سے کہنے لگا : میرے معلم نے مجھے مارا ہے ( اس کے والد نے )کہا: وہ خبیث آدمی بدر کی بھڑ اس نکال رہا ہے۔ پھر اس نے اپنے بیٹے کو اس کے پاس پڑھنے سے روک دیا ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← إسحاق بن شاهين ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي

Hadith 2621

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2622

2622 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا جَاءَهُ فَيْءٌ قَسَّمَهُ مِنْ يَوْمِهِ، فَأَعْطَى الْآهِلَ حَظَّيْنِ وَالْعَزَبَ حَظًّا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ فَقَدْ أَخْرَجَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِعَيْنِهِ أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2622 - على شرط مسلم

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اشجعی فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم( کی یہ عادت تھی کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس دن مال غنیمت آ تا ‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن تقسیم فرمادیتے‘ شادی شدہ لوگوں کو کنواروں کی بہ نسبت دگنا حصہ دیتے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام مسلم رحمتہ اللہ نے بعینہ اسی سند کے ہمراہ چار حدیثیں نقل کی ہیں ۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ بِهَمْدَانَ،

Hadith 2622

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2623

2623 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَالْأَشْتَرُ، عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَمَلِ، فَقُلْتُ: هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا دُونَ الْعَامَّةِ؟ فَقَالَ: لَا، إِلَّا هَذَا وَأَخْرَجَ مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ فَإِذَا فِيهَا: «الْمُؤْمِنُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، لَا يُقْتَلْ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2623 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور اشتر رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے موقع پر حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، میں نے کہا: کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کوئی خاص عہد لیا ہے جو دوسروں سے نہیں لیا ؟ تو وہ کہنے لگے نہیں ۔مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار کا میان نکالا ،اس کے اوپر لکھا ہوا تھا’’تمام مومنوں کے خون ایک دوسرے کے برابر ہیں‘‘ان میں سے ادنی کی بھی حفاظت کی کوشش کی جائیگی اور یہ سب اپنے غیر پر غالب ہیں کسی کافر کے بدلے میں مسلمان کوقتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی عہد والے کو اس کے عہد پر قائم رہتے ہوئے قتل کیا جائے گا ۔ ( یہ عہد لیا تھا ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام سلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ حضرت ابو ہریہ رضی اللہ عنہ اورعمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث مذکور و حدیث کی شاھد ہیں ( جو کہ درج ذیل ہیں ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ۔

قيس بن عبادة ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَحْيَى ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← روح بن عبادة وعبد الوهاب الخفاف ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2623

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2624

2624 - فَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُجِيرُ عَلَى أُمَّتِي أَدْنَاهُمْ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: میری امت کا ادنی آدی بھی امان دینے کا مجاز ہے۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← جَدِّي، ← فَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ،

Hadith 2624

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2625

2625 - وَأَمَّا حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَمعْرُوفٌ فِي قَتْلِهِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ لَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ، قَالَ لَهُ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: بِأَمَانٍ جِئْتَ؟ قَالَ: لَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمُ» الْحَدِيثُ

جب محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ پر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو انہوں نے پوچھا: ( تم ) محمد بن ابی بکر ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ۔ عمرو نے پوچھا تم ’’امان‘‘ لے کرآئے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں ۔عمرو نے کہا: میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تمام مسلمانوں کے خون ایک دوسرے کے برابر ہیں ۔اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی ہے ۔

«الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمُ» الْحَدِيثُ ← لَا، فَإِنِّي ← بِأَمَانٍ جِئْتَ؟ ← نَعَمْ ← لَهُ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ؟

Hadith 2625

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2626

2626 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ، فَإِنْ جَازَتْ عَلَيْهِمْ جَائِزَةٌ، فَلَا تَخْفِرُوهَا، فَإِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً، يُعْرَفُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى ذِكْرِ الْغَادِرِ فَقَطْ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2626 - صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے اگر کوئی لونڈی ان کی پناہ میں ہوتو تم اس کے ساتھ کیا ہوا عہدمت توڑو کیونکہ ہر خیانت کرنے والے کے لئے قیامت کے دن ایک خاص نشانی ہوگی جس کے سبب قیامت کے دن اس کو پہچانا جائے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو ان لفظوں کے ہمراہ نقل نہیں کیا ، تا ہم امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں نے صرف’’غادر‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ نوٹ : مذکورہ حدیث میں فان جارث عليهم جاریۃ کے الفاظ ہیں ۔جب کہ دیگر تمام کتب حدیث میں’’ فان اجارت عليهم جارية‘‘ کے الفاظ ہیں ۔اس لئے تر جمہ میں ’’اجارت‘‘ والے الفاظ کی رعایت کی گئی ہے ۔(شفیق)

عَائِشَةَ ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2626

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2627

2627 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُسَاكِنُوا الْمُشْرِكِينَ، وَلَا تُجَامِعُوهُمْ، فَمَنْ سَاكَنَهُمْ أَوْ جَامَعَهُمْ فَلَيْسَ مِنَّا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2627 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا مشرکوں کے ساتھ رہائش مت رکھو، ان کی مجالس میں شریک مت ہوں کیونکہ جوشخص ان کے ساتھ رہائش رکھے یا ان کی مجلسوں میں شرکت کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

النَّبِيِّ ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2627

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2628

2628 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَسْلَمَ، ثُمَّ ارْتَدَّ فَلَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ، ثُمَّ نَدِمَ فَأَرْسَلَ إِلَى قَوْمِهِ أَنْ سَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: " فَنَزَلَتْ: {كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ} [آل عمران: 86] إِلَى قَوْلِهِ: {إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا، فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [آل عمران: 89] قَالَ: «فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ قَوْمُهُ فَأَسْلَمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2628 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک انصاری شخص مسلمان ہوا پھر مرتد ہوکر مشرکوں سے جاملالیکن پھر نا دم ہو کر اس نے اپنی قوم کی جانب پیغام بھیجا کہ میرے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر یں کہ کیا میرے لیے توبہ کی کوئی گنجائش ہے؟( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ )فرماتے ہیں تب یہ آیت’’ كيف يهدى الله قوما كفروا بعد إيمانهم ۔۔۔۔۔۔الا الذين تابوا من بعد ذلك وأصلحوا فإن الله غفور رحيم‘‘( ال عمران:۹۶) تک نازل ہوئی۔ ’’کیونکر اللہ ایسی قوم کی ہدایت چا ہے جوایمان لا کر کافر ہو گئے اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آ چکی تھیں اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پرلعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں کی سب کی ہمیشہ اس میں رہیں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہواور نہ انہیں مہلت دی جائے ،مگر جنہوں نے اس کے بعد تو بہ کی اور اپنی اصلاح کر لی تو ضرور اللہ بخشنے والامہربان ہے‘‘ ( ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قبیلہ (کے ہاتھوں پیغام) بھیجوایا ( کہ تیرے لیے تو بہ کی گنجائش موجود ہے) تو وہ شخص دوبارہ مسلمان ہو گیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 2628

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2629

2629 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا، قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2629 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی قبیلے سے خطرہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے۔’’اللهم إنا نجعلك في نحورهم، ونعوذ بك من شرورهم‘‘ اے اللہ ! ہم ان کے مقابلے میں تجھے ہی ( مددگار) رکھتے ہیں اوران کے شر سے تیری ہی پناہ چاہتے ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور میرا غالب گمان یہ ہے کہ شیخین نے اس نقل نہیں کیا ہے۔

أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَ: ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى

Hadith 2629

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2630

2630 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي، وَاجْعَلْهُمَا الْوَارِثَ مِنِّي، اللَّهُمَّ انْصُرْنِي عَلَى عَدُوِّي، وَأَرِنِي فِيهِ ثَأْرِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2630 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے’’ اللهم أمتعنى بسمعى وبصرى، واجعلهما الوارث منى، اللهم انصرني على عدوى، وأرني فيه ثارى‘‘ اے اللہ! مجھے میرے بصارت اور سماعت سے فائدہ دے اور ان کو میر اوارث بنا دے اے اللہ! میرے دشمن کیخلاف میری مد دفر ما اوران میں میرے خون کا طلبگار مجھے دکھادے۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 2630

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2631

2631 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا فِي غَيْرِ كُنْهِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2631 - صحيح

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوکسی معاہد ( جس کے ساتھ معاہدہ ہوا ہو ) کو ناحق قتل کرے،اللہ تعالی اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Hadith 2631

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section