Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2608

2608 [ص:148] حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الْأَنْفَالِ فَقَالَ: فِينَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ بَدْرٍ نَزَلَتْ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2608 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابوامامہ باملی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سورۃ انفال کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا یہ ہم اہل بدر کے متعلق نازل ہوئی ہے ، پھر اس کے بعدتفصیلی حدیث بیان کی ۔

الْحَدِيثَ بِطُولِهِ [التعليق من تلخيص الذهبي] سكت عنه الذهبي في التلخيص ← الْأَنْفَالِ فَقَالَ: فِينَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ بَدْرٍ نَزَلَتْ ثُمَّ ← سألت عبادة بن الصامت ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← سليمان بن موسى الأشدق، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← [ص:149]

Hadith 2608

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2609

2609 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَخَرَجَتْ سَرِيَّةٌ، فَأَخَذُوا إِنْسَانًا مَعَهُ غَنَمٌ يَرْعَاهَا، فَجَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُكَلِّمَ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنِّي قَدْ آمَنْتُ بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَكَيْفَ بِالْغَنَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَإِنَّهَا أَمَانَةٌ وَهِيَ لِلنَّاسِ الشَّاةُ وَالشَّاتَانِ وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: «احْصِبْ وُجُوهَهَا تَرْجِعْ إِلَى أَهْلِهَا» فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَاءَ أَوْ تُرَابٍ، فَرَمَى بِهَا وُجُوهَهَا، فَخَرَجَتْ تَشْتَدُّ حَتَّى دَخَلَتْ كُلُّ شَاةٍ إِلَى أَهْلِهَا، ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى الصَّفِّ، فَأَصَابَهُ بِهِ سَهْمٌ، فَقَتَلَهُ، وَلَمْ يُصَلِّ لِلَّهِ سَجْدَةً قَطُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَدْخِلُوهُ الْخِبَاءَ» فَأُدْخِلَ خِبَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: «لَقَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ صَاحِبِكُمْ، لَقَدْ دَخَلْتُ عَلَيْهِ، وَإِنَّ عِنْدَهُ لَزَوْجَتَيْنِ لَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2609 - بل كان شرحبيل متهما قاله ابن أبي ذؤيب

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر میں تھے، اس دوران ہماری ایک جماعت نکلی ، انہوں نے ایک آدمی کو پکڑاجو بکریاں چرار ہاتھاوہ اس کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ کچھ گفت وشنید فرمائی ، وہ شخص بولا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا ہوں اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اس پر بھی ایمان لایا ہوں لیکن یا رسول اللہ ! میرے اس ریوڑ کا کیا بنے گا ؟ کیونکہ یہ بکریاں تو امانت ہیں کسی کی ایک بکری کسی کی دو، کسی کی اس سے زیادہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا :ان کے چہروں پر کنکریاں پھینکو یہ اپنے مالکان کے پاس لوٹ جائیں گی ،اس نے ایک مٹھی میں کنکریاں یامٹی بھری اوران کے چہروں پر پھینک دی تو وہ بکریاں بڑی تیزی سے بھاگیں اوراپنے اپنے مالکان کے پاس چلی گئیں ۔ پھر وہ شخص صف میں شامل ہو گیا۔ اسے ایک تیرآ کر لگا جس کی وجہ سے وہ وہیں شہید ہو گیا ۔ اس نے اللہ کی بارگاہ میں ایک سجد ہ بھی نہیں کیا تھا۔ اس کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ میں ڈال دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر خیمہ میں تشریف لائے اور پھر باہر نکل کر فرمانے لگے : تمہارے اس ساتھی کا اسلام بہت پسند ید ہ ہے، میں ابھی خیمے میں اس کے پاس گیا تو دوحوریں اس کی بیویاں اس کے پاس موجود تھیں ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← شرحبيل بن سعد ← ابْنِ الْھَادِ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2609

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2610

2610 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَتَى بِظَبْيَةٍ فِيهَا خَرَزٌ مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ سَوَاءً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2610 - صحيح

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہرن کے بالدار چمڑے کا بنا ہوا ایک چھوٹا ساتھیلہ پیش کیا گیا ،اس تھیلے میں پتھر کے نگ تھے جو کہ مال غنیمت سے تھے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نگینے آزاد عورتوں اور باندیوں میں برابر برا تقسیم کر دیئے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عبد الله بن دينار ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2610

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2611

2611 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَوَيْهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ، حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنِ الْحَبَالَى أَنْ يُوطَأْنَ حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ، وَقَالَ: «أَتَسْقِي زَرْعَ غَيْرِكَ؟» وَعَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، وَعَنْ لَحْمِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2611 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پرتقسیم سے قبل غنیمت کا مال بیچنے سے اورحمل پیدا ہو جانے سے قبل لونڈیوں کے ساتھ وطی کر نے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم غیر کی کھیتی کو سیراب کرو گے؟ اور ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن )پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے اور کچلیوں والے درندوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کو اس سند کے ہمرانقل نہیں کیا۔

أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ ← «أتَسْقِي زَرْعَ غَيْرِكَ؟» ← الْحَبَالَی أَنْ يُوطَأْنَ حَتَّی يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ ← بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ ← نَهَی رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ خَيْبَرَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عبد الله بن أبي نجيح ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَوَيْهِ،

Hadith 2611

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2612

2612 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ» وَقَدْ رُوِيَ بَعْضُ هَذَا الْمَتْنِ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2612 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پرتقسیم سے قبل مال غنیمت بیچنے سے منع فرمایا۔ اسی متن کا کچھ حصہ ایسی سند کے ہمراہ بھی مروی ہے جوامام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عبد الله بن أبي نجيح ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ

Hadith 2612

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2613

2613 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ النِّسَاءِ الْحَبَالَى أَنْ يُوطَأْنَ حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ بَيْعِ الْخُمُسِ حَتَّى يُقْسَمَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2613 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کا گوشت کھانے حمل پیدا ہو جانے سےقبل لونڈیوں کے ساتھ وطی کر نے‘ کچلیوں والے درندوں کا گوشت کھانے اورتقسیم سے قبل غنیمت کا مال فروخت کرنے سے منع فرمایا۔

کُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ ← النساء الحبالى أن يوطأن حتى يضعن ما في بطونهن ← لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ» ← نَهَی رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ خَيْبَرَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← عبيد الله بن موسى أنبأ شيبان ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Hadith 2613

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2614

2614 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ أَتَاهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّا حُلَفَاؤُكَ وَقَوْمُكَ وَإِنَّهُ لَحِقَ بِكَ أَرِقَاؤُنَا لَيْسَ لَهُمْ رَغْبَةٌ فِي الْإِسْلَامِ، وَإِنَّمَا فَرُّوا مِنَ الْعَمَلِ، فَارْدُدْهُمْ عَلَيْنَا، فَشَاوَرَ أَبَا بَكْرٍ فِي أَمْرِهِمْ فَقَالَ: صَدَقُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ لِعُمَرَ: «مَا تَرَى؟» فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ رَجُلًا مِنْكُمُ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ، فَيَضْرِبَ رِقَابَكُمْ عَلَى الدِّينِ» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا» قَالَ عُمَرُ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ فِي الْمَسْجِدِ» وَقَدْ كَانَ أَلْقَى نَعْلَهُ إِلَى عَلِيٍّ يَخْصِفُهَا ثُمَّ قَالَ: " أَمَا إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ يَلِجِ النَّارَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2614 - على شرط مسلم

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر کچھ قریشی لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آ کر عرض کرنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے حلیف ہیں ، ہمارے کچھ غلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں شرکت اختیار کر چکے ہیں جبکہ ان کو اسلام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ، وہ لوگ محض کام سے بھاگتے ہیں ، اس لیے ان کو ہماری طرف لوٹادیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے موقف کی تائید کی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قرشیو! میں تم پر ایک ایساشخص نگران مقرر کروں گا ، اللہ نے جس کا دل ایمان کے لئے آزمالیا ہے ۔ وہ دین کے معاملے میں تمہاری گردنیں مارے گا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بولے : یا رسول اللہ ! کیا وہ شخص’’ میں‘‘ ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ کیا و ہ شخص میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔ بلکہ وہ مسجد میں جوتے سلائی کر نیوالا شخص ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنےنعلین حفاظت کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کودے دیا کرتے تھے ۔ پھر حضرت علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادسنایا :علی کومت جھٹلاؤ کیونکہ جوشخص علی کو جھٹلائے وہ جہنمی ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَلِيٍّ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← ابْنُ أَبِي غَرْزَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 2614

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2615

2615 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ كَثِيرٍ، مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَسَمَ لِمِائَتَيْ فَرَسٍ يَوْمَ خَيْبَرَ سَهْمَيْنِ سَهْمَيْنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ «وَقَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِيَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَكَثِيرٍ الْمَخْزُومِيِّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2615 - على شرط البخاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اکرام صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سو گھڑ سواروں میں دو ،دوسھام تقسیم کیے۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا جبکہ امام بخاری رحمتہ اللہ نے یحیٰ بن ایوب اور کثیر المخز وی کی روایات نقل کی ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← كَثِيرٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← لي يحيى بن أيوب:

Hadith 2615

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2616

2616 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلَاذٍ، يُحَدِّثُ عَنْ نُمَيْرِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَسْرُوحٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ، الْحَيُّ الْأَسَدُ، وَالْأَشْعَرِيُّونَ، لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ، وَلَا يُخَلُّونَ، هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ» قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ: لَيْسَ هَكَذَا، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمْ مِنِّي وَإِلَيَّ» فَقُلْتُ: لَيْسَ هَكَذَا، حَدَّثَنِي أَبِي وَلَكِنَّهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ» قَالَ: فَأَنْتَ إِذًا أَعْلَمُ بِحَدِيثِ أَبِيكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2616 - صحيح

حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: بہترین قبیلہ بنی اسد اور اشعری ہیں ،نہ یہ جنگ سے بھاگتے ہیں نہ الگ ہو تے ہیں، یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔ عامرفر ماتے ہیں :میں نے یہی حدیث معاویہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: یوں نہیں ۔ بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’هم منی والی‘‘ میں بولا : میرے والد نے ایسے روایت بیان نہیں کی بلکہ ان کا کہنا تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ هم منی وانا منهم‘‘فرمایا ہے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بولے ٹھیک ہے، میری یہ نسبت اپنے والد کی روایات کوتم زیادہ بہتر جانتے ہو ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← عامر بن أبي عامر الأشعري ← مالك بن مسروح ← نمير بن أوس ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَلَاذٍ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ← أحمد بن مهدي بن رستم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Hadith 2616

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2617

2617 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى ثَلَاثًا، فَيَرْفَعُ النَّاسُ مَا أَصَابُوا، ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فُيُخَمَّسُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِزِمَامٍ مِنْ شَعْرٍ، وَقَدْ قُسِمَتِ الْغَنِيمَةُ، فَقَالَ لَهُ: «هَلْ سَمِعْتَ بِلَالًا يُنَادِي ثَلَاثًا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ بِهِ؟» فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: «كُنْ أَنْتَ الَّذِي تُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَإِنِّي لَنْ أَقْبَلَهُ مِنْكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2617 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی یہ عادت تھی کہ )مال غنیمت آ تا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کوحکم دیتے وہ لوگوں میں اعلان کر دیا کر تے تھے تو لوگ اپنے پاس ( غنیمت کا) موجود مال لے آتے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے تو اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا ۔ پھر اس کے بعد (اگر کوئی شخص بالوں کی بٹی ہوئی رسی ( بھی ) لے آ تالیکن مال تقسیم ہو چکا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے : بلال نے تین مرتبہ اعلان کیا‘ کیاتم نے سناتھا ؟ وہ کہتا: جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے :تو پھر تجھے مال میرے پاس پیش کر نے سے کس نے منع کیا تھا ؟ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی معذرت کرتالیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : اب تو قیامت کے دن یہ لے کر آئے گا ، میں یہ تجھ سے ہرگز قبول نہیں کروں گا ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2617

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2618

2618 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ جَمِيلٍ، ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَكُنْتُ جَالِسًا عِنْدَهُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَاتَلَ أَهْلَ مَدِينَةٍ حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَفْتَتِحَهَا، خَشِيَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَالَ لَهَا: أَيَّتُهَا الشَّمْسُ إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ بِحُرْمَتِي عَلَيْكِ، إِلَّا رَكَدْتِ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، قَالَ: فَحَبَسَهَا اللَّهُ حَتَّى افْتَتَحَهَا، وَكَانُوا إِذَا أَصَابُوا الْغَنَائِمَ قَرَّبُوهَا فِي الْقُرْبَانِ، فَجَاءَتِ النَّارُ، فَأَكَلَتْهَا، فَلَمَّا أَصَابُوا، وَضَعُوا الْقُرْبَانَ، فَلَمْ تَجِئِ النَّارُ تَأْكُلْهُ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا لَنَا لَا يُقْبَلُ قُرْبَانُنَا؟ قَالَ: فِيكُمْ غُلُولٌ قَالُوا: وَكَيْفَ لَنَا أَنْ نَعْلَمَ مَنْ عِنْدَهُ الْغُلُولُ؟ قَالَ: وَهُمُ اثْنَا عَشَرَ سِبْطًا قَالَ: يُبَايِعُنِي رَأْسُ كُلِّ سِبْطٍ مِنْكُمْ فَبَايَعَهُ رَأْسُ كُلِّ سِبْطٍ قَالَ: فَلَزِقَتْ كَفُّ النَّبِيِّ بِكَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَقَالَ لَهُ: عِنْدَكَ الْغُلُولُ فَقَالَ: كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ عِنْدَ أَيِّ سِبْطٍ هُوَ؟ قَالَ: تَدْعُو سِبْطَكَ فَتُبَايِعْهُمْ، رَجُلًا رَجُلًا، قَالَ: فَفَعَلَ فَلَزِقَتْ كَفُّهُ بِكَفِّ رَجُلِ الْغَنَائِمِ، فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ، فَقَالَ كَعْبٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ هَكَذَا وَاللَّهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ يَعْنِي فِي التَّوْرَاةِ ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَحَدَّثَكُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ نَبِيٍّ كَانَ؟ قَالَ: لَا. قَالَ كَعْبٌ: هُوَ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ. قَالَ: فَحَدَّثَكُمْ أَيُّ قَرْيَةٍ هِيَ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: هِيَ مَدِينَةُ أَرِيحَا «هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2618 - صحيح غريب

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: اللہ کے ایک نبی نے ایک شہر والوں سے جہاد کیا ۔ جب فتح کے آ ثارقریب تھے ، اس وقت سورج بھی بالکل غروب ہونے کو تھا، انہوں نے سورج سے فرمایا: اے سورج تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی حکم خدا کا پابند ہوں ۔ تجھے میری عزت کا واسطہ تھوڑی دیر کے لئے رک جا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی نے سورج کواسی مقام پر روک دیا یہاں تک کہ وہ شہر فتح ہو گیا ۔ ( اوران لوگوں کی عادت تھی کہ )جو مال غنیمت ان کے ہاتھ لگتا، اس میں سے اللہ کی راہ میں قربانی پیش کیا کر تے تھے۔ پھر آگ آ کر اس کو کھا جایا کرتی تھی اس دن جو مال غنیمت ان کے ہاتھ لگا ،انہوں نے قربانی رکھی لیکن اس کو کھانے کے لئے آگ نہ آئی ۔لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی: کیا وجہ ہے؟ ہماری قربانی قبول نہیں کی گئی ؟ اللہ کے نبی نے جواب دیا: اس لیے کہ تمہارے اندرکوئی خائن شخص موجود ہے ۔ لوگوں نے کہا ہمیں کیسے پتہ چلے کہ کس کے پاس خیانت کا مال ہے؟ ( آپ نے فرمایا وہ لوگ بارہ قبیلے تھے‘ اللہ کے نبی نے فرمایا: تمہارے ہر قبیلہ کا سردار میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ چنانچہ قبیلوں کے سرداروں نے آپ کی بیعت کی ۔ اللہ کے نبی کی تھیلی ایک سردار کی ہتھیلی کے ساتھ چپک گئی اللہ کے نبی نے فرمایا: تیرے قبیلے والوں کے پاس خیانت کا مال ہے ۔ اس نے کہا: مجھے یہ کیسے پتہ چلے گا کہ میرے قبیلے کےکو نسےشخص کے پاس خیانت کا مال ہے؟ اللہ کے نبی نے فرمایا: اپنے قبیلے کے ایک ایک شخص کو بلا کر اس سے بیعت لو ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ سردار کی تھیلی ،ان میں سے ایک آدمی کی ہتھیلی کے ساتھ چپک گئی ، ( سردار نے) اس سے کہا: تیرے پاس خیانت کا مال موجود ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں ۔ ( سردار نے )پوچھا وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: سونے کی ایک ڈلی ہے، مجھے مال غنیمت میں پسند آئی تو میں نے اٹھالی ،اس نے وہ منگوا کر مال غنیمت میں رکھی تو آگ فورا آ کر اسے کھا گئی ۔ کعب بولے : اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے ۔ خدا کی قسم! اللہ کی کتاب توراۃ میں بھی ایسے ہی حکم موجود ہیں ، پھر حضرت کعب نے کہا: اے ابو ہریرہ! کیا تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا کہ اللہ کے یہ نبی کون تھے؟ ابو ہریرہ نے کہا نہیں ۔ کعب نے کہا: وہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام تھے ۔ پھر انہوں نے پوچھا: کیا تمہیں یہ بتایا کہ وہ علاقہ کونسا تھا ؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہانہیں ۔ کعب نے کہا: یہ’’اریجاء‘‘ شہرتھا۔ یہ حدیث غریب صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کونقل نہیں کیا ہے ۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبَا هُرَيْرَةَ، وَكُنْتُ جَالِسًا عِنْدَهُ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ جَمِيلٍ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ

Hadith 2618

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2619

2619 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِي، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ «إِنَّ شِئْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ، وَإِنَّ شِئْتُمْ فَادَيْتُمُوهُمْ، وَاسْتَمَعْتُمْ بِالْفِدَاءِ، وَاسْتُشْهِدَ مِنْكُمْ بِعِدَّتِهِمْ، فَكَانَ آخِرَ السَّبْعِينَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتُشْهِدَ بِالْيَمَامَةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2619 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی قیدیوں کے متعلق فرمایا : اگر تم ان کوقتل کر نا چاہوتوقتل کر دو اور اگر ان سے فد یہ لینا چا ہوتو وہ لے لو اورفد یہ سے تم فائد ہ حاصل کر واوران کی تعداد کے برابرتم میں سے بھی شہیدہوں گے چنانچہ ان سے ستر ہو یں شہید ثابت بن قیس تھے جو کہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ و امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← عُبَيْدَةُ ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن عرعرة السامي ← أبو زكريا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 2619

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section