Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2596

2596 - أَخْبَرَنِي الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي ثَلَاثِ مِائَةٍ، وَخَمْسَةَ عَشَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ، فَاحْمِلْهُمُ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ، فَاكْسُهُمُ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ، فَأَشْبِعْهُمْ، فَفَتَحَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ فَانْقَلَبُوا حِينَ انْقَلَبُوا، وَمَا فِيهِمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ رَجَعَ بِجَمَلٍ أَوْ جَمَلَيْنِ، فَاكْتَسَوْا وَشَبِعُوا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَذْحِجِيِّ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2596 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر کو روانہ ہوئے تو آپ کے ہمراہ ۳۱۵ مجاہد ین تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے یوں دعا مانگی ’’یااللہ یہ ننگے پاؤں ہیں تو ان کو جو تے عطا کر دے، یا اللہ یہ ننگے بدن ہیں تو ان کولباس عطا کر دے یا اللہ یہ بھو کے ہیں تو ان کو سیر کر دے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا قبول ہوئی) اللہ تعالی نے میدان بدر میں ان کو فتح عطا فرمائی ، جب و ہ لوگ لوٹ کر آئے تو ہرشخص کے پاس ایک ایک یا دودواونٹ تھے سب کولباس بھی ملا اور سب سیر بھی ہوگئےیہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے سلیمان بن عبدالملک کے غلام ابوعبدالرحمان المذ حجی کی روایات نقل کی ہیں۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← حُيَيٍّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أحمد بن صالح المصري، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ،

Hadith 2596

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2597

2597 - أَخْبَرَنِي الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ «يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ، خَاصَّةَ النَّفَلِ سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ، وَالْخُمُسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلُّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2597 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات لشکر کے مقررہ حصے کے علاوہ بھی مجاہدین کو اضافی حصہ دیا کرتے تھے جبکہ خمس پورے مال غنیمت میں واجب ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم دونوں کے معیارکے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ:

Hadith 2597

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2598

2598 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالَا: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَهْبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَكْحُولًا، يَقُولُ: كُنْتُ عَبْدًا بِمِصْرَ لِامْرَأَةٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَأَعْتَقَتْنِي، فَمَا خَرَجْتُ مِنْ مِصْرَ وَبِهَا عِلْمٌ، إِلَّا احْتَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أَرَى، ثُمَّ أَتَيْتُ الشَّامَ فَغَرْبَلْتُهَا كُلُّ ذَلِكَ أَسْأَلُ عَنِ النَّفَلِ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى لَقِيتُ شَيْخًا يُقَالُ لَهُ زِيَادُ بْنُ جَارِيَةَ التَّمِيمِيُّ فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتَ فِيَ النَّفَلِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَفَلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدْأَةِ، وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2598 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت مکحول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں مصر میں ( قبیلہ بنی) ہذیل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا غلام تھا۔ اس نے مجھے آزادکر دیا، میں مصر سے نکلنے سے قبل ہر صاحب علم شخص کے پاس گیا ، پھر شام میں آ گیا اور وہاں کے قابل ذکر علماء کے پاس گیا ، سب سے میں نے مال غنیمت کے متعلق مسئلہ پو چھالیکن مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا تو مجھے اس کے متعلق کوئی تسلی بخش جواب دیتا۔ پھرزیادبن جار یہ تمیمی نامی ایک پیرانہ سال آدمی سے میری ملاقات ہوئی ، میں نے اس سے پوچھا: کیا تو نے غنیمت کے متعلق کوئی حدیث سن رکھی ہے؟ اس نے جوابا کہا: جی ہاں۔ میں نے حبیب بن مسلمہ فھری کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ( وہ فرماتے ہیں کہ) میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آغاز میں چوتھا حصہ تقسیم کرتے اور بعد میں تیسر احصہ ۔

مَكْحُولاً ← أبا وهب ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ ← محمود بن خالد الدمشقيان ← عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ذَكْوَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Hadith 2598

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2599

2599 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الشَّامِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ التَّمِيمِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُنَفِّلُ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2599 - صحيح

حضرت حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچوے حصے کے بعد تیسرا حصہ غنیمت تقسیم کیا کرتے تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ أَنَّهُ ← زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ التَّمِيمِيِّ ← مَكْحُولٌ ← يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الشَّامِيِّ ← سُفْيَانَ، ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2599

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2600

2600 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، وَأَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: بَعَثَنِي أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَسْأَلُهُ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَعَامِ خَيْبَرَ فَأَتَيْتُهُ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: هَلْ خَمَّسَهُ؟ قَالَ: «لَا، كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ، وَكَانَ أَحَدُنَا إِذَا أَرَادَ شَيْئًا، أَخَذَ مِنْهُ حَاجَتَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2600 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت محمد بن ابی المجالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اہل مسجد نے مجھے حضرت عبداللہ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تا کہ میں ان سے خیبر سے حاصل ہونے والے غلہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار معلوم کر کے آؤں، میں ان کے پاس آیا اور پو چھا: کیاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا تھا؟ انہوں نے جوابا کہا: نہیں، اس سے کم تھا، ہم میں سے جس کو جتنی ضرورت ہوتی ا تنالے لیتا تھا ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔

مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، وَأَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← هُشَيْمٌ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 2600

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2601

2601 - أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتِ الْعَرَبُ تَقُولُ: مَنْ أَكَلَ الْخُبْزَ سَمِنَ، فَلَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ «جَهِضْنَاهُمْ عَنْ خُبْزَةٍ لَهُمْ، فَقَعَدْتُ عَلَيْهَا، فَأَكَلْتُ مِنْهَا، حَتَّى شَبِعْتُ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ فِي عِطْفَيَّ هَلْ سَمِنْتُ؟» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2601 - صحيح

حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اہل عرب کی یہ ایک کہاوت تھی کہ جوشخص گندم کی روٹی کھا تا ہے وہ موٹا ہو جا تا ہے، جب ہم نے خیبر فتح کیا تو ان کوان کی گندم کی روٹیوں سے دور ہٹادیا اور خود وہاں بیٹھ کر پیٹ بھر کر وہ روٹیاں کھائیں ، جب ہم سیر ہو گئے تو اپنی بغلوں کود یکھنے لگے کہ کیا واقعی ہم موٹے ہو گئے ہیں؟یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

كَانَتِ الْعَرَبُ تَقُولُ: مَنْ أَكَلَ الْخُبْزَ سَمِنَ، فَلَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ «جَهِضْنَاهُمْ ← أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 2601

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2602

2602 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَا: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ثنا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَهِدْتُ فَتْحَ خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْهَزَمَ الْقَوْمُ، وَقَعْنَا فِي رِحَالِهِمْ، فَأَخَذَ النَّاسُ مَا وَجَدُوا مِنْ جُزُرٍ، قَالَ زَيْدٌ: وَهِيَ الْمَوَاشِي، فَلَمْ يَكُنْ بِأَسْرَعَ مِنْ أَنْ فَارَتِ الْقُدُورُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَمَرَ بِالْقُدُورِ، فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَنَا فَجَعَلَ لِكُلِّ عَشَرَةٍ شَاةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2602 - صحيح

حضرت عبدالرحمان بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ پنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ میں فتح خیبر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، جب وہاں کے لوگوں کو شکست ہوگئی تو ہم ان کے خیموں میں گئے تو لوگوں کے ہاتھ جو بھی قابل ذبح جانور لگا انہوں نے اس کو پکڑ لیا اورسب سے پہلے ہنڈ یاں پکائی گئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب دیکھا تو ہنڈ یا (الٹادینے) کا حکم دیا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق) ہنڈ یاں گرا دی گئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جانور ہمارے درمیان تقسیم کیے،تو ہرشخص کے حصے میں دس بکریاں آئیں ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2602

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2603

2603 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «النُّهْبَةُ لَا تَحِلُّ فَأَكْفِئُوا الْقُدُورَ» وَهَكَذَا رَوَاهُ غُنْدَرٌ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ فَذَكَرُوا سَمَاعَ ثَعْلَبَةَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، لِحَدِيثِ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ فَإِنَّهُ رَوَاهُ مَرَّةً» عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: لوٹی ہوئی چیز حلال نہیں ہے، اس لیے ہنڈ یاں الٹادو۔ اس حدیث کوغند راورابن ابی عدی نے بھی شعبہ سے روایت کیا ہے ، اس میں انہوں نے ثعلبہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساع کا ذکر کیا ہے اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔لیکن شیخین نے اس کو سماک بن حرب کی حدیث کی وجہ سے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ انہوں نے ایک مرتبہ ثعلبہ بن حکم کے ذریعے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی ہے ۔

ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2603

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2604

2604 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: انْتَهَبَ النَّاسُ غَنَمًا يَوْمَ خَيْبَرَ فَذَبَحُوهَا، فَجَعَلُوا يَطْبُخُونَ مِنْهَا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ، وَقَالَ: «إِنَّهُ لَا تَصْلُحُ النُّهْبَةُ»

حضرت سماک بن حرب ، ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فتح خیبر کے دن کچھ لوگوں نے غنیمت کا مال ( مویشی) لوٹ کر ذبح کر لیے اور پکانے لگ گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائےتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنڈیوں کے الٹنے کاحکم دیا تو تمام ہنڈ یاں الٹادی گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا لوٹنا جائز نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ الصَّفَّارُ

Hadith 2604

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2605

2605 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَيْسَ مِنَّا مَنِ انْتَهَبَ، أَوْ سَلَبَ، أَوْ أَشَارَ بِالسَّلَبِ» قَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِأَبِي كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنِ الْمُهَلَّبِ «وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2605 - واحتج البخاري بأبي كدينة

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص ہم میں سے نہیں ہے جس نے کوئی چیز لوٹی یا چھینی یا اس کے چھیننے کی طرف اشارہ کیا۔امام بخاری رحمتہ اللہ نےابو کدینہ یحیٰ بن مھلب کی روایات کی نقل کی ہیں اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کونقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ← أَبُو كُدَيْنَةَ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ،

Hadith 2605

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2606

2606 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ الْخُلْسَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ، وَأَنْ تُوطَأَ السَّبَايَا حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2606 - صحيح

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خلسہ ( جھپٹ ) اور مجشمہ (وہ پرندہ یا خرگوش جس کو باندھ کر تیروغیر ہمارا جائے حتی کہ وہ مرجائے )سے منع کیا ہے اورلونڈیوں کے ساتھ وطی کر نے سے منع کیا ہے جب تک کہ جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے وہ پیدانہ ہوجائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِي ← وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ← أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Hadith 2606

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2607

2607 - أَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْضَمِ الْخُرَاسَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ نَلْقَى الْعَدُوَّ، فَلَمَّا هَزَمَهُمُ اتَّبَعَهُمْ طَائِفَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَقْتُلُونَهُمْ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَوْلَتْ طَائِفَةٌ بِالْعَسْكَرِ، فَلَمَّا كَفَى اللَّهُ الْعَدُوَّ، وَرَجَعَ الَّذِينَ قَتَلُوهُمْ، قَالُوا: لَنَا النَّفَلُ نَحْنُ قَتَلْنَا الْعَدُوَّ، وَبِنَا نَفَاهُمُ اللَّهُ وَهَزَمَهُمْ، وَقَالَ الَّذِينَ كَانُوا أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا، هُوَ لَنَا نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَالُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً وَقَالَ الَّذِينَ اسْتَوْلَوْا عَلَى الْعَسْكَرِ: وَاللَّهِ مَا أَنْتُمْ بِأَحَقَّ بِهِ مِنَّا نَحْنُ اسْتَوْلَيْنَا عَلَى الْعَسْكَرِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: 1] إِلَى قَوْلِهِ {إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [البقرة: 91] ، فَقَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ عَنْ فُوَاقٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2607 - على شرط مسلم

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوا ، جب مشرکین کو شکست ہوئی تو مسلمانوں کا ایک گروہ لڑائی کرتے ہوئے ان کے تعاقب میں نکلا اور ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد حصار جمالیا اور ایک گروہ نے لشکر پر قبضہ کیا ، جب دشمن بھاگ گئے تو ان کوقتل کر نیوالے واپس لوٹ آئےاور کہنے لگے : مال غنیمت کے حقدار ہم ہیں کیونکہ ان کوقتل تو ہم نے کیا ہے اور ہماری وجہ سے ان کو شکست ہوئی ہے اور وہ بھاگے ہیں ۔ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گر دحصار جمایا ہواتھاوہ بولے تم ہم سے زیادہ مال غنیمت کے حقدار نہیں ہو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گر دحصار کیے ہوئےتھے تا کہ دشمن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوکوئی نقصان نہ پہنچا سکے ۔ جولوگ لشکر پر قبضہ کیے ہوئےتھے وہ بولے تم لوگ ہم سے زیادہ مال غنیمت کے مستحق نہیں ہو کیونکہ لشکر پر غلبہ تو ہم نے پایا تھا۔ تب اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی’’ يسألونك عن الانفال قل الأنفال لله والرسول فاتقوا الله وأصلحوا ذات بينكم مؤمنين‘‘ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان مختصر وقت میں مال تقسیم کر لیا۔یہ حد یث صیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔ حضرت ابن اسحاق قرشی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے جو کہ امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس نقل نہیں کیا۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ ← أَبِي سَلَّامٍ ← مَكْحُولٌ ← سليمان بن موسى الأشدق، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْضَمِ الْخُرَاسَانِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْبَصْرِيُّ، ← دعلج بن أحمد السجستاني

Hadith 2607

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section