Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2585

2585 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ} [الأنفال: 41] الْآيَةُ. فَقَالَ: «هَذَا مِفْتَاحُ كَلَامِ اللَّهِ تَعَالَى مَا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» قَالَ: " اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي هَذَيْنِ السَّهْمَيْنِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَائِلُونَ: سَهْمُ الْقُرْبَى لَقَرَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ قَائِلُونَ: لَقَرَابَةِ الْخَلِيفَةِ، وَقَالَ قَائِلُونَ: سَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِهِ، فَاجْتَمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا هَذَيْنِ السَّهْمَيْنِ فِي الْخَيْلِ وَالْعُدَّةَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَكَانَا عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا "

حضرت قیس بن محمد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حسن بن محمد سے اللہ تعالی کے اس فرمان ’’واعلموا إنما غنمتم من شيء فإن لله خمسه وللرسول‘‘ (الانفال: ۴۱) ’’ اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لوتو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے‘‘ (ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جوابا کہا: یہ اللہ کے کلام کا آغاز ہے ، جو کچھ دنیا اور آخرت میں ہے ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ان دو حصوں کے متعلق اختلاف واقع ہو گیا۔ بعض نے کہا کہ قرابت داروں کا حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کے لئے ہے اوربعض کا یہ موقف تھا کہ یہ حصہ خلیفہ کے رشتہ داروں کے لئے ہے بعض نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ کے لئے ہے۔ بالآخر سب لوگ اس بات پر متفق ہو گئے کہ ان دونوں حصوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کے سلسلے میں گھوڑوں وغیرہ کی مد میں استعمال کیا جائے چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسی پر عمل رہا۔

قَيْسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2585

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2586

2586 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْقَزْوِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: «وَلَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ الْخُمُسِ، فَوَضَعْتُهُ مَوَاضِعَهُ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2586 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ خمس تقسیم کر نے کا نگران بنایا،تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کوان کے مصرف میں استعمال کیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَلِيًّا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُطَرِّفٍ ← أبو جعفر الرازي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْقَزْوِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2586

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2587

2587 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَتْ صَفِيَّةُ مِنَ الصَّفِيِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2587 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ مال غنیمت کے اس حصہ میں آئی تھیں جوسر براہ کے لئے خاص ہوتا ہے۔ یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أبو حذيفة وأبو نعيم ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2587

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2588

2588 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَهُ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ كَانَ رَأْيُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ بِالْمَدِينَةِ يُقَاتِلُهُمْ فِيهَا فَقَالَ لَهُ نَاسٌ: لَمْ يَكُونُوا شَهِدُوا بَدْرًا أَتَخْرُجُ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ نُقَاتِلْهُمْ بِأُحُدٍ، وَرَجَوْا أَنْ يُصِيبُوا مِنَ الْفَضِيلَةِ مَا أَصَابَ أَهْلُ بَدْرٍ، فَمَا زَالُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَبِسَ أَدَاتَهُ فَنَدِمُوا وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِمْ فَالرَّأْيُ رَأْيُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَضَعَ أَدَاتَهُ بَعْدَ أَنْ لَبِسَهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَدُوِّهِ» قَالَ: وَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ أَنْ يَلْبَسَ الْأَدَاةَ: «إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، فَأَوَّلْتُهَا الْمَدِينَةَ، وَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ، وَرَأَيْتُ أَنَّ سَيْفِي ذَا الْفَقَارِ، فُلَّ فَأَوَّلْتُهُ فَلًّا فِيكُمْ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ، فَبَقَرٌ، وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2588 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ذوالفقار جنگ بدر کے موقع پر مال غنیمت کے اضافی حصہ کے طور پر حاصل کی تھیں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ وہی تلوارتھی جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے موقع پر خواب دیکھا تھا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ احد کے دن جب مشرکین جنگ کے لئے تیار تھے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مد ینہ شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے تو کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم لوگ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہوئے تھے ، یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنے ہمراہ لے چلیں گے؟ تا کہ ہم دشمن کے ساتھ میدان احد میں مقابلہ کر یں اور ان کو وہی فضیلت پانے کی تمناتھی جو جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کو حاصل ہوئی تھی ، وہ لوگ مسلسل اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی لباس زیب تن کیا اور ہتھیا وغیرہ پہن لیے ۔ پھر وہ لوگ شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے ہی بہتر رائےہے ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر جائیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نبی جنگ کے لئے ہتھیا راٹھالیتا ہے تو پھر جب تک اللہ تعالی اس کے اور دشمن کے درمیان فیصلہ نہیں کر دیتا، اس وقت تک وہ اپنے ہتھیا را تارتانہیں ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: حالانکہ اس دن جنگی لباس پہنے سے پہلےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہ بات بتا چکے تھے کہ میں نے ( خواب میں) دیکھا ہے کہ میں بہت مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہوں، میں نے اس کی تعبیر شہر (مدینہ) قرار دی ہے، میں نے دیکھا کہ میں ایک مینڈھے کوغبار میں روند ر ہا ہوں ، اس کی تعبیر یہ ہے کہ دشمن کے لشکر کا سر دار مارا جائے گا اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میری تلوار ذوالفقار کو دندانے پڑ گئے ہیں ، میں نے اس کی تعبیر تمہاری شکست سمجھی ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے اللہ کی قسم ! گائے ( کوخواب میں دیکھنا )اچھا ہے ۔ اللہ کی قسم ! گائے ( کوخواب میں دیکھنا) اچھا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ الَّذِى رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ وَذَلِكَ ← تنفل رسول الله سيفه ذا الفقار يوم بدر ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2588

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2589

2589 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، قَالَ: إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ أَبِي إِذْ مَرَّ بِقَوْمٍ يُنْقُصُونَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُونَ فِيهِ، فَقَامَ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَنَالُ مِنْ عَلِيٍّ وَفِي نَفْسِي عَلَيْهِ شَيْءٌ وَكُنْتُ مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فِي جَيْشٍ فَأَصَابُوا غَنَائِمَ، فَعَمِدَ عَلِيٌّ إِلَى جَارِيَةٍ مِنَ الْخُمُسِ، فَأَخَذَهَا لِنَفْسِهِ، وَكَانَ بَيْنَ عَلِيٍّ وَبَيْنَ خَالِدٍ شَيْءٌ، فَقَالَ خَالِدٌ: هَذِهِ فُرْصَتُكَ وَقَدْ عَرَفَ خَالِدٌ الَّذِي فِي نَفْسِي عَلَى عَلِيٍّ قَالَ: فَانْطَلِقْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاذْكُرْ ذَلِكَ لَهُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبَابًا، وَكُنْتُ إِذَا حَدَّثْتُ الْحَدِيثَ أَكْبَبْتُ، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِيَ، فَذَكَرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَ الْجَيْشِ، ثُمَّ ذَكَرْتُ لَهُ أَمْرَ عَلِيٍّ فَرَفَعْتُ رَأْسِيَ، وَأَوْدَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ احْمِرَّتْ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَإِنَّ عَلِيًّا وَلِيُّهُ، وَذَهَبَ الَّذِي فِي نَفْسِي عَلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ، إِنَّمَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ مُخْتَصَرًا " وَلَيْسَ فِي هَذَا الْبَابِ أَصَحَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ هَذَا عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ وَهَذَا رَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنِ الْأَعْمَشِ

حضرت عبداللہ بن بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ جار ہا تھا کہ ان کا گز ر کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں تیربازی کر رہے تھے، وہ بھی وہاں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے میں بھی علی کا مخالف ہوا کرتا تھا اور ان کی عیب جوئی کیا کرتا تھا، میں ایک دفعہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک لشکر میں تھا ان کو بہت سارا مال غنیمت ملا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمس میں آنیوالی ایک لونڈی کو اپنے لئے رکھ لیا جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے درمیان معمولی اختلاف تھا کیونکہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق میرے مخالفانہ نظریات سے واقف تھے،اس لیے وہ مجھے کہنے لگے کہ تیرے لیے یہ موقع بہت غنیمت ہے ،تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ( علی رضی اللہ عنہ کی اس حرکت کا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکر ہ کر و ( حضرت بریدہ فرماتے ہیں میں نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور گفتگو شروع کی میں مکباب ( زمین پر نظر رکھنے والا) آدمی تھا اور جب میں گفتگو کرنے لگتا تو نظروں کو جھکا لیتا پھر میں اپنا سراٹھا تا۔ بہر حال میں نے لشکر والا واقعہ سنایاد یا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وہ بات بتائی ۔ ( گفتگوختم کر نے کے بعد جب) میں نے سر اٹھایا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہوچکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں ولی ہوں علی اس کاولی ہے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر) میرا ذہن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق صاف ہو گیا ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا، تاہم امام بخاری رحمتہ اللہ نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک مختصر حد یث نقل کی ہے جبکہ اس باب میں ابوعوانہ کی وہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے جوانہوں نے اعمش کے واسطے سے حضرت سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور درج ذیل میں حدیث وکیع بن جراح نے اعمش سے روایت کی ہے ۔

إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2589

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2590

2590 [ص:142] أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى مَجْلِسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2589 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت وکیع رضی اللہ عنہ نے اعمش سے روایت کی ہے کہ حضرت سعد بن عبید رضی اللہ عنہ نے ابن بریدہ کے حوالے سے ان کے والد کا بیان نقل کیا ہے کہ ان کا گز را یک مجلس سے ہوا پھر اس کے بعدطویل حدیث ذکر کی ۔

الْحَدِيثَ بِطُولِهِ [التعليق من تلخيص الذهبي] على شرط البخاري ومسلم ← أَبِيهِ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى مَجْلِسٍ ثُمَّ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ← [ص:149]

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2590

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2591

2591 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ هَوَازِنَ، جَاءَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ بِالنِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ، وَالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، فَصَفُّوهُمْ صُفُوفًا، لِيُكَثِّرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ، فَوَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ، كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ» وَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ» فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ، وَلَمْ يَطْعَنْ بِرُمْحٍ وَلَمْ يَضْرِبْ بِسَيْفٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ: «مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ» فَقَتَلَ أَبُو قَتَادَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا، وَأَخَذَ أَسْلَابَهُمْ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ضَرَبْتُ رَجُلًا عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ، وَعَلَيْهِ دِرْعٌ لَهُ، فَأُعْجِلْتُ عَنْهُ أَنْ آخُذَ سَلَبَهُ، فَانْظُرْ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَخَذْتُهَا فَأَرْضِهِ مِنْهَا فَأَعْطِنِيهَا. فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ لَا يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ أَوْ سَكَتَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا وَاللَّهِ لَا يَفِيءُ اللَّهُ عَلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِهِ، وَيُعْطِيكَهَا فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا. حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2591 - على شرط مسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: جنگ حنین کے دن ہوازن نے عورتوں ‘بچوں ‘ اونٹوں اور گھوڑوں کو لا کر صفوں میں کھڑا کر دیا تا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پراپنی کثرت ظاہر کر سکیں ، جب مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان معرکہ شروع ہوا تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشادفر مایا ہے پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انصار کو مخاطب کر کے) فرمایا: اے گروہ انصار میں اللہ کا بندہ ہوں ، اللہ تعالی نے مشرکوں کو شکست دی حالانکہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیز ہ مارا اور نہ تلوار چلائی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا: جوشخص کسی کا فرکوقتل کرے گا ، اس سے جو کچھ چھینے گا وہ اسی کا ہے ۔ اس دن ابوقتادہ نے ۲۰ آدمیوں کوقتل کر کے ان کا ساز و سامان اتارا تھا ،ابوقتادہ نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے ایک شخص کی شہ رگ کاٹ ڈالی تھی ، اس نے زرہ پہن رکھی تھی ، مجھ سے پہلے کسی اور نے اس کا سامان اتارلیا ، یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم تحقیق کر وائیں کہ وہ کون تھا؟ ایک شخص بولا : اس کا سامان میں نے ا تارا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اس زرہ کے متعلق راضی کر لیں اور وہ مجھے دے دیں ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کچھ مانگا جا تا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عطا کر دیتے یا خاموش ہو جاتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے : خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالی اپنے کسی شیر کوغنیمت عطا فرمائے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو تیرےسپر دکر دیں ( یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراد یئے ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2591

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2591.1

2591 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْفَهَانِيُّ الزَّاهِدُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبُرِّيِّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ «حَرَّقُوا مَتَاعَ الْغَالِّ، وَمَنَعُوهُ سَهْمَهُ، وَضَرَبُوهُ» حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر صلی اللہ علیہ وسلم اور عمر رضی اللہ عنہ چپکے سے کوئی چیز اٹھا کر اپنے مال میں داخل کر لینے والوں کا سامان جلا دیتے تھے اور اس کا حصہ روک لیتے تھے اور اس کومارتے تھے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبِي ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبَرِّيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْفَهَانِيُّ الزَّاهِدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2591.1

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2592

2592 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمَ، قَالَ: شَهِدْتُ حُنَيْنًا مَعَ سَادَتِي، فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَأَمَرَنِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا، فَأُخْبِرَ أَنِّي مَمْلُوكٌ، فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2592 - صحيح

حضرت ابولحم رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں اپنے آقا کے ہمراہ غزوہ حنین میں شریک ہوا بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے میرے تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا تو میں نے ایک تلواراٹھالی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان میں سے ایک معمولی سی چیز لینے کا حکم دیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عُمَيْرٍ، مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2592

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2593

2593 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمَنْصُورِ، أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِمْلَاءً فِي دَارِ الْمَنْصُورِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ الطَّبَّاعِ، ثنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ثنا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ، قَالَ: شَهِدْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْصَرَفْنَا عَنْهَا، إِذِ النَّاسُ يَهُزُّونَ بِالْأَبَاعِرِ، فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ: مَا لِلنَّاسِ؟ قَالُوا: أُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا مَعَ النَّاسِ نُوجِفُ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ عِنْدَ كُرَاعِ الْغَمِيمِ فَلَمَّا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ، قَرَأَ عَلَيْهِمْ {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا} [الفتح: 1] فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتَحٌ هُوَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحٌ» فَقُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَلَاثَةَ عَشَرَ سَهْمًا، وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ، فِيهِمْ ثَلَاثُ مِائَةِ فَارِسٍ، فَأَعْطَى الْفَارِسَ سَهْمَيْنِ، وَأَعْطَى الرَّاجِلَ سَهْمًا «هَذَا حَدِيثٌ كَبِيرٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2593 - صحيح

حضرت مجمع بن جار یہ انصاری رضی اللہ عنہ قرآن پڑھنے والے قاریوں میں سے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں: ہم صلح حدیبیہ کے موقع پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جب ہم وہاں سے واپس پلٹے تو لوگ حدی خوانی کر کے اپنے اونٹوں کو نشاط میں لا رہے تھے بعض لوگوں نے دوسروں سے پوچھا: لوگوں کو کیا ہو گیا ؟ ( یہ اتنی جلدی کوچ کی تیاری کیوں کر رہے ہیں) تو انہوں نے جواب دیا ( کوچ کرنے کے متعلق) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پروحی نازل ہوئی ہے چنانچہ ہم بھی گھوڑے دوڑاتے ہوئے لوگوں کے ہمراہ چل دیئے ( مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ) ’’کراع الغمیم ‘‘ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر تھے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملے ، جب سب لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گر دجمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت’’ إنا فتحنا لك فتحا مبينا‘‘ (الفتح:۱) ’’بے شک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح فرمادی‘‘ ( ترجمہ کنزایمان امام احمد رضا) پڑھی ،تو ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! کیا (اس سے مراد) فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے، وہ فتح ہے ۔ پھر حد یبیہ کے شرکاء پر خیبر( کا مال غنیمت )تقسیم کیا گیا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال۱۳ حصوں پر تقسیم کیا ، اس وقت لشکر کی تعداد۱۵۰۰ تھی ، جن میں سے ۳۰۰ گھڑ سوار تھے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ سوار کو دو حصے اور پیدل کوایک حصہ عطافرمایا ( یعنی سوارکو پیدل سے ڈبل حصہ دیا) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ -وَكَانَ أَحَدَ الْقُرَّاءِ الَّذِينَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ، ← مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ ← عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ الطَّبَّاعِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2593

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2594

2594 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: «مَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَلَهُ مِنَ النَّفَلِ كَذَا وَكَذَا» قَالَ فَقَدِمَ الْفِتْيَانُ وَلَزِمَ الْمَشْيَخَةُ الرَّايَاتِ فَلَمْ يَبْرَحُوهَا، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، قَالَ الْمَشْيَخَةُ: كُنَّا رِدْأً لَكُمْ لَوِ انْهَزَمْتُمْ فِئْتُمْ إِلَيْنَا، فَلَا تَذْهَبُونَ بِالْمَغْنَمِ وَنَبْقَى فَأَبَى الْفِتْيَانِ وَقَالُوا: جَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: 1] إِلَى {كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ} [الأنفال: 5] يَقُولُ: فَكَانَ ذَلِكَ خَيْرًا لَهُمْ فَكَذَلِكَ أَيْضًا فَأَطِيعُونِي فَإِنِّي أَعْلَمُ بِعَاقِبَةِ هَذَا مِنْكُمْ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ فَقَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِعِكْرِمَةَ وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِدَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2594 - على شرط البخاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے موقع پریہ تفصیل بیان کر دی تھی کہ کس طرح کا کارنامہ انجام دینے پر کتنامال غنیمت ملے گا ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں: دونو جوان آ گے بڑھے اور پکھ عمر رسید ہ لوگ علم بلند کیے ہوئے تھے ۔ فتح ہونے تک یہی سلسلہ رہا( جب جنگ ختم ہوگئی) تو عمر رسیدہ لوگ بولے :تمہارے مددگارتو ہم تھے ،اگر تم جنگ سے بھاگتے تو لوٹ کر ہمارے پاس آ تے ،اس لیے ایسامت کرو کہ سارامال غنیمت تم لے لواور ہم محروم رو جا ئیں لیکن نو جوانوں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے یہ مال تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے مقرر کیا ہے ، تب اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ’’يسألونك عن الانفال قل الانفال لله والرسول ۔۔۔۔۔۔۔۔كما أخرجك ربك من بيتك بالحق وإنّ فريقا من المؤمنين لكارهون‘‘ تک (۱ نفال:۵-۱)’’ اے محبوب تم سے غنیمتوں کو پوچتے ہیں تم فرماؤغنیمتوں کا مالک اللہ ورسول ہے تو اللہ سے ڈرواور اپنے آپس میں میل(صلح صفائی) رکھواور اللہ اور رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو ، ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کویا دکیا جائے تو ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں تو ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کر یں، وہ جونماز قائم رکھیں اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کر یں ، یہی سچے مسلمان ہیں ،ان کے لئے درجے میں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور روزی ، جس طرح اے محبوب! تمہیں تمہارے رب نے تمہارےگھر سے حق کے ساتھ بر آمد کیا اور بے شک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر نا خوش تھا‘‘ ۔ ( ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے لئے اسی طرح بہتر تھا، چنانچہ میری اطاعت کرو کیونکہ اس چیز کا انجام ، تم سے زیادہ بہتر میں جانتا ہوں ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمتہ اللہ عکرمہ کی روایت اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے داؤ د بن ابی ہند کی روایات نقل کی ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2594

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2595

2595 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْآخِرِ سَنَةَ ثَمَانٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ شُفِيَ صَدْرِي الْيَوْمَ مِنَ الْعَدُوِّ، فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ. فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لِي وَلَا لَكَ، فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ يُعْطَاهُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يَبْلُ بَلَائِي، فَبَيْنَا إِذْ جَاءَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ: أَجِبْ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ نَزَلَ فِيَّ شَيْءٌ مِنْ كَلَامِي فَجِئْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ سَأَلْتَنِي هَذَا السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَلَا لَكَ، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَهُ لِي فَهُوَ لَكَ» ثُمَّ قَرَأَ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ} [الأنفال: 1] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2595 - صحيح

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ بدر کے دن میں ایک تلوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی :یارسول اللہ آج دشمن پر ہماراسینہ ٹھنڈا ہو گیا ، آپ یہ تلوارمجھے عطافرمادیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تلوار نہ تیری ہے نہ میری، میں وہاں سے یہ کہتے ہوئے چلا آیا’’ آج یہ تلوار اس شخص کو دی جائے گی جو میری طرح آزمائش میں مبتلا نہیں ہوگا‘‘اسی دوران میرے پاس آپ کا ایک قاصد آیا اور کہنے لگا : آپ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوں ، میں یہ سمجھا کہ میری اس سخت کلامی کی وجہ سے شاید میرے متعلق کوئی آیت نازل ہوئی ہے ، میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے مجھ سے یہ تلوار مانگی تھی ، اس دقت یہ تلوار نہ میری تھی نہ تیری تھی ،اب اللہ تعالی نے یہ تلوار مجھے دے دی ہے ،تو میں تجھے دیتا ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درج ذیل آیت کی تلاوت کی ’’يسألونك عن الأنفال قل الانفال لله والرسول إلى اخر الآية‘‘ (الانفال: ۱) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

جِئْتُ إِلَی النَّبِيِّ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو بَکْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2595

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section