Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 97

97 - فَأَخْبَرَنَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهًى؟، فَقَالَ: «نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ، ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَيْسَ لَهُ عِلَّةٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِتَفَرُّدِ عُرْوَةَ بِالرِّوَايَةِ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ وَكُرْزُ بْنُ عَلْقَمَةَ صَحَابِيٌّ مُخَرَّجٌ حَدِيثُهُ فِي مَسَانِيدِ الْأَئِمَّةِ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عُمَرَ الْحَافِظَ، يَقُولُ: مِمَّا يَلْزَمُ مُسْلِمٌ وَالْبُخَارِيُّ إِخْرَاجَهُ حَدِيثُ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ «هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهًى» فَقَدْ رَوَاهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ عَنْهُ ". قَالَ الْحَاكِمُ: «وَالدَّلِيلُ الْوَاضِحُ عَلَى مَا ذَكَرَهُ أَبُو الْحَسَنِ أَنَّهُمَا جَمِيعًا قَدِ اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ»

حضرت کرز بن علقمہ ؓ بیان کرتے ہیں ،ایک دیہاتی نے عرض کیا: یا رسول الله ! کیا اسلام کبھی ختم بھی ہو جائے گا؟ آپ ﷺ نے جواباً ارشادفرمایا: کوئی بھی گھر انہ خواہ عربی ہو یا عجمی۔ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے گا ان میں اسلام داخل کر دے گا پھر(ایک وقت ایسا آئے گا کہ )بادلوں کی طرح فتنے پھیل جائیں گے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے اس کو نقل نہیں کیا، اس میں کوئی نقص بھی نہیں ہے اورشیخین ؒنے اس کو اس لئے ترک کر دیا کہ اس کی سند میں عروہ، کرز بن علقمہ سے روایت کرنے میں تنہا ہیں اور کرز بن علقمہ صحابی ہیں اور آئمہ حدیث نے اپنی مسانید میں ان کی روایات نقل کی ہیں ۔ ( امام حاکم ؒ کہتے ہیں) میں نے علی بن عمرالحافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے۔ امام بخاری ؒ کو کرز بن علقمہ کی ”هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهًى“ والی حدیث نقل کرنی چاہئے تھی کیونکہ اس کو عروة بن زبیر، ز ہری اور عبدالواحد بن قیس نے بھی کرز بن علقمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔(امام حاکم ؒ کہتے ہیں) ابوحسن نے جو کچھ کہا ہے اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ دونوں نے عتبان بن مالک انصاری ؓ جن کے گھر میں رسول اللد ﷺنے نماز پڑھی تھی کی حدیث نقل کی ہے حالانکہ عتبان بن مالک ؓکا راوی محمود بن ربیع کے علاوہ اور کوئی نہیں

أَعْرَابِيٌّ: ← كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عبدان أنبأ عبد الله ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← فَأَخْبَرَنَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 97

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 98

98 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنْبَأَ أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَبَلَغَنِي أَنَّهُ خَرَّجَهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 98 - على شرط مسلم

حضرت فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: ان لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جن کو قبول اسلام کی توفیق ملی اور جن کو دو وقت کا کھانا میسر ہے اور اس پر وہ قناعت کرنے والے ہیں۔: یہ حدیث امام مسلمؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور میری اطلاع کے مطابق امام مسلم ؒ نے اس کو دوسری . سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔

حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنْبَأَ أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 98

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 99

99 - حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَا: ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ فَضْلٍ الْبَجَلِيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَذَّاءُ، بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِعُثْمَانَ الشَّحَّامِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 99 - على شرط مسلم

حضرت ابو بکرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: اے اللہ! میں کفر، فقر اور عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔: یہ حدیث امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ حالانکہ امام مسلم ؒنے عثمان بن شحام کی روایات نقل کی ہیں۔

أَبِي بَكْرَةَ ← مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، ← عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ← محمد بن سليمان بن الحارث ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَذَّاءُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ فَضْلٍ الْبَجَلِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 99

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 100

100 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، وَثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثنا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، أَنْبَأَ مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا فَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِمَالِكِ بْنِ سُعَيْرٍ، وَالتَّفَرُّدُ مِنَ الثِّقَاتِ مَقْبُولٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 100 - على شرطهما وتفرد الثقة مقبول

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں تو رحم کرنے والا اورذریعہ ہدایت ہوں ۔ : یہ حدیث امام بخاریؒ اور امام مسلم ؒدونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ کیونکہ دونوں نے مالک بن سعیر کی روایات نقل کی ہیں اور ثقہ کا تفرد مقبول ہوتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، أَنْبَأَ مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، وَثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 100

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 101

101 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «لَقَدْ عِشْنَا بُرْهَةً مِنْ دَهْرِنَا وَإِنَّ أَحْدَثَنَا يُؤْتَى الْإِيمَانَ قَبْلَ الْقُرْآنِ، وَتَنْزِلُ السُّورَةُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَعَلَّمُ حَلَالَهَا وَحَرَامَهَا، وَمَا يَنْبَغِي أَنْ يُوقَفَ عِنْدَهُ فِيهَا كَمَا تَعْلَمُونَ أَنْتُمُ الْقُرْآنَ» ، ثُمَّ قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالًا يُؤْتَى أَحَدُهُمُ الْقُرْآنَ فَيَقْرَأُ مَا بَيْنَ فَاتِحَتِهِ إِلَى خَاتِمَتِهِ مَا يَدْرِي مَا أَمْرُهُ وَلَا زَاجِرُهُ، وَلَا مَا يَنْبَغِي أَنْ يُوقَفَ عِنْدَهُ مِنْهُ يَنْثُرُهُ نَثْرَ الدَّقَلِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 101 - على شرطهما ولا علة له

حضرت ابن عمر ؓبیان کرتے ہیں ،ہم نے اپنی زندگی کے طویل عرصے میں یہ دیکھا ہے کہ لوگ ایمان پہلے لائے تھے اور قرآن بعد میں نازل ہوا۔ پھر قرآن کے نزول کے بعد اس سے حلال وحرام کا پتہ چل جاتا تھا اور ہونا بھی یہی چاہئے کہ جو کچھ قرآن پاک میں بیان کیا گیا ہے اس کو سمجھا جائے جیسا کہ تم لوگ قرآن سیکھتے ہو ( پھر ابن عمرؓ نے کہا) میں نے ایسے کئی لوگوں کودیکھا ہے کہ ان کو اگر قرآن پڑھنے کو دیا جائے تو وہ از اول تا آخر سارا قرآن پڑھ ڈالیں گے لیکن انہیں یہ پتہ نہیں چلے گا کہ(کون سی آیت میں ثواب کی بات ہے اور کس میں عذاب کی ) کہاں پر کوئی حکم دیا گیا ہے اور کہاں پر ڈانٹا گیا ہے۔ ایسے طریقے سے قرآن نہیں پڑھنا چاہئے کہ اس میں کوئی بات سمجھ میں ہی نہ آ سکے۔ : یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور اس میں کوئی نقص بھی نہیں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 101

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 102

102 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، وَحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ الْقُرَشِيُّ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الْمَوَالِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَوْهَبٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٍ: الْمُكَذِّبُ بِقَدْرِ اللَّهِ، وَالزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَالْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبَرُوتِ يُذِلُّ مَنْ أَعَزَّ اللَّهُ وَيُعِزُّ مَنْ أَذَلَّ اللَّهُ، وَالْمُسْتَحِلُّ لِحُرَمِ اللَّهِ، وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللَّهُ، وَالتَّارِكُ لِسُنَّتِي «.» قَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْمَوَالِ وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 102 - صحيح ولا أعرف له علة

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا: ۶آدمیوں پر میں لعنت کرتا ہوں، ان پر الله تعالیٰ نے بھی لعنت کی ہے اور ہر مستجاب الدعوات کی ان پرلعنت ہے (چھ آدمی یہ ہیں (1) تقدیر کا انکار کرنے والا (۲) قرآن پاک میں اضافہ کرنے والا (۳) ایسا صاحب منصب جو باعزت لوگوں کو ذلیل کرے اور ذلیل لوگوں کو عزت دے (۴) اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیا کو حلال سمجھنے والا (۵) میری آل سے بغض رکھنے والا (۶) میری سنت کو ترک کرنے والا۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒنے اس کو نقل نہیں کیا، حالانکہ امام بخاری ؒنے عبدالرحمٰن بن الموال کی روایات نقل کی ہیں ۔ اس حدیث میں ہمیں کوئی نقص نظر نہیں آیا۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَوْهَبٍ الْقُرَشِيُّ، ← ابن أبي الموال عبد الرحمن ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ الْقُرَشِيُّ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِي ← الحسن بن علي بن زياد ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، وَحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 102

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 103

103 - أَخْبَرَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْآخِرِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَوْهَرِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْأَصَمِّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَرَأَيْتَ جَنَّةً عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ فَأَيْنَ النَّارُ؟ قَالَ: «أَرَأَيْتَ اللَّيْلَ الَّذِي قَدْ أَلْبَسَ كُلَّ شَيْءٍ فَأَيْنَ جَعَلَ النَّهَارَ؟» قَالَ: اللَّهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «كَذَلِكَ يَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَا أَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 103 - على شرطهما ولا أعلم له علة

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ،ایک شخص بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: اے محمد! جنت کی چوڑائی تو تمام آسمان اور زمین کے برابر ہے (یہ سب کچھ تو جنت سے ِگھرگیا) پھر دوزخ کہاں ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: رات ہر چیز کو تاریکی میں ڈبو دیتی ہے، اس وقت دن کہاں جاتا ہے؟ اس نے کہا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ آپﷺنے فرمایا: اسی طرح (جنت و دوزخ کے مقام کو بھی اللہ تعالیٰ ہی جانتا)ہے، الله تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے ویسے ہی کرتا ہے۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور ہمیں اس میں کوئی نقص بھی نہیں مل سکا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَوْهَرِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، ← تِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ← الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْآخِرِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 103

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 104

104 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَدْرِي تُبَّعٌ أَنَبِيًّا كَانَ أَمْ لَا؟ وَمَا أَدْرِي ذَا الْقَرْنَيْنِ أَنَبِيًّا كَانَ أَمْ لَا؟ وَمَا أَدْرِي الْحُدُودُ كَفَّارَاتٌ لِأَهْلِهَا أَمْ لَا؟» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَا أَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 104 - على شرطهما ولا أعلم له علة

حضرت ابو ہر یرہ ؓ بیان کرتے ہیں ،مجھے نہیں معلوم کہ"تبع“ نبی تھے یانہیں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ"ذوالقرنین"نبی تھے یا نہیں اور مجھے نہیں معلوم گنا ہ کی شرعی سزا پانے کے بعد مجرم کا گناہ مٹ جاتا ہے یانہیں۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور اس میں کوئی نقص بھی نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 104

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 105

105 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ صَوَّرَهُ وَتَرَكَهُ فِي الْجَنَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ، فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ، فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خَلْقٌ لَا يَتَمَالَكُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَخْرَجَهُ فِي آخِرِ الْكِتَابِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 105 - على شرط مسلم

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کوتخلیق کر لیا تو انہیں کچھ عرصہ کے لئے جنت میں رکھا۔ اس دوران ابلیس نے ایک مرتبہ آ کر اس جسم کو چاروں طرف سے بہت غور سے دیکھا۔ جب اس نےیہ دیکھا کہ یہ درمیان سے خالی ہے تو سمجھ گیا کہ یہ ایسی مخلوق ہے جواپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکتی۔ یہ حدیث امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے (امام حاکم ؒ فرماتے ہیں) ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ امام مسلم ؒنے اس حدیث کو کتاب کے آخر میں نقل کیا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 105

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 106

106 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، بِبَغْدَادَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، ثنا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ بَاعًا فَبَاعًا، وَذِرَاعًا فَذِرَاعًا، وَشِبْرًا فَشِبْرًا، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمُوهُ مَعَهُمْ» قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، قَالَ: «فَمَنْ إِذًا؟» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 106 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: تم اپنے سے پہلے لوگوں کے رسم ورواج کی قدم بہ قدم اس قدر پابندی سے پیروی کرنے لگ جاؤگے کہ اگر وہ کسی جان لیوا جانور کے بل میں گھسیں گے تو ان کے پیچھے تم بھی جا گھسو گے (ابو ہریرہؓ کہتے ہیں ) عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ! یہود اور نصا ریٰ (کے متعلق آپ ارشاد فرمارہے ہیں ) آ پ ﷺنے فرمایا ت تو اور کون ؟ یہ حدیث امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اس صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ← قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ ← قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 106

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 107

107 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، وَحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ بَعْدُ، قَالَ: فَقَعَدْنَا حَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْظُرُ إِلَى الْأَرْضِ، وَجَعَلَ يَرْفَعُ بَصَرَهُ وَيَخْفِضُهُ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ إِذَا كَانَ فِي قُبُلٍ مِنَ الْآخِرَةِ وَانْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَيَنْزِلُ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ مَعَهُمْ أَكْفَانٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ، فَيَقْعُدُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ» قَالَ: " فَيَقُولُ مَلَكُ الْمَوْتِ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ " قَالَ: " فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنَ السِّقَاءِ، فَلَا يَتْرُكُونَهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ، فَيَصْعَدُونَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى جُنْدٍ مِنْ مَلَائِكَةٍ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذِهِ الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ، فَإِذَا انْتَهَى إِلَى السَّمَاءِ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا، حَتَّى يُنْتَهَى إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، ثُمَّ يُقَالُ: اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي عِلِّيِّينَ، ثُمَّ يُقَالُ: أَرْجِعُوا عَبْدِي إِلَى الْأَرْضِ، فَإِنِّي وَعَدْتُهُمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى، فَتُرَدُّ رُوحُهُ إِلَى جَسَدِهِ، فَتَأْتِيهِ الْمَلَائِكَةُ فَيَقُولُونَ: مَنْ رَبُّكَ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: اللَّهُ، فَيَقُولُونَ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: الْإِسْلَامُ، فَيَقُولُونَ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي خَرَجَ فِيكُمْ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَيَقُولُونَ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ، قَالَ: فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ صَدَقَ فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَأَرُوهُ مَنْزِلَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ: وَيُمَدُّ لَهُ فِي قَبْرِهِ وَيَأْتِيهِ رَوْحُ الْجَنَّةِ وَرِيحُهَا، قَالَ: فَيُفْعَلُ ذَلِكَ بِهِمْ، وَيَمْثُلُ لَهُ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ حَسَنُ الثِّيَابِ طَيِّبُ الرِّيحِ فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ، فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ وَجْهٌ يُبَشِّرُ بِالْخَيْرِ؟ قَالَ: فَيَقُولُ أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ، قَالَ: فَهُوَ يَقُولُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ كَيْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي، ثُمَّ قَرَأَ {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] . وَأَمَّا الْفَاجِرُ فَإِذَا كَانَ فِي قُبُلٍ مِنَ الْآخِرَةِ وَانْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا أَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ فَيَقْعُدُ عِنْدَ رَأْسِهِ وَيَنْزِلُ الْمَلَائِكَةُ سُودُ الْوُجُوهِ مَعَهُمُ الْمُسُوحُ فَيَقْعُدُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، فَيَقُولُ مَلَكُ الْمَوْتِ: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَغَضِبٍ، قَالَ: فَتُفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ فَيَنْقَطِعُ مَعَهَا الْعُرُوقُ وَالْعَصَبُ كَمَا يُسْتَخْرَجُ الصُّوفُ الْمَبْلُولُ بِالسَّفُودِ ذِي الشُّعَبِ، قَالَ: فَيَقُومُونَ إِلَيْهِ فَلَا يَدَعُونَهُ فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ فَيَصْعَدُونَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَلَا يَمُرُّونَ عَلَى جُنْدٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا، قَالُوا: مَا هَذِهِ الرُّوحُ الْخَبِيثَةُ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: فُلَانٌ بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ، قَالَ: فَإِذَا انْتُهِيَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ غُلِّقَتْ دُونَهُ أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ، قَالَ: وَيُقَالُ اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ: أَعِيدُوا عَبْدِي إِلَى الْأَرْضِ فَإِنِّي وَعَدْتُهُمْ أَنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى، قَالَ: فَيَرْمَى بِرُوحِهِ حَتَّى تَقَعَ فِي جَسَدِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ} [الحج: 31] قَالَ: فَتَأْتِيهِ الْمَلَائِكَةُ فَيَقُولُونَ: مَنْ رَبُّكَ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ قَدْ كَذَبَ فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ وَأَرُوهُ مَنْزِلَهُ مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَيَضِيقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ، قَالَ: وَيَأْتِيهِ رِيحُهَا وَحَرُّهَا، قَالَ: فَيُفْعَلُ بِهِ ذَلِكَ، وَيَمْثُلُ لَهُ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُؤْكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ، قَالَ: فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يُبَشِّرُ بِالشَّرِّ، قَالَ: فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ، قَالَ: وَهُوَ يَقُولُ: رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ ". [ص:95]

حضرت براء بن عازب ؓبیان کرتے ہیں ہم ایک مرتبہ رسول اللہﷺکے ہمراہ ایک انصاری صحابی ؓکے جنازے میں شرکت کے لئے جارہے تھے۔ ہم قبر پر گئے لیکن ابھی تک قبر کی لحد تیار نہیں ہوئی تھی (تولحد تیار ہونے کے انتظار میں) ہم لوگ رسول پاک ﷺکے اردگرد جمع ہو کر بیٹھ گئے۔ آپ ﷺکبھی آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتے تو کبھی زمین کی طرف۔ آپﷺنے تین مرتبہ اسی طرح کیا، پھر یوں دعا مانگی: اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ پھر فرمایا : بندہ مومن کا جب آخری وقت آتا ہے تو ملک الموت آ کر اس کے سرہانے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ آسمان سے فرشتے اترتے ہیں جن کے چہرے سورج کی طرح چمک رہے ہوتے ہیں ان کے پاس جنتی کفن اورجنتی خوشبوئیں ہوتی ہیں ۔ یہ مومن کے قریب بیٹھ جاتے ہیں(ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ )حد نگاہ تک (یہی نظر آرہے ہوتے ہیں) پھر موت کا فرشتہ ( مومن سے مخاطب ہوکر) کہتا ہے اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف چل ۔حضورﷺنے فرمایا : روح (بندہ مومن کے جسم سے) اس طرح بہہ کر نکل آتی ہے جیسے مشکیزے کو الٹا دیں تو اس میں سے قطرے بہہ کر نکلتے ہیں ۔ پھر ملانکہ اس روح کو پلک جھپکنے کے برابربھی ہاتھوں سے نہیں چھوڑتے پھر اس روح کو لے کر آسمانوں کی طرف جاتے ہیں، راستے میں فرشتوں کی جس جماعت کے بھی قریب سے گزرتے ہیں وہ جماعت کہتی ہے:بی اتنی اچھی روح کس کی ہے؟ فرشتے بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے اور بہت اچھے اچھے القابات سے پکارتے ہیں ۔ پھر جب فرشتے روح کو لے کر آسمان تک پہنچتے ہیں تو اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ پھر اس آسمان کے فرشتے ان کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور دوسرے آسمان تک پہنچاتے ہیں یونہی ہر آسمان کے مقرب ملا نکہ اس کو اگلے آسمان تک چھوڑنے کے لئے ساتھ ساتھ جاتے ہیں ۔ جب ساتویں آسمان تک یہ روح پہنچتی ہے تو کہا جاتا ہے۔اس کا نامہ اعمال’’اعلی علیین "میں لکھ دو ۔ پھر کہا جاتا ہے :میرے بندے کو واپس زمین پر لے جاؤ کیونکہ میں نے ان سے وعدہ کیا تھاکہ میں نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے پھر اسی میں تمہیں لوٹاؤں گا اور پھر دوبارہ اسی سے نکالوں گا۔ چنانچہ اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے پھر اس کے پاس فرشتے آتے ہیں اور آ کر کہتے ہیں : تیرا رب کون ہے؟ (حضورﷺنے فرمایا ) وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔ پھر وہ ( دوسرا )سوال کرتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ پھر وہ (رسول پاک ﷺکے چہرہ اقدس کی طرف اشارہ کر کے پوچھتے ہیں،یہ شخصیت جوتمہارےاندر مبعوث کئے گئے تھے تو ان کے بارے میں کیا جانتا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے ۔ یہ اللہ کے رسول ہیں ۔ وہ پوچھتے ہیں : تجھے کیسے پتہ چلا؟ وہ جواب دیتا ہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا، اس کی تصدیق کی (حضور ﷺفرماتے ہیں : اس کے یہ جواب دینے کے بعد) ایک منادی آسمان سے پکار کر بولتا ہے۔ اس نےسچ کہا۔ اس کے لئے جنتی بستر بچھا دو، اس کو جنتی لباس پہنا دو اور اس کو اس کا جنت کا ٹھکانہ دکھا دو حضورﷺفرماتے ہیں )پھر اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے تا کہ اس میں جنت کی خوشبودار ہواؤں کے جھو نکے آتے رہیں حضور ﷺفرماتے ہیں) اس بندہ مومن کے ساتھ یہی معاملہ کر دیا جا تا ہے۔ پھر خوشبودارعمد ہ لباس میں ایک خوبصورت شخص اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: تیرے لئے خوشخبری ہے جس سے تو خوش ہو جائے کہ وہ ہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا۔ بندہ کہتا ہے :شکل وصورت سے تو تو بہت بھلا معلوم ہوتا ہے تو ہے کون؟ (حضورﷺفرماتے ہیں) وہ کہے گا: میں تیرا نیک عمل ہوں ۔ پھر بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے، یا اللہ جلدی قیامت قائم کر دے تا کہ میں اپنے اہل و عیال سے مل سکوں پھر نبی اکرمﷺنے یہ آیت پڑھی :يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ( ابراہیم ۲۷ ) اور کافر شخص کا جب آخری وقت آتا ہے تو ملک الموت آ کر اس کے سرہانے کھڑا ہو جاتے ہیں اور سیاہ صورتوں میں بے شمار فرشتے نازل ہو کر اس کے پاس حد نگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر موت کا فرشتہ کہتا ہے:اے خبیث روح! اللہ تعالی ٰکے غضب اور ناراضگی کی طرف چل (یہ سن کر ) روح (چھپنے کی کوشش میں ) پورے جسم میں پھیل جاتی ہے پھر موت کا فرشتہ اسے کھینچ کر نکالتا ہے )توایں کی نسیں اور پٹھے ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں اور ان کی حالت ایسی ہو جاتی ہے) جیسے دھنی ہوئی روئی میں سے کانٹے دار چھری نکالیں ( تو روئی کے گالے اس میں پیوست ہوئے ہوتے ہیں ) ملائکہ یہ روح نکال کر فورا آسمانوں کی طرف لے جاتے ہیں پھر ملائکہ کے جس گردہ کے قریب سے گزرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں : یہ خبیث روح کس کی ہے؟ تو وہ بہت قبیح القابات بولتےہوئے جواب دیتے ہیں : فلاں کی ہے۔ پھر جب یہ آسمانوں تک پہنچتے ہیں تو آسمانوں کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور یہ حکم ملتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال ’’ سجین‘‘ میں لکھ دو ۔ حضورﷺفرماتے ہیں: پھر کہا جائے گا: میرے بندے کو زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ میں نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے، اسی میں لوٹاؤں گا اور پھر دوبارہ اسی میں سے اٹھاوں گا۔ حضور ﷺفرماتے ہیں: اس کی روح کو وہیں سے نیچے پھینک دیا جا تا ہے اور وہ اپنے جسم میں آ کر گرتی ہے (حضرت براء بن عازب ؓکہتے ہیں) پھر حضورﷺنے یہ آیت پڑھی: وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ(الحج: ۳۱) (نبی اکرم ﷺنے فرمایا) پھر اس کے پاس فرشتے آتے ہیں اور سوال کرتے ہیں : تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے۔ مجھےنہیں معلوم تو آسمان سے ندا آتی ہے کہ اس نے جھوٹ بولا، اس کے لئے جہنم کا بستر لگادو، اس کو جہنمی لباس پہنا دو اور اس کو اس کا جہنم میں ٹھکانہ دکھا دو(حضور ﷺفرماتے ہیں)اس کی قبراتنی تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اس کی قبر میں جہنم کی گرمی، بدبودار ہوائیں آتی رہتی ہیں ( ملائکہ اس نداء پر عمل کرتے ہیں) پھر بد بودار، گندے لباس میں ملبوس، انتہائی بدصورت ایک شخص اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے: تیرے لئے وہ خبر ہے جو تجھے پریشان کر دے گی ۔ یہ وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ کہتا ہے: تو کون ہے؟ (ویسے تیرے چہرے سے تو کوئی بھلائی کی امید نظر نہیں آتی ) وہ کہتا ہے : میں تیرا "براعمل‘‘ ہوں ۔ وہ کہتا ہے یا اللہ کہیں قیامت قائم نہ ہو جائے۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ إسماعيل بن قتيبة ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 107

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 108

108 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فَضْلٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادٍ نَحْوِهِ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ فِي عَقِبِ خَبَرِهِ ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوًا مِنَ هَذَا الْحَدِيثِ يُرِيدُ حَدِيثَ الْبَرَاءِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " ارْقُدْ رَقْدَةَ الْمُتَّقِينَ، لِلْمُؤْمِنِ الْأَوَّلِ، وَيُقَالُ لِلْفَاجِرِ: ارْقُدْ مَنْهُوشًا، فَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا وَلَهَا فِي جَسَدِهِ نَصِيبٌ. وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، وَشُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، وَزَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ وَهُمُ الْأَئِمَّةُ الْحُفَّاظُ، عَنِ الْأَعْمَشِ. أَمَا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ "

اس مذکورہ بالا سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے تاہم اس میں کچھ الفاظ مختلف ہیں ۔ اسی حدیث کو سفیان بن سعید، شعبہ بن حجاج اور زائدہ بن قدامہ نے بھی اعمش کے حوالے سے نقل کیا ہے اور یہ تمام لوگ ائمہ اور حفاظ الحدیث ہیں۔ اس سلسلہ میں ثوری کی روایت درج ذیل ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوًا مِنَ هَذَا الْحَدِيثِ يُرِيدُ حَدِيثَ الْبَرَاءِ إِلَّا ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبِي ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ فِي عَقِبِ خَبَرِهِ ← فِي آخِرِهِ ← الْأَعْمَشُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادٍ نَحْوِهِ. ← مُحَمَّدُ بْنُ فَضْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 108

chevron_left Previous
1…8910…24
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section