المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 97
97 - فَأَخْبَرَنَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهًى؟، فَقَالَ: «نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ، ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَيْسَ لَهُ عِلَّةٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِتَفَرُّدِ عُرْوَةَ بِالرِّوَايَةِ، عَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ وَكُرْزُ بْنُ عَلْقَمَةَ صَحَابِيٌّ مُخَرَّجٌ حَدِيثُهُ فِي مَسَانِيدِ الْأَئِمَّةِ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عُمَرَ الْحَافِظَ، يَقُولُ: مِمَّا يَلْزَمُ مُسْلِمٌ وَالْبُخَارِيُّ إِخْرَاجَهُ حَدِيثُ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ «هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهًى» فَقَدْ رَوَاهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ عَنْهُ ". قَالَ الْحَاكِمُ: «وَالدَّلِيلُ الْوَاضِحُ عَلَى مَا ذَكَرَهُ أَبُو الْحَسَنِ أَنَّهُمَا جَمِيعًا قَدِ اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ وَلَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ»
حضرت کرز بن علقمہ ؓ بیان کرتے ہیں ،ایک دیہاتی نے عرض کیا: یا رسول الله ! کیا اسلام کبھی ختم بھی ہو جائے گا؟ آپ ﷺ نے جواباً ارشادفرمایا: کوئی بھی گھر انہ خواہ عربی ہو یا عجمی۔ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے گا ان میں اسلام داخل کر دے گا پھر(ایک وقت ایسا آئے گا کہ )بادلوں کی طرح فتنے پھیل جائیں گے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے اس کو نقل نہیں کیا، اس میں کوئی نقص بھی نہیں ہے اورشیخین ؒنے اس کو اس لئے ترک کر دیا کہ اس کی سند میں عروہ، کرز بن علقمہ سے روایت کرنے میں تنہا ہیں اور کرز بن علقمہ صحابی ہیں اور آئمہ حدیث نے اپنی مسانید میں ان کی روایات نقل کی ہیں ۔ ( امام حاکم ؒ کہتے ہیں) میں نے علی بن عمرالحافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے۔ امام بخاری ؒ کو کرز بن علقمہ کی ”هَلْ لِلْإِسْلَامِ مُنْتَهًى“ والی حدیث نقل کرنی چاہئے تھی کیونکہ اس کو عروة بن زبیر، ز ہری اور عبدالواحد بن قیس نے بھی کرز بن علقمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔(امام حاکم ؒ کہتے ہیں) ابوحسن نے جو کچھ کہا ہے اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ دونوں نے عتبان بن مالک انصاری ؓ جن کے گھر میں رسول اللد ﷺنے نماز پڑھی تھی کی حدیث نقل کی ہے حالانکہ عتبان بن مالک ؓکا راوی محمود بن ربیع کے علاوہ اور کوئی نہیں
أَعْرَابِيٌّ: ← كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عبدان أنبأ عبد الله ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← فَأَخْبَرَنَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 97
