Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 85

85 - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ خَالِقُ كُلِّ صَانِعٍ وَصَنْعَتِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 85 - على شرط مسلم

حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فر مایا: ہر صانع اور اس کی صنعت کا خالق صرف اللہ تعالیٰ بھی عطا کر دی ہوگی۔ امام اوزاعی نے کہا: یہی حدیث مجھے ربیعہ بن یزید نے "مقسلاط " اور "جاصعیر " کے درمیان ایک مقام پر سنائی تھی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ نے اس کو نقل نہیں کیا حالانکہ اس میں کوئی نقص نہیں ہے اور یہ حدیث آئمہ حدیث میں مشہور ومعروف ہے اس کے تمام راویوں کی روایات امام بخاری ؒ اور مسلم ؒ نے نقل کی ہیں ۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو النضر محمد بن يوسف الفقيه

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 85

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 86

86 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ خَالِقُ كُلِّ صَانِعٍ وَصَنْعَتِهِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت حذیفہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: ہر صانع اور اس کی صنعت کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔: یہ حدیث امام مسلمؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 86

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 87

87 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رُقًى كُنَّا نَسْتَرْقِي بِهَا، وَأَدْوِيَةٌ كُنَّا نَتَدَاوَى بِهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَعَالَى؟ قَالَ: «هُوَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ» . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَالَ مُسْلِمٌ فِي تَصْنِيفِهِ فِيمَا أَخْطَأَ مَعْمَرٌ بِالْبَصْرَةِ أَنَّ مَعْمَرًا حَدَّثَ بِهِ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ مَرَّةً: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ ". قَالَ الْحَاكِمُ: وَعِنْدِي أَنَّ هَذَا لَا يُعَلِّلُهُ، فَقَدْ تَابَعَ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ مَعْمَرَ بْنَ رَاشِدٍ فِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ وَصَالِحٍ، وَإِنْ كَانَ فِي الطَّبَقَةِ الثَّالِثَةِ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ، فَقَدْ يُسْتَشْهَدُ بِمِثْلِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 87 - على شرطهما

حضرت حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺکیا ہماری دواؤں اور تعویذات اوردم وغیرہ سے تقدیر بدل جاتی ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا:یہ (دعائیں اور دم وغیرہ بھی) تقدیر میں لکھے ہوتے ہیں۔ : یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ امام مسلمؒ نے اپنی تصنیف میں معمر کی ایک خطا کی نشاندہی کی ہے۔ فرماتے ہیں: معمر نے یہ حدیث دو مرتبہ روایت کی ہے، ایک مرتبہ روایت کی تو اس کی سند زہری، پھر ابن ابی حز امہ پھر ان کے والد تک پہنچائی (امام حاکمؒ کہتے ہیں) میرے نزدیک سند میں اس طرح کی تبدیلی سے حدیث کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ حدیث جس طرح معمر بن راشد نے زہری کے واسطے سےسے عرو ہ سے روایت ہے اسی طرح صالح بن ابوالاخضر نے بھی زہری کے واسطے سے عروہ سے روایت کی ہے اور صالح اگر چہ زہری کے اصحاب میں تیسرے درجے کے راوی ہیں لیکن ان جیسے راویوں کی روایت کو بطور شاہد پیش کیا جاسکتا ہے (شاہد حدیث درج ذیل ہے)

قُلْتُ ← حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 87

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 88

88 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، بِبَغْدَادَ، وَأَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، قَالَا: ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رُقًى كُنَّا نَسْتَرْقِي بِهَا وَأَدْوِيَةٌ كُنَّا نَتَدَاوَى بِهَا هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ، قَالَ: «هُوَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ»

حضرت حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ! ہم جودوا لیتے ہیں یا دم وغیرہ کرواتے ہیں کیایہ تقد یرکو بدل دیتے ہیں؟ آپ ﷺنے فرمایا:یہ بھی تو تقدیر ہی سے ہے۔

قُلْتُ ← حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ، ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 88

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 89

89 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّاهُ، حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ سَمِعْتِيهِ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الطَّيْرُ تَجْرِي بِقَدْرٍ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْفَأْلُ الْحَسَنُ» قَدِ احْتَجَّ الشَّيْخَانِ بِرُوَاةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ آخِرِهِمْ، غَيْرَ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا لَمْ يُهْمِلَاهُ بِجَرْحٍ وَلَا بِضَعْفٍ بَلْ لِقِلَّةِ حَدِيثِهِ فَإِنَّهُ عَزِيزُ الْحَدِيثِ جِدًّا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 89 - لم يخرجا ليوسف وهو عزير الحديث

حضرت عائشہ ؓبیان فرماتی ہیں کہ رسول الله ﷺنے ارشاد فرمایا: بدشگونی تقدیر کو بدل نہیں سکتی(البتہ آپ) نیک شگونی کو پسند کرتے تھے۔: امام بخاریؒ اور امام مسلم ؒدونوں نے اس حدیث کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں سوائے ابو یوسف بن ابو بردہ کے ۔ اور جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں وہ یہ ہے کہ شیخینؒ نے ابو یوسف کو کسی ضعف یا جرح کی وجہ سے ترک نہیں کیا بلکہ ان کی روایات قلیل ہونے کی وجہ سے ان کو چھوڑا ہے کیونکہ ان کی اکثر احادیث ’’عزیز" ہیں۔

أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّاهُ، حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ سَمِعْتِيهِ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يوسف بن أبي بردة بن أبي موسى ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← حسان بن إبراهيم الكرماني ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إسحاق بن الحسين بن ميمون ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 89

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 90

90 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَنْظَلِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ حَتَّى يَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، وَيُؤْمَنُ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَيُؤْمَنُ بِالْقَدَرِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَقَدْ قَصَّرَ بِرِوَايَتِهِ بَعْضُ أَصْحَابِ الثَّوْرِيِّ، وَهَذَا عِنْدَنَا مِمَّا لَا يُعْبَأُ» .

حضرت علی بن ابوطالب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فر مایا :کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک ۴چیزوں پر ایمان نہ رکھے۔ (۱) اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک مانے (۲) میرے سچا نبی ہونے کی گواہی دے (۳) قیامت کے دن پر ایمان رکھے (۴) تقدیر پر ایمان رکھے۔: یہ حدیث امام بخاری ؒاور امام مسلم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ تاہم یہ روایت ثوری کے بعض اصحاب تک محدود ہے جبکہ ہمارے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

النَّبِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَنْظَلِيُّ بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 90

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 91

91 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. «أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ النَّهْدِيُّ، وَإِنْ كَانَ الْبُخَارِيُّ يَحْتَجُّ بِهِ فَإِنَّهُ كَثِيرُ الْوَهْمِ لَا يُحْكَمُ لَهُ عَلَى أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلِ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ وَأَقْرَانِهِمْ، بَلْ يَلْزَمُ الْخَطَأُ إِذَا خَالَفَهُمْ، وَالدَّلِيلُ عَلَى مَا ذَكَرْتُهُ مُتَابَعَةُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الثَّوْرِيَّ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَجَرِيرٌ مِنْ أَعْرِفِ النَّاسِ بِحَدِيثِ مَنْصُورٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 90 - على شرطهما

اس سند کے ہمراہ بھی سابقہ حدیث حضرت علیؓ کے حوالے سے منقول ہے۔ : (اس حدیث کی سند میں ایک راوی) ابوحذیفہ موسیٰ بن مسعودالنھد ی ہیں اگر چہ امام بخاری ؒکی روایت لیتے ہیں لیکن چونکہ یہ کثیرالوہم تھے اس لئے ان کو ابوعاصم النبیل محمد بن کثیر اور ان کے دیگر معاصرین پرتر جیح نہیں دی جاسکتی بلکہ اگر ان کی روایت ان کے معاصرین کے خلاف ہو تو ان کی روایت کو خطا سمجھا جائے گا اور جو کچھ میں نے ذکر کیا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ ثوری کی طرح جریر بن عبدالحمید نے بھی منصور پھر ربعی، پھرعلی کے حوالے سے حدیث نقل کی ہے اور منصور کی احادیث روایت کرنے میں جریر سے زیادہ مشہور ہے۔ (جریر کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے)

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 91

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 92

92 - حَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، وَحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ: يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، وَأَنَّهُ مَبْعُوثٌ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَيُؤْمَنُ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ "

حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک چار چیزوں پر ایمان نہ لائے۔(۱) الله تعالی ٰکی وحدانیت کی گواہی دے۔ (۲) میرے سچا رسول ہونے کی گواہی دے۔ (۳) یوم محشر پرایمان لائے۔ (۳) تقدیر پرمکمل ایمان لائے۔

النَّبِيِّ ← عَلِيٍّ، ← رِبْعِيٍّ ← مَنْصُورٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 92

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 93

93 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَشَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا جَرِيرٌ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَا: ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ أَمْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مُؤَامِرًا - أَوْ قَالَ مُقَارِبًا - مَا لَمْ يَتَكَلَّمُوا فِي الْوِلْدَانِ وَالْقَدَرِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَا نَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 93 - على شرطهما ولا علة له

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: اس امت کا معاملہ اس وقت تک درست رہے گا جب تک یہ بچوں اور تقدیر کے متعلق بحث مباحثہ نہ کریں گے۔: یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ حالانکہ اس میں کوئی نقص نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← جَرِيرٌ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَشَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أبو داود سليمان بن الأشعث، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 93

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 94

94 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، بِبَغْدَادَ ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَصَالِحُ بْنُ مُقَاتِلٍ، وَحدثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، وَحدثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، قَالُوا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللَّهَ يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ، وَلَا يُعْطِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ، وَهُوَ شَرْطٌ مِنْ شَرْطِنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ أَنَّا نُخَرِّجُ أفْرَادَ الثِّقَاتِ إِذَا لَمْ نَجِدْ لَهَا عِلَّةً، وَقَدْ وَجَدْنَا لِعِيسَى بْنِ يُونُسَ فِيهِ مُتَابِعَيْنِ أَحَدُهُمَا مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ وَهُوَ سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ أَخُو قَبِيصَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 94 - صحيح الإسناد

حضرت عبد الله ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے رزق بانٹ دیئے ہیں، اسی طرح اخلاق بھی تقسیم کر دیئے ہیں اور الله تعالیٰ دنیا کا مال اس کو بھی دیتا ہے جو مال کا طالب ہوتا ہے اور اس کو بھی دیتا ہے جو طالب نہیں ہوتا جبکہ ایمان صرف اس کو عطا کرتا ہے جس میں ایمان کی طلب ہوتی ہے۔: اس حدیث کی سندصحیح ہے اور اس میں احمد بن جناب المصیصی "متفر د"ہیں اور یہ ہمارے معیار میں شامل ہے جیسا کہ ہم نے کتاب کے آغاز میں کہہ دیا تھا کہ ہم ثقہ راویوں کی روایات نقل کریں گے جب تک ان میں کوئی نقص نہ ہوجبکہ اس سند کے راوی عیسیٰ بن یونس کے۲ متابع بھی ہمیں مل گئے ۔ ان میں سے ایک تو اسی کتاب کے معیار پر ہیں اور وہ ہیں قبیصہ کے بھائی سفیان بن عقبہ۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)

عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← زُبَيْدٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ← أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← موسى بن هارون وصالح بن مقاتل ← دعلج بن أحمد السجزي ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 94

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 95

95 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مِهْرَانُ بْنُ هَارُونَ الرَّازِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ - وَهُوَ فَضْلَكُ الرَّازِيُّ - ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّوَيْهِ الرَّازِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ أَخُو قَبِيصَةَ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللَّهَ يُعْطِي الْمَالَ مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ، وَلَا يُعْطِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ، وَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا أَعْطَاهُ الْإِيمَانَ» . «وَأَمَّا الْمُتَابِعُ الَّذِي لَيْسَ مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ فَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ، وَالْحَدِيثُ مَعْرُوفٌ بِهِ، فَقَدْ صَحَّ بِمُتَابِعَيْنِ لِعِيسَى بْنِ يُونُسَ ثُمَّ بِمُتَابِعٍ للثَّوْرِيِّ، عَنْ زُبَيْدٍ وَهُوَ حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 95 - ورواه عبد العزيز بن أبان وليس من شرط كتابنا عن الثوري

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا: الله تعالیٰ نے جس طرح تمہارے رزق تقسیم کر دیئے ہیں، اسی طرح تمہارےاخلاق بھی تقسیم کر دیئے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دنیا کا مال مانگویا نہ مانگو، الله تعالیٰ ہر ایک کو اس کی قسمت دے دیتا ہے لیکن ایمان صرف اسی کو دیتا ہے جو اس کا طلب گار ہوتا ہے اور جب اللہ تعالی ٰکسی بندے سے محبت کرتا ہے، اسے ایمان کی دولت سے سرفراز فرما دیتا ہے۔ اور وہ’متابع‘‘ جو اس کتاب کے معیار کا نہیں ہے وہ عبدالعزيز بن ابان ہے جبکہ یہ حدیث اسی کے حوالے سے معروف ہے۔ چنانچہ یہ حدیث عیسیٰ بن یونس کے ۲ متابع اور ز بید سے روایت کرنے میں ثوری کے متابع "حمزه زیات" کی وجہ سے صحیح قرار پاتی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّۃُ ← زُبَيْدٍ، ← حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ← سفيان بن عقبة أخو قبيصة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّوَيْهِ الرَّازِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ وَهُوَ فَضْلَكُ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مِهْرَانُ بْنُ هَارُونَ الرَّازِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 95

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 96

96 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، وَحدثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، وَاللَّفْظُ لِلْحُمَيْدِيِّ، ثنا الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِلْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهًى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، أَيُّمَا أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ أَرَادَ اللَّهُ بِهِمْ خَيْرًا أَدْخَلَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ، ثُمَّ تَقَعُ الْفِتَنُ كَأَنَّهَا الظُّلَلُ» . تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 96 - لم يخرجاه لتفرد عروة عن كرز وهو صحابي

حضرت کرز بن علقمہ ؓ بیان کرتے ہیں، ایک شخص نے عرض کیا:یا رسول اللہ! کیا اسلام کی کوئی انتہاء ہے؟ تو ۔ آپ ﷺنے فرمایا: کسی بھی عربی یا عجمی خاندان سے جب اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ کرے گا، ان میں ایمان ڈال دے گا پھر(ایک وقت آئے گا کہ )فتے بادلوں کی طرح چھا جائیں گے (وہ وقت اسلام کی انتہاء کا ہوگا) زہری سے روایت کرنے میں محمد بن راشد اور یونس بن یزید، سفیان کے متابع ہیں اور معمر کی حد یث درج ذیل ہے۔

سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ فَقَالَ ← كُرْزَ بْنَ عَلْقَمَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سفيان واللفظ للحميدي ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ ← الْحُمَيْدِيُّ، وَحدثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 96

chevron_left Previous
1…789…24
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section