Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 73

73 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ: " ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا. قَالَ لِلسَّمَاءِ: أَخْرِجِي شَمْسَكِ وَقَمَرَكِ وَنُجُومَكِ، وَقَالَ لِلْأَرْضِ: شَقِّقِي أَنْهَارَكِ وَأَخْرِجِي ثِمَارَكِ، فَقَالَتَا: أَتَيْنَا طَائِعِينَ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَتَفْسِيرُ الصَّحَابِيِّ عِنْدَهُمَا مُسْنَدٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 73 - على شرطهما

حضرت ابن عباسؓ فقال لھاللارض ائتیاطوعااو کرھا ( کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ):اللہ تعالیٰ آسمان سے فرمائے گا:اپنے سورج، چاند اور ستارے نکال دے اور زمین سے کہے گا: اپنے دریاوں کو توڑ دے اور اپنے پھلوں کونکال دے تو زمین وآسمان عرض کریں گے : ہم نے اطاعت کرتے ہوئے یہ کام کر دیئے۔: یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ جبکہ شیخین ؒکے نزدیک صحابی کی تفسیر مستند ہے۔

لِلسَّمَاءِ: أَخْرِجِي شَمْسَكِ وَقَمَرَكِ وَنُجُومَكِ، ← لَهَا وَلِلْأَرْضِ: ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 73

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 74

74 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّرَابَرْدِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} [الأعراف: 172] ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 74 - فيه إرسال

حضرت مسلم بن یسارجہنیؒ بیان کرتے ہیں ، عمر بن خطاب ؒسے اس آیت: واذا خذ ربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم سے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:رسول اللہ ﷺسے بھی یہی سوال کیا گیا تو آپ ﷺنے جواباً فرمایا: الله تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، پھر اپنا دست قدرت ان کی پشت مبارک پر پھیرا تو ان کی کچھ اولا د باہر نکل آئی، اللہ تعالی ٰنے فرمایا: ان لوگوں کو میں نے جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ جنتیوں والے کام کریں گے پھر آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر دوبارہ ہاتھ پھیرا تو باقی اولاد بھی نکل آئی، اللہ تعالیٰ نے ان سے متعلق فرمایا: ان کو میں نے جہنم کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ جہنمیوں والے ہی کام کریں گے۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← هَذِهِ الْآيَةِ: ← مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ،أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، سُئِلَ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← القعنبي فيما قرئ على مالك ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّرَابَرْدِيُّ، ← مالک بن أنس ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 74

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 75

75 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، بِمِصْرَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ ذُرِّيَّةً ذَرَاهَا فَنَثَرَهُمْ نَثْرًا بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ، فَقَالَ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى، شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ، أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ، وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ، أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِكُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 75 - احتج مسلم بكلثوم

حضرت ابن عباس ؓ(مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے) نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: الله تعالیٰ نے (لوگوں سے اپنی ربوبیت کا جو اقرار کروایا تھا وہ اس طرح تھا کہ )آدم علیہ السلام کی پشت مبارک سے تمام اولاد کو چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی مانند نکال کر یوں بکھیر دیا جیسے کھیت میں بیج بکھیر ا جا تا ہے، پھر اللہ تعالی ٰنے ان تمام سے فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے عرض کی: کیوں نہیں ۔ ہم گواہ ہوئے کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر بھی نہ تھی یا کہوکہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد بچے ہوئے تو کیا تو ہمیں اس پر ملال فرمائے گا جو اہل باطل نے کیا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ نے اس کو نقل نہیں کیا، حالانکہ امام مسلمؒ نے کلثوم بن جبر کی روایات نقل کی ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ← إبراهيم بن مرزوق البصري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 75

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 76

76 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَوْمَ كَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى كَانَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ، وَسَرَاوِيلُ صُوفٍ، وَكُمَّةُ صُوفٍ، وَكِسَاءُ صُوفٍ، وَنَعْلَانِ مِنْ جَلْدِ حِمَارٍ غَيْرِ ذَكِيٍّ» . " قَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِحَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَحُمَيْدٌ هَذَا لَيْسَ بِابْنِ قَيْسٍ الْأَعْرَجِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي التَّارِيخِ: حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَعْرَجُ الْكُوفِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ النَّجْرَانِيُّ مُحْتَجٌّ بِهِ، وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ وَحْدَهُ بِخَلَفِ بْنِ خَلِيفَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ كَبِيرٌ فِي التَّصَوُّفِ وَالتَّكَلُّمِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 76 - حميد هذا ليس بابن قيس

حضرت (عبداللہ) ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: جس دن اللہ تعالیٰ نے موسی ٰعلیہ السلام کو ہمکلامی کا شرف بخشا، اس دن موسیٰ علیہ السلام نے اونی لباس پہنا ہوا تھا، جبہ اور چادر بھی اون ہی کی تھی اور چمڑے کے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ : امام بخاری ؒ اور مسلم ؒ دونوں نے (اس حدیث کے ایک راوی) سعید بن منصور کی روایات نقل کی ہیں اور (اس سند میں مذکور ) "حمید اعرج" قیس اعرج کے بیٹے نہیں ہیں ۔ امام بخاریؒ نے التاریخ میں لکھا ہے کہ حمید بن علی الاعرج کونی منکر حد یث تھا اور عبداللہ بن حارث کی روایات شیخینؒ نے نقل کی ہیں اور امام مسلم ؒنے خلف بن خلیفہ کی روایات نقل کی ہیں ۔ تصوف کے حوالے سے یہ حدیث بہت عظیم الشان ہے لیکن شیخین ؒنے اسے نقل نہیں کیا۔ اسماعیل بن عیاش کی ایک روایت اس حدیث کی شاہد ہے (وہ روایت درج ذیل ہے)

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 76

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 77

77 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ التَّمَّارُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِلِبَاسِ الصُّوفِ تَجِدُونَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ فِي قُلُوبِكُمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 77 - ساقه من طريق ضعيف

حضرت ابو امامہ باہلی ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: اونی لباس پہنا کرو، اس سے تم اپنے دلوں میں ایمان کی چاشنی پاو گے۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← خَالِدٌ، ← ثَوْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ التَّمَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← علي بن حمشاذ وأبو بكر بن بالويه

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 77

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 78

78 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شَيْبَانُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَقَدْ قَارَبَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ السَّيْرُ فَرَفَعَ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ صَوْتَهُ {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ} [الحج: 2] . فَلَمَّا سَمِعَ أَصْحَابُهُ ذَلِكَ، حَثُّوا الْمَطِيَّ وَعَرَفُوا أَنَّهُ عِنْدَ قَوْلٍ يَقُولُهُ، فَلَمَّا تَأَشَّبُوا عِنْدَهُ حَوْلَهُ، قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَاكُمْ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذَاكَ يَوْمُ يُنَادِي آدَمُ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ فَيَقُولُ: يَا آدَمُ، ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، فَيَقُولُ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ فَيَقُولُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ " قَالَ: فَأُبْلِسُوا حَتَّى مَا أَوْضَحُوا بِضَاحِكَةٍ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ، قَالَ: «اعْلَمُوا وَأَبْشِرُوا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ مَعَ خَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَمَنْ هَلَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ وَبَنِي إِبْلِيسَ» قَالَ: فَسَرَّى ذَلِكَ عَنِ الْقَوْمِ، قَالَ: «اعْلَمُوا وَأَبْشِرُوا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ أَوْ كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ» . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِطُولِهِ، وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا قَدْ تَحَرَّجَا مِنْ ذَلِكَ خَشْيَةَ الْإِرْسَالِ، وَقَدْ سَمِعَ الْحَسَنُ مِنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَهَذِهِ الزِّيَادَاتُ الَّتِي فِي هَذَا الْمَتْنِ أَكْثَرُهَا عِنْدَ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا جَمِيعًا وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَا وَاحِدٌ مِنْهُمَا " [ص:82]. [التعليق - من تلخيص الذهبي] 78 - صحيح الإسناد سمع الحسن من عمران

حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں ،ایک مرتبہ رسول اکرم ﷺنے دوران سفر اپنے قافلے کے ساتھیوں کوقریب کیا اور بلند آواز سے یہ آیتیں تلاوت کیں ۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ (سورة ارج:۲،۱)"اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور حمل والی اپنےحمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشہ میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہو گا" جب صحابہ کرام ؓنے یہ آیات سنی تو اپنی سواریاں بھگا کر فورا رسول پاک ﷺکے اردگرد جمع ہو گئے کیونکہ وہ سمجھے کہ شاید یہ سب کچھ بھی رسول پاک کے گفتگو ختم کرتے ہی ہو جائے گا۔ جب تمام صحابہ کرام ؓرسول پاک ﷺکے اردگرد اکٹھے ہو گئے تو آپﷺنے فرمایا: جانتے ہو دہ دن کون سا دن ہوگا؟ صحابہ کرام میں نے عرض کی : الله عز وجل اور اس کا رسولﷺہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: یہ وہ دن ہوگا جس دن آدم علیہ السلام الله تعالیٰ کو پکاریں گے، اللہ تعالی ٰآدم سے فرمائے گا تم جہنمی لوگوں کو جہنم میں بھیج دو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے ، الہٰی جہنمی لوگ کتنے ہیں؟ الله تعالیٰ فرمائے گا: ہزار میں سے ۹۹۹ جہنم میں اور ایک جنت میں (عمران بن حصین ؓکہتے ہیں) یہ سن کر صحابہ کرام ؓاس قدر غمزدہ ہونے کہ ان کے چہروں پر ہلکی سی بھی مسکراہٹ نہ رہی ۔ جب رسول اکرم ﷺنے صحابہ کرامؓ کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: جان لو! تمہیں خوشخبری ہو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہارے اندر دو ایسی مخلوقیں ہیں کہ کسی بھی زیادہ سے زیادہ کثرت والی چیز سے ان کا تقابل کروتو ہر ایک کے مقابلہ میں وہی زیادہ ہوں گے حتیٰ کہ جتنے انسان اور شیاطین مر چکے ہیں ان سے بھی زیادہ۔ و ہ مخلوقیں یاجوج اور ماجوج ہیں ( عمران کہتے ہیں ) یہ بات سن کر صحابہ کرام ؓسے وغم اور حزن دور ہو گیا، آپ ﷺنے مزید فرمایا: جان لو! تمہارے لئے خوشخبری ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ،پوری انسانیت میں تمہاری حیثیت اتنی ہی ہے جتنی کسی چوپائے کے پاؤں کے نیچے زمین آتی ہے یا یوں سمجھو کہ جس طرح اونٹ کے پہلو میں چھوٹا ساتل ہو ( سارا اونٹ انسان کی مانند اور تم اس کے پہلو میں تل کی مانند ہو )یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخینؒ نے اسے اس قدر تفصیل سے روایت نہیں کیا اور میرا خیال ہے کہ شیخین ؒنے اسے ارسال کے خوف کی وجہ سے نقل نہیں کیا حالانکہ حسن نے عمران بن حصن ؓسے حدیث کا سماع کیا ہے(اور ذیل میں ہم ایک حدیث پیش کررہے ہیں) اس کے متن میں جواضافے ہیں وہ مذکورہ حدیث سے بھی زیادہ ہیں اور اس کی سندمعمر سے پھر قتاده سے ہوتی ہوئی حضرت انسؓ تک پہنچتی ہے اور یہ حدیث امام بخاری ؒاور مسلم ؒ دونوں کے معیار مطابق "صحیح"ہے لیکن دونوں میں سے کسی ایک نے کسی بھی حدیث کونقل نہیں کیا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← شَيْبَانُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ -بِهَمْدَانَ-،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 78

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 79

79 - أَخْبَرْنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ} [الحج: 1] إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى {وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ} [الحج: 2] عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. وَقَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بَعْضِ هَذَا الْمَتْنِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 79 - وقد أخرجا حديث الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى :وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ تک حالت سفر میں نبی اکرمﷺپر نازل ہوئی(اس کے بعدتفصیلی حدیث ذکر کی ہے ) امام بخاری ؒومسلم ؒدونوں نے اعمش کی روایت ابوصا لح پھر ابوسعید کے حوالے سے نقل کی ہے اور اس میں اس متن کا کچھ حصہ نقل کیا ہے (حدیث درج ذیل ہے)

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 79

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 80

80 - كَمَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ، بِبَغْدَادَ، وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ: يَا آدَمُ، فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، قَالَ: يَقُولُ: أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ «.» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مُخْتَصَرًا دُونَ ذِكْرِ النُّزُولِ وَغَيْرِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ وَكِيعٍ "

حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺنے ارشادفرمایا: الله تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم ! آدم علیہ السلام عرض کریں گے: اے میرے مولی ! میں حاضر ہوں ( کیا حکم ہے؟ ) اللہ تعالیٰ فرمائے گا:جہنمی گروہ کو الگ کرلو۔ اس کے بعد ابوسعید خدری ؓنے نزول وغیرہ کا ذکر کئے بغیر اختصار کے ساتھ حدیث مکمل کی ۔ جبکہ امام بخاری ؒ نے عمر بن حفص پھران کے والد پھراعمش کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے اور امام مسلم ؒنے ابوبکر کی روایت وکیع کے حوالے سے نقل کی ہے۔

وَكِيعٌ، ← أَبِي بَكْرٍ، ← الْأَعْمَشِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ ← أَبِيهِ ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← النُّزُولِ وَغَيْرِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، ← الْحَدِيثَ مُخْتَصَرًا دُونَ ← أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ ← لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْکَ ← اللَّهُ: يَا آدَمُ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَبْسِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي ← كَمَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 80

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 81

81 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقُوا دَعَوَاتِ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا تَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ كَأَنَّهَا شَرَارٌ» . «قَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِعَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ وَالْبَاقُونَ مِنْ رُوَاةِ هَذَا الْحَدِيثِ مُتَّفَقٌ عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِهِمْ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 81 - احتج مسلم بعاصم

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ مظلوم کی بددعا آسمان کی طرف شعلوں کی طرح بلند ہوتی ہے۔ امام مسلم ؒ نے عاصم بن کلیب کی روایات نقل کی ہیں جبکہ ان کے علاوہ اس سند کے تمام راوی متفق علیہ ہیں اور امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ دونوں نے ان کی روایات کو نقل کیا ہے لیکن مذکورہ حدیث کو نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 81

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 82

82 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، مَا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَهُوَ تَحْتَ لِوَائِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَنْتَظِرُ الْفَرَجَ، وَإِنَّ مَعِي لِوَاءَ الْحَمْدِ، أَنَا أَمْشِي وَيَمْشِي النَّاسُ مَعِي حَتَّى آتِيَ بَابَ الْجَنَّةِ فَأَسْتَفْتِحُ فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ، فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِمُحَمَّدٍ، فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي خَرَرْتُ لَهُ سَاجِدًا أَنْظُرُ إِلَيْهِ «.» هَذَا حَدِيثٌ كَبِيرٌ فِي الصِّفَاتِ وَالرُّؤْيَةِ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 82 - على شرطهما ولم يخرجاه

حضرت عبادہ بن صامت ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: میں قیامت کے دن سب لوگوں کا سردار ہو گا لیکن مجھے اس پرفخر نہیں ہے اور قیامت کے دن ہر شخص میرے لواء الحمد کے نیچے کھڑا حساب کتاب شروع ہونے کا انتظار کر رہا ہوگا۔ لواء الحمد میر ے پاس ہوگا، میں چلوں گا اور سب لوگ میرے ساتھ چلیں گے، میں چلتے چلتے جنت کے دروازے تک جاؤں گا، میں دروازے پر دستک دوں گا، اندر سے پوچھا جائے گا: کون؟ میں کہوں گا :محمد ﷺ۔تو مجھے خوش آمدید کہا جائے گا۔ پھر جب میں اپنے رب کا دیدار کروں گا تو اس کا دیدار کرتے کرتے سجدے میں گر جاؤں گا۔ : یہ حدیث الله تعالیٰ کی صفات اور رویتہ باری تعالیٰ کے سلسلے میں بڑی عظیم الشان حدیث ہے۔ امام بخاری ؒاور امام مسلمؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اسے نقل کرنے سے گریز کیا ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← اسحاق بن يحيى ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 82

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 83

83 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَخْلَدٍ الْجَوْهَرِيُّ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، وَحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيُّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ فِي حَائِطٍ لَهُ بِالطَّائِفِ يُقَالُ لَهُ الْوَهْطُ، وَهُوَ مُحَاضِرٌ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ، وَذَلِكَ الْفَتَى يَزِنُّ بِشُرْبِ الْخَمْرِ، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: خِصَالٌ تَبْلُغُنِي عَنْكَ تُحَدِّثُ بِهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ تَوْبَتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَاخْتَلَجَ الْفَتَى يَدَهُ مِنْ يَدِ عَبْدِ اللَّهِ، ثُمَّ وَلَّى، فَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَأَنَّهُ مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ شَرْبَةً لَمْ تُقْبَلْ تَوْبَتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ لَمْ تُقْبَلْ تَوْبَتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا» فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ: «فَإِنْ عَادَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ رَدْغَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ يَوْمَئِذٍ شَيْءٌ فَقَدِ اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلِذَلِكَ أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عَلْمِ اللَّهِ» ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ سَأَلَ رَبَّهُ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهُ اثْنَيْنِ، وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَعْطَاهُ الثَّالِثَةَ، سَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ بَعْدَهُ فَأَعْطَاهُ، إِيَّاهُ، وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، نَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» . قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِيمَا بَيْنَ الْمِقْسِلَاطِ وَالْجَاصَعِيرِ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ قَدْ تَدَاوَلَهُ الْأَئِمَّةُ، وَقَدِ احْتَجَّا بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ، ثُمَّ لَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَا أَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً [التعليق - من تلخيص الذهبي] 83 - على شرطهما ولا علة له

حضرت عبد الله بن فیروز الدیلمیؓ نے بیان کرتے ہیں، حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص ؓ طائف کے علاقہ میں موجود اپنے" وھط ‘‘نامی باغ میں ایک قریشی نوجوان کے ساتھ بیٹھے محو گفتگو تھے کہ میں بھی وہاں پر جا پہنچا۔ اس نوجوان پر شراب خوری اور زناکاری کا الزام تھا ۔ میں نے عبداللہ بن عمر بن العاص سے کہا: مجھے چند خصلتوں کے بارے میں پتہ چلا ہے جن کے متعلق آپ، رسول اللهﷺکا یہ فرمان بیان کرتے ہیں: جس نے ایک گھونٹ شراب پی، چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہیں کی جاتی۔ اس پر اس نوجوان نے ایک جھٹکے سے اپناہاتھ عبد اللہ کے ہاتھ سے چھڑایا اور یہ کہتا ہوا اٹھ کر چلا گیا کہ: جو بد بخت ہوتا ہے وہ ماں کے پیٹ سے ہی بد بخت پیدا ہوتا ہے اور جو شخص بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نیت سے گھر سے نکلے وہ گھر سے نکلتے ہی گناہوں سے ایسا پاک صاف ہو جاتا ہے گویا کہ آج ہی ماں کے پیٹ سے باہر آیا ہے۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا: میں کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ میرے حوالے سے ایسی بات کہے جو میں نے نہیں کہی۔ میں نے رسول اکرم ﷺکو یہ فرماتے سنا ہے کہ :جو شخص ایک گھونٹ شراب پئے ، اس کی چالیس دن تک توبہ قبول نہیں ہوتی پھر اگر وہ توبہ کر لے تو الله تعالیٰ اسے معاف کردیتا ہے لیکن دوبارہ پیے تو پھر چالیس دن تک اس کی توبہ قبول نہیں کی جاتی (عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں: آپ یہ جملہ دھراتے رہے حتی کہ) تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ ﷺنے فرمایا: اگر پھر شراب نوشی کرے تو اس کو قیامت کے دن مہلک زہر پلایا جائے گا ( عبد اللہ مزیدفرماتے ہیں) میں نے رسول اللہﷺکو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ الله تعالیٰ نے مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا۔ پھر ان پر اپنا مخصوص نور ڈالا ،اس دن جس جس پرذرا سا بھی نور پڑ گیا وہ دنیا میں ہدایت پائے گا اور جو شخص اس دن نور سے محروم رہا وہ(دنیا میں) گمراہ ہوگا، اسی لئے میں کہتا ہوں کہ جو کچھ ہے، اللہ کے علم میں ہے اور اس کے علاوہ سے قلم خشک ہو چکا ہے۔ اور میں نے رسول اللدﷺکویہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ حضرت سلیمان بن دا و علیہما السلام نے الله تعالیٰ سے تین چیزیں مانگی تھیں ، الله تعالیٰ نے دو چیزیں انہیں دے دی ہیں (یہ بات تو پکی ہے) جبکہ ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں الله تعالی ٰنے تیسری بھی ان کو دے دی ہوگی ۔ (1) الله تعالیٰ سے اس کی خاص حکمت مانگی۔ اللہ تعالیٰ نے عطا کردی (۲) اور ایسی بادشاہی مانگی کہ ان کے بعد کسی کو ایسی بادشاہی نہ مل سکے ، اللہ تعالیٰ نے وہ بھی عطا کردی (۳) انہوں نے یہ دعا مانگی کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر سے اس مسجد میں نماز پڑھنے کی نیت سے نکلے تو اس کو ایسا پاک و صاف کردے جیسا کہ ماں کے پیٹ سے آج ہی نکلا ہو (حضورﷺفر ماتے ہیں)ہمیں امید ہے کہ الله تعالی ٰنے ان کو یہ فضیلت بھی عطا کر دی ہوگی.: امام اوزاعی نے کہا: یہی حدیث مجھے ربیعہ بن یزید نے "مقسلاط "اور"جاصعیر" کے درمیان ایک مقام پرسنائی تھی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒنے اس کونقل نہیں کیا حالانکہ اس میں کوئی نقص نہیں ہے اور یہ حدیث آئمہ حدیث میں مشہور ومعروف ہے اس کے تمام راویوں کی روایات امام بخاریؒ اور مسلم ؒنے نقل کی ہیں۔

عَبد الله بن فيروز الديلمي، ← رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، ← الْأَوْزَاعِيُّ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الْعَبَّاسِ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَخْلَدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 83

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 84

84 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَتَادَةَ السُّلَمِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ ثُمَّ خَلَقَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ وَلَا أُبَالِي، وَهَؤُلَاءِ لِلنَّارِ وَلَا أُبَالِي " قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَى مَاذَا نَعْمَلُ، قَالَ: عَلَى مُوَافَقَةِ الْقَدَرِ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ قَدِ اتَّفَقَا عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِرُوَاتِهِ، عَنْ آخِرِهِمْ إِلَى الصَّحَابَةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَتَادَةَ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِزُهَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، وَكَذَلِكَ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِحَدِيثِ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، وَلَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 84 - على شرطهما إلى الصحابي

حضرت عبد الرحمن بن ابوقتاده ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا پھر ان کی پشت میں سے اس کی تمام اولادکو نکالا پھر (بعض کے متعلق) فرمایا: یہ جنتی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے اور بعض کے متعلق فرمایا: یہ جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہﷺپھر ہمارے اعمال کی کیا حیثیت ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا :تمہارے اعمال بھی تمہاری تقدیر کے مطابق سرانجام پاتے ہیں۔ : یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری ؒ دونوں نے اس کے اول تا آخر صحابہ کرام ؓ تک تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں اور عبدالرحمن بن قتادہ جن کا تعلق بنوسلمہ سے ہے، صحابی ہیں اور شیخین ؒ نے زہیر بن عمرو کے حوالے سے بھی رسول الله مال کی کئی احادیث نقل کی ہیں ، حالانکہ ابوعثمان النھدی کے سوا کوئی دوسرا شخص ان سے روایت نہیں لیتا۔ یونہی امام بخاری ؒ نے ابوسعید بن المعلی کی روایات بھی نقل کی ہیں حالانکہ ان سے روایت لینے والوں میں بھی حفص بن عاصم کے سوا کسی اور کا نام نہیں ہے۔

فَقِيلَ ← هؤلاء للجنة ولا أبالي وهؤلاء للنار ولا أبالي ← خلق الله آدم ثم خلق الخلق من ظهره ثم ← رَسُولِ اللَّهِ ← عبد الرحمن بن قتادة السلمي وكان من أصحاب النبي ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الربيع بن سليم ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 84

chevron_left Previous
1…678…24
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section