Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 61

61 - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هَانِئٍ، أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ شَيْءٍ يُوجِبُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْكَلَامِ، وَبَذْلِ الطَّعَامِ» . «هَذَا حَدِيثٌ مُسْتَقِيمٌ وَلَيْسَ لَهُ عِلَّةٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَالْعِلَّةُ عِنْدَهُمَا فِيهِ أَنَّ هَانِئَ بْنَ يَزِيدَ لَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ ابْنِهِ شُرَيْحٍ، وَقَدْ قَدَّمْتُ الشَّرْطَ فِي أَوَّلِ هَذَا الْكِتَابِ أَنَّ الصَّحَابِيَّ الْمَعْرُوفَ إِذَا لَمْ نَجِدْ لَهُ رَاوِيًا غَيْرَ تَابِعِيٍّ وَاحِدٍ مَعْرُوفٍ احْتَجَجْنَا بِهِ، وَصَحَّحْنَا حَدِيثَهُ إِذْ هُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا جَمِيعًا، فَإِنَّ الْبُخَارِيَّ قَدِ احْتَجَّ بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ «وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ «وَلَيْسَ لَهُمَا رَاوٍ غَيْرُ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَكَذَلِكَ مُسْلِمٌ قَدِ احْتَجَّ بِأَحَادِيثِ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ وَأَحَادِيثِ مَجْزَأةَ بْنِ زَاهِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ فَلَزِمَهُمَا جَمِيعًا عَلَى شَرْطِهِمَا الِاحْتِجَاجُ بِحَدِيثِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَإِنَّ الْمِقْدَامَ وَأَبَاهُ شُرَيْحًا مِنْ أَكَابِرِ التَّابِعِينَ، وَقَدْ كَانَ هَانِئُ بْنُ يَزِيدَ وَفَدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 61 - صحيح وليس له علة

حضرت ہانیؓ بیان کرتے ہیں: جب وہ رسول پاک صلى الله عليه وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو دریافت کیا : یا رسول اللهﷺوہ کون سا عمل ہے جو جنت میں جانے کا باعث بنتا ہے؟ فرمایا: اچھی گفتگو اور کھانا کھلانا۔یہ حدیث "صحیح" ہے لیکن شیخینؒ نے اسے نقل نہیں کیا حالانکہ اس میں کوئی نقص بھی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ شیخین ؒکے نزدیک اس حدیث میں نقص ہو کہ اس کی سند میں ہانی بن یزید کا اس کے بیٹے"شریح" کے علاوہ دوسرا کوئی راوی نہیں ہے اور اس کتاب کے آغاز میں یہ بات گزر چکی ہے کہ جب کسی معروف صحابی سے ایک بھی معروف تا بعی روایت کرنے والا ہوگا ہم وہ حدیث نقل کریں گے اور اسے "صحیح "قرار دیں گے کیونکہ وہ حدیث امام بخاری ؒاور مسلمؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے کیونکہ امام بخاریؒ نے قیس بن ابوحازم کی وہ روایت جس میں مرداس اسلمی کے حوالے سے حضورﷺکا"یذ ھب الصالحون "(والا) فرمان ( موجود ہے )نقل کیا ہے، یونہی قیس کی وہ روایت جس میں عدی بن عمیرہ کے حوالے سے حضور ﷺکافرمان "من استعملنا على عمل "ہے ،نقل کیا ہے حالانکہ پہلی حدیث میں مرداس اسلمی اور دوسری میں عدی بن عمیرہ کا قیس بن ابوحازم کے علاوہ اور کوئی راوی نہیں ہے۔ یونہی امام مسلمؒ نے ابو مالک اشجعی کی روایات ان کے والد کے حوالے سے اور مجزاة بن زاہر اسلمی کی ان کے والد کے حوالے روایات نقل کی ہیں تو ان کو"شریح‘‘ کی اپنے والد سے روایت کرده احادیث بھی نقل کرنی چاہئے تھیں کیونکہ مقدام اور اس کے والد شریح اکابر تابعین میں سے ہیں ۔ اس کی دلیل ہانی بن یزید کا رسول پاک کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا درج ذیل واقعہ بھی ہے۔

هَانِئٍ، أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ، ← يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أَبِي ← إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم العدل،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 61

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 62

62 - كَمَا حَدَّثَنَاهُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيِّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي هَانِئِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي الْحَكَمِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ لِمَ تُكَنَّى بِأَبِي الْحَكَمِ؟» قَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا حَكَمْتُ بَيْنَهُمْ فَرَضِيَ الْفَرِيقَانِ، قَالَ: «هَلْ لَكَ وَلَدٌ؟» ، قَالَ: شُرَيْحٌ وَعَبْدُ اللَّهِ وَمُسْلِمٌ بَنُو هَانِئٍ، قَالَ: «فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ؟» قَالَ: شُرَيْحٌ، قَالَ: «فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ فَدَعَا لَهُ وَلِوَلَدِهِ» . «وَقَدْ ذَكَرْتُ فِي كِتَابِ الْمَعْرِفَةِ فِي ذِكْرِ الْمُخَضْرَمِينَ شُرَيْحَ بْنَ هَانِئٍ فَإِنَّهُ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالْإِسْلَامَ، وَلَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَارَ عِدَادُهُ فِي التَّابِعِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 62 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ہانی بن یزیدؓ بیان کرتے ہیں: وہ رسول اکرم ﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوئے، آپ کو پتہ چلا کہ میری کنیت "ابوالحکم "ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: "حكم“ تو اللہ تعالیٰ ہے تم نے اپنی کنیت "ابوحکم‘‘ کیوں رکھی ہوئی ہے؟ (شریح کہتے ہیں میرے والد نے) جواب دیا: ہمارے قبیلے میں جب لوگوں کا آپس میں کسی بات پر جھگڑا ہو جاتا ہے تو میں ان میں فیصلہ کرتا ہوں (اس لئے لوگ مجھے ابوالحکم کہتے ہیں) آپ ﷺنے فرمایا: تیری اولاد ہے؟ میں نے عرض کیا: میرے تین بیٹے شر یح ، عبداللہ اور مسلم ؒ ہیں ۔ آپﷺنے پوچھا: ان میں بڑا کون ہے؟ میں نے عرض کی ”شریح ‘‘ آپﷺ نے فرمایا: ( آج کے بعد تیری کنیت) ابوشریح ہے، اس کے بعد آپ نے میرے لئے اور میری اولاد کے لئے دعا فرمائی اور میں نے اپنی کتاب" المعرفۃ" کے اندر مخضر مین کے ذکر میں شریح بن ہانی کا بھی تذکرہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت بھی پایا ہے اور اسلام کا زمانہ بھی لیکن رسول پاک ﷺکی زیارت نہ کر سکے۔ اس لئے ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔

أَبِي هَانِي بْنُ يَزِيدَ، ← شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← أَبِيهِ ← يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخُلْدِيُّ ← كَمَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 62

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 63

63 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا خَشْنَامُ بْنُ الصِّدِّيقِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا} [النساء: 58] فَوَضَعَ إِصْبَعَةَ الدُّعَاءِ عَلَى عَيْنَيْهِ وَإِبْهَامَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِحَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ وَأَبِي يُونُسَ، وَالْبَاقُونَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِمْ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَاهِدٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 63 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت "انہ کان سمیعا بصیرا" پڑ ھی اور شہادت کی انگلی آنکھوں پر اور اپنے انگوٹھے کانوں پر رکھ لئے۔ یہ حدیث "صحیح " ہے لیکن شیخین ؒ نے اسے نقل نہیں کیا حالانکہ (اس کی سند کے راوی ) حرملہ بن عمران اور ابویونس کی روایات امام مسلم ؒنے نقل کی ہیں اور ان کے علاوہ اس سند کے بقیہ تمام راوی متفق علیہ ہیں ۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم ؒکے معیار پر صحیح ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ← حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أيوب ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← خَشْنَامُ بْنُ الصِّدِّيقِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 63

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 64

64 - حَدَّثَنَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كَانَتْ مِنْ فِتْنَةٍ وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَعْظَمَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ قَوْمَهُ، وَلَا أَخْبَرْتُكُمْ مِنْهُ بِشَيْءٍ مَا أَخْبَرَ بِهِ نَبِيٌّ قَبْلِي» فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ ثُمَّ، قَالَ: «أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 64 - ورواه زهير ومعاوية عن زيد

حضرت جابر بن عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: قیامت تک فتنہ دجال سے بڑا فتنہ نہ پیدا ہوا ہے، نہ ہوگا اور جو نبی بھی کسی قوم کی طرف آیا، اس نے ان کو متنبہ کیا اور میں بھی تمہیں وہی باتیں بتا رہا ہوں جو مجھ سے پہلے انبیاء بتاتے رہے۔ اس کے بعد رسول اکرم ﷺنے اپنا دست مبارک آنکھوں پر رکھ کر فرمایا: اللہ تعالیٰ"نا بینا" نہیں ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 64

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 65

65 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَشِفُ الْهَيْئَةِ، قَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟» قُلْتُ: مِنْ كُلٍّ مِنَ الْإِبِلِ وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَالْغَنَمِ، قَالَ: «فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ» قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ تُنْتَجُ إِبِلُ قَوْمِكَ صِحَاحٌ آذَانُهَا فَتَعْمَدُ إِلَى الْمُوسَى فَتَقْطَعُ آذَانَهَا وَتَقُولُ: هِيَ بُحْرٌ، وَتَشُقُّهَا أَوْ تَشُقُّ جُلُودَهَا، وَتَقُولُ: هِيَ حَرَمٌ فَتُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِكَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَكُلُّ مَا آتَاكَ اللَّهُ لَكَ حِلٌّ، وَسَاعِدُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ سَاعِدِكَ، وَمُوسَى اللَّهِ أَحَدُّ مِنْ مُوسِكَ» ، «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْكُوفِيِّينَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، وَقَدْ تَابَعَ أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو أَبَا إِسْحَاقَ السَّبِيعِيَّ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ؛ لِأَنَّ مَالِكَ بْنَ نَضْلَةَ الْجُشَمِيَّ لَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ ابْنِهِ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَقَدْ خَرَّجَ مُسْلِمٌ، عَنْ 25 أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ وَلَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ ابْنِهِ وَكَذَلِكَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ وَهَذَا أَوْلَى مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 65 - صحيح الإسناد

حضرت ابوالاحوصؓ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت میری حالت بہت پراگندہ تھی۔ آپ ﷺنے (میری ناگفتہ بہ حالت دیکھ کر) فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی مال ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺنے فرمایا کس نوعیت کا مال ہے؟ میں نے عرض کی :حضور! اونٹ ، گھوڑے، بھیڑ، بکریاں ، الله تعالیٰ کا دیا ہوا سب کچھ ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: جب اللہ تعالی ٰنے تمہیں مال دیا ہے تو وہ تمہارے اوپر نظر بھی آنا چاہئے اور رسول اللد ﷺنے فرمایا: کیا ایسانہیں ہوتا کہ تمہارے قبیلے کی اونٹنیاں جب بچہ پیدا کرتی ہیں تو اس کے کان سلامت ہوتے ہیں لیکن تم کٹوا کر اس کا نام "بحیرہ "رکھ دیتے ہو اور ان کے کان یا کھال پھاڑ کر کہتے ہو"یہ حرام ہے "پھر اس کو اپنے اوپر اور اپنے اہل وعیال پر حرام سمجھنے لگ جاتے ہو (ابو الاحوص کے والد کہتے ہیں) میں نے کہا: جی ہاں ۔ تو آپ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالی ٰنے جو حلال رزق تمہیں دیا ہے، اسے کھا و (اور یاد رکھو ) الله تعالی ٰکا باز و تمہارے بازو سے زیادہ مضبوط ہے اور اس کی تلوار تمہاری تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ یہ حدیث "صحیح الاسناد "ہے ،اسے کوفی آئمہ حدیث کی ایک جماعت نے ابواسحاق کے حوالے سے نقل کیا ہے اور جس طرح ابوالسحاق السبیعی نے یہ روایت ابوالاحوص سے لی ہے، اسی طرح ابوالزعرا ءعمرو بن عمر ونے بھی ابوالاحوص سے یہ روایت لی ہے لیکن شیخینؒ نے اسے نقل نہیں کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مالک بن نضلہ جشمی کا ان کے بیٹے ابوالاحوص کے سوا دوسرا کوئی راوی نہیں ہے جبکہ خود امام مسلم ؒنے ابوا لملیح بن اسامہ کی ان کے والد کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں حالانکہ اسامہ کا اپنےبیٹے ابوالملیح کے علاوہ دوسرا کوئی راوی نہیں ہے۔ یونہی ابو مالک اشجعی کی ان کے والد کے حوالے سے بھی روایات موجود ہیں حالانکہ یہاں پر بھی والد کا راوی صرف بیٹا ہی ہے اور مالک بن نضلہ جشمی کی سند دیگر سب سے بہتر ہے۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو الْمُثَنَّى، ومُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أحمد بن مهدي بن رستم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 65

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 66

66 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عَفَّانُ، وَأَبُو سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا حَمَّادٌ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: {فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ} [الأعراف: 143] «بَدَا مِنْهُ قَدْرُ هَذَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 66 - على شرط مسلم

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺنے اس آیت فلمہ تجلی ربہ للجبل جعلہ (الاعراف ۱۴۳) (پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا تو اسے پاش پاش کر دیا ) کے متعلق فرمایا: اس سے اس پہاڑ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ ← حَمَّادٌ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← عفان وابو سلمة ← جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ، ← أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 66

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 67

67 - وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْكَ} [الأعراف: 143] قَالَ: «فَأَخْرَجَ مِنَ النُّورِ مِثْلَ هَذَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى نِصْفِ أُنْمُلَةِ الْخِنْصَرِ، فَضَرَبَ بِهَا صَدْرَ حَمَّادٍ» ، قَالَ: «فَسَاخَ الْجَبَلُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺنے قال: رب آرینی انظر اليك (عرض کی: اے میرے رب مجھے اپنا دیدار دیکھا کہ میں تجھے دیکھوں) آیت پڑھی اور فرمایا: (اس موقع پر حضور ﷺنے چھنگلیا کے آدھے پورے کی طرف اشارہ کیا پھر حماد کے سینے پر مار کر فرمایا ) نور کی اتنی سی کرن تھی، جس سے پہاڑ دھنس گیا. یہ حدیث امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 67

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 68

68 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمَانَ الْأَغَرُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ وَيَضْحَكُ إِلَيْهِمُ: الَّذِي إِذَا تَكَشَّفَ فِئَةً قَاتَلَ وَرَاءَهَا بِنَفْسِهِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَقَدِ احْتَجَّا بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ إِنَّمَا خَرَّجَا فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثَ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ» الْحَدِيثُ فِي الْجِهَادِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 68 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابوالدرداء ؓ فر ماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور ان کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے (ان میں ایک وہ شخص بھی ہے) جو دشمن سے مڈ بھیڑ کے وقت محض رضائے الہی کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیتا ہے۔ : یہ حدیث صحیح ہے شیخینؒ نے اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں لیکن اس حدیث کونقل نہیں کیا۔ البتہ اس باب میں نبی اکرمﷺکا{یضحک اللہ الی رجلین "اللہ تعالی ٰ دو آدمیوں کی طرف دیکھ کر مسکر تا ہے"}والا جہاد سے متعلق پورا فرمان بوالز نا دپھر اعرج اور پھر ابو ہریرہ ؓ کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 68

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 69

69 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْبُنَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ حَبَّةٌ مِنْ كِبْرٍ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي جَدِيدًا، وَرَأْسِي دَهِينًا، وَشِرَاكُ نَعْلِي جَدِيدًا، قَالَ: وَذَكَرَ أَشْيَاءَ حَتَّى ذَكَرَ عِلَاقَةَ سَوْطِهِ، فَقَالَ: «ذَاكَ جَمَالٌ، وَاللَّهُ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ بَطِرَ الْحَقَّ وَازْدَرَى النَّاسَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِرُوَاتِهِ وَلَهُ شَاهِدٌ آخَرُ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 69 - احتجا برواته

حضرت عبداللہ ابن مسعودؓفرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: جس شخص کے دل میں ذرا سا بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺہرشخص یہ چاہتا ہے کہ صاف ستھرے کپڑے پہنے ، سر میں تیل لگا کر رکھے (نئے جوتے پہنے ) جوتوں کے تسمے تک نئے ہوں (ابن مسعودؓکہتے ہیں) اس نے متعدد چیز یں گنوائیں حتی کہ چا بک کے دستے تک کا بھی ذکر کیا۔ آپ ﷺنے فرمایا: وہ تو جمال ہے اور اللہ تعالیٰ جمال کو پسند کرتا ہے ۔ تکبر سے مراد اتراتا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒنے اس کو نقل نہیں کیا،حالانکہ دونوں نے اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں اور اس کی شاہد ایک اور حدیث بھی ہے جو کہ امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)

«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ حَبَّةٌ مِنْ كِبْرٍ» فَقَالَ رَجُلٌ: ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← حَبِيبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْبُنَانِيُّ، ← عَفَّانُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 69

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 70

70 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ أَلْبَسَ الْحُلَّةَ الْحَسَنَةَ؟ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ»

حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺکیا صاف ستھرا اور اچھا لباس پہننا بھی تکبر میں شامل ہے؟ آپﷺنے فرمایا: الله تعالی ٰخودصاحب جمال ہے اور وہ جمال کو پسند کرتا ہے۔

قُلْتُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ← أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي بمرو

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 70

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 71

71 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، إِمْلَاءً، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " دَعَا اللَّهُ جَبْرَائِيلَ فَأَرْسَلَهُ إِلَى الْجَنَّةِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلَيْهَا وَمَا أَعْدَدْنَا فِيهَا لِأَهْلِهَا، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، فَحُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ، قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَرَجَعَ، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 71 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: الله تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا جنت کا بھی مشاہدہ کرو اور اس میں جنتیوں کے لئے ہم نے جو نعمتیں تیارکررکھی ہیں ان کوبھی دیکھو (جبرئیل علیہ السلام یہ تمام مشاہدہ کرنے کے بعد الله تعالیٰ کی بارگاہ میں)عرض کرتے ہیں :یا اللہ ! مجھے تیری عزت و جلال کی قسم ہے جو شخص بھی یہ سن لے وہ جنت میں لازمی جائے گا۔ پھر جنت کو تکلیفوں سے ڈھانپ دیا گیا۔ اللہ تعالی ٰنے جبرائیل علیہ السلام سے پھر فرمایااب جا کر دیکھو (جبرئیل علیہ السلام نے دوبارہ جنت کا مشاہدہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آ کر)عرض کی:یا اللہ! تیری عزت کی قسم ہے، مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ اس میں کوئی بھی نہیں جا سکے گا۔: یہ حدیث امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ جبکہ اسی حدیث کوحماد بن سلمہ نے محمد بن عمرو کے حوالے سے کچھ الفاظ کے اضافے کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (الفاظ کے اضافہ کے ساتھ حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 71

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 72

72 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ قَالَ: يَا جَبْرَائِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، قَالَ: فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا، ثُمَّ حَفَّهَا بِالْمَكَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، قَالَ: فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ، ثُمَّ خَلَقَ النَّارَ، فَقَالَ: يَا جَبْرَائِيلُ اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، قَالَ: فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلَهَا، قَالَ: فَحَفَّهَا بِالشَّهَوَاتِ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، قَالَ: فَذَهَبَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَبِّ وَعِزَّتِكَ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 72 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا: جاؤ جنت کا مشاہدہ کرو ( رسول پاک ﷺ) فرماتے ہیں: حضرت جبرائیل علیہ السلام گئے اور جنت کا مشاہدہ کیا اور کہنے لگے :اس میں ہر کوئی داخل ہوگا ۔ پھر جنت کو مصیبتوں میں لپیٹ دیا گیا۔ پھر فرمایا: جاؤ اور جنت کا مشاہدہ کرو۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام پھر گئے، جنت کا مشاہدہ کیا، پھر عرض کی:اے اللہ! تیری عزت کی قسم ہے، مجھے یوں لگتا ہے کہ اس میں کوئی بھی داخل نہیں ہو پائے گا۔ پھر دوزخ پیدا کی گئی تو ارشادفرمایا: جبرائیل علیہ السلام ! جا و، دوزخ کا مشاہدہ کرو حضرت جبرائیل علیہ السلام گئے اور دوزخ کا مشاہدہ کرنے کے بعد عرض کی: اس میں کوئی نہیں آئے گا۔ پھر اس کونفسانی خواہشات میں لپیٹ دیا گیا پھر فرمایا: اب جاؤ اور دوزخ کا مشاہدہ کرو۔ جبرائیل نے پھر جا کر اس کو دیکھا اور عرض کی :یا اللہ مجھے تیری عزت اور جلال کی قسم ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس سے کوئی شخص نہیں بچ سکتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَرْزُوقٍ، ← أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 72

chevron_left Previous
1…567…24
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section