المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 61
61 - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هَانِئٍ، أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ شَيْءٍ يُوجِبُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: «عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْكَلَامِ، وَبَذْلِ الطَّعَامِ» . «هَذَا حَدِيثٌ مُسْتَقِيمٌ وَلَيْسَ لَهُ عِلَّةٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَالْعِلَّةُ عِنْدَهُمَا فِيهِ أَنَّ هَانِئَ بْنَ يَزِيدَ لَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ ابْنِهِ شُرَيْحٍ، وَقَدْ قَدَّمْتُ الشَّرْطَ فِي أَوَّلِ هَذَا الْكِتَابِ أَنَّ الصَّحَابِيَّ الْمَعْرُوفَ إِذَا لَمْ نَجِدْ لَهُ رَاوِيًا غَيْرَ تَابِعِيٍّ وَاحِدٍ مَعْرُوفٍ احْتَجَجْنَا بِهِ، وَصَحَّحْنَا حَدِيثَهُ إِذْ هُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا جَمِيعًا، فَإِنَّ الْبُخَارِيَّ قَدِ احْتَجَّ بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ «وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ قَيْسٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ «وَلَيْسَ لَهُمَا رَاوٍ غَيْرُ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَكَذَلِكَ مُسْلِمٌ قَدِ احْتَجَّ بِأَحَادِيثِ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ وَأَحَادِيثِ مَجْزَأةَ بْنِ زَاهِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ فَلَزِمَهُمَا جَمِيعًا عَلَى شَرْطِهِمَا الِاحْتِجَاجُ بِحَدِيثِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، فَإِنَّ الْمِقْدَامَ وَأَبَاهُ شُرَيْحًا مِنْ أَكَابِرِ التَّابِعِينَ، وَقَدْ كَانَ هَانِئُ بْنُ يَزِيدَ وَفَدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 61 - صحيح وليس له علة
حضرت ہانیؓ بیان کرتے ہیں: جب وہ رسول پاک صلى الله عليه وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو دریافت کیا : یا رسول اللهﷺوہ کون سا عمل ہے جو جنت میں جانے کا باعث بنتا ہے؟ فرمایا: اچھی گفتگو اور کھانا کھلانا۔یہ حدیث "صحیح" ہے لیکن شیخینؒ نے اسے نقل نہیں کیا حالانکہ اس میں کوئی نقص بھی نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ شیخین ؒکے نزدیک اس حدیث میں نقص ہو کہ اس کی سند میں ہانی بن یزید کا اس کے بیٹے"شریح" کے علاوہ دوسرا کوئی راوی نہیں ہے اور اس کتاب کے آغاز میں یہ بات گزر چکی ہے کہ جب کسی معروف صحابی سے ایک بھی معروف تا بعی روایت کرنے والا ہوگا ہم وہ حدیث نقل کریں گے اور اسے "صحیح "قرار دیں گے کیونکہ وہ حدیث امام بخاری ؒاور مسلمؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے کیونکہ امام بخاریؒ نے قیس بن ابوحازم کی وہ روایت جس میں مرداس اسلمی کے حوالے سے حضورﷺکا"یذ ھب الصالحون "(والا) فرمان ( موجود ہے )نقل کیا ہے، یونہی قیس کی وہ روایت جس میں عدی بن عمیرہ کے حوالے سے حضور ﷺکافرمان "من استعملنا على عمل "ہے ،نقل کیا ہے حالانکہ پہلی حدیث میں مرداس اسلمی اور دوسری میں عدی بن عمیرہ کا قیس بن ابوحازم کے علاوہ اور کوئی راوی نہیں ہے۔ یونہی امام مسلمؒ نے ابو مالک اشجعی کی روایات ان کے والد کے حوالے سے اور مجزاة بن زاہر اسلمی کی ان کے والد کے حوالے روایات نقل کی ہیں تو ان کو"شریح‘‘ کی اپنے والد سے روایت کرده احادیث بھی نقل کرنی چاہئے تھیں کیونکہ مقدام اور اس کے والد شریح اکابر تابعین میں سے ہیں ۔ اس کی دلیل ہانی بن یزید کا رسول پاک کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا درج ذیل واقعہ بھی ہے۔
هَانِئٍ، أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ، ← يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أَبِي ← إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم العدل،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 61
