Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 49

49 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، أُنَبَّأْ أَبُو الْوَلِيدِ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْبَةُ الْخُضَرِيُّ، أَنَّهُ شَهِدَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثٌ أَحْلِفُ عَلَيْهِنَّ: لَا يَجْعَلُ اللَّهُ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ وَسِهَامُ الْإِسْلَامِ الصَّوْمُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ، وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَبْدًا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ مَعَهُمْ، وَالرَّابِعَةُ إِنْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا رَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ: مَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ ". فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: إِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ فَاحْفَظُوهُ. " شَيْبَةُ الْحَضْرَمِيُّ قَدْ خَرَّجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَقَالَ فِي التَّارِيخِ: وَيُقَالُ الْخُضَرِيُّ سَمِعَ عُرْوَةَ وَعُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 49 - ما خرج له يعني شيبة الحضرمي سوى النسائي هذا الحديث وفيه جهالة

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول الله ﷺنے ارشادفرمایا: میں تین چیزوں کے حق ہونے پرقسم کھاسکتا ہوں۔ (1) جس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ ہے، الله تعالیٰ اسے اس شخص کی طرح نہ کرے گا جس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اور اعمال صالہحہ ،روز ہ ،نماز اور صدقہ سب اسلام کا حصہ ہیں۔ (۲) جس شخص سے الله تعالیٰ دنیا میں دوستی رکھے گا، قیامت کے دن بھی اس سے دوستی نبھائے گا۔ (۳) جو شخص جس قوم سے محبت رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کا حشر اس کے ساتھ کرے گا اور چوتھی بات ایسی ہے کہ اگر میں اس پر بھی قسم کھاؤں تو کوئی حرج نہیں (وہ یہ ہے) اللہ تعالیٰ جس کی دنیا میں پردہ پوشی کرتا ہے قیامت کے دن بھی اس کے گناہوں کو چھپائے گا۔ عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: اس طرح کی کوئی بھی حدیث جب عروہ، عائشہؓ کے حوالے سے روایت کریں تو اسے یاد کر لیا کرو۔: (اس حدیث کے ایک راوی) شیبہ حضرمی کی روایات امام بخاری ؒ نےنقل کی ہیں۔ تاریخ بغداد میں ہے کہ خضری نے عروہ اور عمر بن عبدالعزیز سے حدیث کا سماع کیا ہے۔

شَيْبَةَ الْخُضَرِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، أُنَبَّأْ أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← هَمَّامٌ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمَيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 49

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 50

50 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالُوا: ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ فَضَالَةَ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الْإِسْلَامَ فَعَلِّمْنِي شَرَائِعَ مِنْ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، فَذَكَرَ الصَّلَاةَ وَشَهْرَ رَمَضَانَ وَمَوَاقِيتَ الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَذْكُرُ سَاعَاتٍ أَنَا فِيهِنَّ مَشْغُولٌ، وَلَكِنْ عَلِّمْنِي جِمَاعًا مِنَ الْكَلَامِ، قَالَ: «إِنْ شُغِلْتَ فَلَا تُشْغَلْ عَنِ الْعَصْرَيْنِ» قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ وَلَمْ تَكُنْ لُغَةَ قَوْمِي، قَالَ: «الْفَجْرُ وَالْعَصْرُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَفِيهِ أَلْفَاظٌ لَمْ يُخَرِّجَاهَا بِإِسْنَادٍ آخَرَ، وَأَكْثَرُهَا فَائِدَةً ذِكْرُ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، فَإِنَّهُ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَلَيْسَ مِنْ شَرْطِ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، وَقَدْ خُولِفَ هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ خِلَافًا لَا يَضُرُّ الْحَدِيثَ بَلْ يَزِيدُهُ تَأْكِيدًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 50 - على شرط مسلم

حضرت فضا لہ لیثی ؓبیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلامی تعلیمات سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو آپ ﷺنے نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی اور نمازوں کے اوقات بھی بتائے۔ میں نے عرض کی : حضور! آپ نے نمازوں کے لئے جو وقت بتائے ہیں، میں ان اوقات میں بہت مصروف ہوتا ہوں، اس لئے آپ مجھ کومختصر اور جامع ساحکم ارشاد فرما دیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: مصروفیت کتنی بھی ہو" عصرین‘‘ کو نہیں چھوڑنا۔ چونکہ یہ لفظ ہماری زبان میں استعمال نہیں ہوتا تھا (اس لئے مجھے سمجھ نہیں آئی، میں نے سمجھنے کے لئے عرض کیا) ”عصران "کا کیا مطلب؟ آپ ﷺنے فرمایا"فجر اور عصر"۔ یہ حدیث امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق "صحیح" ہے لیکن اس کوشیخین میں نقل نہیں کیا گیا جبکہ اس میں (شرائع اسلام کے متعلق )کچھ الفاظ ایسے ہیں جنہیں شیخینؒ نے کسی دوسری سند کے ساتھ بھی روایت نہیں کیا حالانکہ(اگر دیکھا جائے تو)اس کا ذکر کرنے میں فائدہ زیادہ ہے کیونکہ شرائع اسلام کا ذکر عبد العزیز بن ابوداؤد کی اس روایت میں موجود ہے جس کی سند علقمہ بن مرثد ، پھر یحیی ٰ بن یعمر سے ہوتی ہوئی ابن عمر ؓتک پہنچتی ہے۔ اور یہ امام بخاریؒ امام مسلمؒ دونوں میں سے کسی کے بھی معیار پر "صحیح "نہیں ہے تاہم اس کی سند میں داؤدین ابو ہند کی طرف سے ہشیم بن بشیر کی کچھ مخالفت ضرور کی گئی ہے لیکن اس طرح کی مخالفت سے حدیث کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ اس کی پختگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

الصَّلَاةَ وَشَهْرَ رَمَضَانَ وَمَوَاقِيتَ الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ: ← أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَقُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ الْإِسْلَامَ فَعَلِّمْنِي شَرَائِعَ مِنْ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، ← فُضَالَةَ اللَّيْثِى. ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 50

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 51

51 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنِي أَنْ قَالَ: «حَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ» فَقُلْتُ: هَذِهِ سَاعَاتٌ لِي فِيهَا اشْتِغَالٌ، فَحَدِّثْنِي بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُهُ أَجْزَأَ عَنِّي، قَالَ: «حَافِظْ عَلَى الْعَصْرَيْنِ» قَالَ: وَمَا كَانَتْ مِنْ لُغَتِنَا قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ: «صَلَاةٌ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَصَلَاةٌ قَبْلَ غُرُوبِهَا» . «وَأَبُو حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيُّ تَابِعِيٌّ كَبِيرٌ عِنْدَهُ مِنْ أَكَابِرِ الصَّحَابَةِ لَا يُقْصَرُ سَمَاعُهُ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ اللَّيْثِيِّ فَإِنَّ هُشَيْمَ بْنَ بَشِيرٍ حَافِظٌ مَعْرُوفٌ بِالْحِفْظِ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ صَاحِبُ كِتَابٍ، وَهَذَا فِي الْجُمْلَةِ كَمَا خَرَّجَ مُسْلِمٌ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ حَدِيثَ شُعْبَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَبَعْدَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 51 - وخولف هشيم رواه خالد بن عبد الله عن أبي حرب عن عبد الله بن فضالة عن أبيه قال علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم

حضرت عبداللہ بن فضالہؓ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺنے جو تعلیمات دی ہیں ان میں یہ بھی تھا کہ نماز پنجگانہ پابندی سے ادا کرو (فضالہ کہتے ہیں) میں نے عرض کی: یہ اوقات تو میری مصروفیت کے ہیں، اس لئے مجھے کوئی ایسا جامع عمل بتاد یجئے جو کہ میرے لئے کافی ہو، آپ ﷺنے فرمایا: ” عصرین‘‘ کی حفاظت کرو (فضالہ کہتے ہیں) چونکہ عصرین‘ ہماری زبان کا لفظ نہیں تھا اس لئے میں نے پو چھ لیا: حضور ! "عصرین کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے کی نماز یں۔اس کی سند میں ابوحرب بن ابوالاسود الد یلی کبیر تا بعی ہیں ۔ ان کا سماع صرف فضالہ بن عبیدلیثی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ان کے پاس دیگر اکابر صحابہ کرام ؓ کی روایات بھی موجود ہیں۔ سابقہ حدیث میں ہشیم بن بشیر حافظ الحدیث ہیں اور آئمہ حدیث میں معروف بالحفظ ہیں اور خالد بن عبد الله الواسطی خودصاحب کتاب ہیں ۔ المختصر یہ سند شعبہ کی اس روایت کی طرح ہے جو امام مسلمؒ نے کتاب الایمان میں نقل کی ہے، جس کی حدیث عثمان بن عبد الله بن موہب ، ان کے بعد محمد بن عثمان سے ہوتی ہوئی ان کے والدتک پہنچتی ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ ← أَبِي حَرْبٍ، ← دَاوُدُ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← إسحاق بن شاهين ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 51

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 52

52 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ لِلْإِسْلَامِ ضَوْءًا وَمَنَارًا كَمَنَارِ الطَّرِيقِ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، فَقَدْ رَوى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيِّ وَاحْتَجَّ بِثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ الشَّامِيِّ، فَأَمَّا سَمَاعُ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَغَيْرُ مُسْتَبْعَدٍ، فَقَدْ حَكَى الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَقِيتُ سَبْعَةَ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَعَلَّ مُتَوَهِّمًا يَتَوَهَّمُ أَنَّ هَذَا مَتْنٌ شَاذُّ، فَلْيَنْظُرْ فِي الْكِتَابَيْنِ لِيَجِدَ مِنَ الْمُتُونِ الشَّاذَّةِ الَّتِي لَيْسَ لَهَا إِلَّا إِسْنَادٌ وَاحِدٌ مَا يُتَعَجَّبُ مِنْهُ، ثُمَّ لِيَقِسْ هَذَا عَلَيْهَا. حَدِيثٌ آخَرُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 52 - غير مستبدع لقي خالد أبا هريرة

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: اسلام راستے کے سنگ میل کی طرح ہدایت کا ایک مینارہ نور ہے۔ : یہ حدیث امام بخاری ؒ کے معیار کے مطابق "صحیح"ہے کیونکہ انہوں نے محمد بن خلف عسقلانی کی روایات نقل کی ہیں نیز ثور بن یزید(بن زیاد ) شامی کی احادیث بھی نقل کی ہیں اور خالد بن معدان کا ابو ہریرہ ؓسے سماع بھی کوئی بعید بات نہیں ہے۔ ولید بن مسلم کا کہنا ہے کہ ثور بن یزید خود اپنے متعلق بیان کرتے ہیں کہ میں ستر ہ صحابہ کرام ؓسے ملاقات کر چکا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی کو یہ وہم پیدا ہو کہ یہ متن چونکہ شاذہےاس لیے شیخینؒ نے اسے روایت نہیں کیا تو پھر بخاری و مسلم اٹھا کر دیکھیں آپ کو ایسی کتنی روایات ملیں گی جن کے متن شاذ ہیں اور ان کی سند صرف ایک ہی ہے (اس کے باوجودشیخینؒ نے اسے نقل کیا ہے) اسی سند کے ساتھ ایک اور حدیث بھی درج ذیل ہے۔

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 52

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 53

53 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَتَسْلِيمُكَ عَلَى أَهْلِكَ، فَمَنِ انْتَقَصَ شَيْئًا مِنْهُنَّ فَهُوَسَهْمٌ مِنَ الْإِسْلَامِ يَدَعُهُ، وَمَنْ تَرَكَهُنَّ كُلَّهُنَّ فَقَدْ وَلَّى الْإِسْلَامَ ظَهْرَهُ» . «هَذَا الْحَدِيثُ مِثْلُ الْأَوَّلِ فِي الِاسْتِقَامَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 53 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراو اور صرف اسی کی عبادت کرو، نماز و روزہ کی پابندی کرو، زکوة ادا کرو، حج ادا کرو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو، اپنے اہل وعیال کو سلام کرو، جس نے ان میں سے کسی بھی عمل کو چھوڑا، اس نے اسلام کا ایک حصہ (اچھاعمل) چھوڑا اور جس نے سب کو چھوڑ دیا، اس نے اسلام سے ہی منہ پھیر لیا۔: یہ حدیث بھی گزشتہ حدیث کی طرح "صحیح" ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 53

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 54

54 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا أُعَلِّمُكَ - أَوْ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ - عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ؟ تَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَا يُحْفَظُ لَهُ عِلَّةٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِيَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 54 - صحيح لا علة له

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: کیا میں تمھیں ایک کلمہ سکھا وں یا(شاید یہ )کہ ایک کلمہ پر راہنمائی کروں جوعرش کے نیچے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟ ( فر مایا ) تم پڑھو لا حول ولا قوة إلا بالله ( اس کے جواب میں ) الله تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے اقرار کیا اور مان لیا، دل سے تسلیم کر لیا۔: یہ حدیث صحیح ہے اور ہمیں اس میں کوئی نقص بھی نظر نہیں آیا، اس کے باوجود شیخین ؒ نے اسے نقل نہیں کیا۔ حالانکہ امام مسلم ؒ نے یحییٰ بن ابو سلیم کی روایات نقل کی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 54

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 55

55 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ، قَالَ: ذَكَرَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ رَجُلَيْنِ دَخَلَا فِي الْإِسْلَامِ فَاهْتَجَرَا كَانَ أَحَدُهُمَا خَارِجًا مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى يَرْجِعَ الظَّالِمُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ جَمِيعًا، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَقَدْ خَرَّجَا جَمِيعًا لَهُ غَيْرَ حَدِيثٍ تَفَرَّدَ بِهِ، عَنْ أَبِيهِ وَشُعْبَةَ وَغَيْرِهِمَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 55 - قد خرجا عنه يعني عبد الصمد بن عبد الوارث حديث تفرد به عبد الصمد عن أبيه وشعبة

حضرت عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: اگر دو آدمی داخل اسلام ہوں اور وہ آپس میں قطع تعلقی کر لیں تو ان میں سے ایک اسلام سے خارج ہوگا جب تک کہ جس کی جانب سے زیادتی ہے وہ اپنی غلطی سے رجوع نہ کرلے۔یہ حدیث امام بخاری ؒ اور مسلم ؒدونوں کے معیار کے مطابق"صحیح" ہے لیکن دونوں نے ہی اس کو نقل کرنے سے گریز کیا ہے، حالانکہ(اس کے راوی )عبد الصمد بن عبد الوارث بن سعيد ثقہ ہیں اور جرح سے بھی بچے ہوئے ہیں اور امام بخاری ؒومسلمؒ ان دونوں نے ان کی چند (ایسی) روایات (جن کو اپنے والد ، شعبہ اور دیگر راویوں سے روایت کرنے میں یہ تنہا ہیں)کے علاوہ باقی تمام روایات نقل کی ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 55

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 56

56 - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ الْحِيرِيُّ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالُوا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا ابْنُ الْهَادِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ، وَكَانَ كَالظُّلَّةِ، فَإِذَا انْقَلَعَ مِنْهَا رَجَعَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ فَقَدِ احْتَجَّا بِرُوَاتِهِ وَلَهُ شَاهِدٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 56 - على شرطهما

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے ارشادفرمایا: جب بندہ زنا میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے دل سے ایمان نکل کر اس کے اوپر سائبان کی طرح ہو جاتا ہے۔ پھر جب بندہ گناہ سے فارغ ہو جا تا ہے تو دوبارہ ایمان اس میں داخل ہو جاتا ہے۔یہ حدیث شیخین ؒ کے معیار کے مطابق "صحیح"ہے کیونکہ دونوں نے اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں اور اس حدیث کی شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم ؒ کی شرائط کے مطابق"صحیح " ہے۔ (شاہد حدیث درج ذیل ہے)

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← ابْنُ الْهَادِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 56

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 57

57 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، بِبَغْدَادَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ زَنَى وَشَرِبَ الْخَمْرَ نَزَعَ اللَّهُ مِنْهُ الْإِيمَانَ كَمَا يَخْلَعُ الْإِنْسَانُ الْقَمِيصَ مِنْ رَأْسِهِ» . " قَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُجَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ وَهُمَا شَامِيَّانِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 57 - احتج مسلم بعبد الرحمن بن حجيرة وبعبد الله بن الوليد

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فر مایا: جو شخص زنا کرتا ہے یا شراب پیتا ہے تو الله تعالیٰ اس سے ایمان اس طرح نکال لیتا ہے جیسے انسان قمیص اتار دیتا ہے۔امام مسلم ؒنے عبدالرحمن بن حجیر ہ شامی اور عبداللہ بن ولید شامی کی روایات نقل کی ہیں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ حُجَيْرَةَ، أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، بِبَغْدَادَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 57

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 58

58 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، أَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ قُرِنَا جَمِيعًا، فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الْآخَرُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا، فَقَدِ احْتَجَّا بِرُوَاتِهِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 58 - على شرطهما

حضرت ابن عمر ؓفرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا: حیاء اور ایمان دو گہرے دوست ہیں، جب ان میں سے کوئی ایک اٹھ جائے تو دوسرا خود بخود اٹھ جاتا ہے۔: یہ حدیث امام بخاری ؒ اور مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق "صحیح‘‘ ہے، دونوں نے اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں لیکن ان الفاظ کے ساتھ حدیث نقل نہیں کی۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 58

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 59

59 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ رَزِينٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْلَفُ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَا أَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 59 - علته انقطاعه فإن أبا حازم هذا هو المديني لا الأشجعي ولم يلق أبو صخر الأشجعي ولا المديني لقي أبا هريرة

حضرت ابو ہر یرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺنے ارشادفرمایا: مومن محبت کرنے والا ہوتا ہے اور وہ شخص اچھا نہیں ہے جو نہ خودمحبت کرتا ہو اور نہ اس سے کوئی محبت کرتا ہو۔ :یہ حدیث شیخین ؒکے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے نقل نہیں کیا اور ہمارے علم میں اس حدیث میں کوئی نقص نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو صَخْرٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بن معروف ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ رَزِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 59

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 60

60 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» قَالَ: فَسَأَلُوهُ مَا الْكَبَائِرُ؟ قَالَ: «الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 60 - عبيد الله عن أبيه سلمان الأغر خرج له البخاري فقط

حضرت ابو ایوب انصاریؓ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: جوشخص صرف اللہ کی عبادت کرے، شرک سے بچتا رہے، نماز کی پابندی کرے، زکوۃ ادا کرتا رہے اور کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے، وہ جنتی ہے (ابوایوب ) کہتے ہیں: صحابہ کرام ؓنے پوچھا: کبائر کون کون سے گناہ ہیں؟ فرمایا: الله تعالیٰ کے ساتھ کی کو شریک ٹھہرانا، میدان جنگ سے بھاگنا اور نہ حق قتل کرنا۔ یہ حدیث امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق "صحیح " ہے لیکن دونوں نے اسے روایت نہیں کیا اور اس میں کوئی ضعف بھی نہیں ہے۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← أَبِيهِ ← عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ سُلَيْمَانَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 60

chevron_left Previous
1…456…24
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section