Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 37

37 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا حَتَّى دَعَاهُمْ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِأَبِي نَجِيحٍ وَالِدِ عَبْدِ اللَّهِ وَاسْمُهُ يَسَارٌ، وَهُوَ مِنْ مَوَالِي الْمَكِّيِّينَ» . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَاتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ، كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْقِتَالِ قَبْلَ الدُّعَاءِ فَكَتَبَ إِلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ «الْحَدِيثَ، وَفِيهِ» وَكَانَ الدَّعْوَةُ قَبْلَ الْقِتَالِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 37 - احتج مسلم بأبي نجيح يسار المكي

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺنے دعوت اسلام دیئے بغیر کبھی بھی جہاد شروع نہیں کیا۔یہ حدیث امام ثوری کی روایت کردہ سند کے ہمراہ "صحیح" ہے لیکن شیخین ؒ نے اسے روایت نہیں کیا ۔ حالانکہ امام مسلمؒ نے عبداللہ کے والد ابونجیح کی روایات نقل کی ہیں ۔ ابونجیح کا نام "یسار" ہے اور یہ اہل مکہ کے موالی میں سے ہیں ۔ حضرت علیؓ نے بھی انہی لفظوں کے ساتھ رسول اللہﷺکایہ فرمان نقل کیا ہے اور امام بخاری ؒو مسلمؒ دونوں نے عبد الله بن عون کا یہ بیان نقل کیا ہے (عبد الله بن عون فرماتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عمرؓ کے غلام"نافع‘‘ کی طرف ایک خط لکھا، جس میں دعوت اسلام پیش کئے بغیر قتال شروع کرنے سے متعلق پوچھا تھا ، انہوں نے جوابی مکتوب میں بنی مصطلق پر رسول الله ﷺکےحملہ کرنے کا پوراواقع لکھ بھیجا، جس میں یہ بھی تھا کہ جہاد شروع کرنے سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت پیش کی گئی تھی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 37

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 38

38 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرَافِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ عِبَادٍ الدُّؤَلِيَّ يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى فِي مَنَازِلِهِمْ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» . قَالَ: وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ، يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذَا يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَتْرُكُوا دَيْنَ آبَائِكُمْ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ؟ قِيلَ: أَبُو لَهَبٍ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَرُوَاتُهُ عَنْ آخِرِهِمْ ثِقَاتٌ أَثْبَاتٌ، وَلَعَلَّهُمَا أَوْ وَاحِدًا مِنْهُمَا يُوهِمُ أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ عَبَّادٍ لَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَبُو الزِّنَادِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ هَذَا الْحَدِيثَ بِعَيْنِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 38 - على شرطهما

حضرت ربیہ بن عباد الدولی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ہجرت مدینہ سے پہلے رسول الله ﷺکومنیٰ کے مقام پریہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اے لوگو! الله تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کوشر یک مت ٹھہراؤ (ربیہ بن عباد کہتے ہیں) آپ ﷺکے پیچھے ایک آدمی کھڑا کہہ رہا تھا: یہ شخص تمہیں تمہارے آباء و اجداد کے دین سے دور کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ میں نے (قریب کھڑے ہوئے ایک شخص سے) پوچھا: کون ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ "ابولہب "ہے۔: حدیث شیخین ؒکے معیار کے مطابق صحیح ہے اور اس کے از اول تا آخرتمام راوی ثقہ اور قابل اعتماد ہیں ۔ شاید شیخین ؒکو یا ان میں سے کسی ایک کو یہ غلط فہمی ہوئی ہو کہ ربیعہ بن عباد سے یہ حدیث صرف محمد بن المنکد رنے ہی روایت کی ہے۔ (جس کی وجہ سے انہوں نے اس روایت کونقل کرنے سے گریز کیا ہے) حالانکہ(یہ بات نہیں ہے بلکہ ) ربیعہ سے "ابوالزنا عبد الله بن ذکوان "نے بھی بعینہ یہی روایت نقل کی ہے۔ (ابوان الزناد کی روایت درج ذیل ہے)

ربيعة بن عبَّاد الدُّؤَلى ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرَافِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 38

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 39

39 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ عِبَادٍ الدُّؤَلِيُّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَهُوَ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا» قَالَ: يُرَدِّدُهَا مِرَارًا وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ يَتَّبِعُونَهُ، وَإِذَا وَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْوَلُ ذُو غَدِيرَتَيْنِ وَضِيءُ الْوَجْهِ يَقُولُ: إِنَّهُ صَابِئٌ كَاذِبٌ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ. «وَإِنَّمَا اسْتَشْهَدْتُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ اقْتِدَاءً بِهِمَا فَقَدِ اسْتَشْهَدَا جَمِيعًا بِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 39 - وإنما استشهدت بابن أبي الزناد فقد استشهدا به

حضرت ربیعہ بن عبادؓ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللهﷺکوذی المجاز بازار (یہ دور جاہلیت کا نام ہے بعد میں اس مقام کا نام منیٰ رکھا گیا )میں یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! اس بات کا اقرار کرلو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،تم کامیاب ہو جاؤ گے (ربیعہ کہتے ہیں)حضورﷺنے کئی مرتبہ یہ الفاظ دھرائے تو آپ ﷺکی آواز پرلوگ آپ کے گردجمع ہو کر آپ کے ساتھ ساتھ لا الہ الا الله کا ورد کرنے لگے۔ اچانک میری نظر ایک خوبصورت دو چوٹیوں والے بھینگے شخص پر پڑی، وہ کہہ رہا تھا. یہ شخص خودستارہ پرست ہے، یہ جھوٹا ہے۔ میں نے پوچھا: کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ نبی اکرم ﷺکا چچا "ابولہب "ہے۔ میں نے ابوالزناد کے بیٹے عبدالرحمٰن سے اس حدیث کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے بھی ابوالزناد اور محمد بن المنکد رکی اس حدیث کے صحیح ہونے کی گواہی دی۔

ربيعة بن عبَّاد الدُّؤَلى ← أَبِي ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجلاب

Hadith 39

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 40

40 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ عَجُوزٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ: لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَنْتِ؟» قَالَتْ: أَنَا جَثَّامَةُ الْمُزَنِيَّةُ، فَقَالَ: «بَلْ أَنْتِ حَسَّانَةُ الْمُزَنِيَّةُ، كَيْفَ أَنْتُمْ؟ كَيْفَ حَالُكُمْ؟ كَيْفَ كُنْتُمْ بَعْدَنَا؟» قَالَتْ: بِخَيْرٍ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمَّا خَرَجَتْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُقْبِلُ عَلَى هَذِهِ الْعَجُوزِ هَذَا الْإِقْبَالَ؟ فَقَالَ: «إِنَّهَا كَانَتْ تَأْتِينَا زَمَنَ خَدِيجَةَ، وَإِنَّ حُسْنَ الْعَهْدِ مِنَ الْإِيمَانِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ فَقَدِ اتَّفَقَا عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِرُوَاتِهِ فِي أَحَادِيثَ كَثِيرَةٍ وَلَيْسَ لَهُ عِلَّةٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 40 - على شرطهما وليست له علة

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: ایک دن حضور ﷺمیرے حجرے میں موجود تھے کہ ایک بڑھیا بارگاه عالی میں حاضر ہوئی ۔ آپ ﷺنے بڑھیا سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا"جثامہ مزنيہ" (جثامہ بدصورت کو کہتے ہیں، اس لئے آپ نے تفنن طبع کے طور پر فرمایا ) تو ’’حسینہ مزنیہ" ہے (یعنی خوبصورت ہے) آپ ﷺنے اس خاتون سے حال احوال دریافت کئے ۔ اس نے عرض کیا : حضور! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، سب کچھ بہتر ہے، میں خیریت سے ہوں۔(ضروری گفت وشنید کے بعد) جب وہ چلی گئی تو(ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں) میں نے عرض کیا :حضور اس بڑھیا کو آپ نے خصوصی توجہ دے کر بڑی عزت سے نوازا ہے (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ ﷺنے فرمایا: یہ بڑھیاخد یجہؓ کے زمانے میں بھی آیا کرتی تھی اورحسن اخلاق سے پیش آنا بھی ایمان کی علامت ہے۔یہ حدیث شیخینؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، اس میں کوئی نقص بھی نہیں ہے اور امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ دونوں نے اس حدیث کے راویوں کی دیگر روایات متعدد مقامات پرنقل کی ہیں۔

بِخَيْرٍ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ← «بَلْ أَنْتِ حَسَّانَةُ الْمُزَنِيَّةُ كَيْفَ أَنْتُمْ؟ كَيْفَ حَالُكُمْ؟ كَيْفَ كُنْتُمْ بَعْدَنَا؟» ← جَثَّامَةُ الْمُزَنِيَّةُ ← لها رسول الله من أنت ← جاءت عجوز إلى النبي وهو عندي ← عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 40

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 41

41 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصَبِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدَةٍ، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ - هُوَ اللَّهُ - الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ، الرَّحِيمُ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ، السَّلَامُ، الْمُؤْمِنُ، الْمُهَيْمِنُ، الْعَزِيزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَكَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِئُ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْقَهَّارُ، الْوَهَّابُ، الرَّزَّاقُ، الْفَتَّاحُ، الْعَلِيمُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الْخَافِضُ، الرَّافِعُ، الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ، السَّمِيعُ، الْبَصِيرُ، الْحَكَمُ، الْعَدْلُ، اللَّطِيفُ، الْخَبِيرُ، الْحَلِيمُ، الْعَظِيمُ، الْغَفُورُ، الشَّكُورُ، الْعَلِيُّ، الْكَبِيرُ، الْحَفِيظُ، الْمُغِيثُ» . وَقَالَ صَفْوَانُ فِي حَدِيثِهِ: الْمُقِيتُ، وَإِلَيْهِ ذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فِي مُخْتَصَرِ الصَّحِيحِ، الْحَسِيبُ، الْجَلِيلُ، الْكَرِيمُ، الرَّقِيبُ، الْمُجِيبُ، الْوَاسِعُ، الْحَكِيمُ، الْوَدُودُ، الْمَجِيدُ، الْبَاعِثُ، الشَّهِيدُ، الْحَقُّ، الْوَكِيلُ، الْقَوِيُّ، الْمَتِينُ، الْوَلِيُّ، الْحَمِيدُ، الْمُحْصِي، الْمُبْدِي، الْمُعِيدُ، الْمُحْيِي، الْمُمِيتُ، الْحَيُّ، الْقَيُّومُ، الْوَاجِدُ، الْمَاجِدُ، الْوَاحِدُ، الصَّمَدُ، الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ، الْمُقَدِّمُ، الْمُؤَخِّرُ، الْأَوَّلُ، الْآخَرُ، الظَّاهِرُ، الْبَاطِنُ، الْوَالِي، الْمُتَعَالِي، الْبَرُّ، التَّوَّابُ، الْمُنْتَقِمُ، الْعَفُوُّ، الرَّءُوفُ، مَالِكُ، الْمُلْكِ، ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، الْمُقْسِطُ، الْجَامِعُ، الْغَنِيُّ، الْمُغْنِي، الْمَانِعُ، الضَّارُّ، النَّافِعُ، النُّورُ، الْهَادِي، الْبَدِيعُ، الْبَاقِي، الْوَارِثُ، الرَّشِيدُ، الصَّبُورُ «.» هَذَا حَدِيثٌ قَدْ خَرَّجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ بِأَسَانِيدَ صَحِيحَةٍ دُونَ ذِكْرِ الْأَسَامِيَ فِيهِ، وَالْعِلَّةُ فِيهِ عِنْدَهُمَا أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ تَفَرَّدَ بِسِيَاقَتِهِ بِطُولِهِ، وَذَكَرَ الْأَسَامِيَ فِيهِ وَلَمْ يَذْكُرْهَا غَيْرُهُ، وَلَيْسَ هَذَا بِعِلَّةٍ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ اخْتِلَافًا بَيْنَ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ مُسْلِمٍ أَوْثَقُ وَأَحْفَظُ وَأَعْلَمُ وَأَجَلُّ مِنْ أَبِي الْيَمَانِ وَبِشْرِ بْنِ شُعَيْبٍ وَعَلِيِّ بْنِ عَيَّاشٍ وَأَقْرَانِهِمْ مِنْ أَصْحَابِ شُعَيْبٍ، ثُمَّ نَظَرْنَا فَوَجَدْنَا الْحَدِيثَ قَدْ " رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطُولِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 41 - لم يخرجا الأسامي لتفرد الوليد بها وليس ذا بعلة فالوليد أوثق وأحفظ من أبي اليمان وعلي بن عياش

حضرت ابو ہریرہ ؓفرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺنے ارشاد فرمایا: الله تعالیٰ کے 99 نام ہیں، جو ان کو یاد کرے گا، جنتی ہے، اللہ تعالیٰ تنہا ہے اور تنہائی کو ہی پسند کرتا ہے۔ (اللہ تعالیٰ کے نام بمعہ ترجمہ درج ذیل ہیں) الله الذي لا إله إلا هو الرحمن (مہربان)، الرحيم (رحم کرنے والا )، الملك (بادشاہ)، القدوس (پاک)، السلام (سلامتی والا )، المؤمن (امن دینے والا )، المهمن( نگہبان)، العزيز (غالب)، الجبار (زبردست )، المتكبر (بڑائی والا )، الخالق (پیدا کرنے والا )، الباری (عالم بنانے والا )، المصور (صورت بنانے والا )، الغفار (بخشنے والا )، القهار (زبردست )، الوهاب (بہت دینے والا ) الترزا ق(رزق دینے والا )، الفتاح (کھولنے والا )، العليم (جاننے والا )، القابض (بند کرنے والا )، الباسط (کھولنے والا )، الخافض (جھکانے والا )، الرافع (بلند کرنے والا )، الميعز (عزت دینے والا )، المذل(ذلت دینے والا )، السميع (سننے والا )، البصير (دیکھنے والا)، الحكم (حاکم)، العدل (انصاف کرنے والا )، الطيف (باریک بین)، الخبير (خبردار)، الحليم (بردبار )، العظيم (بزرگ)، الغفور (بخشنے والا )، الشکور (شکر کرنے والا )، العلی (بلند)، الکبير (بڑا)، الحفيظ (نگہبان)، المغیث (مدد کرنے والا )، المقيت (قوت دینے والا)،الحسیب(کانی)، الجليل (بزرگ)، الکریم (سخی)، الرقيب ( نگہبان)، المجيب (قبول کرنے والا )، الواسع (فراخی والا )، الحكیم (حکمت والا )، الودود (محبت کرنے والا )، المجيد (بزرگ)، الباعث (اٹھانے والا )، الشهيد (گواہ)، الحق (سچا)، الوكيل ( کارساز)، القوى (طاقت والا )، المین (مضبوط )، الولی (دوست)، الحميد ( قابل تعریف)، المحصی (گھیرنے والا )، المبدی (ابتدا کرنے والا )، المعيد (لوٹانے والا )، المحیی (زندگی دینے والا )، الممیت (موت دینے والا )، الحیی (زنده)، القيوم ( ہمیشہ رہنے والا )، الواجد ( پانے والا )، الماجد (بزرگی والا)، الواحد (اکیلا)، الصمد(بے نیاز )، القادر (قدرت والا )، المقتدر (اقتدار والا )، المقدم (پہلا )، المؤخر (پچھلا)، الأول (پہلا )، الأخر(آخری)، الظاهر (آشکار)، الباطن (پوشیدہ)، الوالى (کارساز)، المتعالی (برتر)، البر (احسان کرنے والا )، التواب (توبہ قبول کرنے والا )، المنتقم (بدلہ لینے والا )، العفو (معاف کرنے والا )، الرءوف (بہت مہربان)، مالك الملک ( ملک کا مالک ) ذو الجلال والاكرام (بزرگی اور بخشش والا )، المقسط (عدل کرنے والا )، الجامع (جمع کرنے والا )، الغنی(بے پرواہ)، المغنی (دولت مند کرنے والا )، المانع (منع کرنے والا )، الضار (ضرردینے والا )، النافع (نفع دینے والا )، النور (روشنی والا )، الهادی (راہ دکھانے والا )، البديع (نیا پیدا کرنے والا )، الباقی (ہمیشہ رہنے والا)، الوارث (مالک)، الرشيد (راہنما)، الصبور (بڑاتحمل والا) : یہ حدیث صحیح ہے اورشیخینؒ نے دیگرصحیح سندوں کے ساتھ اس حدیث کو نقل کیا ہے، البتہ ان میں اللہ تعالیٰ کے اسماء گرامی مذکور نہیں ہیں ۔ اس حدیث میں شیخینؒ کو جونقص نظر آیا ہے وہ یہ ہے کہ اس حدیث میں تمام اسماء الحسنٰی کا ذکر صرف ولید بن مسلم نے کیا ہے ان کے علاوہ اور کسی راوی نے "اسما ء الحسنیٰ“ کا ذکر نہیں کیا ہے (امام حاکم ؒ فر ماتے ہیں) یہ کوئی نقص نہیں ہے کیونکہ ائمہ حدیث کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ولید بن مسلم ابوہمان ، بشر بن شعیب، علی بن عباس ؓ اور ان کے دیگر معاصر ین سے زیا دہ ثقہ ہیں۔ ان سے زیادہ مضبوط حافظے کے ما لک ، ان سے زیادہ علم حدیث رکھنے والے اور ان سب سے زیادہ بزرگ ہیں ۔ مزید غور و فکر کرنے سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس پوری حدیث کو عبد العزیز بن الحصین نے ابوایوب السختیانی کے ذریعے اور ہشام بن حسان نے محمد بن سیر ین کے واسطے سے ابو ہریرہؓ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ الدِّمَشْقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكَرَابِيسِيُّ ← مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصَبِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ محمد بن إِبْرَاهِيمُ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ

Hadith 41

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 42

42 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا الْأَمِيرُ أَبُو الْهَيْثَمِ خَالِدُ بْنُ أَحْمَدَ الذُّهْلِيُّ، بِهَمْدَانَ، ثنا أَبُو أَسَدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَنِيُّ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سُفْيَانَ النَّسَائِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حُصَيْنِ بْنِ التَّرْجُمَانِ، ثنا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ: اللَّهُ، الرَّحْمَنُ، الرَّحِيمُ، الْإِلَهُ، الرَّبُّ، الْمَلِكُ، الْقُدُّوسُ، السَّلَامُ، الْمُؤْمِنُ، الْمُهَيْمِنُ، الْعَزِيزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَكَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِئُ، الْمُصَوِّرُ، الْحَلِيمُ، الْعَلِيمُ، السَّمِيعُ، الْبَصِيرُ، الْحَيُّ، الْقَيُّومُ، الْوَاسِعُ، اللَّطِيفُ، الْخَبِيرُ، الْحَنَّانُ، الْمَنَّانُ، الْبَدِيعُ، الْوَدُودُ، الْغَفُورُ، الشَّكُورُ، الْمَجِيدُ، الْمُبْدِئُ، الْمُعِيدُ، النُّورُ، الْأَوَّلُ، الْآخِرُ، الظَّاهِرُ، الْبَاطِنُ، الْغَفَّارُ، الْوَهَّابُ، الْقَادِرُ، الْأَحَدُ، الصَّمَدُ، الْكَافِي، الْبَاقِي، الْوَكِيلُ، الْمَجِيدُ، الْمُغِيثُ، الدَّائِمُ، الْمُتَعَالِ، ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، الْمَوْلَى، النَّصِيرُ، الْحَقُّ، الْمُبِينُ، الْبَاعِثُ، الْمُجِيبُ، الْمُحْيِي، الْمُمِيتُ، الْجَمِيلُ، الصَّادِقُ، الْحَفِيظُ، الْكَبِيرُ، الْقَرِيبُ، الرَّقِيبُ، الْفَتَّاحُ، التَّوَّابُ، الْقَدِيمُ، الْوِتْرُ، الْفَاطِرُ، الرَّزَّاقُ، الْعَلَّامُ، الْعَلِيُّ، الْعَظِيمُ، الْغَنِيُّ، الْمَلِيكُ، الْمُقْتَدِرُ، الْأَكْرَمُ، الرَّءُوفُ، الْمُدَبِّرُ، الْمَالِكُ، الْقَدِيرُ، الْهَادِي، الشَّاكِرُ، الرَّفِيعُ، الشَّهِيدُ، الْوَاحِدُ، ذُو الطَّوْلِ، ذُو الْمَعَارِجِ، ذُو الْفَضْلِ، الْخَلَّاقُ، الْكَفِيلُ، الْجَلِيلُ، الْكَرِيمُ «.» هَذَا حَدِيثٌ مَحْفُوظٌ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَصَرًا دُونَ ذِكْرِ الْأَسَامِي الزَّائِدَةِ فِيهَا، كُلُّهَا فِي الْقُرْآنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْحُصَيْنِ بْنِ التَّرْجُمَانِ ثِقَةٌ، وَإِنْ لَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا جَعَلْتَهُ شَاهِدًا لِلْحَدِيثِ الْأَوَّلِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 42 - بل ضعفوه يعني عبد العزيز بن حصين الترجمان

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کے 99 اسمائے گرامی ہیں جو ان کو یاد کرے گا وہ جنتی ہے۔یہ حدیث ابوسختیانی اور ہشام کی اس سند کے لحاظ سے "محفوظ "ہے جو انہوں نے محمد بن سیرین سے ابو ہریرہ ؓکے حوالے سے "اسمائے حسنیٰ‘‘ کا ذکر کے بغیر مختصر طور پر نقل کی ہے اور جن اسمائے حسنیٰ کا اضافہ ہے وہ قرآن سے ثابت ہیں اور عبدالعزیز بن الحصین بن الترجمان ثقہ راوی ہیں ۔ اگر شیخین ؒ نے ان کی روایت نہیں لی تاہم میں نے اس کو گزشتہ حدیث کے شاہد کے طور پر پیش کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أيوب السختياني وهشام بن حسان ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حُصَيْنِ بْنِ التَّرْجُمَانِ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سُفْيَانَ النَّسَائِي ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَنِيُّ ← أَبُو أَسَدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ ← الْأَمِيرُ أَبُو الْهَيْثَمِ خَالِدُ بْنُ أَحْمَدَ الذُّهْلِيُّ، ← أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجلاب

Hadith 42

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 43

43 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَابَوَيْهِ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَفَّانُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَأَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالُوا: ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عِيسَى، - رَجُلًا مِنْ بَنِي أَسَدٍ - يُحَدِّثُ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ» . " وَعِيسَى هَذَا هُوَ: ابْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ كُوفِيٌّ ثِقَةٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 43 - عيسى بن أبي عاصم ثقة

حضرت عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: بدشگونی شرک ہے، اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اس کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ : اس کی سند میں جوعیسیٰ (راوی) ہیں وہ عیسیٰ بن عاصم الاسدی ہیں ، یہ کوفہ کے رہنے والے تھے ، ثقہ راوی تھے۔

النَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عيسى رجلا من بني أسد ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَأَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَابَوَيْهِ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 43

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 44

44 - حَدَّثَنَا بِصِحَّةِ مَا ذَكَرْنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الطِّيَرَةُ مِنَ الشِّرْكِ وَمَأْمَنًا، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ سَنَدُهُ، ثِقَاتٌ رُوَاتُهُ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» . وَعِيسَى بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ قَدْ رَوَى أَيْضًا عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ وَغَيْرِهِ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُمْ

حضرت عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: بدشگونی کاتعلق شرک سے ہے اور ذہنی الجھاؤ کا باعث ہے لیکن الله تعالیٰ اسے توکل کی برکت سے ختم فرمادیتا ہے۔ : اس حدیث کی سند "صحیح" ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن اس کے باوجود شیخینؒ نے اسےنقل نہیں کیا ہے اور عیسیٰ بن عاصم الاسدی نے عدی بن ثابت وغیرہ سے بھی روایت کی ہے اور ان سے روایت لینے والوں میں شعبہ، جریر بن حازم، معاویہ بن صالح اور دیگر محدثین ؒ کے نام شامل ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← بِصِحَّةِ مَا ذَكَرْنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ،

Hadith 44

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 45

45 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَقَدِ احْتَجَّا بِمِثْلِ هَذَا الْإِسْنَادِ وَخَرَّجَاهُ فِي الْكِتَابِ، وَلَيْسَ لَهُ عِلَّةٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَقَدِ احْتَجَّ بِشَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 45 - على شرطهما رواه ابن راهويه عنه هكذا

حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: جس نے الله تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے کفر کیا۔ یہ حدیث شیخین ؒ کے معیار کے مطابق "صحیح" ہے کیونکہ دونوں نے اس قسم کی سند اپنی کتابوں میں ذکر کی ہیں اور اس حدیث میں کوئی نقص نہیں ہے لیکن انہوں نے اسے نقل نہیں کیا ہے۔ اس حدیث کی شاہد ایک دوسری حدیث ہے جو کہ امام مسلمؒ کے معیار کے مطابق ہے اور اس میں کوئی نقص نہیں ہے (حد یث درج ذیل ہے)

النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْحَسَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ النَّخَعِیِّ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 45

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 46

46 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، أَنْبَأَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «كُلُّ يَمِينٍ يُحْلَفُ بِهَا دُونَ اللَّهِ شِرْكٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 46 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت (عبداللہ)ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: جو"قسم" غیر اللہ کے نام سے کھائی جائے وہ شرک ہے.

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← شريك بن عبد الله ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عَمْرُو بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ

Hadith 46

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 47

47 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ التُّوقَانِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي مَيْسَرَةَ الْمَكِّيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، قَالَا: أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: أَتَانِي أَبُو الْعَالِيَةِ أَنَا وَصَاحِبًا لِي، فَقَالَ: هَلُمَّا فَأَنْتُمَا أَشَبُّ وَأَوْعَى لِلْحَدِيثِ مِنِّي، فَانْطَلَقَ بِنَا حَتَّى أَتَيْنَا نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّيْثِيَّ، فَقَالَ: حَدِّثْ هَذَيْنِ حَدِيثَكَ، قَالَ: نَصْرٌ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ، وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَأَغَارُوا عَلَى قَوْمٍ فَشَذَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ مَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرٌ، فَقَالَ الشَّاذُّ مِنَ الْقَوْمِ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيهَا، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَوْلًا شَدِيدًا فَبَلَغَ الْقَاتِلَ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَنْ مَنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ مَنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، ثُمَّ لَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ الثَّالِثَةَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَقْبَلْ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبَى عَلَيَّ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا» قَالَهَا ثَلَاثًا. «هَذَا حَدِيثٌ مُخَرَّجٌ مِثْلُهُ فِي الْمُسْنَدِ الصَّحِيحِ لِمُسْلِمٍ، فَقَدِ احْتَجَّ بِنَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ وَسُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَأَمَّا عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ اللَّيْثِيُّ، فَإِنَّهُ صَحَابِيٌّ مُخَرَّجٌ حَدِيثُهُ فِي كُتُبِ الْأَئِمَّةِ فِي الْوِجْدَانِ، وَقَدْ بَيَّنْتُ شَرْطِي فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ بِأَنِّي أُخَرِّجُ حَدِيثَ الصَّحَابَةِ عَنْ آخِرِهِمْ، إِذَا صَحَّ الطَّرِيقُ إِلَيْهِمْ، وَقَدْ تَابَعَ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ عَلَى رِوَايَتِهِ عَنْ حُمَيْدٍ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 47 - على شرط مسلم

حضرت عتبہ بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللهﷺنے مجاہدین کا ایک لشکر روانہ کیا، لشکر نے جا کر حملہ کر دیا (جنگ کے دوران مخالف قبیلے کا)ایک شخص میدان جنگ سے بھاگ نکلا، ایک مسلم مجاہد تلوار سونتے ہوئے اس کے تعاقب میں نکلا (جب یہ مجاہد اس مفرور کے سر پر جا پہنچا تو)اس نے کہا: میں مسلمان ہوں لیکن مسلم مجاہد نے آؤ دیکھانہ تا و بلوار ماری اور اسے قتل کرڈالا یہ بات رسول اللہﷺتک پہنچی تو آپ ﷺنے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور اس ناراضگی کی خبر اس مجاہد تک بھی پہنچ گئی۔ پھر ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺخطبہ ارشادفرمارہے تھے کہ دوران خطبہ وہ مجاہد کھڑا ہو کر کہنے لگا: خدا کی قسم !اس نے اپنے مسلمان ہونے کا اقرار فقط اپنی جان بچانے کے لئے کیا تھا۔ آپ ﷺنے اس کی طرف سے توجہ ہٹائی اور خطبہ جاری رکھا۔ اس نے دوبارہ کہا:حضور! خدا کی قسم ! اس نے صرف اپنے بچاؤ کی خاطر اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کیا تھا۔ آپ ﷺاس مرتبہ بھی اس سے توجہ ہٹائی اور خطبہ جاری رکھا۔ اس نے تیسری مرتبہ پھر وہی الفاظ دہرائے تو آپ ﷺنے اس کی طرف توجہ فرمائی (اس وقت آپ کے چہرہ اقدس پر ناراضگی کے آثار نمایاں تھے ) آپ ﷺنے فرمایا: جوشخص کسی مسلمان کوقتل کرے الله تعالیٰ اسے پسند نہیں کرتا۔ آپ نے تین مرتبہ یہی الفاظ دہرائے۔ اس جیسی کئی احادیث صحیح مسلم میں مذکور ہیں ۔ امام مسلم ؒنے نصر بن عاصم لیثی اور سلیمان بن مغیرہ کی روایات نقل کی ہیں اور عقبہ بن عامرلیثی کی احادیث آئمہ کی کتابوں میں موجود ہیں جبکہ میں نے اپنا معیار کتاب کے آغاز میں بیان کر دیا تھا کہ میں ہر اس صحابی کی روایت نقل کروں گا جس تک سند درست طریقے سے پہنچتی ہو۔ جس طرح سلیمان بن مغیرہ نے حمید سے روایت لی اسی طرح یونس بن عبید نے بھی حمید سے روایت لی ہے اور وہ امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے (وہ حدیث درج ذیل ہے)

أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو يَحْيَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي مَيْسَرَةَ الْمَكِّيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ التُّوقَانِيُّ،

Hadith 47

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 48

48 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَمَّا بَعْدَ، فَمَا بَالُ الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ وَهُوَ يَقُولُ: أَنَا مُسْلِمٌ؟ " فَقَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا قَالَهَا مُتَعَوِّذًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا وَكَرِهَ مَقَالَتَهُ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «أَبَى اللَّهُ عَلَى مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا، أَبَى اللَّهُ عَلَى مَنْ قَتَلَ مُسْلِمًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 48 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عقبہ بن مالکؓ بیان کرتے ہیں حضور ﷺنے الله تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد ارشاد فرمایا: اس شخص کا کیا حشر ہوگا جو ایسے شخص کوقتل کر ڈالے جو اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کر رہا ہو۔ وہ قاتل کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺاس نے صرف اپنے بچاؤ کی خاطر اسلام کا اقرار کیا تھا تو آپ ﷺنے فرمایا: ایسے ہی! آپ ﷺکو اس کی بات انتہائی ناپسندلگی ۔ آپ ﷺنے اپنا چہرہ اس سے دوسری طرف پھیر لیا اور فرمایا: الله تعالیٰ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو کسی مسلمان کو قتل کرے۔ اللہ تعالی ٰ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو کسی مسلمان کو قتل کرے۔

مُسْلِمٌ؟ فَقَالَ الْقَاتِلُ: ← أَمَّا بَعْدَ، فَمَا بَالُ الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ وَهُوَ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عقبة بن مالك ← بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْقَاضِي، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Hadith 48

chevron_left Previous
12345…24
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section