المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 37
37 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا حَتَّى دَعَاهُمْ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِأَبِي نَجِيحٍ وَالِدِ عَبْدِ اللَّهِ وَاسْمُهُ يَسَارٌ، وَهُوَ مِنْ مَوَالِي الْمَكِّيِّينَ» . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَاتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ، كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْقِتَالِ قَبْلَ الدُّعَاءِ فَكَتَبَ إِلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ «الْحَدِيثَ، وَفِيهِ» وَكَانَ الدَّعْوَةُ قَبْلَ الْقِتَالِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 37 - احتج مسلم بأبي نجيح يسار المكي
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺنے دعوت اسلام دیئے بغیر کبھی بھی جہاد شروع نہیں کیا۔یہ حدیث امام ثوری کی روایت کردہ سند کے ہمراہ "صحیح" ہے لیکن شیخین ؒ نے اسے روایت نہیں کیا ۔ حالانکہ امام مسلمؒ نے عبداللہ کے والد ابونجیح کی روایات نقل کی ہیں ۔ ابونجیح کا نام "یسار" ہے اور یہ اہل مکہ کے موالی میں سے ہیں ۔ حضرت علیؓ نے بھی انہی لفظوں کے ساتھ رسول اللہﷺکایہ فرمان نقل کیا ہے اور امام بخاری ؒو مسلمؒ دونوں نے عبد الله بن عون کا یہ بیان نقل کیا ہے (عبد الله بن عون فرماتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عمرؓ کے غلام"نافع‘‘ کی طرف ایک خط لکھا، جس میں دعوت اسلام پیش کئے بغیر قتال شروع کرنے سے متعلق پوچھا تھا ، انہوں نے جوابی مکتوب میں بنی مصطلق پر رسول الله ﷺکےحملہ کرنے کا پوراواقع لکھ بھیجا، جس میں یہ بھی تھا کہ جہاد شروع کرنے سے پہلے انہیں اسلام کی دعوت پیش کی گئی تھی۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Hadith 37
