Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 25

25 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَبْدٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» . «وَزِيَادَةٌ أُخْرَى صَحِيحَةٌ سَلِيمَةٌ مِنْ رِوَايَةِ الْمَجْرُوحِينَ فِي مَتْنِ هَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 25 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت انس بن مالک ؓ فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: (حقیقی) مومن وہ ہے جو لوگوں کے لئے ضرر رساں نہ ہو اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمانوں کو تکلیف نہ پہنچے اور مہاجر وہ ہے جو گناہوں کو چھوڑ دے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوسکتا جس کی شرارتوں سے اس کے ہمسائے تکلیف میں ہوں ۔درج ذیل حدیث میں کچھ مزید اضافہ ہے جو مذکورہ حدیث کا متن روایت کرنے کے سلسلے میں مجروح راویوں کی روایت سے محفوظ ہے اور صحیح ہے لیکن شیخینؒ نے اسے بھی نقل نہیں کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، وحُمَيْدٍ، ← حَمَّادٌ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 25

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 26

26 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالشُّحِّ، أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا، وَالْبُخْلِ فَبَخِلُوا، وَبِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا» فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ» . فَقَالَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ» قَالَ: " وَالْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ: هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، وَهِجْرَةُ الْبَادِي، فَهِجْرَةُ الْبَادِي: أَنْ يُجِيبَ إِذَا دُعِيَ، وَيُطِيعَ إِذَا أُمِرَ، وَهِجْرَةُ الْحَاضِرِ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً وَأَفْضَلُهُمَا أَجْرًا ". قَدْ خَرَّجَا جَمِيعًا حَدِيثَ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مُخْتَصَرًا وَلَمْ يُخَرِّجَا هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَدِ اتَّفَقَا عَلَى عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ النَّجْرَانِيِّ، فَأَمَّا أَبُو كَثِيرٍ زُهَيْرُ بْنُ الْأَقْمَرِ الزُّبَيْدِيُّ فَإِنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا وَعَبْدَ اللَّهِ فَمَنْ بَعْدَهُمَا مِنَ الصَّحَابَةِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ [ص:56].

حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہﷺنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فر مایا: ظلم سے بچو کیونکہ قیامت کے روز ظلم تاریکیوں کا باعث ہوگا اور بے حیائی سے بچو، لا لچ اور بخل سے بچو کیونکہ تم سے پہلی قو میں بخل اور لا لچ کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، انہیں قطع تعلقی سے بچنے کا حکم دیا گیا لیکن وقطع تعلقی کرتے رہے،انہیں بخل سے بچنے کا حکم دیا گیا لیکن وہ بخل کرتے رہے، انہیں گناہوں سے بچنے کا حکم دیا گیا لیکن وہ گناہ کرتے رہے۔ ایک شخص کھڑ اہوا کہنے لگا: یا رسول الله ﷺ! کون ساعمل اسلام میں سب سے اچھا ہے؟ آپ ﷺنے جواباً ارشادفرمایا: (اسلام کا سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ) مسلمانوں کو تیری زبان اور ہاتھ سے کوئی تکلیف نہ پہنچے (حضرت عبد اللهؓ کہتے ہیں) اسی شخص نے یا (شاید) کسی دوسرے شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺسب سے اچھی ہجرت کیا ہے؟ آپ ﷺنے جواب دیا: (سب سے بہترین ہجرت یہ ہے کہ) تم ان چیزوں کو چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناپسند ہیں (پھر) آپ ﷺنے فرمایا: ہجر تیں دو ہیں ۔ (1) شہری کی ہجرت (۲) دیہاتی کی ہجرت۔ دیہاتی کی ہجرت یہ ہے کہ جب اسے بلایا جائے تو وہ آ جائے اور جو حکم دیا جائے اس پر وہ عمل کرے اور شہری کی ہجرت میں آزمائش بھی زیادہ ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہے۔ امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ ان دونوں نے شعبی کی حدیث عبد اللہ بن عمرو کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں لیکن یہ حدیث نقل نہیں کی حالانک شیخین (مذکورہ حدیث کے راوی ) عمرو بن مرہ اور عبداللہ بن حارث نجرانی کی روایت نقل کرنے میں متفق ہیں ( اور اس حدیث کے راوی ) ابوفشیر زہیر بن قمر الزبیدی نے حضرت علی ؓ حضرت عبداللہؓ اور دیگر صحابہ سے حدیث کا سماع کیا ہے جبکہ بعینہ یہی حدیث اعمش نے عمرو بن مرہ کے حوالے سے روایت کی ہے جو کہ درج ذیل ہے۔

خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي کَثِيرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَدْلُ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 26

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 27

27 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقُوا الظُّلْمَ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. «وَلِهَذِهِ الزِّيَادَاتِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو» شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي هُرَيْرَةَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 26 - اتفقا على عمرو عن عبد الله بن الحارث النجراني فأما أبو كثير زهير بن الأقمر الزبيدي فإنه سمع عليا وعبد الله ورواه الأعمش عن الأعمش عن عمرو

حضرت عبد الله بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللهﷺنے ارشاد فرمایا ظلم سے بچو ( پھر اس کے بعد پوری حدیث ذکر کی) حدیث کے اندر یہ اضافہ جات جو ہم نے عبداللہ بن عمرو کے حوالے سے ذکر کئے ہیں یہ امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہیں ۔ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی حدیث کی شاہد ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← زُهَيْرِ بْنِ الأَقْمَرِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Hadith 27

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 28

28 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّهُ هُوَ الظُّلُمَاتُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّهُ دَعَا مَنْ قَبْلَكُمْ فَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَدَعَا مَنْ قَبْلَكُمْ فَقَطَعُوا أَرْحَامَهُمْ، وَدَعَا مَنْ قَبْلَكُمْ فَاسْتَحَلُّوا حُرُمَاتِهِمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 28 - رواه الليث والنبيل عنه

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: فحاشی اور بے حیائی سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ بےحیا کو پسند نہیں کرتا اور ظلم سے بچو کیونکہ قیامت کے روزیہ تاریکی ( کا باعث )ہو گا اور بخل اور حرص سے بچو، اس لئے کہ تم سے پہلی قوموں کو ان باتوں کی تبلیغ کی گئی لیکن انہوں نے قتل و غارت گری کی ، انہیں صلہ رحمی کی تبلیغ کی گئی لیکن انہوں نے قطع رحمی سے کام لیا، انہیں حرام سے بچنے کی تبلیغ کی گئی لیکن انہوں نے حرام کو حلال ٹھہر الیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← ابْنِ عَجْلَانَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ وَاللَّفْظُ لَهُ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ،

Hadith 28

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 29

29 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلَا اللِّعَانِ، وَلَا الْفَاحِشِ، وَلَا الْبَذِيءِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَقَدِ احْتَجَّا بِهَؤُلَاءِ الرُّوَاةِ عَنْ آخِرِهِمْ، ثُمَّ لَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَأَكْثَرُ مَا يُمْكِنُ أَنْ يُقَالَ فِيهِ أَنَّهُ لَا يُوجَدُ عِنْدَ أَصْحَابِ الْأَعْمَشِ وَإِسْرَائِيلَ بْنِ يُونُسَ السَّبِيعِيِّ كَبِيرِهِمْ وَسَيِّدِهِمْ، وَقَدْ شَارَكَ الْأَعْمَشُ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ شُيُوخِهِ، فَلَا يُنْكَرُ لَهُ التَّفَرُّدُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ. وَلِلْحَدِيثِ شَاهِدٌ آخَرُ عَلَى شَرْطِهِمَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 29 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبدالله ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: مومن "لعن طعن کرنے والا" نہیں ہوتا نہ "فحاش" ہوتا ہے اور نہ ہی بے حیا۔یہ حدیث شخیین ؒکے معیار کے مطابق صحیح ہے کیونکہ دونوں نے اس حدیث کے تمام راویوں کی دیگر روایات نقل کی ہیں لیکن اسے چھوڑ دیا۔ اس سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ انمش اور اسرائیل بن یونس السبیعی کے اصحاب میں کوئی بڑا امام فی الحدیث نہیں ہے (تو کیا ہوا) اعمش بذات خودروایت کے سلسلہ میں اپنے اساتذہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ اس لئے اگر اس حدیث میں وہ اکیلے رہ گئے ہیں تو کوئی حرج نہیں ۔ اس حدیث کی ایک دوسری شاہد حدیث بھی ہے جو کہ شیخینؒ کے معیار کے مطابق ہے (وہ حدیث مندرجہ ذیل ہے)

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ،

Hadith 29

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 30

30 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلَا اللِّعَانِ، وَلَا الْفَاحِشِ، وَلَا الْبَذِيءِ» . «وَلِلْحَدِيثِ شَاهِدٌ ثَانٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ لَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِسْنَادُهُ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 30 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبد الله ؓفرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: مومن لعن طعن کرنے والا، فحاش اور بے حیا نہیں ہوتا ۔اس حدیث کی درج ذیل حدیث بھی شاہد ہے جو کہ ابراہیم نخعی سے منقول ہے۔ اس کی سند اگر چہ شیخین ؒ کے معیار پرصحیح نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس مقام پر میں اس کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں (دو حدیث درج ذیل ہے)

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، ← الحسن بن عمرو الفقيمي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Hadith 30

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 31

31 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِي بِالْكُوفَةِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَاكِمِ الْحِيرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ثنا صَبَاحُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمُؤْمِنُ لَيْسَ بِالطَّعَّانِ، وَلَا الْفَاحِشِ، وَلَا الْبَذِيءِ» . «مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَإِنْ كَانَ يُنْسَبُ إِلَى سُوءِ الْحِفْظِ، فَإِنَّهُ أَحَدُ فُقَهَاءِ الْإِسْلَامِ وَفَضَلَتِهِمْ، وَمِنْ أَكَابِرِ أَوْلَادِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ رَحْمَةُ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 31 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبد اللہؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: مومن لعن طعن کرنے والا ، فحاش اور بے حیا نہیں ہوتا۔ (اس حدیث کے ایک راوی) محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلٰی کے متعلق اگر چہ حافظہ مضبوط نہ ہونے کی باتیں کی گئی ہیں لیکن (یہ بھی تو دیکھو کہ ) یہ اسلام کے معتبر فقہاء میں سے ہیں ۔ جید صحابہ کرام ؓکی اولاد اور تابعین میں سے ہیں۔ مزید یہ کہ"انصاری "ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَكَمِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← صَبَاحُ بْنُ يَحْيَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَاكِمِ الْحِيرِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِي بِالْكُوفَةِ،

Hadith 31

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 32

32 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ الصَّايِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَكَرِهَهَا حِينَ يَعْمَلُ، وَعَمِلَ حَسَنَةً فَسُرَّ بِهَا فَهُوَ مُؤْمِنٌ» . «قَدِ احْتَجَّا بِرُوَاةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ آخِرِهِمْ وَهُوَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا وَلَمْ يُخَرَّجَا إِنَّمَا خُرِّجَا فِي خُطْبَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَهُ شَاهِدٌ بِهَذَا اللَّفْظِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 32 - على شرطهما

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺنے ارشادفرمایا: جو شخص گناہ کر بیٹھے اور گناہ کرتے ہوئے اس کو نا پسند کرتا ہو اور نیک عمل کرے اور یہ عمل کر تے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہو وہ مومن ہے۔امام بخاری ؒ اور مسلم ؒدونوں نے اس حدیث کے از اول تا آخر تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث ان دونوں کے معیار کے مطابق صحیح بھی ہے لیکن اس کے باوجود دونوں میں سے کسی نے بھی اسے نقل نہیں کیا۔ ہاں انہوں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کے خطبہ کے ضمن میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں ۔ ” ومن سرتہ حسنتہ وساتہ فهو مؤمن » اور درج ذیل الفاظ کے ہمراہ اس کی شاہد حدیث موجود ہے (حدیث یہ ہے)

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← الْمُطَّلِبِ ← عَمْرِو مَوْلَی الْمُطَّلِبِ ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ الصَّايِغُ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ بِبَغْدَادَ،

Hadith 32

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 33

33 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ» . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِثْمُ؟ قَالَ: «إِذَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ» . وَهَكَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 33 - تابعه معمر وعلي بن المبارك وهو على شرطهما

حضرت ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے رسول اللهﷺسے پوچھا: یا رسول اللهﷺایمان کیا ہے؟ آپ نے جواباً ارشاد فر مایا: جب تجھے نیکی پرخوشی ہو اور گناہ برا لگے تو تُو مومن ہے۔ اس نے دریافت کیا: یا رسول اللہﷺگناہ کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: جو چیز تیرے دل میں کھٹکے (وه گناہ ہے) اسے چھوڑ دے۔یونہی علی بن مبارک اور معمر بن راشد نے بھی یحییٰ بن کثیر کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ علی بن مبارک کی حدیث درج ذیل ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← جَدِّهِ مَمْطُورٍ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Hadith 33

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 34

34 - فَحَدَّثَنَاهُ مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَإِنَّكَ مُؤْمِنٌ»

حضرت ابوامامہ ؓبیان کرتے ہیں: ایک شخص نے رسول اللہ ﷺسے ایمان کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺنے جواب دیا: جب تجھے اپنی نیکیاں اچھی لگیں اور گناہوں سے نفرت ہو (تو سمجھ لینا) کہ تو مومن ہے۔ معمر کی روایت یہ ہے۔

«إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَإِنَّكَ مُؤْمِنٌ» ← سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ؟ ← أَبَا أُمَامَةَ، ← جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو قِلَابَةَ ← فَحَدَّثَنَاهُ مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي،

Hadith 34

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 35

35 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: مَا الْإِيمَانُ؟ فَقَالَ: «مَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ، وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ» . «هَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ مُتَّصِلَةٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ»

حضرت ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللهﷺسے ایمان کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا: جس کو اپنی نیکیاں اچھی لگیں اور گناہ برے لگیں وہ مومن ہے۔. مذکورہ بالا تمام احادیث شیخین ؓکی شرائط کے مطابق صحیح ہیں، متصل ہیں۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ،

Hadith 35

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 36

36 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ، يَقُولُ: نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَاسْتَيْقَظْتُ مِنَ اللَّيْلِ، فَإِذَا لَا أَرَى فِي الْعَسْكَرِ شَيْئًا أَطْوَلَ مِنْ مُؤْخِرَةِ رَحْلِي، لَقَدْ لَصَقَ كُلُّ إِنْسَانٍ وَبَعِيرُهُ بِالْأَرْضِ، فَقُمْتُ أَتَخَلَّلُ النَّاسَ حَتَّى دَفَعْتُ إِلَى مَضْجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا لَيْسَ فِيهِ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى الْفِرَاشِ، فَإِذَا هُوَ بَارِدٌ فَخَرَجْتُ أَتَخَلَّلُ النَّاسَ أَقُولُ: {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} [البقرة: 156] ذُهِبَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجْتُ مِنَ الْعَسْكَرِ كُلِّهِ، فَنَظَرْتُ سَوَادًا فَرَمَيْتُ بِحَجَرٍ، فَمَضَيْتُ إِلَى السَّوَادِ، فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَإِذَا بَيْنَ أَيْدِينَا صَوْتٌ كَدَوِيِّ الرَّحَا، أَوْ كَصَوْتِ الْهَصْبَاءِ حِينَ يُصِيبُهَا الرِّيحُ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: يَا قَوْمِ اثْبُتُوا حَتَّى تُصْبِحُوا أَوْ يَأْتِيَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ نَادَى «أَثَمَّ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ؟» فَقُلْنَا: أَيْ نَعَمْ، فَأَقْبَلَ إِلَيْنَا فَخَرَجْنَا نَمْشِي مَعَهُ لَا نَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ وَلَا نُخْبِرُهُ بِشَيْءٍ فَقَعَدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا خَيَّرَنِي بِهِ رَبِّي اللَّيْلَةَ؟» فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِهَا " قَالَ: «هِيَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَرُوَاتُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ عَلَى شَرْطِهِمَا جَمِيعًا وَلَيْسَ لَهُ عِلَّةٌ، وَلَيْسَ فِي سَائِرِ أَخْبَارِ الشَّفَاعَةِ» وَهِيَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 36 - على شرطهما

حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ بیان کرتے ہیں: ہم نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک مقام پر پڑاو ڈالا۔ میں رات کے وقت جاگ رہا تھا (میں نے اپنے چاروں طرف دیکھا) سب انسان اور جانور سورہے تھے، پورے لشکر میں میرا کجاوا ہی سب سے اونچا نظر آرہا تھا، میں اپنی جگہ سے اٹھا اور لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا نبی پاک صلى الله عليه وسلم کی خواب گاہ کے قریب چلا گیا (میں یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوا کہ )رسول اللہﷺاپنے خیمے میں موجودنہیں تھے، میں نے زمین پر ہاتھ لگا کر دیکھا تو وہ بھی ٹھنڈی تھی (جس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ آپ کافی دیر سے یہاں نہیں ہیں) میں وہاں سے انا لله وانا اليه راجعون پڑھتے ہوئے نکلا اور یہ سوچ رہا تھا کہ رسول اللہﷺکہاں تشریف لے گئے، لوگوں کے درمیان آپ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں لشکر سے باہر جا نکلا ، میں نے دور ایک سا یہ سا دیکھا (یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ کیا چیز ہے )اس کی طرف ایک پتھر پھینکا (مجھے اندازه ہو گیا کہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے، اس لئے )میں اس سائے کے پاس چلا گیا۔ جب دیکھا تو وہ حضرت معاذ بن جبلؓ اور حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ تھے۔ وہاں ہمیں ایسی آواز سنائی دی گویا کہ چکی چل رہی ہو (جس سے ہم سمجھ گئے کہ نبی پاکﷺیہیں پر ہیں اور وحی نازل ہورہی ہے) ہم نے ایک دوسرے سے کہا: اگر ابھی رسول اللہ ﷺآجائیں تو ٹھیک ہے ورنہ صبح ہونے تک ہمیں یہیں رکنا چاہئے۔ کافی دیر ہم وہاں کھڑے رہے پھر ہمیں نبی پاک ﷺنے آواز دی: کیا یہاں معاذ بن جبل ؓابو عبیدہ بن جراح ؓاور عوف بن مالکؓ ہیں؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللهﷺ - تب آپ ﷺہماری طرف تشریف لائے اور ہم آپ ﷺکے ساتھ ہولئے ، ہم نے آپ ﷺسے کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی( بلکہ آپ ﷺکے خیمے تک ہم خاموشی کے ساتھ آپ ﷺکے ہمراہ چلتے رہے، جب آپ ﷺخیمے میں تشریف لے آئے تو) آپ ﷺاپنے بستر پر بیٹھے اور فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ آج کی رات اللہ تعالیٰ نے مجھے کیا اختیار دیا؟ ہم نے عرض کیا: الله اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺنے ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے آدھی امت جنت میں لے جانے‘ یا شفاعت‘‘ میں سے کوئی ایک چیز چن لینے کا اختیار دیا تو میں نے شفاعت کو چن لیا۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺجن لوگوں کی آپ ﷺشفاعت کریں گے، دعا فرمائیے کہ ہم بھی ان میں سے ہوں ، آپ ﷺنے فرمایا: میری شفاعت ہر مسلمان کے لئے ہے۔ یہ حدیث امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن صحیحین میں اسے نقل نہیں کیا گیا جبکہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور شیخینؒ کی مقرر کردہ شرائط بھی ان میں موجود ہیں اور اس روایت میں کوئی نقص بھی نہیں ۔ البتہ شفاعت کی دیگر احادیث میں "وهى لكل مسلم کے الفاظ نہیں ہیں۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← ابْنِ جَابِرٍ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 36

chevron_left Previous
1234…24
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section