Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 277

277 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرَ مِنْ هَذَا؟ قَالُوا: بَلَى، وَمَا أَكْبَرُ مِنْ هَذَا؟ قَالَ: الرِّضْوَانُ "

حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: جب جنتی جنت میں چلے جائیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا:کیا میں تمہیں اس سے بھی بڑی نعمت نہ بتاؤں؟ جنتی کہیں گے : ہاں ۔ لیکن اس جنت سے بڑی نعمت کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میری خوشنودی۔

جَابِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← عبيد الله بن عبد الرَّحْمَنِ الأَشْجَعِيُّ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Hadith 277

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 278

278 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الْعَدْلُ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي هَيْئَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ وَجِلِينَ مَخَافَةَ أَنْ يَخْرُجُوا مِمَّا هُمْ فِيهِ، فَيُقَالُ: تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، هَذَا الْمَوْتُ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ فَرِحِينَ أَنْ يَخْرُجُوا مِمَّا هُمْ فِيهِ، فَيُقَالُ: أَتَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، هَذَا الْمَوْتُ، فَيَأْمُرُ بِهِ فَيُذْبَحُ عَلَى الصِّرَاطِ فَيُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ: خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ لَا مَوْتَ فِيهَا أَبَدًا «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَإِنَّ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ ثَبَتَ وَقَدْ أَسْنَدَهُ فِي جَمِيعِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ، وَوَافَقَهُ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو «.» أَمَّا حَدِيثُ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى " [ص:157].

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا:قیامت کے دن موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی صورت میں لایا جائے گا، پھر ندادی جائے گی :اے جنتیو جنتی گھبرا کر ، اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں ان کو جنت سے نکال دیا جائے ، متوجہ ہو نگے ۔ ان سے کہا جائے گا :اس کو پہچانتے ہو؟ وہ جواب دیں گے :ہاں!یہ موت ہے۔ پھر دوزخیوں کو ندادی جائے گی، وہ خوشی خوشی متوجہ ہو نگے اور یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ شاید ان کو دوزخ سے نکالا جارہا ہے۔،ان سے بھی کہا جائے گا: تم اس کو پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ یہ موت ہے۔ پھر حکم دیا جائے گا تو اس مینڈھے کوصراط پرذبح کر دیا جائے گا، پھر جنتیوں اور دوزخیوں کو کہا جائے گا: تم جہاں جہاں رہتے ہو، اب وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے، اب تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ یہ حدیث امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق صحیح ہے، اس لئے کہ اس کی سند میں یزید بن ہارون "ثبت "ہیں اور امام مسلمؒ نے ان کی روایات کونقل کیا ہے اور فضل بن موسیٰ السینانی اور عبد الوہاب بن عبدالمجید نے محمد بن عمرو سے روایت کرنے میں یزید بن ہارون کی موافقت کی ہے۔(فضل بن موسیٰ کی روایت درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يزيد بن هارون أنبا محمد بن عمرو ← عبد الله بن روح المدائني ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الْعَدْلُ، بِمَرْوَ،

Hadith 278

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 279

279 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، ثنا يُوْسُفُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مَوْقُوفًا -. «وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ» .

عبد الوہاب بن عبدالمجید کی روایت یہ ہے۔

«يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← يُوسُفُ بْنُ عِيسَی ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الحسن بن محمد بن حليم المروزي

Hadith 279

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 280

280 - فَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مَوْقُوفًا -، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. «وَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ هَذَا الْحَدِيثِ بِغَيْرِ هَذَا اللَّفْظِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 278 - على شرط مسلم

امام بخاری ؒ اور امام مسلمؒ دونوں نے اس حدیث کواعمش پھر ابوصالح پھر ابوسعید کے حوالے سے نقل کیا ہے تا ہم الفاظ ذرا مختلف ہیں۔

Hadith 280

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 281

281 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْأَزْرَقِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: قَامَ فِينَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَقَالَ: «يَا بَنِي أَوْدٍ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَعْلَمُونَ الْمَعَادَ إِلَى اللَّهِ، ثُمَّ إِلَى الْجَنَّةِ أَوْ إِلَى النَّارِ، وَإِقَامَةٌ لَا ظَعْنَ فِيهِ، وَخُلُودٌ لَا مَوْتٌ فِي أَجْسَادٍ لَا تَمُوتُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ رُوَاتُهُ مَكِّيُّونَ، وَمُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزِّنْجِيُّ إِمَامُ أَهْلِ مَكَّةَ وَمُفْتِيهِمْ إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ قَدْ نَسَبَاهُ إِلَى أَنَّ الْحَدِيثَ لَيْسَ مِنْ صَنَعْتِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 281 - صحيح الإسناد

حضرت عمر بن میمون اودی ؓ بیان کرتے ہیں، ہمارے درمیان معاذ بن جبل ؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:اے بنی اود !میں رسول اللہﷺکا سفیر ہوں ، تم جان لو کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے پھر یا جنت میں جانا ہوگا یا جہنم میں ۔ اور وہاں ایسا قیام کرنا ہوگا کہ پھر وہاں سے کبھی کوچ نہیں کرنا ہوگا، ہمیشہ وہیں رہنا ہے، روح کو ایسے جسم دیئے جائیں گے جن کو کبھی موت نہیں آئے گی۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اس کے تمام راوی مکی ہیں اور مسلم ؒ بن خالد الزنحی اہل مکہ میں سے ہیں اور مکہ کے مفتی ہیں، تاہم شیخين ؒکا موقف یہ ہے کہ روایت حدیث ان کا شعبہ نہیں ہے۔ والله اعلم۔

قَامَ فِينَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ← عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ، ← ابْنِ سَابِطٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← أحمد بن محمد بن الوليد الأزرقي ← أبو يحيى عبد الله بن أحمد بن أبي مسرة ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي بمكة

Hadith 281

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 282

282 - حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقَّاقُ، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَأَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ} [الرحمن: 46] قَالَ: «جَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ لِلسَّابِقِينَ، وَجَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ لِلتَّابِعِينَ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا «. إِنَّمَا خَرَّجَاهُ مِنْ حَدِيثِ الْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ " الْحَدِيثَ، وَلَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ السَّابِقِينَ وَالتَّابِعِينَ. سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ عَلِيَّ بْنَ عُمَرَ الْحَافِظَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْفَضْلِ الْوَزِيرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَأْمُونَ الْمِصْرِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيِّ: لِمَ تَرَكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدِيثَ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ؟، فَقَالَ: «وَاللَّهِ إِنَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ أَخْيَرُ وَأَصْدَقُ مِنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ» ، وَذَكَرَ حِكَايَةً طَوِيلَةً شَبِيهَةً بِالِاسْتِبْدَالِ بِالْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ حَمَّادٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 282 - على شرط مسلم

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے آیت وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ (الرحمٰن ۴۶) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: دو نہر یں سونے کی ہیں ، یہ پہلے جنت میں جانے والوں کے لئے ہیں اور دو نہر یں چاندی کی ہیں ، یہ ان کے بعد میں جانے والوں کے لئے ہیں۔یہ اسناد امام مسلم ؒ کے معیار پر ہے لیکن امام بخاری ؒاور امام مسلمؒ دونوں نے اس سندکو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا بلکہ انہوں نے اس کی سند حارث بن عبید، عبد العزیز بن عبد الصمد ، ابوعمران ،الجونی، ابوبکر بن ابو موسیٰ پھر ان کے والد تک پہنچا کر رسول پاک کا یہ ارشادنقل کیا ہے کہ "دونہریں چاندی کی ہیں (پھر پوری حدیث نقل کی ہے )تاہم اس میں"سابقین اور تا بعین‘‘ کا ذکر نہیں ہے۔ امام حاکم ؒ ابوالحسن علی بن عمر الحافظ کے واسطے سے ابوالفضل الوز یر کے حوالے سے مامون المصر ی کا یہ قول نقل کرتے ہیں:میں نے ابوعبدالرحمٰن النسائی سے پوچھا کہ امام بخاریؒ نے حماد بن سلمہ کی حدیث نقل کیوں نہیں کی؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم حماد بن سلمہ اسماعیل بن ابواولیس سے کہیں زیادہ بہتر اور اصدق ہے ۔ پھر حارث بن عبید کے حوالے سے حماد سے متعلق ایک طویل حکایت بیان کی۔

أَبِي مُوسَى، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَأَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقَّاقُ

Hadith 282

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 283

283 - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ، بِمَرْوَ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَوْمُ الْقِيَامَةِ كَقَدْرِ مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ إِنْ كَانَ سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ حَفِظَهُ عَلَى أَنَّهُ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 283 - على شرطهما

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: قیامت کے دن کے دورانیہ صرف اتناہی ہوگا جتنا وقت ظہر اور عصر کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ کے معیار پر صحیح الاسناد ہے۔ سوید بن نصر حافظ بھی ہے۔ ثقہ بھی ہے اور جرح سے بھی مامون ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ← يحيى بن ساسويه بن عبد الكريم، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ، بِمَرْوَ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Hadith 283

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 284

284 - فَقَدْ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجَّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كَقَدْرِ مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: قیامت کا دن مومنوں کے لئے صرف اتنا ہی ہوگا جتنا ظہر اور عصر کے درمیان کا وقت۔

«يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كَقَدْرِ مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجَّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، ← فَقَدْ

Hadith 284

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 285

285 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَكَلَّمْتَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقَدْرِ فَإِيَّاكَ أَنْ تُكْتَبَ إِلَيَّ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أَقْوَامٌ يُكَذِّبُونَ بِالْقَدَرِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَقَدِ احْتَجَّ بِأَبِي صَخْرٍ حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 285 - على شرط مسلم

حضرت نافع ؓ کہتے ہیں:ابن عمرؓ کا ایک شامی دوست تھا جو اکثر آپ کو خط وغیرہ لکھتا رہتا تھا ایک مرتبہ عبداللہ بن عمر ؓ نے اس کو مکتوب بھیجا جس میں لکھا تھا "مجھے معلوم ہوا ہے کہ تجھے قدر پر اعتراض ہے اس لئے آئندہ سے مجھے کوئی خط نہیں لکھنا کیونکہ میں نے رسول اللهﷺکو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو تقدیر کا انکار کریں گے ۔یہ حدیث امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ کیونکہ امام مسلم ؒصخر حمید بن زیاد کی روایات نقل کی ہیں۔

كَانَ لِابْنِ عُمَرَ صَدِيقٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُكَاتِبُهُ، ← نَافِعٍ ← أَبُو صَخْرٍ، ← سعيد بن أيوب ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← أبو عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقري ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 285

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 286

286 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، إِنْ صَحَّ سَمَاعُ أَبِي حَازِمٍ، مِنِ ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَشَاهِدُهُ 287 - مَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 286 - على شرطهما إن صح لأبي حازم سماع عن ابن عمر رضي الله عنهما

حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا:” قدر یہ" اس امت کے مجوسی ہیں اگر یہ بیمار پڑ جائیں تو ان کی عیادت نہ کرو اور مر جائیں تو ان کے جنازہ میں شرکت نہ کرو۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ ابوحازم کا سماع ابن عمر ؓ سے صحیح ہے۔ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے (جو کہ درج ذیل ہے)

«الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أبو داود سليمان بن الأشعث، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ

Hadith 286

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 287

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ شَرِيكٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدْرِ، وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ» هَذَا آخِرُ [ص:160] كِتَابِ الْإِيمَانِ

حضرت ابو ہریرہ ؓ، عمر بن خطاب ؓکے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:اہل قدر کے ساتھ نہ بیٹھو اور نہ ان کے ساتھ راز و نیاز کی باتیں کرو۔

«لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدْرِ، وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ» هَذَا آخِرُ [ص:160] كِتَابِ الْإِيمَانِ ← النَّبِيِّ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ ← یَّحْیَی بْنِ مَیْمُوْنِ الْحَضْرَمِیِّ ← حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ الْهُذَلِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ دِیْنَارٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ،

Hadith 287

chevron_left Previous
1…21222324
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section