المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 265
265 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: «أَعَاذَكَ اللَّهُ يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ» قَالَ: وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ؟ قَالَ: " أُمَرَاءُ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي لَا يَهْتَدُونَ بِهَدْيِي وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَا يَرِدُونَ عَلَيَّ حَوْضِي، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَسَيَرِدُونَ عَلَيَّ حَوْضِي، يَا كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَ الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ، وَالصَّلَاةُ قُرْبَانٌ - أَوْ قَالَ: بُرْهَانٌ - "
حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺنے کعب بن عجر ہ کو دعا دیتے ہوئے فرمایا: اے کعب! اللہ تعالٰی تجھے بے وقوفوں کی امارت سے بچائے ۔ کعب بن عجر ہ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! بے وقوفوں کی امارت کیا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: (بے وقوف)میرے بعد آنے والے دہ امراء ہوں گے جو میری تعلیمات پر عمل نہیں کریں گے، میری سنت کو سنت نہیں سمجھیں گے۔ جو شخص ان کے جھوٹ کوسچ قرار دے گا اور ان کے ظلم پر ان کی معاونت کرے گا، اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا، نہ میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق ہوگا نہ ہی یہ شخص میرے حوض کوثر پر آ سکے گا اور جو شخص ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرے گا، ان کے ظلم پر ان کی معاونت نہیں کرے گا ، وہ میری جماعت میں سے ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں اور وہ میرے حوض پر آئے گا(پھر آپ ﷺنے فرمایا) اے کعب بن عجر ہ! روزہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور نماز قرب الہی کا ذریعہ ہے یا ( شاید یہ ) فرمایا: دلیل ہے۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ← ابْنُ1 خُثَيْمٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،
Hadith 265
