Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 13

13 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعَجَّلَ اللَّهً لَهُ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّي عَلَى عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِأَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، وَاتَّفَقَا عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ، وَاحْتَجَّا جَمِيعًا بِالْحَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ بِيُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 13 - صحيح الإسناد

حضرت علی بن ابی طالبؓ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کے گناہ کی سزا دنیا میں دیدے تو اس کے عدل سےیہ قوی امید ہے کہ آخرت میں اس کو دوبارہ سزانہیں دے گا اور جس کے گناہ کی اللہ تعالی ٰنے دنیا میں پردہ پوشی کی اور سزانہ دی تو الله تعالیٰ کے فضل سے یہ قوی امید ہے کہ جس گناہ کو وہ معاف کر چکا ہے اس کی سزا دوباره نہیں دے گا۔: اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن صحیحین میں اس کو نقل نہیں کیا گیا حالانکہ امام بخاری ؒ اور امام مسلمؒ) دونوں نے اس حدیث کے راوی ابو حجیفہ کے حوالے سے حضرت علی ؓ کی روایات نقل کی ہیں۔ ابو اسحاق سے روایت لینے میں بھی دونوں متفق ہیں اور (اس حدیث کے راوی) حجاج بن محمد کی روایات بھی دونوں نے نقل کی ہیں اور امام مسلم ؒ نے (اس حدیث کے راوی) یونس بن ابواسحاق کی روایات بھی نقل کی ہیں۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← أَبِيهِ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 13

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 14

14 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ بِفَرَسٍ لَهُ يَقُودُهَا عَقُوقٍ وَمَعَهَا مُهْرَةٌ لَهَا يَتْبَعُهَا، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: «أَنَا نَبِيٌّ» ، قَالَ: مَا نَبِيٌّ؟ قَالَ: «رَسُولُ اللَّهِ» ، قَالَ: مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَيْبٌ وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ» قَالَ: أَرِنِي سَيْفَكَ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ، فَهَزَّهُ الرَّجُلُ ثُمَّ رَدَّهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكَ لَمْ تَكُنْ تَسْتَطِيعُ الَّذِي أَرَدْتَ» قَالَ: وَقَدْ كَانَ. . . قَالَ: اذْهَبْ إِلَيْهِ فَسَلْهُ عَنْ هَذِهِ الْخِصَالِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ اتَّفَقَا جَمِيعًا عَلَى الْحُجَّةِ بإيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِعَيْنِهِ فَحَدَّثَ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُوسُفَ بِغَيْرِ حَدِيثٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 14 - على شرط مسلم

ایاس بن سلمہ اپنے والد کا یہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک شخص گھوڑی پر سوار ہو کر آیا ( گھوڑی کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا) کہنے لگا: آپ کون ہیں؟ آپ ﷺنے جواباً فرمایا: میں نبی ہوں۔ اس نے پوچھا: نبی کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: اللہ کا رسول ۔ اس نے پوچھا: قیامت کب آئیگی؟ آپ ﷺنے فرمایا: (قیامت واقع ہونے کا معین وقت) غیب ہے اور غیب اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اس نے کہا: اپنی تلوار مجھے دیجیےے۔ نبی پاک ﷺنے اپنی تلوار اسے تھما دی اس نے تلوار پکڑ کر ) ہلائی پھر آپ کو واپس دے دی۔ رسول اللهﷺنے فرمایا: تو جو کچھ کرنا چاہتا تھا وہ نہیں کر سکا(۔۔۔۔۔۔۔ اس مقام پر مستدرک کے نسخہ میں جگہ خالی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔) اس نے کہا: اس کے پاس جاؤ اور ان خصلتوں کے بارے میں اس سے سوال کرو۔: یہ حدیث صحیح ہے لیکن صحیحین میں اس کو نقل نہیں کیا گیا حالانکہ ایاس بن سلمہ کی ان کے والد کے حوالے سے روایت کردہ احادیث دونوں نے نقل کی ہیں اور امام مسلم ؒنے تو بعینہ اسی سند کے ہمراہ حدیث نقل کی ہے اور احمد بن یوسف کی اس حدیث کے علاوہ دیگر روایات نقل کی ہیں۔

Hadith 14

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 15

15 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ خِلَاسٍ، وَمُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ فِيمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا جَمِيعًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ سِيرِينَ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَحَدَّثَ الْبُخَارِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ، عَنْ رَوْحٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خِلَاسٍ، وَمُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قِصَّةَ مُوسَى أَنَّهُ آدَرُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 15 - على شرطهما

حضرت ابو ہریرہ ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: جوشخص نجومی یا کاہن کے پاس آئے اور ان کی پیشین گوئی کو سچا جانے ، اس نے نبی پاک ﷺکی تعلیمات کا انکار کیا۔: یہ حدیث امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ) دونوں کے معیار کے مطابق ابن سیرین کی سند کے لحا ظ سےصحیح ہے، لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا اور امام بخاریؒ نے بالترتیب اسحاق، روح، عوف، خلاس اورمحمد کے بعد ابو ہریرہ ؓکے حوالے سے موسیٰ علیہ السلام کے آدر( آماس خصیہ والا ) ہونے کا قصہ بیان کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خِلَاسٍ وَمُحَمَّدٍ ← عَوْفٌ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أحمد بن مهران الاصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Hadith 15

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 16

16 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، ثنا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، ثنا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا هِصَّانُ بْنُ كَاهِلٍ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ كَاهِنٌ قَالَ: جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ وَلَا أَعْرِفُهُ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ تَمُوتُ لَا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، يَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهَا» . قَالَ: فَقُلْتُ: أَأَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ مُعَاذٍ، فَعَنَّفَنِي الْقَوْمُ، فَقَالَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ لَمْ يُسِيءِ الْقَوْلَ، نَعَمْ، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَزَعَمَ مُعَاذٌ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَقَدْ تَدَاوَلَهُ الثِّقَاتُ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ جَمِيعًا بِهَذَا اللَّفْظِ، وَالَّذِي عِنْدِي - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - أَنَّهُمَا أَهْمَلَاهُ لِهِصَّانِ بْنِ كَاهِلٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ كَاهِنٍ، فَإِنَّ الْمَعْرُوفَ بِالرِّوَايَةِ عَنْهُ حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَدَوِيُّ فَقَطْ «. وَقَدْ ذَكَرَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، أَنَّهُ رَوَى عَنْهُ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ أَيْضًا،» وَقَدْ أَخْرَجَا جَمِيعًا عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الثِّقَاتِ لَا رَاوِيَ لَهُمْ إِلَّا وَاحِدٌ، فَيَلْزَمُهُمَا بِذَلِكَ إِخْرَاجُ مِثْلِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 16 - هصان وثقه ابن حبان

حصان بن کابل بیان کرتے ہیں: میں ایک ایسی محفل میں گیا جس میں حضرت عبد الرحمٰن بن سمرہ بھی موجود تھے لیکن میں انہیں پہچانتا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معاذ بن جبل ؓنے یہ حدیث شریف سنائی ہے: رسول الله ﷺنے فرمایا: جوشخص مرتے وقت مشرک نہ ہو اور سچے دل سے میرے رسول اللہ ہونے کی گواہی دیتا ہو ، الله تعالیٰ اسے بخش دے گا (ہصان بن کاہل کہتے ہیں : میں نے عبدالرحمٰن بن سمرہ سے) کہا: کیا آپ نے یہ حدیث حضرت معاذ ؓسے سنی ہے؟ (میرے یہ کہنے پر )سارے لوگ میرے اوپر پل پڑے۔ اس پر عبدالرحمٰن نے لوگوں کو سمجھایا کہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ اس نے کوئی بری بات نہیں کی (حصان کہتے ہیں: پھر عبد الرحمٰن نے میری طرف متوجہ ہو کر) کہا: جی ہاں! میں نے یہ حدیث حضرت معاذ بن جبل ؓسے سنی ہے اور معاذ کا یہ خیال تھا کہ انہوں نے یہ حدیث رسول اللہﷺسے سنی ہے۔: یہ حدیث کی ہے اور ثقہ راوی اسے عموماً روایت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود امام بخاری ؒ اور امام مسلمؒ میں سے )کسی نے بھی اسے ان لفظوں کے ساتھ نقل نہیں کیا ۔حقیقت حال تو الله ہی بہتر جانتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اس حدیث کو حصان بن کابل کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے (حصان بن کابل کو حصان بن کا ہن بھی کہا جاتا ہے ) (ان کی روایت چھوڑنے کی وجہ شاید یہ ہے کہ) ان کے مشہور شاگردصرف حمید بن ہلال العدوی ہی ہیں جبکہ ابن ابی حاتم نے لکھا ہے کہ ان سے قره بن خالد نے بھی روایت لی ہے (امام بخاری ؒ اور امام مسلمؒ ) دونوں نے ایسے کتنے ہی ثقہ راویوں کی حدیثیں نقل کی ہیں جن سے روایت لینے والوں کی تعداد ایک سے زیادہ نہیں ۔ اسی طرح ان کو حصان بن کا ہل کی روایت بھی نقل کرنی چاہیے تھی۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ وَلَا أَعْرِفُهُ، فَقَالَ: ← هِصَّانُ بْنُ كَاهِلٍ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ كَاهِنٌ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ إملاء،

Hadith 16

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 17

17 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّا بِرُوَاتِهِ عَنْ آخِرهِمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 17 - هذا حديث صحيح على شرط الشيخين

حضرت ابو امامہ بابلیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللهﷺنے ارشادفرمایا: حیا اور خاموشی ایمان کی دو شاخیں ہیں ۔ بے حیائی اور یاوہ گوئی نفاق کی دو شاخیں ہیں۔یہ حدیث شیخین ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن صحیحین میں اس کو نقل نہیں کیا گیا۔ حالانکہ (امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ) دونوں نے اس حدیث کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 17

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 18

18 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَانِ، الْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَانِ» . «قَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِصَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 18 - احتج مسلم بصالح

حضرت ابو امامہؓ اپنے والد کے حوالے سے رسول اللهﷺکا یہ ارشانقل کرے ہیں" شکستہ حالی کا تعلق ایمان سے ہے"۔ امام مسلم ؒ نے(اس حدیث کے راوی) صالح بن ابوصالح السمان کی روایات نقل کی ہیں۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 18

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 19

19 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «اعْبُدُوا رَبُّكُمْ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَصُومُوا شَهْرِكُمْ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَا نَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ بِأَحَادِيثِ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ وَسَائِرُ رُوَاتِهِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 19 - على شرط مسلم ولا نعرف له علة

حضرت ابوامامہ باہلیؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہﷺکو حجتہ الوداع کے دن یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: (اے لوگو) اپنے رب کی عبادت کرو، پنجگانہ نماز ادا کرو، ماہ رمضان کے روزے رکھو، اپنے مال کی زکوۃ ادا کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو (اس طرح کرنے سے ) تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔یہ حدیث امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں۔ لیکن شخیین ؒنے اس کونقل نہیں کیا حالانکہ امام بخاری ؒ اور مسلم ؒنے سلیم بن عامر کی احادیث نقل کی ہیں اور اس حدیث کے تمام راوی متفق علیہم ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ← أَبِي يَحْيَى سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 19

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 20

20 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمْدَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ} [الإسراء: 101] فَقَالَ: لَا تَقُولُوا لَهُ نَبِيٌّ، فَإِنَّهُ لَوْ سَمِعَكَ لَصَارَتْ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ، قَالَ: فَسَأَلَاهُ، فَقَالَ: «لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَسْحَرُوا، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ، وَلَا تَقْذِفُوا مُحْصَنَةً، وَأَنْتُمْ يَا يَهُودُ عَلَيْكُمْ خَاصَّةً أَلَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ» فَقَبَّلَا يَدَهُ وَرِجْلَهُ، وَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ، فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُسْلِمَا؟» قَالَا: إِنَّ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ دَعَا أَنْ لَا يَزَالَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ، وَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَقْتُلَنَا يَهُودُ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً بِوَجْهٍ مِنَ الْوُجُوهِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَا ذَكَرَ الصَّفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ حَدِيثًا وَاحِدًا سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ الْحَافِظَ، وَيَسْأَلَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: لِمَ تَرَكَا حَدِيثَ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ أَصْلًا؟ فَقَالَ: لِفَسَادِ الطَّرِيقِ إِلَيْهِ ". قَالَ الْحَاكِمُ: " إِنَّمَا أَرَادَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا حَدِيثَ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ فَإِنَّهُمَا تَرَكَا عَاصِمَ بْنَ بَهْدَلَةَ، فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ وَيُقَالُ: الْهَمْدَانِيُّ وَكُنْيَتُهُ أَبُو الْعَالِيَةِ، فَإِنَّهُ مِنْ كِبَارِ أَصْحَابِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ «. وَقَدْ رَوَى عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الصَّحَابَةِ،» وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنَ التَّابِعِينَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 20 - صحيح لا نعرف له علة

حضرت صفوان بن عسال المرادی ؓ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: میرے ساتھ اس نبی کے پاس چلو، ہم اس آیت ولقذاتينا موسیٰ تسع آيات بينات "اور بیشک ہم نے موسیٰ کو روشن نشانیاں دیں‘‘ کے متعلق سوالات کرتے ہیں ۔ اس یہودی نے کہا: اس کو"نبی‘‘ نہ ہو کہ اگر اس نے تیری یہ بات سن لی تو اس کی آنکھیں چار ہوجائیں گی۔(صفوان کہتے ہیں) ان دونوں نے نبی پاک ﷺسے اس آیت کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے جواباً فر مایا:وہ ۹ نشانیاں یہ ہیں (1) شرک نہ کرو (۲) چوری نہ کرو (۳) زنا نہ کرو (۴) ناحق قتل نہ کرو (۵) جادو نہ کرو (۶) سود نہ کھاؤ (۷) کسی بے گناہ کو مروانے کے لئے بادشاہ کے پاس اس کی شکایت نہ کرو(۸) کسی پاک دامن عورت پر تہمت نہ لگا و(۹) (اور آپﷺنے فرمایا) : اے یہودیو!(یہ نواں حکم ) خاص طور پر تمہارے لئے ہے کہ ہفتے کے دن کے معاملہ میں حد سے تجاوز نہ کرو ( آپ ﷺکی آیت سے متعلق اس قدر واضح تشریح سن کر انہوں نے آپ ﷺکے ہاتھوں اور پاؤں کو بوسہ دیا اور کہنے لگے : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ آپﷺنے پوچھا: تو پھرتم اسلام قبول کیوں نہیں کر لیتے ؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت داؤد علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی کہ (یا الله ) نبی ہمیشہ میری اولاد میں بھیجنا اور ہمیں یہ ڈر ہے کہ (اگر ہم مسلمان ہو گئے تو) یہودی ہمیں مار ڈالیں گے۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے اورشیخین ؒنے اسے نقل نہیں کیا بلکہ انہوں نے تو صفوان بن عسال کا کسی حیثیت سے ذکر تک نہیں کیا محمد بن عبد اللہ نے ابو عبد اللہ محمد بن یعقوب الحافظ سے پوچھا کہ شیخین ؒ کے صفوان بن عسال کی روایت نقل نہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ان تک سلسلہ سند ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے۔

صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 20

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 21

21 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ، وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ» قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «جَارٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» قَالُوا: وَمَا بَوَائِقُهُ؟ قَالَ: «شَرُّهُ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا، إِنَّمَا أَخْرَجَا حَدِيثَ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 21 - في الصحيحين نحوه للأعرج

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: خدا کی قسم مومن نہیں ہے، خدا کی قسم مومن نہیں ہے،خدا کی قسم مومن نہیں ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللیہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول الله کون؟ فرمایا: وہ شخص جس کا پڑوسی اس کے"بوائق‘‘سے محفوظ نہ ہو۔ صحابہ کرام ؓنے عرض کیا: (یا رسول اللہ ) بوائق کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا:شر۔ یہ حدیث شیخین ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہےلیکن انہوں نے اسے اس طریق سے نقل نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ حدیث ابو الزنا داعرج کے ذریعے ابو ہریرہ ؓکے حوالے سے نقل کی ہے(وہ حدیث شریف یہ ہے) نبی اکرم ﷺنے فرمایا: وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے اعمال کی وجہ سے اس کے پڑوسی تکلیف میں ہوں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ الحسن بن علي بن زياد ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 21

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 22

22 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهَانِ قَالَا: ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ» قَدِ اتَّفَقَا عَلَى إِخْرَاجِ طَرَفِ حَدِيثِ «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» وَلَمْ يُخَرِّجَا هَذِهِ الزِّيَادَةَ وَهِيَ صَحِيحَةٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ أُخْرَى عَلَى شَرْطِهِ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 22 - لم يخرج مسلم نصفه الثاني

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: کامل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمانوں کو تکلیف نہ پہنچے اور کامل مومن وہ ہے جو لوگوں کی جان اور مال کو نقصان نہ پہنچائے۔ : اس حدیث کا ایک حصہ المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده امام مسلم ؒ اور امام بخاری ؒ دونوں نے نقل کیا ہے لیکن دوسراحصہ چھوڑ دیا حالانکہ مجھے بھی امام مسلمؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔درج ذیل حدیث میں ایک اور اضافہ بھی ہے جو کہ امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن شیخینؒ میں سے کسی نے بھی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهَانِ

Hadith 22

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 23

23 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ» . «وَزِيَادَةٌ أُخْرَى صَحِيحَةٌ عَلَى شَرْطِهِمَا وَلَمْ يُخَرِّجَاهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 23 - لم يخرجا أكمل المؤمنين

حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: کامل مومن وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمانوں کو تکلیف نہ پہنچے۔درج ذیل حدیث میں حدیث کے ساتھ کچھ اضافہ بھی ہے جو کہ شیخینؒ کے معیار کے مطابق ہے لیکن دونوں میں سے کسی نے بھی اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرًا ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 23

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 24

24 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالْمُؤْمِنِ؟ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ، وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةٍ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ الْخَطَايَا وَالذُّنُوبَ» وَزِيَادَةٌ أُخْرَى عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 24 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت فضالہ بن عبیدؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہﷺنے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا : کیا میں تمہیں مومن کے بارے میں بتاؤں ( کامل مومن وہ ہے) جس سے لوگوں کے جان و مال محفوظ ہوں (کامل ) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرے اور مہاجر وہ ہے جو گناہوں اور برائیوں کو چھوڑ دے۔درج ذیل حدیث میں کچھ اضافہ ہے جو کہ امام مسلمؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخینؒ میں سے کسی نے بھی اسے نقل نہیں کیا۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ اللَّيْثِيِّ، ← أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← اللَّيْثُ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ الْقَاضِي،

Hadith 24

chevron_left Previous
1234…24
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section