المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 13
13 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعَجَّلَ اللَّهً لَهُ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّي عَلَى عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِأَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، وَاتَّفَقَا عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ، وَاحْتَجَّا جَمِيعًا بِالْحَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ بِيُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 13 - صحيح الإسناد
حضرت علی بن ابی طالبؓ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: اگر اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کے گناہ کی سزا دنیا میں دیدے تو اس کے عدل سےیہ قوی امید ہے کہ آخرت میں اس کو دوبارہ سزانہیں دے گا اور جس کے گناہ کی اللہ تعالی ٰنے دنیا میں پردہ پوشی کی اور سزانہ دی تو الله تعالیٰ کے فضل سے یہ قوی امید ہے کہ جس گناہ کو وہ معاف کر چکا ہے اس کی سزا دوباره نہیں دے گا۔: اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن صحیحین میں اس کو نقل نہیں کیا گیا حالانکہ امام بخاری ؒ اور امام مسلمؒ) دونوں نے اس حدیث کے راوی ابو حجیفہ کے حوالے سے حضرت علی ؓ کی روایات نقل کی ہیں۔ ابو اسحاق سے روایت لینے میں بھی دونوں متفق ہیں اور (اس حدیث کے راوی) حجاج بن محمد کی روایات بھی دونوں نے نقل کی ہیں اور امام مسلم ؒ نے (اس حدیث کے راوی) یونس بن ابواسحاق کی روایات بھی نقل کی ہیں۔
عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← أَبِيهِ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ
Hadith 13
