Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 205

205 - حَدَّثَنَا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُعَيْمٍ الْمَدَنِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ الْحِمَارَ، وَيَلْبَسُ الصُّوفَ، وَيَعْتَقِلُ الشَّاةَ، وَيَأْتِي مُرَاعَاةَ الضَّيْفِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا ذَكَرْتُهُ فِي هَذِهِ الْمَوَاضِعِ لِأَنَّ هَذِهِ الْخَلَّالَ مِنَ الْإِيمَانِ وَلَهُ شَاهِدٌ يَنْفَرِدُ بِهِ زَبَّانُ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابوموسیٰ ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺگدھے پر سواری کر لیا کرتے تھے، اونی لباس پہن لیتے تھے (خود اپنے ہاتھ سے ) بکریوں کا دودھ دوھ لیا کرتے تھے اور مہمان کی عزت کیا کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلمؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ میں نے اس حدیث کو کتاب الایمان میں اس لئے ذکر کیا ہے کہ یہ عادات ایمان کی علامات میں سے ہیں۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث ہے جس میں"زبان بن فائد"منفرد ہیں لیکن شیخینؒ نے اسے نقل نہیں کیا۔ (شاہد حدیث درج ذیل ہے)

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← شيبان أبو معاوية ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُعَيْمٍ الْمَدَنِيُّ، ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 205

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 206

206 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ وَهُوَقَادِرٌ عَلَيْهِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ دَعَاهُ اللَّهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ، حَتَّى يُخَيَّرَ فِي حُلَلِ الْإِيمَانِ يَلْبَسُ أَيَّهَا شَاءَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 206 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت سھل بن معاذ بن انس الجھنی ؓنے اپنے والد کے حوالے سے رسول اللہ ﷺکا یہ فرمان نقل کیا ہے: جس شخص نے اچھا لباس پہنے پر قادر ہونے کے باوجود صرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کرتے ہوئے خوش لباسی ترک کی ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کو تمام مخلوقات کے سامنے(عزت دے گا )اور اسے اس بات کا اختیار دیا جائے گا کہ ایمان کے حلوں میں سے جو چاہے پہن لے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 206

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 207

207 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الشَّامِ وَمَعَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَأَتَوْا عَلَى مَخَاضَةٍ وَعُمَرُ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ فَنَزَلَ عَنْهَا وَخَلَعَ خُفَّيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَلَى عَاتِقِهِ، وَأَخَذَ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَخَاضَ بِهَا الْمَخَاضَةَ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْتَ تَفْعَلُ هَذَا، تَخْلَعُ خُفَّيْكَ وَتَضَعُهُمَا عَلَى عَاتِقِكَ، وَتَأْخُذُ بِزِمَامِ نَاقَتِكَ، وَتَخُوضُ بِهَا الْمَخَاضَةَ؟ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أَهْلَ الْبَلَدِ اسْتَشْرَفُوكَ، فَقَالَ عُمَرُ: «أَوَّهْ لَمْ يَقُلْ ذَا غَيْرُكَ أَبَا عُبَيْدَةَ جَعَلْتُهُ نَكَالًا لَأُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا كُنَّا أَذَلَّ قَوْمٍ فَأَعَزَّنَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ فَمَهْمَا نَطْلُبُ الْعِزَّةَ بِغَيْرِ مَا أَعَزَّنَا اللَّهُ بِهِ أَذَلَّنَا اللَّهُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ لِاحْتِجَاجِهِمَا جَمِيعًا بأيوبَ بْنِ عَائِذٍ الطَّائِيِّ وَسَائِرِ رُوَاتِهِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 207 - على شرطهما

طارق بن شہاب کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب ؓ شام کی طرف روانہ ہوئے ، ان کے ساتھ (میں بھی تھا اور ) ابوعبیدہ بن جراح ؓبھی تھے (چلتے چلتے)ایک جھیل پر پہنچے حضرت عمر ٹؓ اونٹنی پر سوار تھے۔ آپ اس سے نیچے اترے، اپنے جوتے اتار کر کندھوں پر رکھ لئے اور اونٹنی کی لگام پکڑ کر(پیدل چلتے ہوئے )جھیل میں داخل ہو گئے۔ اس پر حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓنے کہا:اے امیر المومنین ( آپ نے یہ کیا کیا؟ ) جوتے اتار کر کندھوں پر ر کھ لئے ہیں اور اونٹنی کی لگام پکڑ کر پیدل چل رہے ہیں؟ میرادل یہ چاہتا ہے کہ شہر کے لوگ آ پکی ( آپ کے حسب مرتبہ ) عزت کریں۔ آپ نے فرمایا: اے ابوعبیدہ؟ یہ بات تیرے سوا کسی اور نے نہیں کہی۔ میں امت محمدیہ کے لئے اس کو ایک مثال بنانا چاہتا ہوں۔ ہم ذلیل و رُسوا لوگ تھے، اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بدولت ہمیں عزت بخشی ۔ اب اگر ہم الله تعالی ٰکے دیئے ہوئے مقام عزت کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ عزت ڈھونڈیں گے تو اللہ میں ذلیل کرے گا۔: یہ حدیث امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے کیونکہ دونوں نے ایوب بن عائذ اوراس حدیث کی سند کے باقی تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے یہ مذکورہ حدیث نقل نہیں کی ۔ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جواعمش نے قیس بن مسلم کے حوالے سے روایت کی ہے۔ (وہ روایت درج ذیل ہے)

خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الشَّامِ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ الطَّائِيِّ ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 207

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 208

208 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عُمَرُ الشَّامَ لَقِيَهُ الْجُنُودُ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ وَخُفَّانِ وَعِمَامَةٌ وَهُوَ آخِذٌ بِرَأْسِ بَعِيرِهِ يَخُوضُ الْمَاءَ، فَقَالَ لَهُ - يَعْنِي قَائِلٌ - يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ تَلْقَاكَ الْجُنُودُ وَبَطَارِقَةُ الشَّامِ وَأَنْتَ عَلَى حَالِكَ هَذَا؟ فَقَالَ عُمَرُ: «إِنَّا قَوْمٌ أَعَزَّنَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، فَلَنْ نَبْتَغِيَ الْعِزَّةَ بِغَيْرِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 208 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

طارق بن شہاب روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب ؓملک شام پہنچے اور وہاں کی افواج کے سربراہوں سے ملاقات کی ، اس وقت آپ موزے، عمامہ پہنے ہوئے تھے اور ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی ۔ اپنی اونٹنی کی مہار پکڑے جھیل سے گزر رہے تھے کسی نے آپ سے عرض کی :حضور! آپ شام کی افواج کے جرنیلوں سے ملا قات کررہے ہیں اور اس حالت میں ملاقات کرنا آپ کی عزت و شان کے مطابق نہیں ہے، اس پر حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا: الله تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی بدولت عزت عطا فرمائی ہے، اس لئے ہم اسے چھوڑ کر کسی دوسرے ذرایعہ سے عزت نہیں پاسکتے۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 208

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 209

209 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَيَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا» ، «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ فَقَدِ احْتَجَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصِبِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» . وَشَاهِدُهُ الْحَدِيثُ الْمَعْرُوفُ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ. وَفِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «وَيَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ» ، «وَإِنَّمَا تَرَكْتُهُ لِأَنَّ رَاوِيَةَ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 209 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: جوشخص بچوں پر رحم نہیں کرتا اور بڑوں کا حق نہیں پہچانتاوہ ہمارے طریقہ پر نہیں ہے۔ یہ حدیث امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ امام مسلم ؒ نے "عبد اللہ بن عامر الیحصبی‘‘ کی روایات نقل کی ہیں۔ اور اس کی ایک شاہد حدیث معروف ہے جس کی سند محمد بن اسحاق اور دیگر محدثین ؒ کے ذریعے عمرو بن شعیب پھر ان کے والد سے ہوتی ہوئی ان کے دادا تک پہنچتی ہے اور ایک روایت عکرمہ نے حضرت ابن عباس ؓکے حوالے سے بھی نقل کی ہے، اس حدیث میں "یامر بالمعروف و ینھی عن المنکر “ کے الفاظ بھی موجود ہیں (امام حاکم ؒکہتے ہیں) میں نے اس حدیث کو اس لئے ترک کیا ہے کہ اس میں"لیث بن ابی سلیم "موجود ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَيَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 209

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 210

210 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا وَارِثُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ خَالِدُ بْنُ مِهْرَانَ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَرَكَةُ مَعَ أَكَابِرِكُمْ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 210 - على شرط البخاري

حضرت ابن عباس ؓ فر ماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فر مایا:برکت تمہارے اکابرین کے ساتھ ہے۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒدونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ خَالِدُ بْنُ مِهْرَانَ الْحَذَّاءُ، ← وَارِثُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ← أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 210

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 211

211 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، وَثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَا: ثنا يَحْيَى - يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعِيدٍ - ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أُحَرِّجُ عَلَيْكُمْ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 211 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایا: میں دو کمزور صنفوں کی حق تلفی تم پر حرام کرتا ہوں ۔ (1) یتیم (۲) عورت۔یہ حدیث امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعِيدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← مُسَدَّدٌ، وَثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 211

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 212

212 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ يُجَالِسُ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: فَجَمَعَ حَدِيثًا فَلَقِيَ أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى وَحَوْلَهُ النَّاسُ، قَالَ: فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ حَتَّى مَسَّتْ رُكْبَتِي رُكْبَتَيْهِ، فَنَسِيتُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ وَتَفَلَّتَ مِنِّي كُلُّ شَيْءٍ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ فَجَعَلْتُ أَتَذْكُرُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلَ بِهِ الْعَبْدُ دَخَلَ الْجَنَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُؤْمِنُ بِاللَّهِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مَعَ الْإِيمَانِ عَمَلًا؟ قَالَ: «يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللَّهُ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَ مُعْدَمًا لَا شَيْءَ لَهُ؟ قَالَ: «يَقُولُ مَعْرُوفًا بِلِسَانِهِ» قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ عَيِيًّا لَا يَبْلُغُ عَنْهُ لِسَانُهُ؟ قَالَ: «فَلْيُعِنْ مَغْلُوبًا» قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ ضَعِيفًا لَا قُوَّةَ لَهُ؟ قَالَ: «فَلْيَصْنَعْ لِأَخْرَقَ» قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ أَخْرَقَ؟ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: «مَا تُرِيدُ أَنْ تَدَعَ فِي صَاحِبِكَ خَيْرًا؟» قَالَ: «يَدَعُ النَّاسَ مِنْ أَذَاهُ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا لَيَسِيرٌ كُلُّهُ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْهُنَّ خَصْلَةٌ يَعْمَلُ بِهَا عَبْدٌ يَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أَخَذَتْ بِيَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَمْ تُفَارِقْهُ حَتَّى تُدْخِلَهُ االْجَنَّةَ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ فَقَدِ احْتَجَّ فِي كِتَابِهِ بِأَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ وَاسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ وَهُوَ تَابِعِيٌّ مَعْرُوفٌ يُقَالُ لَهُ: أَبُو كَثِيرٍ الْأَعْمَى، وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 212 - على شرط مسلم

ابوکثیر الز بیدی کے والد حضرت ابوذرؓ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے اور احادیث جمع کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ حضرت ابوذر ؓ سے ملاقات کے لئے گئے تو وہ"جمرہ وسطی‘‘کے پاس تشریف فرما تھے اور ان کے اردگرد بہت سارے لوگ جمع تھے ( ابو کثیر الزبیدی کے والد) کہتے ہیں: میں اس مجلس میں حضرت ابوذر ؓکے اتنے قریب جا کر بیٹھا کہ میرے گھٹنے ان کے گھٹنوں سے لگ رہے تھے(ان کے پاس بیٹھتے ہی میں جو کچھ سو چ کر آیا تھا سب کچھ بھول گیا اور ) کچھ یاد نہ رہا کہ میں کیا سوال کرنا چاہتا تھا ، میں آسمان کی طرف چہرہ کر کے سوچنے لگا(جب مجھے یاد آ گیا)تو میں نے کہا: اے ابوذر! آپ مجھے کوئی عمل ایسا بتادیں جس پر عمل کر کے میں جنت میں چلا جاؤں ، انہوں نے فرمایا: نبی اکرم ﷺنے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ۔ میں نے عرض کی :یا رسول اللہﷺ! کیا ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی ضروری ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، اس میں سے خرچ کرو ۔ میں نے عرض کی :یارسول اللہﷺ! اگر کوئی شخص اتنا محتاج ہو کہ اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو(وہ کیا کرے؟) آپ ﷺنے فرمایا: وہ زبان سے اچھی بات کرے، میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺاگر وہ زبان سے کچھ نہ بول سکے (وہ کیا کرے ؟) آپ ﷺنے فرمایا: وہ کسی مظلوم کی مدد کر دے۔ میں نے عرض کی: اگر وہ خود کمزور و ناتواں ہو کسی کی مدد نہ کرسکتا ہو (وہ کیا کرے؟) آپ ﷺنے فرمایا :کسی کسب سے عاجز آدمی کے لئے کسب کرے، میں نے عرض کی: اگر وہ خود کسب سے عاجز ہو (وہ کیا کرے؟ )اس پر رسول اکرمﷺمیری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے : تو اپنے ساتھیوں کے لئے کوئی بھلائی نہیں چھوڑنا چاہتا؟ آپ ﷺنے فرمایا:لوگ اس عمل کو چھوڑ دیتے ہیں جو ان کو تکلیف دیتا ہے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! میرے سوالات کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کے لئے آسانی ہو جائے۔ آپ ﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، ان مذکور خصلتوں میں سے کسی پربھی بند ہ محض رضائے الہیٰ کی خاطر عمل کرے تو قیامت کے دن یہ خصلتیں اس وقت تک اس کا ہاتھ نہیں چھوڑیں گی جب تک وہ جنت میں داخل نہ ہو جائے۔

فَجَمَعَ حَدِيثًا فَلَقِيَ أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى وَحَوْلَهُ النَّاسُ، ← أَبِيهِ، وَكَانَ يُجَالِسُ أَبَا ذَرٍّ، ← أَبُو كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيُّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 212

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 213

213 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَارِثٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «التُّؤَدَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ خَيْرٌ إِلَّا فِي عَمَلِ الْآخِرَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 213 - على شرطهما

حضرت اعمش بیان کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺنے فرمایا: اعمالِ آخرت کے سوا ہر کام میں سوچ بچار کرنا اچھا ہے ۔یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒدونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

النَّبِيِّ ← الْأَعْمَشُ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَارِثٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 213

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 214

214 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ: رَحِمَكَ اللَّهُ رَبُّكَ يَا آدَمُ، وَقَالَ لَهُ: يَا آدَمُ، اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ الْمَلَائِكَةِ إِلَى مَلَأٍ مِنْهُمْ جُلُوسٍ، فَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَذَهَبَ فَقَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: هَذِهِ تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ وَبَنِيهِمْ، فَقَالَ اللَّهُ لَهُ وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ: اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَقَالَ: اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ، ثُمَّ بَسَطَهَا، فَإِذَا فِيهَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: ذُرِّيَّتُكَ، فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ مَكْتُوبٌ عُمْرُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَإِذَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَضْوَؤُهُمْ - أَوْ قَالَ: مِنْ أَضْوَئِهِمْ - لَمْ يُكْتَبْ لَهُ إِلَّا أَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: يَا رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهِ، قَالَ: ذَاكَ الَّذِي كُتِبَ لَهُ، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ عُمْرِي سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: أَنْتَ وَذَاكَ، قَالَ: ثُمَّ أُسْكِنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهِ، فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: قَدْ عَجِلْتَ قَدْ كُتِبَ لِي أَلْفُ سَنَةٍ، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لِابْنِكَ دَاوُدَ مِنْهَا سِتِّينَ سَنَةً، فَجَحَدَ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَنَسِيَ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ، فَيَوْمَئِذٍ أُمْرِنَا بِالْكِتَابِ وَالشُّهُودِ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ فَقَدِ احْتَجَّ بِالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، وَقَدْ رَوَاهُ عَنْهُ غَيْرُ صَفْوَانَ، وَإِنَّمَا خَرَّجْتُهُ مِنْ حَدِيثِ صَفْوَانَ لِأَنِّي عَلَوْتُ فِيهِ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ " [ص:133]. [التعليق - من تلخيص الذهبي] 214 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہر یرہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکر م ﷺنے ارشادفرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان میں روح ڈالی تو ان کو چھینک آئی (چھینک آنے پر) آپ نے کہا: الحمدللہ ۔ اللہ کے حکم واذن سے۔ انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم علیہ السلام !تمہارا رب تم پر رحم کرے ۔ پھر آدم علیہ السلام نے فرمایا: فرشتوں کی وہ جماعت جو بیٹھی ہوئی ہے ان کے پاس جا وّاورکہو: السلام علیکم ! آدم علیہ السلام نے ان کے پاس جا کر اسی طرح کہا۔ تو انہوں نے جوابا ًکہا: وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ پھر آدم علیہ السلام لوٹ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تمہارا ،تمہاری اولادوں اور ان کی اولادوں کا سلام ہے۔ الله تعالیٰ نے دونوں ہاتھوں کو سمیٹ کر فرمایا :ان میں سے جو ہاتھ چاہو پسند کرلو۔ آدم علیہ السلام نے عرض کی : میں اپنے رب کا دایاں ہاتھ اختیار کرتا ہوں حالانکہ الله تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں اور دونوں میں برکت ہے پھر الله تعالیٰ نے اپنا ہاتھ کھول دیا، اس میں آدم علیہ السلام اور ان کی تمام اولا دموجودتھی ۔ یہ دیکھ کر آدم علیہ السلام نے دریافت کیا: یا اللہ !یہ کون ہیں؟ فرمایا: تیری اولاد ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے ماتھے پر اس کی عمر لکھی ہوئی تھی۔ ان میں ایک شخص انتہائی روشن چہرے والا تھا، اس کی عمر صرف ۶۰سال لکھی گئی تھی ۔ آدم علیہ السلام نے الله تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی یا للہ !اس کی عمر میں اضافہ فرمادے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس کی عمر تو وہی ہے جو لکھ دی گئی ہے۔ آدم علیہ السلام نے عرض کی :یا الله میری عمر میں سے ساٹھ سال اس کو دے دے۔ اللہ تعالی ٰنے فرمایا: جیسے آپ کی مرضی (حضور ﷺنے )فرمایا: پھر وہ جنت میں رہے جتنی دیراللہ تعالیٰ نے انہیں وہاں رکھا۔ پھر آدم علیہ السلام کو جنت سے اتارا گیا اور اپنی عمر گزارنے لگے، پھر ایک مرتبہ ملک الموت ان کے پاس آئے ، آدم علیہ السلام نے کہا: آپ جلدی آ گئے ہیں (ابھی تو میری عمر باقی ہے کیونکہ ) الله تعالی نے میری عمر ہزار سال لکھی ہے ۔ ملک الموت نے کہا: کیوں نہیں ( آپ کی عمر تو ہزار سال ہی لکھی گئی تھی) لیکن آپ نے اپنی عمر سے ۶۰ سال اپنے بیٹے داد دکودے دیئے ہیں ۔ اس پر آدم علیہ السلام نہ مانے ، اسی طرح ان کی اولاد بھی نہیں مانتی۔ وہ اپنا وعدہ بھول گئے ، ان کی اولاد بھی وعدے بھول جاتی ہے۔ اس دن سے میں لکھنے اور گواہ قائم کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ حدیث امام مسلم ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے کیونکہ امام مسلم ؒنے حارث بن عبد الرحمٰن بن ابوذباب کی روایات نقل کی ہیں اور ان سے صفوان کے علاوہ بھی کئی محد ثین ؒ نے روایات کی ہیں ، میں نے صفوان کی روایت اس لئے نقل کی ہے کہ ان کے ذریے میری سند"عالی "ہے۔ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ صحیح ہے۔(شاہد حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي ← بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي بِمِصْرَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 214

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 215

215 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ الشَّاشِيُّ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو بَكْرٍ عَرُوبَةُ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 215 - صحيح

مذکورہ سند کے ہمراہ بھی حضرت ابو ہریرہ ؓ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا اسی جیسا فرمان منقول ہے۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ [التعليق من تلخيص الذهبي] صحيح ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، ← أَبُو بَكْرٍ عَرُوبَةُ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ الشَّاشِيُّ فِي آخَرِينَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 215

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 216

216 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أَتَعْجَبُونَ أَنْ يَكُونَ الْخُلَّةُ لِإِبْرَاهِيمَ، وَالْكَلَامُ لِمُوسَى، وَالرُّؤْيَةُ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الرُّؤْيَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 216 - على شرط البخاري

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں، کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ الله تعالیٰ کی"خلت" (دوستی) ابراہیم علیہ السلام کے لئے ہو ، کلام موسی علیہ السلام کے لئے اور دیدار االہیٰ محمد مصطفی ٰ ﷺکے لئے۔ یہ حدیث امام بخاری ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور روایت کے سلسلے میں اس حدیث کی ایک شاہدحدیث بھی موجود ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔(شاہد حدیث درج ذیل ہے)

«أَتَعْجَبُونَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 216

chevron_left Previous
1…171819…24
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section