Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2472

2472 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ لِلْمُسْلِمِينَ: «أَنْبِلُوا سَعْدًا، ارْمِ يَا سَعْدُ رَمَى اللَّهُ لَكَ ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2472 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنگ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا تم سعد کو تیر پکڑاؤ اے سعد ! تم تیر چلاؤ اللہ تعالیٰ تیری مدد کرے تم تیر پھینکو میرے ماں باپ تم پر قربان ہو جائیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

سَعْدٍ، ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2472

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2473

2473 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهَا سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: «أَلَا هَلْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ إِنِّي حَمَيْتُ صَحَابَتِي بِصُدُورِ نَبْلِي هَذَا» حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2473 - صحيح

حضرت عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے حضرت سعد بن ابی وقاص نے ( احد کے دن یہ شعر پڑھا ) (خبردار اللہ کے رسول تشریف لا چکے ہیں ، میں اپنے تیروں کے ساتھ اپنی دوستی کاحق ادا کروں گا)۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهَا سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ ← عائشة بنت سعد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← مَعْن بن عيسی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2473

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2474

2474 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ، مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّفُّ مِنَ التَّمْرِ، نَقْسِمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً، حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ، قُلْتُ: يَا أَبَتِ مَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمُ التَّمْرَةُ؟ قَالَ: لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا بُنَيَّ، فَلَمْ نَعْدُ أَنْ فَقَدْنَاهَا فَاحْتَجْنَا إِلَيْهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2474 - صحيح

حضرت عامر بن ربیعہ بدری رضی اللہ عنہ صحابی ہیں آپ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنگی مہم میں بھیجا کرتے تھے ہمارے پاس ایک ٹوکری کھجوروں کے سوا کوئی زادراہ نہیں ہوا کرتا تھا ہم اس کو ایک ایک مٹھی تقسیم کر لیا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک ایک کھجور تک نوبت آپہنچی ( عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں) میں نے کہا ابا جان ایک کھجور سے تمہارا کیا بنتاہو گا؟ آ پ نے فرمایا اے بیٹے یہ بات مت کہو ہم لوٹ کر کبھی نہیں آئے ، چاہے ہمارے پاس وہ ایک کھجور بھی نہ ہوتی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِيه وَكَانَ بَدْرِيًّا ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← عبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ أَنْبَأَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ أَنْبَأَ عَبْدَانُ أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ ← الحسن بن حليم المروزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2474

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2475

2475 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرَدْتُ سَفَرًا. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: انْتَظِرْ حَتَّى أُوَدِّعُكَ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَدِّعُنَا: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2475 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ایک شخص آپ کے پاس آکر کہنے لگا۔ میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں تو حضرت عبداللہ نے کہا : ذرا انتظار کرو تاکہ میں تجھے اس طرح الوداع کروں جیسے رسول اللہ ہمیں الوداع کیا کرتے تھے پھر آپ نے یوں دعا مانگی ۔میں تیرا دین تیری امانت اور تیرے اعمال کے خاتمے ، اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَرَدْتُ سَفَرًا. ← كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ← محمد بن إسحاق الإمام، ← أبو عمرو بن إسماعيل

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2475

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2476

2476 - وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكَّارِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا الْمُسَدِّدُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ أُوَدِّعْكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينِكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ "

حضرت قزعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تجھے اس طرح الوداع کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے الوداع کیا تھا ( پھر انہوں نے یہ دعا مانگی ) میں تیرے دین ، امانت اور تیرے اعمال کے خاتموں کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہیں ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث۔

قَزَعَةَ ← إسماعيل بن جرير ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← الْمُسَدِّدُ، ← أَبُو بَكَّارِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ← وقد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2476

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2477

2477 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِي. قَالَ: «زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى» قَالَ: زِدْنِي. قَالَ: «وَغَفَرَ ذَنْبَكَ» قَالَ: زِدْنِي، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي. قَالَ: «وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ» ح [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2477 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں مجھے زادراہ دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تجھے تقویٰ کا حصہ عطا فرمائے انہوں نے کہا : کچھ مزید عطا کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اللہ تعالیٰ تیرے گناہ بخش دے انہوں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان کچھ مزید عطا کر دیجئے ، آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جہاں بھی رہے اللہ تعالیٰ تیر ےلیے نیکیاں آسان کر دے۔ عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کی حدیث ۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ ← فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2477

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2478

2478 - فَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: دُعِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ إِلَى طَعَامٍ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَدَّعَ جَيْشًا قَالَ: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ»

حضرت محمدبن کعب قرظی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، حضرت عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کو کھانے کی دعوت دی گئی ۔ جب وہ آگئے تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب آپ کسی لشکر کو روانہ کرتے تو یوں دعا کرتے " میں تمہارے دین ، امانت اور تمہارے خاتمہ اعمال کو اللہ کے سپر کرتا ہوں "

أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَکُمْ وَأَمَانَتَکُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِکُمْ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا وَدَّعَ جَيْشًا ← دُعِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ إِلَى طَعَامٍ، فَلَمَّا جَاءَ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← فَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2478

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2479

2479 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَأَنْ أُشَيِّعَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَكْفِهِ عَلَى رَحْلِهِ غُدْوَةً أَوْ رَوْحَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2479 - صحيح

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں مجاہد فی سبیل اللہ کے ساتھ رہوں تاکہ اس کو صبح یا شام کجاوے سے اتر نا نہ پڑے میرے نزدیک دنیا و ما فیھا سے عزیز تر ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2479

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2480

2480 - أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّيْمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " مَشَى مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ حِينَ وَجَّهَهُمْ ثُمَّ قَالَ: «انْطَلِقُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ أَعِنْهُمْ» قَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ وَعِكْرِمَةَ وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ بِمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ «وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2480 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ( جہاد کے لیے ) روانہ کیا تو آپ ہمارے ہمراہ چلتے ہوئے بقیع غرقد تک تشریف لائے ، پھر فرمایا جاؤ اللہ تعالیٰ کے نام پر اے اللہ ان کی مدد فرما ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے زربن یزید اور عکرمہ کی روایات نقل کی ہیں اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے محمد بن اسحق کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث غریب صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

مشى معهم رسول الله إلى بقيع الغرقد حين وجههم ثم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← زياد بن عبد الله ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ← أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّيْمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2480

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2481

2481 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي. قَالَ: «أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ» فَلَمَّا مَضَى قَالَ: «اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2481 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جو کہیں سفر کا ارادہ رکھتا تھا وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی نصیحت فرمائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور ہر بلندی پر چڑھتے ہوئے اللہ اکبر کہنے کی نصیحت کرتا ہوں جب وہ شخص چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی " اے اللہ اس کے لیے زمین کو لپیٹ دے اور اس پر سفر آسان فرما " یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ يُرِيدُ سَفَرًا، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2481

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2482

2482 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ النَّهْدِيِّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ كَانَ رِدْفًا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِ الدَّابَّةِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا، {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ} [الزخرف: 13] الْآيَةُ ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ، إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ثُمَّ مَالَ إِلَى أَحَدِ شِقَّيْهِ فَضَحِكَ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا يُضْحِكُكَ؟ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَنَعْتُ فَسَأَلْتُهُ كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَعْجَبُ إِلَى الْعَبْدِ إِذَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، قَالَ: عَبْدِي عَرَفَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ وَيُعَاقِبُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَقَدْ رَوَاهُ عَلَى هَذِهِ السِّيَاقَةِ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ [ص:109]،

حضرت علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار تھا ، جب آپ اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو " بسم اللہ " پڑھی پھر جب جانور کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو تین مرتبہ الحمد اللہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر پڑھا پھریہ دعا کی سبحان الذی سخر لنا ھذا وما کنا لہ مقرنین ، پوری آیت پڑھی پھر کیا ۔لاالہ الا انت سبحانک انی قد ثلمت نفسی ، فاغفرلی ذنوبی ، انہ لا یغفر الذنوب الا انت " اے اللہ ! تیرے سوا کوئی عباد ت کے لائق نہیں ، تیری ذاک پاک ہے میں نے اپنے اوپر ظلم کیا تو میرے گناہوں کو معاف کر دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے "پھر آپ ایک جانب جھک گئے اور مسکرا دیئے میں نے پوچھا اے امیر المومنین ! آپ کیوں مسکرائے ؟ آپ نے جواباً فرمایا (دیک دفعہ ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسیے ہی کیاتھا جیسے میں نے کیا اور میں نے آپ سے اسی طرح پوچھا تھا جیسا تو نے مجھے سے پوچھا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے بندے کو اس وقت بہت پسند کرتا ہے جب وہ کہتا ہے تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو میرے گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے سوال کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ یہ بات جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو بخشتا ہے اور سزادیتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ یہ حدیث منصور بن معتمر نے بھی اسحق کے واسطے سے علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے اسی انداز میں روایت کی ہے ۔(جیسا کہ درج ذیل ہے ۔ )

عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ النَّهْدِيِّ ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2482

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2483

2483 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ سَوَاءً. «وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2482 - على شرط مسلم

حضرت علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنی سواری لائے پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث جیسی حدیث روایت کی ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ کی شاہد ہے ۔

رَأَيْتُ عَلِيًّا أُتِيَ بِدَابَّةٍ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2483

chevron_left Previous
1…8910…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section