Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2460

2460 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَظَلَّتْكُمْ فِتَنٌ، كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، أَنْجَى النَّاسِ مِنْهَا صَاحِبُ شَاهِقَةٍ يَأْكُلُ مِنْ رُسُلِ غَنَمِهِ، أَوْ رَجُلٌ مِنْ وَرَاءِ الدُّرُوبِ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ يَأْكُلُ مِنْ فَيْءِ سَيْفِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2460 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا اندھیری رات کی سیاہی کی طرح فتنے تم پر سایہ فگن ہوں گے ان سے نجات وہ پائے گا جو سسکیاں بھر کر رونے والا ہو گا جو اپنے ریوڑ کی کمائی سے گزارا کرتا ہوگا یا وہ شخص جو بند گلی میں اپنے گھوڑے کی لگام کو پکڑے ہوئے ہو جو اپنی تلوار کی کمائی سے گزارا کرے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ،أَنَّهُ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2460

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2461

2461 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ أَبَا شُرَيْحٍ الْمَعَافِرِيَّ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَحَمِدْتُ اللَّهَ وَكَبَّرَتُ وَسُرِرْتُ بِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأُخْرَى يَرْفَعُ اللَّهُ بِهَا أَهْلَهَا فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ، كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَوْ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» قَالَ: قُلْتُ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2461 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو اللہ کے رب ہونےپر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد کے رسول ہونے پر راضی ہوا وہ جنتی ہے ۔ ابو سعید فرماتے ہیں میں نے اللہ کی حمد کہی اور اللہ اکبر کہا اور اس پر خوش ہوا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک اور چیز ہے جس کے سبب اللہ تعالیٰ جنتیوں کو سود رجے بلند کر دے گا اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہو گا جتنا زمین اور آسمان کے درمیان ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ( ابو سعید ) فرماتے ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني

Hadith 2461

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2462

2462 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ كُرَيْبِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخِي أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فَنَاءَ أُمَّتِي قَتْلًا فِي سَبِيلِكَ بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2462 - صحيح

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت ابو بردہ بن قیس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا مانگی اے اللہ میری امت کی اکثریث کو اپنی راہ میں نیزوں اور طاعون کے سبب شہادت عطا فرما " یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي بُرْدَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَخِي أَبِي مُوسَى، ← كُرَيْبِ بْنِ الْحَارِثِ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدٌ ← الْمُثَنَّی ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Hadith 2462

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2463

2463 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، أَنْبَأَ ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَسْوَدَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَسْوَدُ مُنْتِنُ الرِّيحِ، قَبِيحُ الْوَجْهِ، لَا مَالَ لِي، فَإِنْ أَنَا قَاتَلْتُ هَؤُلَاءِ حَتَّى أُقْتَلَ، فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: «فِي الْجَنَّةِ» فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «قَدْ بَيَّضَ اللَّهُ وَجْهَكَ، وَطَيَّبَ رِيحَكَ، وَأَكْثَرَ مَالَكَ» وَقَالَ لِهَذَا أَوْ لِغَيْرِهِ: «لَقَدْ رَأَيْتُ زَوْجَتَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، نَازَعَتْهُ جُبَّةً لَهُ مِنْ صُوفٍ، تَدْخُلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ جُبَّتِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2463 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک کالے رنگ کا آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بد شکل ، کالا ، بدبودار ادمی ہوں کوئی شخص میری طرف مائل نہیں ہوتا ۔ اگر میں جہاد میں شہید ہو جاؤں تو میری منزل کیا ہوگی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت پھر وہ جہاد میں شریک ہوگیا یہاں تکہ کہ شہیدہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور کہنے لگے اللہ تعالی نے تیرے چہرے کو روشن کر دیا تجھے خوشبودار کر دیا اور تیرے مال کو زیادہ کر دیا اور پھر اسی کے متعلق یا شاید کسی دوسرے کے متعلق فرمایا میں نے اس کی بیوی حورعین کو دیکھا ہے کہ وہ اس کا اون کا جبہ اٹھا کر اس کے جبہ میں گھس گئی ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا أَسْوَدَ أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ: ← حَمَّادٌ، أَنْبَأَ ثَابِتٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2463

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2464

2464 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ الصَّنْعَانِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْمٍ يَرْمُونَ، فَقَالَ: «رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ أَيْضًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2464 - على شرط مسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں کے پاس ہوا جو تیراندازی کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنی اسماعیل تیر اندازی جاری رکھو کیونکہ تمہارے والد ( حضرت اسماعیل علیہ السلام ) بھی تیر انداز تھے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث موجود ہے وہ بھی امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کےمطابق صحیح ہے ۔ جو کہ درج ذیل ہے ۔

مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ بِقَوْمٍ يَرْمُونَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ الصَّنْعَانِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة

Hadith 2464

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2465

2465 - أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْمٌ مِنْ أَسْلَمَ، يَرْمُونَ فَقَالَ: «ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا، ارْمُوا وَأَنَا مَعَ ابْنِ الْأَدْرَعِ» فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ قِسِيِّهِمْ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ كُنْتَ مَعَهُ غَلَبَ. قَالَ: «ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2465 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور قبیلہ بنی اسلم کے کچھ لوگ تیر اندازی کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنی اسماعیل تیراندازی جاری رکھو کیونکہ تمہارے باپ ( حضرت اسماعیل علیہ السلام) بھی تیر انداز تھے تم تیر اندازی کرو اور میں ابن ادرع کے ساتھ ہوں ، لوگوں نے اپنی کمانیں رکھ دیں اور کہنے لگے آپ جس کے ساتھ ہوں گے وہ تو جیت جائے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تیر اندازی جاری رکھو میں تم سب کے ساتھ ہوں ۔

مَعَ ابْنِ الْأَدْرَعِ»، فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ قِسِيَّهُمْ، ← ارموا بني إسماعيل فإن أباكم كان راميا ارموا ← خَرَجَ النَّبِيُّ وَقَوْمٌ مِنْ أَسْلَمَ، يَرْمُونَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ

Hadith 2465

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2466

2466 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْرَائِيلَ اللُّؤْلُؤِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى نَاسٍ يَنْتَضِلُونَ فَقَالَ: «حَسَنٌ هَذَا اللَّهُمَّ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ارْمُوا وَأَنَا مَعَ ابْنِ الْأَدْرَعِ» فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ فَقَالُوا: أَلَا وَاللَّهِ لَا نَرْمِي مَعَهُ وَأَنْتَ مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَنْضِلُنَا. فَقَالَ: «ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ جَمِيعًا» وَقَالَا: فَقَالَ: لَقَدْ رَمَوْا عَامَّةَ يَوْمِهِمْ ذَلِكَ، ثُمَّ تَفَرَّقُوا عَلَى السَّوَاءِ مَا نَضَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2466 - على شرط مسلم

حضرت یاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جو تیر اندازی میں مقابلہ کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوتین مرتبہ شاباش دی پھر فرمایا تم تیراندازی جاری رکھو اور میں ادرع کے بیٹے کے ساتھ ہوں لوگ ہاتھ چھوڑ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے خدا کی قسم ہم اس کے ساتھ مقابلہ نہیں کر یں ے کیونکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ اس کے ہمراہ ہوں گے تو وہ ہم سے چیت جائے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے تم تیراندازی جاری رکھو میں تم سب کے ہمراہ ہوں (راوی فرماتے ہیں ) اس دن وہ لوگ کافی دیر تک تیراندازی کا مقابلہ کرتے رہے باآخر برابری پر ہی ان کا مقابلہ ختم ہو گیا اور ان میں سے کوئی فریق بھی دوسرے کو نہ ہراسکی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْرَائِيلَ اللُّؤْلُؤِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أبو عمرو بن إسماعيل

Hadith 2466

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2467

2467 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ثنا أَبُو سَلَّامٍ الْأَسْوَدُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنْتُ رَامِيًا أُرَامِي عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ فَمَرَّ بِي ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: يَا خَالِدُ اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا خَالِدُ تَعَالَ أُحَدِّثْكَ مَا حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ، صَانِعَهُ الَّذِي احْتَسَبَ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرِ وَمُتَنَبِّلُهُ، وَالرَّامِي ارْمُوا وَارْكَبُوا، وَإِنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَلَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ، تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتُهُ زَوْجَتَهُ، وَرَمْيُهُ بِنَبْلِهِ عَنْ قَوْمِهِ، وَمَنْ عَلِمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ، فَهِيَ نِعْمَةٌ كَفَرَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَهُ شَاهِدٌ عَلَى هَذَا الِاخْتِصَارِ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2467 - صحيح

حضرت خالد بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تیرا نداز تھا اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تیر اندازی کیا کرتا تھا ایک مرتبہ عقبہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے اے خالد ! آؤ تیر اندازی کریں میں نے ان کے ہمراہ چلنے میں دیر کر دی وہ کہنے لگے اے خالد ! آؤ میں تجھے وہ بات بتاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی ہے اور تیرے ساتھ اس طرح گفتگو کروں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکا یہ ارشادسنایا بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کے سبب تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ 1۔ وہ کاریگر جس نے ثواب کی نیت سے اس کو بنایا ہے ۔ 2۔ وہ تیر چھانٹ چھانٹ کر دیتا ہے ۔3۔ تیر چلانے والا۔ تم تیر اندازی کرو اور گھڑ سواری کرو اور تمہاری تیر اندازی مجھے تمہاری گھڑ سواری سے زیادہ پسند ہے اور تین چیزیں فضول کھیل میں شمار نہیں ہوتی ۔ 1۔ آدمی کا اپنے گھوڑے کو تربیت دینا۔2۔ آدمی کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیل کود کرنا ۔3۔تیر اندازی کرنا۔ اور جو شخص تیراندازی سیکھ چکا ہو پھر اس کو چھوڑ دے تو یہ نعمت کی ناشکری ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ مذکورہ حدیث کی اسی طرح مختصر انداز میں ایک شاید حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے جو کہ درج ذیل ہے ۔

رَسُولُ اللَّهِ وَأَقُولُ لَكَ كَمَا ← يا خالد تعال أحدثك ما ← يا خالد أخرج بنا نرمي فأبطأت عليه ← كُنْتُ رَامِيًا أُرَامِي عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ فَمَرَّ بِي ذَاتَ يَوْمٍ ← خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ ← أَبُو سَلَّامٍ الْأَسْوَدُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ،

Hadith 2467

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2468

2468 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ، ثنا أَبِي، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «كُلُّ شَيْءٍ مِنْ لَهُوِ الدُّنْيَا بَاطِلٌ إِلَّا ثَلَاثَةٌ، انْتِضَالُكَ بِقَوْسِكَ، وَتَأْدِيبُكَ فَرَسَكَ، وَمُلَاعَبَتُكَ أَهْلَكَ، فَإِنَّهَا مِنَ الْحَقِّ» وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْتَضِلُوا وَارْكَبُوا، وَإِنْ تَنْتَضِلُوا أَحَبُّ إِلَيَّ، إِنَّ اللَّهَ لَيُدخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ، صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِيهِ الْخَيْرَ، وَالْمُتَنَبِّلُ، وَالرَّامِيَ بِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2468 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین کھیلوں کے سواد نیاکا ہر کھیل ناجائز ہے ۔ 1۔ تیر اندازی ۔2۔ گھوڑے کی تربیت۔3۔ اور بیوی کے ساتھ کھیلنا کہ یہ برحق ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیر اندازی کرو اور گھڑ سواری کیا کرو اور تمہارا تیر اندازی کرنا مجھے بہت زیادہ پسند ہے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کے سبب تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ 1۔ ثواب کی نیت سے اس کو بنانے والا۔2۔ چن کر دینے والا۔3۔ تیر چلانے والا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَبِي ← الحسن بن علي بن بحر بن بري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 2468

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2469

2469 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ وَهُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ قَالَ: حَاصَرْنَا قَصْرَ الطَّائِفِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَهُ عَدْلُ مُحَرَّرٍ» قَالَ: فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2469 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے طائف کے محل کا محاصرہ کیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا جو شخص اللہ کی راہ میں ایک تیر چلائے گا اس کو غلام آزاد کرنے والے کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ ( عمر و بن عبسہ ) فرماتے ہیں اس دن میں نے سولہ تیر پھینکے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔عمرو بن عبسہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ۔ جو کہ درج ذیل ہے ۔

أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ وَهُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ

Hadith 2469

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2470

2470 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ رَمَى الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ، فَبَلَغَ سَهْمُهُ، أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ فَعَدَلَ رَقَبَةً»

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص دشمن پر ایک تیر پھینکے وہ نشانے پر پہنچ جائے ۔ نشانہ خواہ درست ہو یا غلط ( بہرحال ) اس کو ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔

عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ

Hadith 2470

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2471

2471 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَا: لَمَّا الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْقَوْمُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَثَبُوكُمْ فَارْمُوا بِالنَّبْلِ، وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَقَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2471 - أخرجه البخاري وهو على شرط مسلم أيضا

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ اور ابواسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جنگ بدر کے دن ہماری اور دشمن کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا جب وہ تم پر حملہ کریں تو تم تیراندازی شروع کر دینا اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر تیر پھینکنا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل کیا ہے ۔

لَمَّا الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْقَوْمُ يَوْمَ بَدْرٍ ← أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِيهِ ← الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ،

Hadith 2471

chevron_left Previous
1…789…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section