Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2448

2448 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ سَهْلًا، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ غَارِمًا فِي عُسْرَتِهِ، أَوْ مُكَاتَبًا فِي رَقَبَتِهِ، أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2448 - سكت عنه الذهبي في التلخيص في هذا الموضع

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مجاہد فی سبیل اللہ کی مدد کرے یا تنگ دستی میں مقروض کی مدد کرے یا مکاتب کو آزادی دلانے میں مدد کرے اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سائے میں اس دن جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ سَهْلاً ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2448

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2449

2449 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ السَّعْدِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ مَخْطُومَةٍ فَقَالَ: هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعُ مِائَةٍ كُلُّهَا مَخْطُومَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجْهُ الْبُخَارِيُّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2449 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص نکیل لگائی ہوئی اونٹنی لایا اور کہنے لگا یہ اللہ کی راہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے اس ایک اونٹنی کے بدلے سات سو اونٹیاں دے گا تما م کی تمام نکیل زدہ ہوں گی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ← جاء رجل بناقة مخطومة، ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← محمد بن أيوب أنبأ يحيى بن المغيرة السعدي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ،

Hadith 2449

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2450

2450 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو، أَنَّهُ مَرَّ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى بَابِهِ، فَقَالَ مُعَاذٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى إِمَامِ يُعَزِّرُهُ، كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ جَلَسَ فِي بَيْتِهِ لَمْ يَغْتَبْ أَحَدًا بِسُوءٍ، كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2450 - صحيح

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔1۔جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ پر ہے ۔2۔جو امام کے پاس مدد کرنے کے لیے جائے وہ اللہ کی ذمہ پر ہے ۔ 3۔جو شخص اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور کسی کی غیبت نہ کرے، وہ بھی اللہ کے ذمہ پر ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← قَيْسِ بْنِ رَافِعٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2450

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2451

2451 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، نا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينِ وَالْأَنْصَارِ، إِنَّ مِنْ إِخْوَانِكُمْ قَوْمًا لَيْسَ لَهُمْ مَالٌ، وَلَا عَشِيرَةٌ، فَلْيَضُمَّ أَحَدُكُمْ إِلَيْهِ الرَّجُلَيْنِ، أَوِ الثَّلَاثَةَ، وَمَا لِأَحَدِنَا مِنْ ظَهْرٍ يَحَمِلُهُ إِلَّا عُقْبَةً كَعُقْبَةِ أَحَدِهِمْ، قَالَ: فَضَمَمْتُ إِلَيَّ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً مَا لِي إِلَّا عُقْبَةُ أَحَدِهِمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2451 - صحيح

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک دفعہ ) جہاد کا ارادہ فرمایا تو کہا اے مہاجرین اور انصار کے گروہ ! تمہارے کچھ بھائی ایسے بھی ہیں جن کے پاس نہ مال ہے نہ خاندان ، اس لیے تم دو دو یا تین تین کو اپنے ساتھ ملا لو اور ہم اپنے اونٹوں پر ان کی طرح باری کے مطابق ہی سواری کریں گے (جابر) فرماتے ہیں تو میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو ملا لیا اور میں ان کی طرح باری پر سوار ہو گیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنهما ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← عبيدة بن حميد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ،

Hadith 2451

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2452

2452 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيُّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «خِدْمَةُ عَبْدٍ أَوْ ظِلُّ فُسْطَاطٍ أَوْ طَرُوقَةُ فَحْلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2452 - صحيح

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا صدقہ سب سے زیادہ افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا اللہ کی راہ میں خدمت کے لیے غلام یا خیمے کا سایہ یا جوان اونٹنی پیش کرتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيُّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← كَثِيرِ بْنِ الْحَارِثِ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ

Hadith 2452

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2453

2453 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ بَدْرٍ نَتَعَاقَبُ ثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ، فَكَانَ عَلِيٌّ وَأَبُو لُبَابَةَ زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا كَانَتْ عُقْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَانِ لَهُ: ارْكَبْ حَتَّى نَمْشِيَ فَيَقُولُ: «إِنِّي لَسْتُ بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا، وَلَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى عَلَى الْمَشْيِ مِنِّي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2453 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں بدر کے دن ہم لوگ ایک ایک اونٹ پر تین تین آدمی باری باری سوار ہوتے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ابو لبانہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سنگتی تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدل چلنے کی باری آتی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ابو لبابہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے آپ سوار رہیں ہم پیدل چلتے رہیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے میں تم دونوں سے ثواب سے زیادہ مستغنیٰ نہیں ہوں اور تم دونوں پیدل چلنے میں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ، الْعَدْلُ،

Hadith 2453

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2454

2454 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا كَبْشَةَ، صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ، وَأَهْلُهَا مُعَانُونَ عَلَيْهَا، وَالْمُنْفِقُ عَلَيْهَا كَالْبَاسِطِ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ وَفِيهَا لَهُ شَاهِدٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2454 - صحيح

حضرت ابو کبثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں پر بھلائی لکھی ہوتی ہے اور اس کے مالکان اس پر معاون ہوتے ہیں اور ان پر خرچ کرنے والا صدقہ کرنے والے کی طرح ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہا نے اس کو اس اضافہ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔ مذکور حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے ۔ ( جو کہ درج ذیل ہے )۔

أَبَا كَبْشَةَ صَاحِبَ النَّبِيِّ ← نُعَيْمِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ

Hadith 2454

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2455

2455 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ التَّغْلِبِيُّ، قَالَ: كَانَ أَبِي جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِدِمَشْقَ وَكَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ الْأَنْصَارِيُّ فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا فَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةٌ تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ. قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ «الْمُنْفِقَ عَلَى الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَبَاسِطِ يَدَيْهِ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2455 - أخرجناه شاهدا

حضرت قیس بن بشر تغلبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے والد ، ابو درداء کے دمشق میں ہم نشیں تھے اور دمشن میں ایک صحابی رسول رہا کرتے تھے جن کو ابن حنظلیہ انصاری کے نام سے پکارا جاتا تھا ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے تو انہوں نے سلام کیا ( سلام کا جواب دینےکے بعد )حضرت ابو الدرداء نے ان سے کہا ایک ایسی بات ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند ہے اور آپ کے لیے نقصان دہ نہیں ہے پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنایا " اللہ تعالیٰ کی راہ میں گھوڑوں پر خرچ کرنے والا اس شخص کی طرح جو ہمیشہ صدقہ کرتا ہے "

قيس بن بشر التغلبي ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2455

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2456

2456 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِ اللَّهِ، كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَرَوْثُهُ وَبَوْلُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2456 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے جہاد کے لیے گھوڑے کی پرورش کرے تو اس کا کھلانا اسکی لید اور اس کا پیشاب قیامت کے دن میزان میں نکیاں بنا کر رکھا جائے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← طَلْحَةُ بْنُ أَبِى سَعِيدٍ أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِىَّ

Hadith 2456

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2457

2457 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيٍّ إِلَّا يُؤْذَنُ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ بِدَعْوَتَيْنِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ كَمَا خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي فَاجْعَلْنِي مِنْ أَحَبِّ مَالِهِ وَأَهْلِهِ إِلَيْهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2457 - صحيح

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر عربی گھوڑے کو ہر دن دو دعائیں مانگنے کی اجازت دی جاتی ہے وہ کہتا ہے اے اللہ ! جس طرح تو نے مجھے ( جہاد میں انتخاب سے) نواز ہے تو مجھے اس کی نظر میں اس کے مال اور اہل سب سے زیادہ محبوب کر دے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ما من فرس عربي الا يؤذن له كل يوم بدعوتين ← النَّبِيِّ ← أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ، ← سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Hadith 2457

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2458

2458 - أَخْبَرَنَا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ ابْنُ الرَّقَاشِيِّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَىَ بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ الْخَيْلِ الْأَدْهَمُ الْأَقْرَحُ الْمُحَجَّلُ الْأَرْثَمُ طَلْقُ الْيَدِ الْيُمْنَى، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَدْهَمَ فَكُمَيْتٌ عَلَى هَذِهِ الشِّيَةِ» هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ وَقَدِ احْتَجَّ الشَّيْخَانِ بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2458 - على شرط البخاري ومسلم غريب

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہترین گھوڑا وہ ہے جس کا رنگ کالا ہو پنچ سالہ ہو اس کی ٹانگوں میں سفیدی ہو ناک کے کنارے پر سفید داغ ہوں دائیں ٹانگ میں سفید نہ ہو ، اگر گھوڑے کا رنگ کالا نہ ہو تو سرخ سیاہ رنگ کا گھوڑا جس میں مزکورہ صفات پائی جائیں ( سب سے بہتر ہے ) یہ حدیث غریب ہے صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہا نے اس کو نقل نہیں کیا حالانکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں ۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو قِلَابَةَ ابْنُ الرَّقَاشِيِّ، ← مكرم بن أحمد القاضي ببغداد

Hadith 2458

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2459

2459 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ السُّكَّرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَغْزُوَ، فَاشْتَرِ فَرَسًا أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلًا مُطْلَقَ الْيُمْنَى، فَإِنَّكَ تَغْنَمْ وَتَسْلَمُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2459 - على شرط مسلم

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم جہاد کا ارادہ کرو تو کالے رنگ کا ایسا گھوڑا خریدو جس کی ٹانگوں اور پریشانی میں سفیدی ہو لیکن دائیں ٹانگ پر سفیدی نہ ہو ( اس گھوڑے پر جہاد کرنے سے ) تم غنیمت بھی پاؤ گے اور محفوظ بھی رہو گے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِيهِ ← عُبَيْدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أبو عمرو محمد بن أحمد السكري

Hadith 2459

chevron_left Previous
1…678…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section