Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2436

2436 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْغَزَّالُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مِكْرَزٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي عَرَضًا مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَجْرَ لَهُ» فَسَأَلَهُ الثَّانِيَةَ وَالثَّالِثَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَجْرَ لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2436 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی دنیاوی مقاصد کے حصول کی خاطر جہاد کرنا چاہتا ہے کیا اس کو کوئی اجر ملے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے ۔ اس نے دوسری اور تیسری مرتبہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار یہی جواب دیا کہ اس کے لیے کوئی اجر نہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا ← أيوب بن مكرز ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عبد الله بن علي الغزال ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ

Hadith 2436

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2437

2437 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ حَنَانِ بْنِ خَارِجَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْجِهَادِ وَالْغَزْوِ. فَقَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنْ قَاتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، بَعَثَكَ اللَّهُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، وَإِنْ قَاتَلْتَ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا، بَعَثَكَ اللَّهُ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا، يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو عَلَى أَيِّ حَالٍ قَاتَلْتَ أَوْ قُتِلْتَ بَعَثَكَ اللَّهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ هَذَا هُوَ أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ الْمُؤَدِّبِ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2437 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے جہاد اور غزوہ کے متعلق بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبداللہ بن عمرو اگر تو صبر کرتے ہوئے ، ثواب کی نیت سے جہاد کرے گا تو اللہ تعالیٰ تجھے ( قیامت کے دن) صابر اور محتسب ہی اٹھائے گا اور اگر تو مال جمع کرنے کی نیت سے ریاکاری کرتے ہوئے جہاد کرے گا تو اللہ تعالیٰ تجھے مرائی (ریاکاری کرنے والا ) اور مکاثر ( مال جمع کرنے والا ) ہی اٹھائے گا۔ اے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تو جس ھال میں جہاد کرتے ہوئے مارا جائے گا اسی حالت پہ اللہ تعالیٰ تجھے اٹھائے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اور یہ محمد بن ابو وضاح ابو سعید بن محمد بن مسلم بن ابو وضاح ہیں " ثقہ " ہیں مامون ہیں ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ ← حَنَانِ بْنِ خَارِجَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكي

Hadith 2437

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2438

2438 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ قَيْسٍ الْأَزْرَقُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ حَارِسَ الْحَرَسِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2438 - صحيح

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ پہرہ دینے والوں کی حفاظت فرمائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← صالح بن محمد بن زائدة ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ قَيْسٍ الْأَزْرَقُ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ

Hadith 2438

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2439

2439 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الرِّيَاحِيُّ، ثنا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: مَا مَالُكَ؟ قَالَ: مَالِي عَمَلِي قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي قَالَ: نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ» قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ رِجَالًا فَرَجُلَيْنِ، وَإِنْ كَانَ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ، وَإِنْ كَانَ بَقَرًا فَبَقَرَتَيْنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ «وَصَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ مِنْ مَفَاخِرِ الْعَرَبِ وَقَدْ رَوَاهُ أَصْحَابُ الْحَسَنِ عَنْهُ» سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَىَ بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ صَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ هُوَ صَاحِبُ أَبِي ذَرٍّ وَهُوَ أَخُو جُزَيِ بْنِ مُعَاوِيَةَ سَمِعْتُ أَبَا حَفْصٍ عُمَرَ بْنَ جَعْفَرٍ الْبَصْرِيَّ الْحَافِظَ غَيْرَ مَرَّةٍ يَقُولُ: لَيْسَ لِلْبَصْرِيِّينَ بَابٌ أَحْسَنُ مِنْ طُرُقِ حَدِيثِ الْحَسَنِ عَنْ صَعْصَعَةَ " قَالَ الْحَاكِمُ: " فَطَلَبْتُ طُرُقَ هَذَا الْحَدِيثِ وَجَمَعْتُهُ فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا فِي الْكَرَّةِ الثَّانِيَةِ بِبَغْدَادَ ذَاكَرْتُهُ بِهِ، وَأَفَادَنِي فِيهِ مَا لَمْ يَكُنْ عِنْدِي، فَحَدَّثْتُ الْحَاكِمَ أَبَا أَحْمَدَ الْحَافِظَ رَحِمَهُ اللَّهُ يَوْمًا بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَذَاكَرْتُهُ بِهِ فَقَالَ لِي: مَنْ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ غَيْرَ صَعْصَعَةَ؟ فَلَمْ أَحْفَظْ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2439 - صحيح

حضرت صعصعہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا تیرا مال کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا میرا مال میرا عمل ہے ۔ صعصعہ فرماتے ہیں میں نے کہا اس کے متعلق آپ مجھے کوئی حدیث سنا سکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ اللہ کی راہ میں اپنے مال سے جوڑا خرچ کرے ، جنت کے دربان اس کا استعقبال کرتے ہیں اور وہ تمام اس کو اپنے پاس موجود نعمتوں کی طرف بلاتے ہیں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےپوچھا یہ کیسے ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ آدمی ہوں تو دو آدمی اوراگر اونٹ ہو ں تو دو اونٹ اور اگرگائے ہو تو دو گائیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور صعصعہ بن معاویہ عرب کے قابل فخر لوگوں میں سے ہیں حسن کے شاگردوں نے بھی ان سے احادیث روایت کی ہیں ۔ امام حاکم اپنی سند کے ہمراہ یحیٰ بن معین کا قول نقل کرتے ہیں کہ صعصہ بن معاویہ ابوذر رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں اور وہ جزی من معاویہ کے بھائی ہیں ۔ میں نے ابو حفص عمر بن جعفر البصری الحافظ کو کئی مرتبہ یہ کہتے سنا ہے کہ بصریوں کے لیے حسن کی صعصعہ ہے روایت والی سند سے زیادہ احسن کوئی سند نہیں ہے ۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کے طرق ( بہت محنت سے ) ڈھونڈ کر جمع کیے جب ہم دوبارہ بغداد میں اکٹھے ہوئے تو میں نے دوبارہ اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے مجھے وہ فائدہ دیا جس سے میں ابھی تک محروم تھا میں نے حاکم ابو احمد محافظ رحمۃ اللہ علیہ کو ایک دن یہ قصہ سنایا اور اس سلسلہ میں ان سے گفتگو کی تو انہوں نے مجھے کہا : جو شخص یہ حدیث ابو ذر رضی اللہ عنہ صعصعہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی دوسرے راوی کے حوالے سے بیان کرے تو مجھے اس کا پتہ نہیں ہے ۔

نَعَمْ ← قُلْتُ ← مَالِي عَمَلِي ← قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: مَا مَالُكَ؟ ← صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← اللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ← قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ الرِّيَاحِيُّ، ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد بن عتاب العبدي

Hadith 2439

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2440

2440 [ص:96] فَحَدَّثَنِي قَالَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو التَّقِيُّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْيَزَنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِي، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَامِرٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا ذَرٍّ مَا مَالُكَ؟ قَالَ: مَالِي عَمَلِي، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانُ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» وَسِيَاقَتُهُ مُخَالِفَةٌ لِسَيَاقَةِ حَدِيثِ صَعْصَعَةَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2440 - وفي الصحيحين من حديث أبي هريرة نحوه

حضرت سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی ہے کہ ایک شخص نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا : تیرا مال کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا میرا مال میرا عمل ہے ، پھر اس کےبعد سابقہ طویل حدیث ذکر کی ہے ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کایہ فرمان نقل کیا ہے " جو شخص اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرے" اس حدیث کا انداز صعصعہ کی حدیث سے ذرا مختلف ہے ۔

سُلَيْمَانُ بْنُ عَامِرٍ ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← أَبُو التَّقِيِّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْيَزَنِيُّ، ← أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ،

Hadith 2440

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2441

2441 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ ابْنُ ابْنَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو، ثنا جَدِّي مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَسِيرِ بْنِ عُمَيْلَةَ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كُتِبَتْ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِالرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ وَهُوَ كُوفِيٌّ عَزِيزُ الْحَدِيثِ وَيَسِيرُ بْنُ عُمَيْلَةَ عَمُّهُ» حَدَّثَنِي بِصِحَّةِ مَا ذَكَرتَهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2441 - صحيح

حضرت خریم بن فاتک الا سدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اس کو سات سو گنا زیادہ ثواب دیا جاتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔جبکہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے رکین بن ربیع کی روایات نقل کی ہیں اور یہ کوفی ہیں ، عزیز الحدیث ہیں اور یسیر بن عملیہ ان کے چچا ہیں اور اس نے مذکورہ حدیث کی صحت کے بارے میں ایک حدیث بیان کی ہے ۔ ( جو کہ درج ذیل ہیں)

خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، ← يَسِيرِ بْنِ عَمِيلَةَ، ← أَبِيهِ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ ← زَائِدَۃَ، ← جَدِّي مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن النضر الأزدي ابن ابنة معاوية بن عمرو ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Hadith 2441

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2442

2442 - أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، نا مَسْلَمَةُ بْنُ جَعْفَرٍ، مِنْ بَجِيلَةَ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ أَبِي يَحْيَى خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ أَرْبَعَةٌ، وَالْأَعْمَالُ سِتَّةٌ، فَمُوجِبَاتٌ وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَعَشَرَةُ أَضْعَافٍ، وَسَبْعُ مِائَةِ ضِعْفٍ، فَمَنْ مَاتَ كَافِرًا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ، وَمَنْ مَاتَ مُؤْمِنًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَالْعَبْدُ يَعْمَلُ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى إِلَّا بِمِثْلِهَا، وَالْعَبْدُ يَهِمُّ بِالْحَسَنَةِ فَتُكْتَبُ لَهُ عَشْرًا، وَالْعَبْدُ يُنْفِقُ النَّفَقَةَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتُضَاعَفُ لَهُ سَبْعَ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ، فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُقَتَّرٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَمُقَتَّرٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ، وَشَقِيٌّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»

حضرت ابو یحیٰ خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگ 4 طرح کےہیں اور اعمال چھ قسم کے ( چھ اعمال میں سے کچھ ) واجب کرنے والے ہیں ( کچھ ) برابر برابر رہنے والے ہیں )( کچھ) دس گنا اجر رکھتےہیں اور کچھ سات سو گناہ اجر رکھتے ہیں چنانچہ جو شخص حالت کفر میں مرا، اس کے لیے دوزخ واجب ہو گئی اور جو حالت ایمان میں مرا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کی جزاء صرف اسی کی مثل ہے اور ایک بندہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور ایک بندہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کو سات سو گناہ اجر دیا جاتا ہے اور چار قسم کے لوگ یہ ہیں ۔ 1۔ایسا شخص جس کو دنیا میں دولت ملی اور آخرت میں جنت ملی ۔2۔ ایسا شخص جس کو دنیا کی دولت تو ملی لیکن وہ آخرت کی آسائش سے محروم رہ ۔3۔ ایسا شخص جو دنیا میں تندگست رہا لیکن اخرت میں اس کو وسعت مل گئی ۔4۔ایسا شخص جو دنیا اور آخرت دونوں جگہ بدبخت رہا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي يَحْيَى خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ ← عَمِّي، ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← مَسْلَمَةُ بْنُ جَعْفَرٍ، مِنْ بَجِيلَةَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ،

Hadith 2442

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2443

2443 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَتَبَهُ اللَّهُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2443 - صحيح

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھے اللہ تعالیٰ اس کو نبین ، صدیقین شہداء اور صالح ( کی فہرست ) میں شامل فرما دیتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ

Hadith 2443

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2444

2444 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ، جَعَلَ اللَّهُ أَرْوَاحَهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ، تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ، تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا، وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ مُعَلَّقَةٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ، فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَأْكَلِهِمْ وَمَشْرَبِهِمْ وَمَقِيلِهِمْ، قَالُوا: مَنْ يُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا أَنَّا أَحْيَاءُ فِي الْجَنَّةِ نُرْزَقُ، لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ، وَلَا يَنْكُلُوا عَنِ الْحَرْبِ؟ فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا أُبَلِّغَهُمْ عَنْكُمْ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا} [آل عمران: 169] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2444 - على شرط مسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے جو بھائی غزوہ احد میں شہید ہو گئے اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے قالب میں ڈال دیا ہے وہ جنت کی نہروں پر گھومتے ہیں وہاں کے پھل وغیرہ کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں لٹکی ہوئی سونے کی قندیلوں میں آتے ہین جب وہ اپنا کھانا ،پینا اور آرام کے مقام اچھے پاتے ہیں تو کہتے ہیں کون ایسا شخص ؟ جو ہمارے بھائیوں تک یہ اطلاع پہنچا دے کہ ہم زندہ ہیں اور ہمیں رزق دیا جاتا ہے تا کہ وہ بھی جہاد میں دل لگائیں اور جنگ سے نہ بھاگیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری یہ اطلاع ان لوگوں تک میں پہنچاؤں گا تب یہ آیت نازل فرمائی "ولا تحسبن الذین قتلو فی سبیل اللہ امواتا " اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا " یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Hadith 2444

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2445

2445 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ ضَمَّ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ وَأَيْنَ الْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَخَرَّ عَنْ دَابَّتِهِ، فَمَاتَ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَإِنْ لَدَغَتْهُ دَابَّةٌ فَمَاتَ، فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ، قَالَ: وَإِنَّهَا لَكَلِمَةٌ مَا سَمِعْتُهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوَّلَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي بِحَتْفِ أَنْفِهِ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ قُتِلَ قَعْصًا فَقَدِ اسْتَوْجَبَ الْجَنَّةَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2445 - صحيح

حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کی غرض سے اپنے گھر سے نکلا (راوی) فرماتے ہیں پھر آپ نے تین انگلیاں ملا کر مجاہدین فی سبیل اللہ کے متعلق فرمایا : وہ مجاہد ین فی سبیل اللہ کہاں ہیں ؟ پھر وہ اپنے گھوڑے سے گر کر مر جائے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہو چکا اور جس کو جانور کاٹ لے اور و ہ مرجائے اس کا اجر بھی اللہ کے ذمہ ثابت ہو چکا ہے اور جو اپنی طبعی موت مر جائے اس کا اجر بھی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہو چکا ہے اور جو بیماری کے وجہ سے مرجائے اس پر جنت واجب ہو گئی ۔ راوی فرماتے ہیں آپ نے طبعی موت مرنے کے متعلق حتف انفہ" لفظ استعمال فرمایا ہم نے یہ لفظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کبھی کسی عربی سے نہیں سنا تھا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَتِيكٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2445

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2446

2446 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ السَّدُوسِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ، حَدِيثٌ فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَهُ فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، كَانَ يَبْلُغُنِي عَنْكَ حَدِيثٌ فَكُنْتُ أَشْتَهِي لِقَاءَكَ قَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ فَقَدْ لَقِيتَنِي. قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثْنِي بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَكَ. قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ ثَلَاثَةً وَيُبْغِضُ ثَلَاثَةً» قَالَ: فَلَا أَخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى خَلِيلِي. قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ؟ قَالَ: " رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُجَاهِدًا فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، وَأَنْتُمْ تَجِدُونَهُ عِنْدَكُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ الْمُنَزَّلِ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ} [الصف: 4] قُلْتُ: وَمَنْ؟ قَالَ: رَجُلٌ لَهُ جَارُ سُوءٍ يُؤْذِيهِ فَيَصْبِرُ عَلَى إِيذَائِهِ حَتَّى يَكْفِيَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ إِمَّا بِحَيَاةٍ أَوْ مَوْتٍ، قُلْتُ: وَمَنْ؟ قَالَ: رَجُلٌ يُسَافَرُ مَعَ قَوْمٍ فَأَدْلَجُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، وَقَعَ عَلَيْهِمُ الْكَرَى وَالنُّعَاسُ فَضَرَبُوا رُءُوسَهُمْ، ثُمَّ قَامَ فَتَطَهَّرَ رَهْبَةً لِلَّهِ وَرَغْبَةً لِمَا عِنْدَهُ، قُلْتُ: فَمَنِ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ؟ قَالَ: الْمُخْتَالُ الْفَخُورُ، وَأَنْتُمْ تَجِدُونَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ الْمُنَزَّلِ {إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ} [لقمان: 18] قُلْتُ: وَمَنْ؟ قَالَ: الْبَخِيلُ الْمَنَّانُ قَالَ: وَمَنْ؟ قَالَ: التَّاجِرُ الْحَلَّافُ أَوِ الْبَائِعُ الْحَلَّافُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2446 - على شرط مسلم

حضرت مطرف بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھ تک ایک حدیث پہنچی تھی جس کی وجہ سے ان سے ملاقات کا مجھے شوق پیدا ہوا بالآخر میں ان سے ملاقات کے لیے چلا گیا، میں نے ان سے کہا: اے ابو ذر! آپ کے حوالے سے مجھ تک ایک حدیث پہنچی جسکی وجہ سے آپ کی ملاقات کا مجھے شوق تھا حضرت ابو ذر نے ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کے لیے دعائےخیر فرمائی ( حضرت مطرف بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نے کہا مجھےپتہ چلا ہے کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات بتائی ہے آپ وہ بات مجھے بتائیں انہوں نے کہا ( وہ بات یہ ہے ) تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور تین آدمیوں سے نفرت کرتا ہے انہوں نے کہا میں اپنے دوست پر جھوٹ نہیں بولوں گا۔ ( حضرت مطرف) فرماتے ہیں میں نے کہا وہ تین آدمی کون ہیں ؟ جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے ؟انہوں نے جواباً کہا ۔1۔ وہ ادمی جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں صبر کرتے ہوئے ثواب کی نیت سے مجاہدین کے ہمراہ جہاد میں شریک ہو پھر اس کی دشمن سے مڈبھیڑ ہو جائے اور وہ لڑتا ہے حتیٰ کے اس کو قتل کر دیا جائے اور یہ بیان قرآن پاک میں موجود ہے پھر انہوں نے یہ آیت پڑھ (ترجمہ)" بے شک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا( صف) باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں رانگا پلائی ( سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں " (الصف 4)۔حضرت مطرف فرماتے ہیں میں نے پوچھا اور کون ؟انہوں نے کہا ۔2۔ ایسا آدمی جس کا پڑوسی بداخلاق ہو ، جو اس کو اذیت دیتا رہے اور یہ اس کی تکلیفوں پر صبر اختیار کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس سے بچا لے یا تو زندگی میں یا موت کے ساتھ ۔ (حضرت مطرف فرماتے ہیں ) میں نے کہا اور کون ؟انہوں نے کہا ۔3۔ ایسا شخص جو کچھ لوگوں کے ہمراہ تمام رات سفر میں رہا اور رات کے آخری حصہ میں جب ان پر سستی اور نیند کا غلبہ ہو تو وہ سب لوگ سو جائیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے خوف میں اور اس کی بارگاہ سے ملنے والے ثواب کی جستجو میں رات کا قیام کرے ۔ میں نےپوچھ وہ تین آدمی کون ہیں ؟ جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ انہوں نے کہا (فخر کرنے والا متکبر اور اس کا بیان تمہیں قرآن پاک کی آیت میں ملے گا ۔ ان اللہ لا یحب کل مختال فخور ( النساء 36) ( بے شک اللہ تعالیٰ کو خوش نہیں آتا کوئی اترانے والا بڑائی مارنے والا " میں نے پوچھا اور کون ؟ انہوں نےکہا ۔2۔ احسان جتلانے والا بخیل ۔ میں نےکہا اور کون ؟ انہوں نے کہا :قسمیں کھاتے والا تاجر یا ( شاید فرمایا) قسمیں کھانے والا سود اگر ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← يزيد بن عبد الله بن الشخير أبي العلاء ← الأسود بن شيبان السدوسي ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2446

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2447

2447 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَظَلَّ رَأْسَ غَازٍ، أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا، حَتَّى يَسْتَقِلَّ بِجَهَازِهِ، فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ «وَقَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِعُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ وَهُوَ ابْنُ ابْنَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2447 - صحيح

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کسی مجاہد کے سر کوڈھانپے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو سایہ عطا کرے گا اور جو شخص کسی مجاہد کی ایسی تیار ی کروائے وہ خود کفیل ہو جائے اس کے لیے اس مجاہد برابر ثواب ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عثمان بن عبداللہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت نقل ہے اور یہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نواسے ہیں ۔ سہل بن حنیف سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ( جو کہ درج ذیل ہے ۔ )

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ الْعَدَوِيِّ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ،

Hadith 2447

chevron_left Previous
1…567…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section