Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2424

2424 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِلَيْلَةٍ أَفْضَلَ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ حَارِسٌ حَرَسَ فِي أَرْضِ خَوْفٍ، لَعَلَّهُ أَنْ لَا يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَقَدْ أَوْقَفَهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ ثَوْرٍ وَفِي يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قُدْوَةٌ»

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں ایک ایسی رات کے بارے میں نہ بتاؤں جو شب قدر سے بھی زیادہ فضیلت رکھتی ہے کوئی محافظ ایسے خطرناک علاقت میں پہرہ دے جہاں اس قدر خوف ہو کہ اس کو لوٹ کر واپس گھر آنے کی امید نہ ہو ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 2424

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2425

2425 - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَاصِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، فَسَاقَهُ بِإِسْنَادٍ مَوْقُوفًا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2424 - على شرط البخاري

وکیع نے ثورا بن یزید کی سند کے ہمراہ اس حدیث کو موقوفاً بیان کیا ہے ۔

وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَاصِمِيُّ

Hadith 2425

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2426

2426 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ إِلَّا الضِّنُّ بِكُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «حَرَسُ لَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ لَيْلَةٍ يُقَامُ لَيْلُهَا، وَيُصَامُ نَهَارُهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2426 - صحيح

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سنا رہا ہوں جو میں نے صرف اس لیے بیان نہیں کی کہ مجھ سے تمہارا فراق برادشت نہیں ہو سکتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک رات پہرہ دینا ایسی ہزار راتوں سے بہتر ہے جن میں رات بھر قیام کیا جائے اور دن بھر روزہ رکھا جائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← کهمس بن الحسن ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ،

Hadith 2426

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2427

2427 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2427 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مشرکوں کے ساتھ اپنی جان ، مال اور اپنی زبانوں کے ذریعے جہاد کرو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ،

Hadith 2427

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2428

2428 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَشِيَتْهُ السَّكِينَةُ، فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَمَا وَجَدْتُ ثِقَلِ شَيْءٍ أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ: «اكْتُبْ» فَكَتَبْتُ فِي كَتِفٍ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ} [النساء: 95] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى لَمَّا سَمِعَ فَضِيلَةَ الْمُجَاهِدِينَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَا يَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَلَمَّا قَضَى كَلَامَهُ غَشِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ فَوَقَعَتْ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ، كَمَا وَجَدْتُهُ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اقْرَأْ يَا زَيْدُ» فَقَرَأْتُ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: 95] فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: 95] الْآيَةُ كُلُّهَا " قَالَ زَيْدٌ: أَنْزَلَهَا اللَّهُ وَحْدَهَا، فَأَلْحَقْتُهَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُلْحَقِهَا عِنْدَ صَدْعٍ فِي كَتِفٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2428 - صحيح

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ پر سکتہ طار ی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر آن پڑی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کا جس قدر میرے اوپر وزن آیا میں نے اتنا وزن کبھی بھی برادشت نہیں کیا تھا (کچھ دیر بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کیفیت جاتی رہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو تو میں نے شانہ ( کی ہڈی ) پر لکھا ۔ (ترجمہ) برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے بالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں " ( النساء 95)۔یہ پوری آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ابن ام مکتوم نا بینا شخص تھے وہ اٹھ کر کھڑے ہوئے انہوں نے جب مجاہدین کی فضیلت سنی تو بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنین میں سے جو جہاد کی استطاعت ہی نہیں رکھتے ان کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ جب ابن ام مکتوم کی گفتگو ختم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دوبارہ سکتہ طاری ہو گیا تو دوبارہ آپ کی ران میری ران پر آن پڑی اور میں نے دوبارہ وہی وزن محسوس کیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو فرمایا۔ اے زید ! پڑھو ! تو میں نےپڑھا " لا یستوی القاعدون من المومنین " تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " غیر اولیٰ الضرر پوری آیت پڑھی ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات الگ الگ نازل فرمائی ہیں لیکن میں نے ان کو ملا دیا ہے اور ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے شانے کی پھن کے مقام پر ان دونوں آیتوں کے ملنے کے مقام کو میں ( آج بھی ) دیکھ رہا ہوں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Hadith 2428

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2429

2429 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لِحْيَانَ وَقَالَ: «لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ» ثُمَّ قَالَ لِلْقَاعِدِ: «أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ " إِنَّمَا أَخْرَجَ مُسْلِمٌ وَحْدَهُ حَدِيثَ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ: مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2429 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی طرف پیغام بھیجا کہ ہر دو میں سے ایک اہل و عیال کی اچھی دیکھ بھال کر ے گا اس کوجہاد پر جانے والے سے نصف ثواب ملے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس انداز سے نقل نہیں کیا ۔ صرف امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سند کے ہمراہ یہ حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص کسی مجاہد فی سبیل اللہ کی تیاری کروا دے وہ بھی مجاہد ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ

Hadith 2429

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2430

2430 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ السَّعْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثَةُ أَعْيُنٍ لَا تَمَسَّهَا النَّارُ، عَيْنٌ فُقِئَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَيْنٌ حَرَسَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2430 - عمر بن راشد ضعفوه

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین آنکھیں ایسی ہیں جن کو جہنم کی آنکھ نہیں چھو سکتی ۔ 1۔وہ آنکھ جوجہاد کے دوارن پھوڑ دی گئی ہے ۔ 2۔ وہ آنکھ جو فی سبیل اللہ پہرہ دے ۔3۔وہ آنکھ جو خوف الہی میں آنسو بہائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ یہی حدیث ایک دوسری سند کے ہمراہ بھی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے ۔)

عبد الرحمن بن أبي هريرة ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ الْيَمَامِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ السَّعْدِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ إملاء،

Hadith 2430

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2431

2431 - أَخْبَرَنَاهُ حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْقَعْنَبِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حُرِّمَ عَلَى عَيْنَيْنِ أَنْ تَنَالَهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ الْإِسْلَامَ وَأَهْلُهُ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2431 - فيه انقطاع

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے دو آنکھوں پر جہنم کی آگ حرام فرما دی ہے ۔ 1۔ وہ آنکھ جس سے خوف الہی سے آنسو بہیں ۔2۔ وہ آنکھ جو کفار سے اسلام اور مسلمان کی حفاظت کر لیے پہرہ دیتے ہوئے رات گزرے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْقَعْنَبِيُّ بِبَغْدَادَ،

Hadith 2431

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2432

2432 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَأَوْفَيْنَا عَلَى شَرَفٍ، فَأَصَابَنَا بَرْدٌ شَدِيدٌ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا يَحْفِرُ الْحَفِيرَ، ثُمَّ يَدْخُلُ فِيهِ وَيُغَطِّي عَلَيْهِ بِحَجَفَتِهِ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ مِنَ النَّاسِ قَالَ: «أَلَا رَجُلٌ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ أَدْعُو اللَّهَ لَهُ بِدُعَاءٍ يُصِيبُ بِهِ فَضْلًا» فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَدَعَا لَهُ قَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ: فَقُلْتُ: أَنَا، فَدَعَا لِي بِدُعَاءٍ هُوَ دُونَ مَا دَعَا بِهِ لِلْأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمَعَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قَالَ: وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ. قَالَ أَبُو شُرَيْحٍ: وَسَمِعْتُ بَعْدُ أَنَّهُ قَالَ: «حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ غَضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ، أَوْ عَيْنٍ فُقِئَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2432 - صحيح

حضرت ابو ریحان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں نکلے ہم ایک بلند جگہ پر پہنچے تو ہمیں بہت شدید سردی محسوس ہوئی ( سردی اس قدر شدید تھی کہ اس سے بچاؤ کے لیے ) کئی لوگ گرھا کھود کر اس میں گھس گئے اور اپنی چمڑے کی ڈھال کو اپنے اوپر اوڑھ لیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا : جو شخص اس رات پہرہ دے گا ، میں اس کےلیے دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ اس کو فضل عطا فرمائے ایک انصاری صحابی اٹھ کر کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو پیش کر دیا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی ، ابو ریحانہ فرماتے ہیں میں نے بھی اپنے آپ کو پیش کیا آپصلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے بھی دعا فرمائی لیکن یہ دعا اس سے ذرا کم تھی جو آپ نے انصاری کے لیے مانگی تھی پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس آنکھ پر دوزخ حرام فرمائی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے خوف میں آنسو نکلیں ۔ اس آنکھ پر آگ حرام کر دی گئی ہے جو فی سبیل اللہ ( پہرہ دیتے ہوئے) جاگتے ہوئے رات گزارتی ہے ۔ ( ابو ریحانہ فرماتے ہیں) میں تیسری بات بھول گیا ہوں ابو شریح فرماتے ہیں میں نے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا اس آنکھ پر بھی آگ حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کردہ مقامات پر نہیں اٹھتی اور ایسی آنکھ جو اللہ کی راہ میں پھوڑ دی گئی ہو ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي رَيْحَانَةَ ← اَبِیْ عَلِیِّ الْجَنْبِیِّ ← محمد بن شمير ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ،

Hadith 2432

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2433

2433 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ، يَذْكُرُ أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنِ فَأَطْنَبُوا السَّيْرَ حَتَّى كَانَ عَشِيَّةً، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَارِسٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي انْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ حَتَّى طَلَعْتُ جَبَلَ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا أَنَا بِهَوَازِنَ عَلَى بَكْرَةِ أَبِيهِمْ، بِظُعُنِهِمْ، وَنَعَمِهِمْ، وَشَائِهِمْ، فَاجْتَمَعُوا إِلَى حُنَيْنٍ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " تِلْكَ غَنِيمَةُ الْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ: «مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ؟» فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «ارْكَبْ» ، فَرَكِبَ فَرَسًا لَهُ، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَقْبِلْ هَذَا الشِّعْبَ حَتَّى تَكُونَ فِي أَعْلَاهُ، وَلَا تَفِرَّنَّ مِنْ قِبَلِكَ اللَّيْلَةَ» فَلَمَّا أَصْبَحْنَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُصَلَّاهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: «هَلْ أَحْسَسْتُمْ فَارِسَكُمْ؟» فَقَالَ رَجُلٌ: مَا أَحْسَسْنَا، فَثَوَّبَ بِالصَّلَاةِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ، فَقَالَ: «أَبْشِرُوا فَقَدْ جَاءَ فَارِسُكُمْ» قَالَ: فَجَعَلْنَا نَنْظُرُ إِلَى ظِلِّ الشَّجَرِ فِي الشِّعْبِ، فَإِذَا هُوَ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي انْطَلَقْتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَى هَذَا الشِّعْبِ، حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، اطَّلَعْتُ عَلَى الشِّعْبَيْنِ، فَنَظَرْتُ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَزَلِتَ اللَّيْلَةَ؟» فَقَالَ: لَا، إِلَّا مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِي حَاجَةٍ " فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَوْجَبْتَ فَلَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَعْمَلَ بَعْدَهَا» هَذَا الْإِسْنَادُ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ «غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَا مَسَانِيدَ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ لِقِلَّةِ رِوَايَةِ التَّابِعِينَ عَنْهُ وَهُوَ مِنْ كِبَارِ الصَّحَابَةِ عَلَى مَا قَدَّمْتُ الْقَوْلَ فِي أَوَانِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2433 - على شرط البخاري ومسلم لكن لم يخرجا لسهل وهو صحابي كبير

حضرت ابو کبثہ سلولی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، سہل بن حنظلیہ ذکر کیا کرتے تھے کہ ان لوگوں نے حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بہت لمبا سفر کیا یہاں تک کہ جب رات کا وقت ہوا تو ہم لوگ نماز پڑھنے کے لیے آپ کے پاس حاضر تھے کہ ایک گھڑ سوار آیا اور کہنےلگا ۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ لوگوں کے آگے آگے جا رہا تھا ، میں فلاں پہاڑ پر جب چڑھا تو میں نے قبیلہ ہوازن کو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹ ، گھوڑوں ، بیل ، بکریوں اور سامان ضرب وحرب کے ہمراہ حنین میں جمع ہو رہے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرفاتے ہوئے ارشاد فرمایا یہ تمام کل انشاء اللہ مسلمانوں کے لیے مال غنیمت ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج رات کو ن پہرہ دے گا؟ حضرت انس بن مرشد الغنوی رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سوار ہو جاؤ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پہاڑی راستے کی طرف چلے جاؤ اور اس کی بالکل چوٹی پر پہنچ جاؤ اور رات میں تمہاری جانب سے کوئی شخص ادھر نہیں آنا چاہیے ۔ جب صبح ہوئی تو نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز کی طرف تشریف لائے اور دو رکعت ادا کر کے پوچھا کیا تم نے اپنے گھوڑے سوار کو محسوس کیا ہے؟ تو ایک آدمی نے کہا ، ہم نے محسوس نہیں کیا پھر نماز کے لیے تثویب کہی گئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پہاڑی راستے کی جانب متوجہ رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھا دی تو فرمایا تمہیں خوشخبری ہو کہ تمہارا سوار آرہا ہے ۔ ہم اس پہاڑی راستے میں درخت کے نیچے دیکھنے لگے تو واقعی آرہا تھا وہ سیدھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کھڑا ہو اور سلام کیا اور کہنے لگا میں چلتا رہا حتیٰ کہ میں اس پہاڑی راستے کے اونچے مقام پر پہنچ گیا ۔ راستوں میں دیکھا لیکن مجھے کوئی آدمی نظر نہیں آیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا رات میں تو اپنی ڈیوٹی سے ہٹا تھا ؟ اس نے کہا صرف نماز پڑھنے اور قضائے حاجت کے علاوہ میں وہاں سے نہیں ہٹا ۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو جنتی ہے اس کے بعد اگر تو کوئی بھی نیک عمل نہیں کرے گا پھر بھی تجھ پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے ۔ یہ پوری سند شروع سے آخر تک امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہم نے سہل بن حنظلیہ کی مسانید نقل نہیں کیں ، کیونکہ ان سے روایت کرنے والے تابعین کی تعداد بہت کم ہے ۔ حالانکہ یہ کبار صحابہ رحمۃ اللہ علیہم میں شمار ہوتے ہیں۔

أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، أَنَّهُ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ، ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي

Hadith 2433

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2434

2434 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ وَعَلَى الْجَمَاعَةِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَالرُّومُ مُلْصِقُوا ظُهُورِهِمْ بِحَائِطِ الْمَدِينَةِ، فَحَمَلَ رَجُلٌ عَلَى الْعَدُوِّ، فَقَالَ النَّاسُ: مَهْ مَهْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُلْقِي بِيَدَيْهِ إِلَى التَّهْلُكَةَ. فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: " إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، لَمَّا نَصَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ، وَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ، قُلْنَا لَهُمْ: نُقِيمُ فِي أَمْوَالِنَا، وَنُصْلِحُهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا تُلقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195] ، فَالْإِلْقَاءُ بِأَيْدِينَا إِلَى التَّهْلُكَةِ أَنْ نُقِيمَ فِي أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحَهَا، وَنَدَعَ الْجِهَادَ " قَالَ أَبُو عِمْرَانَ: فَلَمْ يَزَلْ أَبُو أَيُّوبَ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى دُفِنَ بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2434 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت اسلم ابو عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم مدینہ المنورہ سے فسطنطینہ کے جہاد کے لیے روانہ ہوئے ہمارے لشکر کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن تھے جبکہ روم ( کی فوجیں) شہر کی دیوار کے ساتھ صفیں باندھے کھڑی تھیں، ایک شخص نے دشمن پر حملہ کرنا چاہا تو کچھ لوگوں نے اس کی منع کیا اور کہا : اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں یہ خود اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں پڑ رہا ہے ۔ تو حضرت ابو ایوب بولے : یہ آیت اللہ تعالیٰ نے ہم گروہ انصار کے متعلق نازل فرمائی ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد کی اور اسلام کو غلبہ عطا فرمایا تو ہم نے کہا : آؤ اب ہم اپنے اموال میں چلتے ہیں اور ان کی اصلاح کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ " اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو" تو ہمارا اپنے ہاتھوں ہلاکت میں پڑنا یہ تھا کہ ہم جہاد کو چھوڑ کر اپنے اموال کی دیکھ بھال میں مصروف ہو جائیں ۔ ابو عمران فرماتے ہیں ان کے بعد ابو ایوب مسلسل جہاد کرتے رہے حتیٰ کہ ان کو قسطینطنیہ میں دفن کیا گیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ

Hadith 2434

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2435

2435 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «الْغَزْوُ غَزْوَانِ، فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ، وَأَطَاعَ الْإِمَامَ، وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ، وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ، وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ، فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ، وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً وَعَصَى الْإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ، فَإِنَّهُ لَنْ يَرْجِعَ بِكَفَافٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2435 - على شرط مسلم

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہاد دوطرح کے ہوتے ہیں جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر جہاد کرے امام کی اطاعت کرے اور پسندیدہ چیز خرچ کر ے اور اپنے ساتھی کو آسانی دے اور فساد سے بچے تو اس کا سونا ، جاگنا سب عبادت ہےلیکن جو شخص فخر اور دکھاوے کی خاطر جہاد کرتا ہے امام کی نافرمانی کرتا ہے اور زمین میں فساد کرتاہے تو وہ کپڑے کا ایک بٹن بھی نہیں حاصل کر سکتا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِي بَحْرِيَّةَ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ،

Hadith 2435

chevron_left Previous
1…456…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section