Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2412

2412 - وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ، بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2412 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت طلب کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو شہدا کے مرتبے میں پہنچا دیتا ہے اگرچہ وہ اپنے بستر پر فوت ہو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ

Hadith 2412

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2413

2413 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ كِتَابًا فَإِذَا فِيهِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2413 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عمر بن عبداللہ کے آزاد کردہ غلام سالم ابو النضر فرماتے ہیں جب عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ حروریہ (خوارج کا ایک گروہ ہے جو کہ مقام حرورا ء کی طرف منسوب ہے ، ان کو حرورا کی جانب اس لیے منسوب کیا جا تا ہےکیونکہ ان کا پہلا اجتماع اس مقام پر ہوا تھا شفیق) پر چڑھائی کی تو انہوں نے ان کی جانب ایک مکتوب لکھا اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان درج تھا " اے لوگو! دشمن سے مڈبھیڑ کی دعا مر مانگا کرو بلکہ اس سے عافیت مانگا کرو اور جب دشمن سے سامنا ہو جائے تو پھر صبر کرو اور یہ بات یاد رکھو ! جنت تلواروں کے سائے میں ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2413

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2414

2414 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَدِيبُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الْأَدِيبُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُصِيبُونَ غَنِيمَةً، إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ، وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ، فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً، تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2414 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی بھی لشکر اللہ کی راہ میں جہاد کرے تو اگر ان کو مال غنیمت حاصل ہو جائے تو انہوں نے اپنے آخرت کے اجر سے دو تہائی وصول کر لیا ہے اور ان کا ایک تہائی باقی ہے اور اگر ان کو مال غنیمت نہ ملے تو ان کا پورے کا پورا اجر باقی ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مسرة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الْأَدِيبُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَدِيبُ،

Hadith 2414

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2415

2415 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالذِّكْرَ يُضَاعَفُ عَلَى النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2415 - صحيح

حضرت معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز ، روزہ ، اور ذکر ، راہ خدا میں کرچ کرنے سے سات سو گنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← يَحْيَی بْنِ أَيُّوبَ وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2415

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2416

2416 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، يَرُدُّهُ إِلَى مَكْحُولٍ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ فَصَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَاتَ أَوْ قُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ، أَوْ وَقَصَهُ فَرَسُهُ أَوْ بَعِيرُهُ أَوْ لَدَغَتْهُ هَامَةٌ، أَوْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ بِأَيِّ حَتْفٍ شَاءَ اللَّهُ، فَإِنَّهُ شَهِيدٌ وَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2416 - ابن ثوبان لم يحتج به مسلم وليس بذاك وبقية ثقة وعبد الرحمن بن غنم لم يدركه مكحول فيما أظن

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جہاد کے لیے روانہ ہو گیا اور وہ طبعی موت مر ے یا قتل کر دیا جائے ( بہرحال) وہ شہید ہے یا اونٹ یا گھوڑے سے گر کر مرجائے یا اس کو سانپ ڈس لے یا وہ اپنے بسر پر کسی بھی وجہ سے مر جائے ( بہرحال) وہ شہید ہے اور وہ جنتی ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ← محمد بن محمد بن سليمان، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Hadith 2416

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2417

2417 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ مَيِّتٍ يُخْتَمُ عَلَى عَمَلِهِ إِلَّا الْمُرَابِطَ، فَإِنَّهُ يَنْمُو لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَيُؤَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2417 - على شرط مسلم

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مرنے والے کے تمام اعمال رک جاتے ہیں سوائے سرحدوں کے محافظوں کے ان کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے اور ان کو قبر کے عذاب سے بچاتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، ← أَبُو هَانِئٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Hadith 2417

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2418

2418 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الْبُخَارِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ وُهَيْبِ بْنِ الْوَرْدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِالْغَزْوِ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ» قَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِوُهَيْبِ بْنِ الْوَرْدِ وَهَذَا حَدِيثٌ كَبِيرٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ تَابَعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ وُهَيْبَ بْنَ الْوَرْدِ عَلَى رِوَايَتِهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2418 - رواه ابن المبارك وعبد الله بن رجاء المكي عن وهيب على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جہاد کیے بغیر مر جائے اور تمام عمر اس کے دل میں جہاد کی خواہش بھی پیدا نہ ہوئی ہو تو وہ منافقت کی حالت پر مرا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے وہیب بن ورد کی روایات نقل کی ہیں اور عبداللہ بن مبارک کی یہ کبیر حدیث ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہم نے اس کو نقل نہیں کیا اور اس حدیث کی عمر بن محمد بن المنکدر سے روایت کرنے میں عبداللہ بن رجاء المکی نے وہیب نے بن الورد کی متابعت کی ہے ۔ ( ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے ) ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ ← وُهَيْبَ بْنَ الْوَرْدِ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، ← إبراهيم بن محمد الفقيه البخاري، ← الحسن بن حليم المروزي

Hadith 2418

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2419

2419 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَيْسَ فِي نَفْسِهِ الْغَزْوُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جہاد کیے بغیر مر جائے اور اس کے دل میں جہاد کی خواہش بھی نہ ہو تو وہ منافقت کی حالت پر مرا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2419

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2420

2420 - حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِئُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالُوا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى الْحِمْصِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، قَالُوا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ بِغَيْرِ أَثَرٍ مِنَ الْجِهَادِ، لَقِيَهُ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ كَبِيرٌ فِي الْبَابِ، غَيْرَ أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يَحْتَجَّا بِإِسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2420 - إسماعيل بن رافع ضعفوه

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس پر جہاد کا کوئی اثر نہ پایا جاتا ہو ۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت اس میں رخنے موجود ہوں گے اس باب میں یہ کثیر حدیث ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہم نے اسماعیل بن رافع کی وجہ سے اس کو نقل نہیں کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← محمد بن مصفى الحمصي، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ← أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القاري ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ

Hadith 2420

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2421

2421 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُصَلِّيَ الْخَمْسَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ، وَتُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمَّا اثْنَتَانِ فَلَا أُطِيقُهُمَا، أَمَّا الزَّكَاةُ فَمَالِي إِلَّا عَشْرُ ذَوْدٍ، هُنَّ رُسُلُ أَهْلِي وَحَمُولَتُهُمْ وَأَمَّا الْجِهَادُ فَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ وَلَّى، فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ، فَأَخَافُ إِذَا حَضَرَنِي قِتَالٌ كَرِهْتُ الْمَوْتَ، وَخَشَعَتْ نَفْسِي، قَالَ: فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ حَرَّكَهَا ثُمَّ قَالَ: «لَا صَدَقَةَ وَلَا جِهَادَ فَبِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟» قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُبَايِعُكَ فَبَايَعَنِي عَلَيْهِنَّ كُلِّهِنَّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَبَشِيرُ بْنُ الْخَصَاصِيَةِ مِنَ الْمَذْكُورِينَ فِي الصَّحَابَةِ مِنَ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2421 - صحيح

ابن الخصامیہ فرماتے ہیں میں اسلام پر بیعت کرنے کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط رکھ دی کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور تو پنجگانہ نماز ادا کر اور ماہ رمضان کے روزے رکھ اور زکوۃ ادا کر بیت اللہ کا حج اور اللہ کی راہ میں جہاد کر ( ابن خصاصیہ ) فرماتے ہیں میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے دو کی تو میں استطاعت ہی نہیں رکھتا ہوں۔1۔ زکوۃ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے پاس صرف 10 اونٹ ہیں اور وہ میرے گھر والوں کی سواری اور بوجھ وغیرہ اٹھانے کے کام آتے ہیں ۔ 2۔ جہاد اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے وہ اللہ کے غضب کا مستحق تھہرتا ہے مجھے اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر میں جہاد میں شرکت کروں تو میں موت سے ڈرتے ہوئے بھاگ جاؤں گا ( ابن خصامیہ ) فرماتے ہیں : اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچا پھر اس کو حرکت دی اور فرمایا نہ تم صدقہ دے سکتے ہو نہ جہاد کر سکتے ہو تو جنت میں کس بنا ء پر داخل ہو گئے ( ابن خصاصیہ) فرماتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کی بیعت کرتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام امور پر مجھ سے بیعت لی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابن الخصاصية ← أبو المثنى العبدى ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ

Hadith 2421

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2422

2422 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى الْقُرَشِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَابَطَ يَوْمًا وَلَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَ لَهُ أَجْرُ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ، وَمَنْ مَاتَ مُرَابِطًا، جَرَى لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ الْأَجْرِ، وَأَجْرَى عَلَيْهِ الرِّزْقَ، وَأُومِنَ مِنَ الْفَتَّانَ» «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلِمَكْحُولٍ الْفَقِيهِ فِيهِ مُتَابِعٌ مِنَ الشَّامِيِّينَ»

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایک دن اور ایک رات اللہ تعالیٰ کی راہ میں سرحد کی حفاظت کرتا ہے اس کے لیے ایک مہینے کے روزوں اور قیام کا ثواب ہے اور جو شخص سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے فوت ہو جائے اس کے لیے اسی اجر کی مثل جاری کر دیا جاتا ہے اور اس کو رزق دیا جاتا ہے اور اس کو شیطان سے محفوظ کردیا جاتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اور اس میں مکحول الفقیر کی شامی راویوں کی روایت متابع ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← شُرَحْبِيلَ ← مَكْحُولٌ ← أيوب بن موسى القرشي ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ

Hadith 2422

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2423

2423 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ مُحَمَّدٌ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2422 - صحيح

مذکورہ سند کے ہمراہ سلمان الخیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی جیسا فرمان نقل کیا ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ نَحْوَهُ [التعليق من تلخيص الذهبي] صحيح ← سَلْمَانَ الْخَيْرِ ← شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُقْبَةَ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ مُحَمَّدٌ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ،

Hadith 2423

chevron_left Previous
12345…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section