Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2400

2400 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا سِمَاكُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ الْغَسَّانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ؛ رَجُلٌ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ، فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، وَرَجُلٌ رَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ حَتَّى يَتَوَفَّاهُ، فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، وَرَجُلٍ دَخَلَ بَيْتَهُ بِالسَّلَامِ فَهُوَ ضَامِنٌ عَلَى اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2400 - صحيح

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین آدمی ایسے ہیں جن کا ضامن اللہ ہے ۔ 1۔ وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لے نکلا ہو وہ اللہ کی ضمان میں ہےیہاں تک کہ وہ اس کو وفات دے دے اور اسے جنت میں داخل کر دے یا اسے ثواب یا غنیمت کے ساتھ واپس بھیج دے ۔ 2۔ وہ شخص جو دل کی خوشی کے ساتھ مسجد میں جائے وہ بھی اللہ کے ضمان پر ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو وفات دے دے اور اسے جنت میں داخل کر دے یا اس کو اجر و ثواب دے کر واپس بھیج دے ۔ 3۔ وہ شخص جو اللہ کے گھر میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو وہ بھی اللہ کے ضمان پر ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← أبو مسهر عبد الأعلى بن مسهر الغساني ← سماك بن عبد الصمد ← أبو بكر محمد بن إبراهيم البزاز ببغداد

Hadith 2400

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2401

2401 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الشَّرْعَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَرِيِّةٍ تَخْرُجُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَخْرُجُ اللَّيْلَةَ أَمْ حَتَّى نُصْبِحَ؟ فَقَالَ: «أَوَلَا تُحِبُّونَ أَنْ تَبِيتُوا فِي خَرِيفٍ مِنْ خِرَافِ الْجَنَّةِ؟» وَالْخَرِيفُ الْحَدِيقَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2401 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر کو نکلنے کا حکم دیا ، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم رات کے وقت ہی روانہ ہو جائیں یا صبح تک رکیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ تمہاری رات جنت کے باغیچے میں بسر ہو ؟ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ بِسَرِيِّةٍ تَخْرُجُ فَقَالُوا: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَلْمَانَ الْأَغَرِّ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الشَّرْعَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2401

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2402

2402 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى الصَّلَاةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا، فَقَالَ حِينَ انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ: اللَّهُمَّ آتِنِي أَفْضَلَ مَا تُؤْتِي عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ. فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟» فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذًا يُعْقَرُ جَوَادُكَ، وَتُسْتَشْهَدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2402 - صحيح

حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نماز کے لیے آیا اس وقت نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نما زپڑھا رہے تھے اس نے صف تک پہنچ کر کہا: اے اللہ مجھے اس سے بھی بہتر اجر عطا فرما جو تو نے اپنے برگزیدہ بندوں کو عطا فرمایا ہے۔ جب نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو پوچھا کہ ابھی کس کی آواز آ رہی تھی؟ اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اس مرتبے تک تو تب پہنچے گا جب تیرے) گھوڑے کی کونچیں کٹ جائیں گی اور تو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو سَعِيدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 2402

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2403

2403 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقٍ - نَهْرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ - فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ، يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ بُكْرَةً وَعَشِيًّا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2403 - على شرط مسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شہداء جنت کے دروازے سے سبز قبہ میں نکلنے والی نہتر پر ہوتے ہیں صبح شام ان کو رزق پہنچایا جاتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أنبا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي

Hadith 2403

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2404

2404 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ الْهَمَّ وَالْغَمَّ» وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: «وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ، وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْقَرِيبِ وَالْبَعِيدِ، وَلَا تَأْخُذْكُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2404 - صحيح

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم پر جہاد فی سبیل اللہ لازم ہے کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ غم اور پریشانیاں ختم کرتا ہے اور اس میں دوسرے راوی نے یہ اضافہ بھی کیا ہے " اللہ کی راہ میں ہر قریبی اور دور کے تعلق دار کے ساتھ جہاد کرو اور ہرقریبی اور دور کے تعلق دار کے ساتھ جہاد کرو اور ہر قریبی اور دور کے تعلق دار پر اللہ تعالیٰ کی حد نافذ کرو اور اللہ کے احکام پر عمل کرنے میں تمہیں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← مَكْحُولٌ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی ← عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ الدَّارِمِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2404

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2405

2405 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَارِئُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ خَيْرَ مَنْزِلٍ. فَيَقُولُ: سَلْ وَتَمَنَّ. فَيَقُولُ: مَا أَسْأَلُكَ وَأَتَمَنَّى؟ أَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّنِيَ إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكِ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا رَأَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ. قَالَ: وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ اللَّهُ يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ شَرَّ مَنْزِلٍ. فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: فَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: «كَذَبْتَ قَدْ سَأَلْتُكَ دُونَ ذَلِكَ فَلَمْ تَفْعَلْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَبِهَذِهِ السِّيَاقَةَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2405 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک جنتی آدمی کو (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) لایا جائے گا، اللہ اس سے پوچھے گا اے ابن آدم ! تجھے اپنا مقام کیسا لگا ؟ اے اللہ بہت اچھا مقام ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ( کچھ اور) مانگ اور تمنا کر ، وہ کہے گا ، میں تجھ سے کیا مانگوں ؟ میں تجھ سے یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے د مرتبہ دنیا میں بھیجے اور میں دس مرتبہ تیری راہ میں قتل کیاجاؤں، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک جہنمی آدمی کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا تجھے تیرا مقام کیسا لگا ؟ وہ کہے گا اے میرے رب بہت ہی بُرا مقام ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تجھ سے اس سے بہت کم مانگا تھا لیکن تو نے نہیں دیا تھا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور اسی انداز میں درج ذیل حدیث بھی ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَارِئُ،

Hadith 2405

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2406

2406 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّوْحَاءِ إِذْ هَبَطَ عَلَيْهِمْ أَعْرَابِيٌّ مِنْ سَرِفَ فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ أَيْنَ تُرِيدُونَ؟ قِيلَ: بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ بَذَّةً هَيْئَتُكُمْ قَلِيلًا سِلَاحُكُمْ؟ قَالُوا: نَنْتَظِرُ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ إِمَّا أَنْ نُقْتَلَ فَالْجَنَّةُ، وَإِمَّا أَنْ نَغْلِبَ فَيَجْمَعَ اللَّهُ لَنَا الظَّفَرَ وَالْجَنَّةَ. قَالَ: أَيْنَ نَبِيُّكُمْ؟ قَالُوا: هَا هُوَ ذَا. فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَيْسَتْ لِي مَصْلَحَةٌ آخُذُ مَصْلَحَتِي ثُمَّ أَلْحَقُ. قَالَ: «اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَخُذْ مَصْلَحَتَكَ» فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ بَدْرًا وَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، ثُمَّ لَحِقَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدْرٍ، وَهُوَ يَصُفُّ النَّاسَ لِلْقِتَالِ فِي تَعْبِئَتِهِمْ، فَدَخَلَ فِي الصَّفِّ مَعَهُمْ فَاقْتَتَلَ النَّاسُ، فَكَانَ فِيمَنِ اسْتَشْهَدَهُ اللَّهُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ هَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ وَأَظْفَرَ الْمُؤْمِنِينَ فَمَرَّ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الشُّهَدَاءِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَعَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَا يَا عُمَرُ، إِنَّكَ تُحِبُّ الْحَدِيثَ وَإِنَّ لِلشُّهَدَاءِ سَادَةً، وَأَشْرَافًا وَمُلُوكًا، وَإِنَّ هَذَا يَا عُمَرُ مِنْهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2406 - لا والله إسحاق بن إبراهيم بن نسطاس واه

حضرت کعب بن عجزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مقام ) رو حا میں تھے کہ ایک دیہاتی غلطی سے ان کی طرف آنکلا اور پوچھنے لگا تم کون ہو؟ اس کو بتایا گیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہی ہیں اور میدان بدر کی طرف جا رہے ہیں اس نے کہا کیا وجہ ہے کہ تم بہت شکتہ حال ہو اور سامان ضرب و حرب بھی تمہارے پاس نہ ہونے کے برابر ہے ؟ انہوں نے کہا ہم دو نیکیوں میں سے ایک کے منتظر ہیں اگر مارے گئے تو جنت ملے گی اور اگر غالب آگئے تو اللہ تعالیٰ ہمیں فتح اور جنت دونوں عطا کرے گا۔ اس نے پوچھا تمہارے نبی کہاں ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا یہ ہیں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی حاجت پوری کرنے کے بعد آپ کے ساتھ شامل ہو سکتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ اور اپنی حاجت کو ورا کرلو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف روانہ وہ گئے اور آدمی اپنی بیوی کے پاس چلے گئے جب وہ اپنی حاجت سے فارغ ہو گیا تو میدان بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آملا اس وقت آپ لشکر کو تیار کرتے ہوئے جنگ کی صف بندی کر رہے تھے اور وہ آدمی بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا اور جنگ میں شریک ہوا اس دن اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو شہادت سے سرفراز کیا یہ بھی ان میں شامل تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی اور مومنین کو فتح و نصرف سے ہمکنار فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہداء کے جسموں کے پاس سے گزرہے تھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ہمراہ تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر تم جوانی سے محبت کرتے ہو جبکہ بزرگی اور عزت و شرافت شہداء ے لیے ہے اور اے عمر یہ شخص بھی ان میں سے ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

بَيْنَمَا النَّبِيُّ بِالرَّوْحَاءِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ← داود بن المغيرة ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نِسْطَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Hadith 2406

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2407

2407 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابُ أُحُدٍ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِي بِحِصْنِ الْجَبَلِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2407 - على شرط مسلم

حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے جب مجھے شہدائے احد یاد آتے ہیں تو خدا کی قسم ! مجھے یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش میں بھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کے درے میں ہی رہ گیا ہوتا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

«إِذَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2407

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2408

2408 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ لِي: «إِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ» قَالَ: قُلْتُ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَمَّا «رَأْسُ الْأَمْرِ فَالْإِسْلَامُ، وَأَمَّا عَمُودُهُ فَالصَّلَاةُ، وَأَمَّا ذِرْوَةُ سَنَامِهِ فَالْجِهَادُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2408 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں تھے آپصلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہیں حکومت کی بنیاد ، اس کے ستون اور اس کی کوہان کی اونچائی بتاؤں؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حکومت کی اصل " اسلام " ہے اور اس کے ستون " نماز " اور اس کی کہان کی اونچائی ( یعنی اس کی عزت عظمت ) " جہاد" ہے ۔ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

قلت أجل ← لِي: «إِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ» ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى الأَنْطَاكِىُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ،

Hadith 2408

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2409

2409 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ، قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: أَلَا تَأْتِي نَدْعُو اللَّهَ، فَخَلَوْا فِي نَاحِيَةٍ، فَدَعَا سَعْدٌ فَقَالَ: يَا رَبِّ إِذَا لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا، فَلَقِّنِي رَجُلًا شَدِيدًا بَأْسُهُ شَدِيدًا حَرْدُهُ، فَأُقَاتِلُهُ فِيكَ وَيُقَاتِلُنِي، ثُمَّ ارْزُقْنِي عَلَيْهِ الظَّفَرَ حَتَّى أَقْتُلَهُ، وَآخُذَ سَلَبَهُ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ ثُمَّ، قَالَ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي غَدًا رَجُلًا شَدِيدًا حَرْدُهُ، شَدِيدًا بَأْسُهُ، أُقَاتِلُهُ فِيكَ وَيُقَاتِلُنَي، ثُمَّ يَأْخُذُنِي فَيَجْدَعُ أَنْفِي وَأُذُنِي، فَإِذَا لَقِيتُكَ غَدًا قُلْتَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ فِيمَ جُدِعَ أَنْفُكَ وَأُذُنُكَ؟ فَأَقُولُ: فِيكَ وَفِي رَسُولِكَ، فَيَقُولُ: صَدَقْتَ. قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: يَا بُنَيَّ كَانَتْ «دَعْوَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ خَيْرًا مِنْ دَعْوَتِي، لَقَدْ رَأَيْتُهُ آخِرَ النَّهَارِ، وَإِنَّ أُذُنَهُ وَأَنْفَهُ لَمُعَلَّقَانِ فِي خَيْطٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2409 - على شرط مسلم

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، احد کے دن عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ نے کہا تم میرے ساتھ آؤ ہم مل کر اللہ سے دعا مانگیں ، وہ لوگ ایک جگہ پر الگ ہو گئے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یوں دعا مانگی ۔ اے میرے رب کل جب ہماری دشمن سے مڈ بھیر ہو تو میرا سامنا طاقت ور ، سخت جنگجو سے ہو ، میں تیری رضا کی خاظر اس کے ساتھ لڑوں اور وہ میرے ساتھ لڑے ، پھر تو مجھے اس پر فتح دے میں اس کو قتل کروں اور اس کا سازو سامان سمیٹ لوں ، پھر عبداللہ بن حجش کھڑے ہوئے اور انہوں نے یوں دعا مانگی اے اللہ کل میرا سامنہ کسی ایسے شخص سے ہو جو بہت طاقتور اور سخت جنگجو ہو ، میں تیری رضا کی خاظر اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے،پھر وہ مجھے پکڑ کر میرے کان اور ناک کاٹ ڈالے پھر کل جب میں تجھ سے ملوں تو تو مجھ سے پوچھے اے اللہ کے بندے ! تیرے کان اور ناک کیوں کٹے ہوئے ہیں ؟ تو میں کہوں یا اللہ تیری اور تیرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا میں پھر وہ فرمائے تو نے سچ کہا حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے میرے بیٹے عبداللہ بن حجش کی دعا میری دعا سے اچھی تھی میں نے اسی دن شام کے وقت عبداللہ کو دیکھا کہ اس کے کان اور ناک ایک دھاگے میں لٹک رہے تھے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي ← إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← يزيد بن قسيط الليثي، ← أَبُو صَخْرٍ،

Hadith 2409

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2410

2410 - أَخْبَرَنِي بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى: ثنا مَالِكُ بْنُ يَخَامِرَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ، فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا، ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ، فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ مُخْتَصَرًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2410 - بل هو منقطع فلعله من الناسخ

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان صرف اتنی دیر کے لیے جہاد میں شریک ہو جائے جتنی دیر اونٹنی کو ایک بار دوہنے کے بعد دوسری مرتبہ دوہنے تک وقفہ ہوتا ہے ۔ اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے اور جو شخص سچے دل سے اللہ سے شہادت طلب کرتا ہے وہ چاہے ( طبعی موت) مرے یا قتل کیا جائے ( بہرحال ) اس کو شہید کا ثواب دیا جاتا ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور اسکی ایک دوسری سند ہے جو کہ شیخین کے معیار کے مطابق " صحیح " ہے ( وہ حدیث درج ذیل ہے ۔ )

رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَّهُ ← مَالِکُ بْنُ يُخَامِرَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو قِلاَبَةَ الرَّقَاشِيُّ ← بكر بن محمد بن حمدان الصيرفي بمرو،

Hadith 2410

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2411

2411 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ صَادِقًا، ثُمَّ مَاتَ، أَعْطَاهُ اللَّهُ أَجْرَ شَهِيدٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2411 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص صدق دل سے شہادت کی دعا مانگتا ہے پھر وہ ( خواہ طبعی موت ہی ) مر جائے اللہ تعالیٰ اسکو شہید کا ثوا ب عطا فرماتا ہے ۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Hadith 2411

chevron_left Previous
1234…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section