Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2388

2388 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، أَنَّ مُوسَىَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ مَصَافِّ الْعَدُوَّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ» فَقَالَ شَابٌّ رَثُّ الْهَيْئَةِ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَكَسَرَ جَفْنَ سَيْفِهِ مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْقِتَالِ «» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2388 - على شرط مسلم

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک جنت تلواروں کے سائے میں ہے تو ایک پرا گندہ حال نوجوان نے پوچھا کیا تم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں تو اس نوجوان نے اپنی تلوار کا نیام توڑا اور اپنے ساتھیوں کو سلام کرتے ہوئے جہاد کی طرف نکل گیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← شَابٌّ رَثُّ الْهَيْئَةِ: أَنْتَ ← إن الجنة تحت ظلال السيوف ← وَهُوَ مَصَافِّ الْعَدُوَّ: ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي مُوسَی ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Hadith 2388

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2389

2389 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَعْلَمُ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي؟» قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ: " الْمُهَاجِرُونَ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ وَيَسْتَفْتِحُونَ، فَيَقُولُ لَهُمُ الْخَزَنَةُ، أَوَ قَدْ حُوسِبْتُمْ، فَيَقُولُونَ بِأَيِّ شَيْءٍ نُحَاسَبُ، وَإِنَّمَا كَانَتْ أَسْيَافُنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَتَّى مِتْنَا عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: فَيُفْتَحُ لَهُمْ، فَيَقِيلُونَ فِيهِ أَرْبَعِينَ عَامًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهَا النَّاسُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2389 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا کیا تم جانتے ہو کہ میری امت میں سے سب سے پہلے کون سا گروہ جنت میں جائے گا؟ انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن مہاجرین جنت کے دروازے پر آئیں گے اور دروازہ کھلوانا چاہیں گے جنت کے دربان ان سے کہیں گے کیا تمہارا حساب ہو چکا ہے ؟ وہ کہیں گے ہم کس چیز کا حساب دیں ؟ مرنے تک ہماری تلواریں جہاد کےلیے ہمارے کندھوں پر ہی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ان کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا اور یہ لوگ (دوسرے) لوگوں سے 40سال پہلے جنت میں جا کرآرام کریں گے۔ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ

Hadith 2389

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2390

2390 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا؟ قَالَ: «الَّذِي يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، وَرَجُلٌ يَعْبُدُ اللَّهَ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَبِ، فَقَدْ كَفَى النَّاسَ شَرَّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2390 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا مومن سب سے زیادہ کامل ایمان والا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جواپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور شخص کسی پہاڑی علاقت میں اللہ کی عبادت کرتا ہو ، اس نے اپنے شر سے لوگوں کو بچا لیا ۔ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا

النَّبِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَکْمَلُ إِيمَانًا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← هشام بن عبد الملك الطيالسي ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2390

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2391

2391 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنَا زَعِيمٌ ـ وَالزَّعِيمُ الْحَمِيلُ ـ لِمَنْ آمَنَ وَأَسْلَمَ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَأَنَا زَعِيمٌ لِمَنْ آمَنَ بِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَأَنَا زَعِيمٌ لِمَنْ آمَنَ وَأَسْلَمَ وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلَمْ يَدَعْ لِلْخَيْرِ مَطْلَبًا، وَلَا مِنَ الشَّرِّ مَهْرَبًا، يَمُوتُ حَيْثُ شَاءَ أَنْ يَمُوتَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2391 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ایمان لائے اور مسلمان ہو جائے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرے اس کےلیے جنت کے اعلیٰ درجے میں اور درمیانی درجے میں گھر کا ذمہ دار ہوں ۔اور جو شخص مجھ پر ایمان لائے میں اس کے لیے جنت کے وسط میں گھر کا ذمہ دار ہوں اور جو شخص مجھ پر ایمان لائے اور مسلمان ہو اور ہجرت بھی کرے ۔ میں اس کے لیے جنت کے ادنیٰ ، درمیانی اور اعلیٰ درجے میں گھر کا ضامن ہوں ۔ جو شخص یہ کرے اس نے ہر نیکی حاصل کر لی اور ہر برائی سے بچ گیا وہ جہاں چاہے انتقال کر لے ۔ ( اس کاکوئیہ نقصان نہیں )یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبَا فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← عمرو بن مالك الجنبي أنه ← أَبُو هَانِئٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2391

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2392

2392 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ عَلَى مَنْ نَاوَأَهُمْ حَتَّى يُقَاتِلَ آخِرُهُمُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2392 - على شرط مسلم

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ہمیشہ ایسی جماعت رہے گی جو حق پر لڑتے رہیں گے اور اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص مسیح دجال کو قتل کرے گا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ علي بن عبد العزيز

Hadith 2392

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2393

2393 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ ثُلَّةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرُونَ، الَّذِينَ تُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ، إِذَا أُمِرُوا سَمِعُوا وَأَطَاعُوا، وَإِنْ كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ حَاجَةٌ إِلَى السُّلْطَانِ، لَمْ تُقْضَ لَهُ حَتَّى يَمُوتَ وَهِيَ فِي صَدْرِهِ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَدْعُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْجَنَّةَ، فَتَأْتِي بِزُخْرُفِهَا وَرِيِّهَا فَيَقُولُ: «أَيْنَ عِبَادِيَ الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقُتِلُوا فِي سَبِيلِي، وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي، وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِي، ادْخُلُوا الْجَنَّةَ» فَيَدْخُلُونَهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَلَا عَذَابٍ فَتَأْتِي الْمَلَائِكَةُ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا نَحْنُ نُسَبِّحُ لَكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَنُقَدِّسُ لَكَ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ آثَرْتَهُمْ عَلَيْنَا؟ فَيَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: «هَؤُلَاءِ الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي، وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ مِنْ كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ، فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2393 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے جو جماعت جنت میں داخل ہو گی وہ فقراء مہاجرین ہیں انکے ذریعے تکالیف دور ہوتی ہیں جب ان کو حکم دیا جاتا ہے تو وہ غور سے سنتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں اگر ان میں سے کسی شخص کو بادشاہ کےساتھ کوئی ضروری حاجت ہو تو مرتے تک وہ پوری نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ قیامت کے د ن جنت کو بلائے وہ اپنی مکمل آب وتاب کے ساتھ آئے گی اللہ تعالیٰ فرمائے گا ۔ میرے وہ بندے کہاں ہیں جنہوں نے فی سبیل اللہ جہاد کیا اور وہ میرے راستے میں شہید کیے گئے اور ان کو میرے راستے میں اذیتیں دی گئیں اور انہوں نے میرے راستے میں جہاد کیا ( پھر ان سے مخاطب ہو کر فرمائے گا) تم جنت میں داخل ہو جاؤ تو وہ لوگ بغیر حساب و کتاب کے جنت میں چلے جائیں گے پھر فرشتے آئیں گے اور کہیں گے یا اللہ ہم دن رات تیری تسبیح اور تقدیس بیان کرتے رہے تو نے ان کو ہم پر ترجیح دے دی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرے راستے میں جہاد کیا اور ان کو میرے راستے میں ستایا گیا پھر فرشتے ہر دروازے سے ان کی طرف آئیں گے ( اور کہیں گے ) تم نے جو صبر کیا، اس کے بدلے تم پر سلامتی ہو آخرت کا گھر کتنا ہی اچھا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2393

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2394

2394 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ الْمُسْلِمُ، وَقَارَبَ وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ عَبْدٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالشُّحُّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَقَدْ رُوِيَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ بِإِسْنَادَيْنِ آخَرَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِي اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2394 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم میں دو آدمیوں کو یوں جمع نہیں کیا جائے گا کہ ان میں سے ایک دوسرے کو ذہنی اذیت ہو وہ مسلمان جس نے کافر کو قتل کیا پھر ( تادم آخر) راہ راست پر رہا اور نہ ہی کسی بندے کے پیٹ میں جہاد کی غبار اور دوزخ کا دھواں جمع ہو سکتا ہے اور نہ ہی کسی آدمی کے دل میں ایمان اور بخل جمع ہو سکتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ یہی حدیث دوسری دو سندوں کے ہمراہ سہیل بن ابی صالح سے بھی مروی ہے ان میں سے ایک حدیث صفوان بن ابی زید کے ذریعے ابو الجلاج کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سهل بْنِ أَبِي صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ عبيد بن عبد الواحد

Hadith 2394

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2395

2395 - أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِي اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا، وَلَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا» وَقِيلَ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی بندے کے پیٹ میں جہاد کی غبار اور دوزخ کا دھواں کبھی جمع نہیں ہو سکتا اور کسی آدمی کے دل میں ایمان اور بخل کبھی جمع ہیں ہو سکتے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي اللَّجْلَاجِ، ← صَفْوَانِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← سُهَيْلٍ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى،

Hadith 2395

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2396

2396 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، بِالْبَصْرَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي وَجْهِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَبَدًا»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان آدمی کے چہرے پر جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی جمع نہیں ہو سکتے ۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي اللَّجْلَاجِ، ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةِ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Hadith 2396

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2397

2397 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ بَعَثْتَ هَذِهِ السَّرِيَّةَ وَإِنَّ زَوْجِي خَرَجَ فِيهَا، وَقَدْ كُنْتُ أَصُومُ بِصِيَامِهِ، وَأُصَلِّي بِصَلَاتِهِ، وَأَتَعَبَّدُ بِعِبَادَتِهِ، فَدُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ أَبْلُغُ بِهِ عَمَلَهُ. قَالَ: «تُصَلِّينَ فَلَا تَقْعُدِينَ، وَتَصُومِينَ فَلَا تُفْطِرِينَ، وَتَذْكُرِينَ فَلَا تَفْتُرِينَ» قَالَتْ: وَأُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَوْ طِقْتِ ذَلِكَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَلَغْتِ الْعَشِيرَ مِنْ عَمَلِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2397 - صحيح

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا تو ایک عورت آپ کے پاس آکر کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نےیہ لشکر بھیجا ہے اس میں میرا شوہر بھی شریک ہے جبکہ میں اس کے برابر روزے رکھاکرتی تھی اس کے برابر نمازیں پڑھا کر تی تھی بلکہ تمام عبادات اس کے برابر کیا کرتی تھی آپ مجھےکوئی ایسا عمل بتائیےجس کے ذریعے میں اس ےک اس عمل ( جہاد) کے بھی برابر ثواب پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مسلسل نماز پڑھتی رہ اور کبھی بھی نماز سے فارغ نہ بیٹھ اور ہمیشہ روزہ رکھتی رہ اور کبھی بھی ناغہ نہ کر اور ہمیشہ ذکر کرتی رہ اور کبھی غافل نہ ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تیرے اندر اس کی طاقت ہو بھی سہی ( اور تو یہ عمل کرتی بھی رہے ) پھر بھی خدا کی قسم تیرا عمل اس کےمقابلے میں عشر عشیر ( ایک فیصد بھی) نہیں ہو سکتا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، ← خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ

Hadith 2397

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2398

2398 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِي السِّيَاحَةِ. قَالَ: «إِنَّ سِيَاحَةَ أُمَّتِي الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2398 - صحيح

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے (سیرو) سیاحت کی اجازت دیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَبُو الْجُمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ،

Hadith 2398

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2399

2399 - حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ شُفَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَفْلَةٌ كَغَزْوَةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2399 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سفر سے واپس لوٹنے والے " مجاہدین " کی طرح ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← ابْنِ شُفَيٍّ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی ← أَبِي ← أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مهران،

Hadith 2399

chevron_left Previous
1234…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section