Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2568

2568 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَشَكُّوا فِيَّ، «فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَيَّ هَلْ أَنْبَتُّ؟ فَنَظَرُوا إِلَيَّ، فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ، فَخَلَّى عَنِّي، وَأَلْحَقَنِي بِالسَّبْيِ» حَدِيثٌ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَكَأَنَّهُمَا لَمْ يَتَأَمَّلَا مُتَابَعَةَ مُجَاهِدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَبْدَ الْمَلِكِ عَلَى رِوَايَتِهِ عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2568 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قریظہ کے دن مجھےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا گیا تو لوگوں کو میرے بارے میں شک ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مجھے چیک کر یں کہ اس کے زیر ناف بال اگے ہیں یانہیں ۔انہوں نے مجھے دیکھا تو میرے موئے زیرناف نہیں اگے تھے تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور مجھے قیدیوں میں شامل کر دیا۔ اس حدیث ک ائمہ مسلمین کی ایک جماعت نے ملک بن عمیر کے حوالے سے بیان کیا ہے لیکن شیخین نے اس کونقل نہیں کیا شاید کہ انہوں نے اس بات پرغورنہیں کیا کہ یہ حدیث عطیہ قرظی سے روایت کرنے میں مجاہد بن جبیر نے عبدالملک بن عمیر کی متابعت کی ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَشَكُّوا فِيَّ، «فَأَمَرَ النَّبِيُّ ← عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← النضر بن شميل أنبأ شعبة ← الفضل بن عبد الجبار ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Hadith 2568

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2569

2569 - كَمَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَطِيَّةَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «جَرَّدُوهُ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَلَمْ يَرَوُا الْمُوسَى، جَرَتْ عَلَى شَعْرِهِ، يَعْنِي عَانَتِهِ فَتَرَكُوهُ مِنَ الْقَتْلِ» فَصَارَ الْحَدِيثُ بِمُتَابَعَةِ مُجَاهِدٍ «صَحِيحًا عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2569 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت بن قریظہ رضی اللہ عنہ کے ایک آدمی روایت کرتے ہیں کہ قریظہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ نے ان کوننگا کر دیا تھا، انہوں نے دیکھا کہ اس کے بالوں (یعنی موئے زیر ناف) پر استر انہیں لگا تھا اس لیے انہوں نے اس کو چھوڑ دیا (کیونکہ وہ ابھی بالغ ہی نہیں ہوئے تھے ) مجاہد کی متابعت کی بناپر یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح قرار پاتی ہے لیکن شیخین نے اس کونقل نہیں کیا ۔

Hadith 2569

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2570

2570 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَسَدِيُّ الْحَافِظُ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دِيزِيلَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَكَمَ عَلَى بَنِي قُرَيْظَةَ أَنْ يَقْتُلَ مِنْهُمْ كُلَّ مَنْ جَرَتْ عَلَيْهِ الْمُوسَى، وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ وَذَرَارِيُّهُمْ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَقَدْ حَكَمَ الْيَوْمَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ الَّذِي حَكَمَ بِهِ مِنْ فَوْقِ السَّمَاوَاتِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2570 - صحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنوقریظہ کے متعلق یہ حکم دیا کہ ان کے ہر اس شخص کوقتل کر دیا جائے جس نے استر استعمال کیا ہے (یعنی جو بالغ ہے) اوران کے مالوں اور اولادوں کوتقسیم کر لیا جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جب اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج اس نے اس ذات باری تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا جس نے آسمانوں پر بھی یہی فیصلہ کیا ہے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ الْأَسَدِيُّ الْحَافِظُ

Hadith 2570

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2571

2571 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ مَكِيثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ غَالِبٍ اللَّيْثِيَّ فِي سَرِيَّةٍ وَكُنْتُ فِيهِمْ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشُنُّوا الْغَارَةَ عَلَى بَنِي الْمُلَوِّحِ بِالْكَدِيدِ، فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ لَقِينَا الْحَارِثَ بْنَ الْبَرْصَاءِ اللَّيْثِيُّ فَأَخَذْنَاهُ فَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ أُرِيدُ الْإِسْلَامَ، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقُلْنَا: «إِنْ تَكُنْ مُسْلِمًا لَمْ يَضُرَّكْ رِبَاطُنَا يَوْمًا وَلَيْلَةً، وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ نَسْتَوْثِقُ مِنْكَ، فَشَدَدْنَاهُ وِثَاقًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2571 - على شرط مسلم

حضر تجندب بن مکیث بیان کر تے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن غالب لیثی کو ایک جنگی مہم میں بھیجا، میں بھی اس لشکر میں شامل تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ مقام کدید سے بنی الملوح پر چاروں طرف سے حملہ کر نا ، ہم وہاں سے روانہ ہو گئے ، جب ہم مقام کد ید پر پہنچے تو ہمیں حارث بن برصاء مل گیا ، ہم نے اس کو پکڑ لیا ،اس نے کہا: میں تو اسلام قبول کر نے کے ارادے سےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا تھا۔ ہم نے کہا: اگر تو مسلمان ہے تو پھر ایک دن اور رات کی گرفتاری تجھے کوئی نقصان نہ دے گی اوراگر تو مسلمان نہیں ہے تو پھر ہم تیری اور بھی زیادہ حفاظت کر یں گے پھر ہم نے اس کو کس کر باندھ دیا ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ غَالِبٍ اللَّيْثِيَّ فِي سَرِيَّةٍ ← جندب بن مكيث ← مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 2571

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2572

2572 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَرَادَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ أَنْ يَسْتَعْمِلَ مَسْرُوقًا فَقَالَ لَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُقْبَةَ: أَتَسْتَعْمِلُ رَجُلًا مِنْ بَقَايَا قَتَلَةِ عُثْمَانَ؟ فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَكَانَ فِي أَنْفُسِنَا مَوْثُوقَ الْحَدِيثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ قَتْلَ أَبِيهِ، قَالَ: " مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟ قَالَ: «النَّارُ قَدْ رَضِيتُ لَكَ مَا رَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2572 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :ضحاک بن قیس نے مسروق کو گورنر بنانے کا ارادہ کیا تو عمارہ بن عقبہ نے ان پر یہ اعتراض کیا کہ تم اس شخص کو گورنر بنار ہے ہو جو حضرت عثان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں شامل تھے تو مسروق نے ان کو جواب دیا: مجھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی ہے (اورعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی گفتگوانتہائی قابل اعتماد ہوتی ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کے باپ کوقتل کر نے کا ارادوکیا تو وہ کہنے لگا: بچوں کے لئے کون ( ذ مہ دار )ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ ۔ چنانچہ میں نے تیرے لیے وہی چیز پسند کی ہے جس پراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لیے راضی تھے ۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

لَهُ مَسْرُوقٌ ← لَهُ عُمَارَةُ بْنُ عُقْبَةَ أَتَسْتَعْمِلُ رَجُلًا مِنْ بَقَايَا قَتَلَةِ عُثْمَانَ ← أَرَادَ الضَّحَّاکُ بْنُ قَيْسٍ أَنْ يَسْتَعْمِلَ مَسْرُوقًا ← إِبْرَاهِيمَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ،

Hadith 2572

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2573

2573 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «جَعَلَ فِدَاءَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ أَرْبَعَ مِائَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2573 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جنگ بدر کے موقع پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قید سے رہائی کا معاوضہ چارسو( درہم ) مقر ر کیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الشَّعْثَاءِ، ← أَبِي الَعَنَبَسِ ← شُعْبَةُ، ← سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَکِ الْعَيْشِيُّ ← أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2573

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2574

2574 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ أَخَوَيْنِ مِنَ السَّبْيِ، فَبِعْتُهُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِبَيْعِهِمَا، فَقَالَ: «فَرَّقْتَ بَيْنَهُمَا؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَارْتَجِعْهُمَا، ثُمَّ بِعْهُمَا وَلَا تُفَرِّقْ بَيْنَهُمَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَهُ إِسْنَادٌ آخَرُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ صَحِيحٌ أَيْضًا عَلَى شَرْطِهِمَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2574 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوقیدی بھائی بیچنےکاحکم دیا۔تو میں نے ان کو بیچ دیا پھر واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے انہیں بیچ دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو نے ان دونوں کو الگ الگ بیچا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو واپس لے کر آؤ اور اکٹھے بیچو۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کی حکم بن قتیبہ کے حوالے سے ایک دوسری سند بھی ہے وہ بھی شیخین کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔

أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ← عَلِيٍّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← عبد الوهاب بن عطاء أنبأ شعبة ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Hadith 2574

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2575

2575 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، نا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ «فَرَّقَ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ وَرَدَّ الْبَيْعَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2575 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کو الگ الگ فروخت کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس بات سے منع فرمایا اورسودامنسوخ کر دیا۔

ذَلِكَ وَرَدَّ الْبَيْعَ» [التعليق من تلخيص الذهبي] على شرط البخاري ومسلم ← عَلِيٍّ أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا فَنَهَاهُ النَّبِيُّ ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← الْحَكَمِ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Hadith 2575

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2576

2576 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ قَانِعٍ قَاضِي الْحَرَمَيْنِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْخَوْلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ عَبْدَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ الصُّلْحِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مَوَالِيهِمْ، قَالُوا: يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا خَرَجُوا إِلَيْكَ رَغْبَةً فِي دِينِكَ، وَإِنَّمَا خَرَجُوا هَرَبًا مِنَ الرِّقِّ. فَقَالَ نَاسٌ: صَدَقُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، رُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا أَرَاكُمْ تَنْتَهُونَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مَنْ يَضْرِبُ رِقَابَكُمْ عَلَى هَذَا» وَأَبَى أَنْ يَرُدَّهُمُ فَقَالَ: «هُمْ عُتَقَاءُ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2576 - على شرط مسلم

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے صلح حدیبیہ کے موقع پرصلح سے پہلے دو غلام بھاگ کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے ،ان کے مالکوں نے آپ کی جانب مکتوب لکھا جس میں یہ تھا:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! خدا کی قسم !یہ لوگ آپ کے دین میں شوق کی وجہ سے آپ کے پاس نہیں آئے بلکہ یہ تو غلامی سے بھاگنے کے لئے یہاں سے گئے ہیں ، کچھ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو واپس بھیج دیجئے ، اس پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور فرمایا:اے اہل قریش ! تم پیچھے کیوں ہٹ رہے ہو؟ ( کہ اگرتم یونہی پیچھے ہٹتے رہے )تواللہ تعالی تم پرایسا شخص مسلط کر دیگا جواس بناء پرتمہاری گردنیں مار دے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس بھیجنے سے انکار کر دیا ۔اورفرمایا: یہ اللہ کے آزادکر دہ ہیں ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْخَوْلَانِيُّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ قَانِعٍ قَاضِي الْحَرَمَيْنِ

Hadith 2576

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2577

2577 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الشَّيْبَانِيِّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ قَطُّ، إِلَّا كَانَ الْقَتْلُ بَيْنَهُمْ، وَلَا ظَهَرَتِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ، إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ، وَلَا مَنَعَ قَوْمٌ الزَّكَاةَ، إِلَّا حَبَسَ اللَّهُ عَنْهُمُ الْقَطْرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2577 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : جوقوم معاہد وتوڑتی ہے ان میں جنگ ہوتی ہے اور جس قوم میں فحاشی عام ہو جاتی ہے ،اللہ تعالی اس پر موت مسلط کر دیتا ہے اور جوقوم زکوٰۃ ادانہیں کرتی اللہ تعالی ان سے بارشیں روک لیتا ہے ۔یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الشَّيْبَانِيِّ بِالْكُوفَةِ،

Hadith 2577

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2578

2578 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: هَلْ كُنْتُمْ تُخَمِّسُونَ الطَّعَامَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: «أَصَبْنَا طَعَامًا يَوْمَ خَيْبَرَ، وَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ بِمِقْدَارِ مَا يَكْفِيهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ «فَقَدِ احْتَجَّ بِمُحَمَّدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنِي أَبِي الْمُجَالِدِ جَمِيعًا وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2578 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے میں نے پوچھا: کیا تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غنیمت سے پانچواں حصہ لیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جنگ خیبر کے موقع پر کافی ساراغلہ ہمارے ہاتھ لگا تھا تو جس شخص کو جتنی ضرورت ہوتی وہ اپنی ضرورت کے مطابق اس سے لے جاتا تھا۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ کیونکہ امام بخاری رحمتہ اللہ نے ابولمجالد کے دونوں بیٹوں محمد اورعبداللہ کی روایات نقل کی ہیں ۔

قُلْتُ: هَلْ كُنْتُمْ تُخَمِّسُونَ الطَّعَامَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ اَوْفٰی ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ← أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Hadith 2578

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2579

2579 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّنْعَانِيِّ بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ الصَّنْعَانِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ بِنَيْسَابُورَ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ بِبَغْدَادَ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رِيحُ الْجَنَّةِ لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ يَقْتُلُ نَفْسًا مُعَاهَدَةً، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ، وَرَائِحَتَهَا أَنْ يَجِدَهَا» قَالَ أَبُو بَكْرَةَ: أَصَمَّ اللَّهُ أُذُنِي، إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2579 - على شرط البخاري

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: جنت کی خوشبو۱۰۰ سال کی مسافت سے آجاتی ہے لیکن جوشخص کسی ایسے آدمی کوقتل کرے جس کا ہمارے ساتھ معاہد ہ ہے ، اللہ تعالی اس پر جنت اور جنت کی خوشبوحرام کر دیتا ہے ۔ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے نہ سناہوتو اللہ تعالی مجھے بہرا کر دے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ سندصحیح کے ہمراہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاھد ہے ۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو بكر أحمد بن جعفر القطيعي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ الصَّنْعَانِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّنْعَانِيِّ

Hadith 2579

chevron_left Previous
1…15161718
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section