Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2556

2556 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزُّبَيْدِيُّ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا أَبُو مُطِيعٍ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَخِيهِ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِيِ أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ فَصَبَرَ حَتَّى يُقْتَلَ، أَوْ يَغْلِبَ لَمْ يُفْتَنْ فِي قَبْرِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2556 - معاوية ضعيف

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص جہاد میں شریک ہواور صبر کر لے یہاں تک کہ اس کوقتل کر دیا جائے یا غالب آ جائے تو قبر کے عذاب سے محفوظ ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← أَخِيهِ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، ← نَصْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ، ← أَبُو مُطِيعٍ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الزُّبَيْدِيُّ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2556

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2557

2557 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَمَّادٍ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: فَقَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ حِينَ فَاءَ النَّاسُ مِنَ الْقِتَالِ، فَقَالَ رَجُلٌ: رَأَيْتُهُ عِنْدَ تِلْكَ الشَّجَرَاتِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَنَا أَسَدُ اللَّهِ وَأَسَدُ رَسُولِهِ، اللَّهُمَّ أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ أَبُو سُفْيَانَ وَأَصْحَابُهُ وَاعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ بِانْهِزَامِهِمْ. فَحَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ فَلَمَّا رَأَى جَنْبَهُ بَكَى وَلَمَّا رَأَى مَا مُثِّلَ بِهِ شَهَقَ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا كَفَنٌ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَرَمَى بِثَوْبٍ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَرَمَى بِثَوْبٍ عَلَيْهِ فَقَالَ: " يَا جَابِرُ هَذَا الثَّوْبُ لِأَبِيكَ وَهَذَا لِعَمِّي حَمْزَةُ، ثُمَّ جِيءَ بِحَمْزَةَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ يُجَاءُ بِالشُّهَدَاءِ، فَتُوضَعُ إِلَى جَانِبِ حَمْزَةَ، فَيُصَلِّي، ثُمَّ تَرْفَعُ، وَيَتْرُكُ حَمْزَةَ حَتَّى صَلَّى عَلَى الشُّهَدَاءِ كُلِّهِمْ، قَالَ: فَرَجَعْتُ وَأَنَا مُثْقَلٌ قَدْ تَرَكَ أَبِي عَلَيَّ دَيْنًا وَعِيَالًا فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ اللَّيْلِ أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا جَابِرُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحْيَى أَبَاكَ وَكَلَّمَهُ كَلَامًا» قُلْتُ: وَكَلَّمَهُ كَلَامًا؟ قَالَ: " قَالَ لَهُ: تَمَنَّ فَقَالَ: أَتَمَنَّى أَنْ تَرُدَّ رُوحِي وَتُنْشِئَ خَلْقِي كَمَا كَانَ وَتُرْجِعَنِي إِلَى نَبِيِّكَ فَأُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى قَالَ: أَنِّي قَضَيْتُ أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ " قَالَ: وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَمْزَةُ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2557 - أبو حماد هو المفضل بن صدقة قال النسائي متروك

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ افر ماتے ہیں : ( جنگ احد سے) واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش نہیں مل رہی تھی ،تو ایک شخص بولا : میں نے ان کوان جھاڑیوں کی طرف دیکھا تھا۔ وہ کہہ رہے تھے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاشیر ہوں ۔ اے اللہ ! میں ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کی کارستانیوں سے برأت کا اظہار کرتا ہوں اور ان مسلمانوں نے جوراہ فراراختیار کی ہے، میں اس کے لئے معذرت خواہ ہوں تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جانب چل پڑے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جسم کو دیکھاتو رو پڑے اور جب ان کے ناک اور کان کٹے ہوئے دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سسکیاں لے کر رونے لگے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کوئی کفن ہے؟ تو ایک انصاری صحابی نے ایک کپڑا پیش کیا پھر ایک دوسرے صحابی نے بھی ایک کپڑا پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر! یہ کپڑا تیرے والد کے لئے ہے اور یہ میرے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے لئے ہے ۔ پھر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کولا یا گیا اور ان کی نماز جناز ہ ادا کی گئی پھر دیگر شہدا کوحضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں رکھ کر نماز جنازہ پڑھی گئی پھر دیگر شہداء کے جنازوں کواٹھالیا گیا اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو وہیں چھوڑ دیا گیا پھر ( اور شہداء کو ان کے پہلو میں رکھ کے جنازہ پڑھا گیا اور اٹھا لیا گیا ،اسی طرح حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے جنازے کے ہمراہ) تمام شہداء کا جنازہ پڑھا گیا۔ میں وہاں سے بہت بو جھ لے کر واپس لوٹا تھا کیونکہ میرے والد نے میرے ذمہ ( بہت سارا) قرضہ اور بچے چھوڑے تھے، جب رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیج کر مجھے اپنے پاس بلوایا جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تیرے والد کوزندہ کیا اور اس کے ساتھ کلام کیا، میں نے (بڑی حیرانگی سے) پوچھا: اور اللہ نے ان کے ساتھ کلام کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے تیرے والد سے کہا: تو کوئی تمنا کر ، اس نے کہا: میں یہ تمنا کرتا ہوں کہ تو میری روح کولوٹا دے اور مجھے پہلے ہی کی طرح پیدا کر اور مجھے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دے پھر میں اللہ کی راہ میں جہادکروں اور مجھے دوبارہ پرقتل کر دیا جائے ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ ان کو دوبارہ دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا ( جابر ) فرماتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں شہیدوں کے سردار حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنِ عَقِيلٍ ← أَبِي حَمَّادٍ الْحَنَفِيِّ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي.

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2557

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2558

2558 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُفِّنَ حَمْزَةُ فِي نَمِرَةٍ، كَانُوا إِذَا مَدُّوهَا عَلَى رَأْسِهِ، خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا مَدُّوهَا عَلَى رِجْلَيْهِ، خَرَجَ رَأْسُهُ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمُدُّوهَا عَلَى رَأْسِهِ، وَيَجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الْإِذْخِرِ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا أَنْ تَجْزَعَ صَفِيَّةُ، لَتَرَكْنَا حَمْزَةَ، فَلَمْ نَدْفِنْهُ، حَتَّى يُحْشَرَ حَمْزَةُ، مِنْ بُطُونِ الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2558 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو ایک دھاری دار چادر میں کفن دیا گیا ( جس کی لمبائی صرف اس قد رتھی کہ) جب اس کو سر کی طرف سے کھینچتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب پاؤں کو ڈھانپتے تو سرننگا ہو جا تا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کوحکم دیا کہ ان کے سرکوڈ ھانپ دیں اور پاؤں کے او پراذخر گھاس ڈال دیں اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر صفیہ رضی اللہ عنہ کی بے صبری کا خدشہ نہ ہوتا تو ہم حمزہ کو دفن نہ کرتے بلکہ یونہی چھوڑ دیتے حتی کہ ( قیامت کے دن) حمزہ کو پرندوں اور درندوں کے پیٹوں سے نکالا جا تا ۔یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2558

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2559

2559 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ بْنِ خَالِدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا طَلْحَةُ بْنُ خَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرَهُمْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً، ثُمَّ أَوْغَلَ غَدْوَةً أَوْ رَوْحَةً، ثُمَّ نَزَلَ ثُمَّ هَجَرَ ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ، وَإِنِّي أُوصِيكُمْ بِعِتْرَتِي خَيْرًا مَوْعِدُكُمُ الْحَوْضُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتُقِيمُنَّ الصَّلَاةَ، وَلَتُؤْتُونَ الزَّكَاةَ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلًا مِنِّي، أَوْ كَنَفْسِي فَلَيَضْرِبُنَّ أَعْنَاقَ مُقَاتِلِيهِمْ، وَلَيَسْبِيُنُّ ذَرَارِيَّهُمْ» قَالَ: فَرَأَى النَّاسُ أَنَّهُ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ أَوْ عُمَرَ فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «هَذَا هَذَا» حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2559 - طلحة ليس بعمدة

حضرت عبدالرحمان بن عوف ب رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد طائف کی طرف روانہ ہوئے اور سات یا آٹھ دن ان کا محاصرہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح یا ( شایدفر مایا ) شام وہاں سے کوچ فرمایا پھر ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا اور وہاں سے دو پہر کے وقت روانگی اختیار کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو! میں تمہارے او پر خوش ہوں اور میں تمہیں اپنی اولاد کے بارے میں بھلائی کی تا کید کر تا ہوں ، میری تم سے ملاقات حوض کوثر پر ہوگی ۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم ضرور نماز یں قائم کرو گے اورتم ضرورز کو ۃ ادا کرو گے ورنہ میں تم پراپنی طرف سے یا ( شاید یہ فرمایا) اپنے جیسا ایک آدمی بھیجوں گا جو تمہارے جنگ جوؤں کی گردنیں مارے گا اور تمہارے بچوں کو قیدی بنائے گا ( عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں: لوگ یہ سمجھے کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ یاعمر رضی اللہ عنہ ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فر مایا یہ ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عبد المطلب بن عبد الله ← طَلْحَةُ بْنُ خَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أحمد بن مهران بن خالد الأصبهاني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2559

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2560

2560 - أَخْبَرَنِي أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَاصَرْنَا قَصْرَ الطَّائِفِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَهُ عَدْلُ مُحَرَّرٍ، وَمَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ» فَبَلَغْتُ فِي يَوْمٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، فَإِنَّ أَبَا نَجِيحٍ هَذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2560 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں ہم نے طائف کے قلعے کا محاصرہ کیا تو میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جواللہ کی راہ میں ایک تیر چلائے گا ، اس کو ایک غلام آزادکر نے والے کے برابر ثواب دیا جائے گا اور جس کا اللہ کی راہ میں چلایا ہوا تیر نشانے پر لگ جائے ، اس کے لئے جنت میں ایک درجہ ہے ( ابونجیح فرماتے ہیں) اس دن میں نے سولہ تیر ٹھیک نشانے پر لگائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ یہ ابونجیح عمرو بن عبسہ سلمی ہیں ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← حَاصَرْنَا قَصْرَ الطَّائِفِ ← أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ← مُعَاذِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو قُدَامَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2560

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2561

2561 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَبَّانِيُّ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْجَارُودِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفِ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ فَلَمَّا بَلَغَ الْجِعْرَانَةَ قَسَمَ فِضَّةً بَيْنَ النَّاسِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2561 - على شرط مسلم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں : ہم غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ طائف میں تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ پہنچے تو لوگوں کے درمیان چاندی تقسیم کی ۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← المنذر بن الوليد الجارودي ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَبَّانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2561

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2562

2562 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَتَى هَوَازِنَ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا فَقُتِلَ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مِثْلَ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفًّا مِنْ حَصًى، فَرَمَى بِهَا وًجُوهَنَا فَانْهَزَمْنَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2562 - صحيح

حضرت عیاض بن حارث انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۱۲۰۰۰ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قبیلہ ہوازن میں آئے اور جنگ حنین کے دن اہل طائف کے اتنے لوگ مارے گئے ، جتنے جنگ بدر میں مارے گئے تھے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر کنکریاں لے کر ہم پر مار یں تو ہم بھاگ کھڑے ہوئے ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيُّ، ← عبد الله بن عبد الرحمن الأنصاري ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2562

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2563

2563 - حَدَّثَنَا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَاينِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ، فَأَتَيْتُهُ أَنَا وَرَجُلٌ قَبْلَ أَنْ نُسْلِمَ، فَقُلْنَا: إِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ يَشْهَدَ قَوْمُنَا مَشْهَدًا فَقَالَ: «أَأَسْلَمْتُمَا؟» قُلْنَا: لَا قَالَ: «فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ» فَأَسْلَمْنَا، وَشَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلْتُ رَجُلًا، وَضَرَبَنِي الرَّجُلُ ضَرْبَةً، فَتَزَوَّجْتُ ابْنَتَهُ، فَكَانَتْ تَقُولُ: لَا عَدِمْتُ رَجُلًا وَشَّحَكَ هَذَا الْوِشَاحَ فَقُلْتُ: لَا عَدِمْتِ رَجُلًا عَجَّلَ أَبَاكِ إِلَى النَّارِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَخُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ حَارِثَةَ جَدُّهُ صَحَابِيٌّ مَعْرُوفٌ «وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2563 - وجد خبيب بن أسود بن حارثة صحابي

حضرت خبیب بن عبدالرحمان رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں : ( ہمارے اسلام لانے سے پہلے کی بات ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ کے لئے نکلے تو میں اور ایک دوسراشخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: ہم اس بات سے حیاءکر تے ہیں کہ ہماری قوم میدان کارزار میں اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم مسلمان ہو؟ انہوں نے جواباً کہا: نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مد دنہیں لیتے ۔ تو ہم مسلمان ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ میں شریک ہوئے ، میں نے ایک شخص کوقتل کیا اور اس نے مجھے ایک ضرب لگائی پھر اسی آدمی کی بیٹی سے میری شادی ہوگئی تو ( میری بیوی) کہا کرتی تھی: تو نے اس شخص کو نیست و نابود کر دیا جس نے تجھے یہ ز خم لگایا۔ میں جواب دیتا اور تو نے اس شخص کو نیست کر دیا جس نے تیرے باپ کو جلدی جہنم کی طرف بھیج دیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ،اور خبیب بن عبدالرحمان بن اسود بن حارثہ کے دادا مشہور صحابی ہیں ۔ ابوحمید ساعدی سے مردی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاھد ہے ۔

وَرَجُلٌ قَبْلَ ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَأَتَيْتُهُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يزيد بن هارون أنبأ المستلم بن سعيد الثقفي ← عبد الله بن روح المدائني ← مكرم بن أحمد القاضي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2563

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2564

2564 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ عيسى الْمَرْوَزِيُّ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا خَلَّفَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ إِذَا كَتِيبَةٌ قَالَ: «مَنْ هَؤُلَاءِ؟» قَالُوا: بَنُو قَيْنُقَاعَ وَهُوَ رَهْطُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: «وَأَسْلَمُوا؟» قَالُوا: لَا، بَلْ هُمْ عَلَى دِينِهِمْ قَالَ: «قُلْ لَهُمْ فَلْيَرْجِعُوا، فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2564 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر تے ہوئے جب ثنیۃ الوداع سے آگے نکلے تو سواروں کا ایک دستہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق دریافت کیا : تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بتایا: یقبیلہ بنو قینقاع کے لوگ ہیں اور یہ عبداللہ بن سلام کی جماعت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا وہ مسلمان ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا نہیں ، بلکہ وہ اپنے (سابقہ) دین پر قائم ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو کہہ دو کہ واپس چلے جائیں کیونکہ ہم مشرکوں سے مد دنہیں لیتے ۔

«قُلْ لَهُمْ فَلْيَرْجِعُوا، ← لَا بَلْ هُمْ عَلَى دِينِهِمْ ← وأسلموا ← بَنُو قَيْنُقَاعَ وَهُوَ رَهْطُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ← مِنْ هَؤُلَاءِ ← خرج رسول الله حتى إذا خلف ثنية الوداع إذا كتيبة ← أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2564

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2565

2565 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ أَنَّ جَدَّهُ رَبَاحًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا غَزْوَةً كَانَ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ، فِيهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَمَرَّ رَبَاحٌ وَأَصْحَابُهُ عَلَى امْرَأَةٍ مَقْتُولَةٍ، مِمَّا أَصَابَ الْمُقَدِّمَةُ، فَوَقَفُوا عَلَيْهَا يَتَعَجَّبُونَ مِنْ خَلْقِهَا، حَتَّى لَحِقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّجُوا لَهُ، حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: «هَا، مَا كَانَتْ هَذِهِ تُقَاتِلُ» ثُمَّ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ، فَقَالَ لِأَحَدِهِمْ: «الْحَقْ بِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَلَا يُقْتُلَنَّ ذُرِّيَّةً، وَلَا عَسِيفًا» وَهَكَذَا رَوَاهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ «فَصَارَ الْحَدِيثُ صَحِيحًا عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2565 - رواه ابن جريج وغيره عن أبي الزناد على شرط البخاري ومسلم

حضرت رباح رضی اللہ عنہ کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ میں گئے ، اس لشکر کے کمانڈ ر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے ۔ رباح اور اس کے ساتھی ایک مقتول عورت کے پاس سے گزرے جس کولشکر کی سب سے آگے جانیوالی جماعت نے مار ڈالا تھا۔ وہ لوگ وہاں پر کھڑے اس عورت کے حسن و جمال پر حیران ہور ہے تھے کہ اسی اثناء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں پہنچ گئے ۔صحابہ کرام برضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے راستہ بنادیا ( تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کو دیکھ لیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا ،تو فرمایا: یہ عورت جنگ تو نہیں کر سکتی تھی (اس لئے اس کوقتل نہیں کر نا چاہیے تھا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی جانب دیکھا اور ان میں سے ایک سے کہا: خالد بن ولید سے ملواور اس کو کہو : بچوں اور مزدوروں قتل نہ کر۔اسی طرح یہ حدیث مغیرہ بن عبدالرحمن اور ابن جریج نے ابولز ناد سے روایت کی ہے ۔ اس طرح یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ اور امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح قرار پائی ہے لیکن انہوں نے اس کونقل نہیں کیا ۔

الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، أَخِي حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ أَنَّ جَدَّهُ رَبَاحًا ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2565

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2566

2566 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَ سَرِيَّةً يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَاتَلُوا الْمُشْرِكِينَ، فَأَمْضَى بِهِمُ الْقَتْلُ إِلَى الذُّرِّيَّةِ، فَلَمَّا جَاءُوا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَمَلَكُمْ عَلَى قَتْلِ الذُّرِّيَّةِ؟» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا كَانُوا أَوْلَادَ الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: «وَهَلْ خِيَارُكُمْ إِلَّا أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ؟ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ نَسَمَةٍ تُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ، حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا»

حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا ،انہوں نے مشرکوں کے ساتھ جنگ شروع کی بڑھتے بڑھتے یہ جنگ بچوں تک پہنچ گئی اور مجاہدین نے بچوں کو بھی مار ڈالا ۔ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے بچوں کو کیوں قتل کیا؟ انہوں نے جوابا کہا: یارسول اللہ ! وہ مشرکوں کے بچے تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا تم میں جتنے نیک لوگ ہیں سب مشرکوں کے ہی تو بچے ہیں ۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ فصیح عربی بولنے پر قادر ہو جائے ۔

الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2566

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2567

2567 [ص:134] حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ سَرِيعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزْوَةٍ لَنَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2566 - تابعه يونس عن الحسن ثنا الأسود بهذا على شرط البخاري ومسلم

حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں: ہم ایک غزوہ میں شریک تھے پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ وامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← الْحَسَنِ، ← هشيم أنبأ يونس بن عبيد ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحُسَيْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2567

chevron_left Previous
1…15161718
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section