Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2544

2544 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ هَمَّامٍ، حَدَّثَنِي مَطَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ الصَّوْتَ عِنْدَ الْقِتَالِ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَحَدِيثُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ شَاهِدُهُ وَهُوَ أَوْلَى بِالْمَحْفُوظِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2544 - هذا أصح

حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کر تے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے وقت آواز لگانے کواچھا نہیں سمجھتے تھے۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور ہشام دستوائی کی روایت کر دہ حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے اور وہ محفوظ قرار پانے کے زیادہ لائق ہے ۔

أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← قَتَادَةَ ← مَطَرٍ، ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ

Hadith 2544

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2545

2545 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ «نَزَلَ عَنْ بَغْلَتِهِ فَتَرَجَّلَ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَمْ يَصِحَّ أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَجَّلَ وَحَارَبَ رَاجِلًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2545 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں،جنگ حنین کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشرکین سے مڈ بھیٹر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے اتر کر پیدل ہو گئے۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چلنا اور پیدل جنگ کرنا اس حدیث سے ثابت ہے۔

لَمَّا لَقِيَ النَّبِيُّ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ «نَزَلَ ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Hadith 2545

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2546

2546 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ، حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2546 - على شرط مسلم

حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کود یکھا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے شروع میں جنگ نہ کرتے تو سورج کے ڈھلنے اور ہواؤں کے چلنے تک جنگ کولیٹ کر تے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2546

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2547

2547 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، قَالَا: أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ " يَرْمِي يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَامِيًا، وَكَانَ إِذَا رَمَى يَرْفَعُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَخْصَهُ لَيَنْظُرَ أَيْنَ يَقَعُ سَهْمُهُ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَرْفَعُ صَدْرَهُ، وَيَقُولُ: هَكَذَا بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا يُصِيبُكَ سَهْمٌ نَحْرِي دُونَ نَحْرِكَ، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَوَدُّ نَفْسَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَجْلَدُ قَوْمِي فَمُرْنِي بِمَا شِئْتَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2547 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ احد کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ( کھڑے دشمنوں پر) تیراندازی کر رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم م ان کے پیچھے تھے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ جب بھی تیر پھینکتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونچے ہوکر دیکھتے کہ انکا نشانہ کہاں لگتا ہے اور ابوطلحہ اپنا سینہ بلند کر کے عرض کر تے :یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میراسینہ آپ کے سینے تک کوئی تیر نہ پہنچنے دے گا ،اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر کے اپنی خواہش کا یوں اظہار کر تے ہیں ، یا رسول اللہ! میں اپنی قوم میں سب سے طاقتورآ دمی ہوں ، آپ جو چاہیں مجھے حکم ارشادفرمائیں ۔

هَكَذَا بِأَبِي أَنْتَ ← كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَرْفَعُ صَدْرَهُ، ← كَانَ إِذَا رَمَى يَرْفَعُ النَّبِيُّ شَخْصَهُ لَيَنْظُرَ أَيْنَ يَقَعُ سَهْمُهُ ← أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ يَرْمِي يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ،

Hadith 2547

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2548

2548 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُفَيْلٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ وَأَنَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِهِ عَلِيٍّ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا: يَا عَبْدَ الْإِلَهِ مَنِ الرَّجُلُ مِنْكُمُ الْمُعَلَّمُ بِرِيشَةِ نَعَامَةٍ فِي صَدْرِهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: ذَاكَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: ذَاكَ الَّذِي فَعَلَ بِنَا الْأَفَاعِيلَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَأَخْرَجَهُ الْإِمَامُ أَبُو بَكْرِ بْنُ خُزَيْمَةَ فِي بَابِ الرُّخْصَةِ فِي عَلَامَةِ الْمُبَارِزِ بِنَفْسِهِ لِيُعْلَمَ مَوْضِعُهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2548 - على شرط مسلم

حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: میں امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے علی کا ہاتھ پکڑے ان کے درمیان چل رہا تھا، امیہ نے مجھ سے کہا : اے الہٰ کے پجاری تم میں وہ شخص کون ہے جواپنے سینے پرشتر مرغ کا ’’پر‘‘ بطور نشانی رکھتا ہے ۔ ( عبدالرحمان ) فرماتے ہیں: میں نے جواب دیا: حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اس نے کہا: یہی وہ شخص ہے جس نے ( اس سے پہلے بھی ہمارے ساتھ بہت برا) سلوک کیا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح سے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور امام ابو بکر بن خزیمہ نے اس حدیث کو جنگ لڑنے والے کے اپنے لیے کوئی مخصوص نشانی رکھنے کی رخصت کے باب میں بیان کیا ہے ۔ ( نشانی رکھنے کا مقصد یہ ہوتا ہے تا کہ اس کی موجودگی کے مقام کا پتا چل سکے )

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُفَيْلٍ الْحَرَّانِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بن الحَسَن بن عيسى

Hadith 2548

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2549

2549 - فَرَوَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، عَنِ النُّفَيْلِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَوَلَّى عَنْهُ النَّاسُ، وَبَقِيتُ مَعَهُ فِي ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَكُنَّا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قُدُمًا، وَلَمْ نُوَلِّهِمُ الدُّبُرَ وَهُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةَ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ، يَمْضِي قُدُمًا، فَحَادَتْ بَغْلَتُهُ، فَمَالَ عَنِ السُّرُجِ فَسُدَّ نَحْرُهُ فَقُلْتُ: ارْتَفَعَ رَفَعَكَ اللَّهُ قَالَ: «نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ» فَنَاوَلْتُهُ فَضَرَبَ بِهِ وجُوهَهُمْ فَامْتَلَأَ أَعْيُنُهُمْ تُرَابًا، قَالَ: «أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ؟» قُلْتُ: هُمْ هُنَا قَالَ: «اهْتِفْ بِهِمْ» فَجَاءُوا وَسُيُوفُهُمْ فِي أَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهَا الشُّهُبُ وَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2549 - الحارث وعبد الله ذوا مناكير هذا منها ثم فيه إرسال

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: جنگ حنین کے دن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، اکثر لوگ وہاں سے بھاگ گئے اور آپ کے ہمراہ مہا جر ین اور انصار ملا کرکل ۸۰ آدمی بچے تھے ۔ ہم نے تقریبا۸۰قدم تک پیش قدمی بھی کی اور پیٹھ پھیر کر نہیں بھاگے ۔ یہ وہی لوگ تھے جن پر اللہ تعالی نے سکینہ نازل فرمایا: ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں: اس وقت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار پیش قدمی کر رہے تھے، وہ خچر راستے سے ایک طرف ہٹ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین سے نیچے کی طرف جھک گئے اور آپ کا سینہ اس کے ساتھ لگ گیا ، میں نے کہا: اٹھ جایئے اللہ تعالی آپ کو بلند کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک مٹھی مٹی دو ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کومٹھی بھرمٹی اٹھا کر دے دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی ان کی طرف پھینکی تو ان سب کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: مہاجرین اور انصار کہاں ہیں؟ میں نے بتایا: وہ وہاں پر ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سب کوز ور سے آواز دو(ان کا آواز دینا تھا کہ) وہ تمام لوگ اپنے ہاتھوں میں تلوار یں لیے اتنی تیزی سے پلٹ کرآئے جیسے ستار ہ ٹو ٹتا ہے اور مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← فرواه

Hadith 2549

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2550

2550 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ ابنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، ثَلَاثًا غُفِرَتْ ذُنُوبُهُ، وَإِنْ كَانَ فَارًّا مِنَ الزَّحْفِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2550 - على شرط مسلم

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص تین مرتبہ یہ دعا مانگے’’ استغفر الله الذي لا إله إلا هو الحى القيوم، وأتوب إليه ثلاثا غفرت ذنوبه ‘‘۔ ’’میں اس اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ حیی القیوم ہے‘‘۔ اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اگر چہ وہ میدان جنگ سے بھاگنے والا ہو۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي سِنَانٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← محمد بن علي بن ميمون الرقي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2550

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2551

2551 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ الْيَمَانِ أَنَّ حَرِيزَ بْنَ عُثْمَانَ، حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيُّ، قَالَ: وَافَيْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَارِسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا عَلَى تَابُوتٍ مِنْ تَوَابِيتِ الصَّيَارِفَةِ، وَفَصَلَ عَنْهَا عَظْمًا وَهُوَ يُرِيدُ الْغَزْوَ فَقُلْتُ: لَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْكَ. فَقَالَ: " ائْتِ عَلَى سُورَةِ الْبُحُوثِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: 41] يَعْنِي سُورَةَ التَّوْبَةِ «هَذَا صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2551 - صحيح

حضرت ابو راشد جرانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑا چلانے والے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ ایک تجارتی تابوت پر بیٹھے ہوئے تھے اور گنجائش سے زیادہ جگہ گھیرے ہوئے تھے اور وہ جہا د کر نے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ میں نے کہا: اللہ تعالی نے تجھے معذوررکھا ہے ،انہوں نے کہا:سورۃ تو بہ پڑھو،اللہ تعالی نے فرمایا ہے:’’انفروا خفافاً و ثقالا ‘‘(التوبه:۴۱) یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

عَلَى ابْنِ الْيَمَانِ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2551

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2552

2552 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا نَجْدَةُ بْنُ نُفَيْعٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اسْتَنْفَرَ حَيًّا مِنَ الْعَرَبِ، فَتَثَاقَلُوا، فَنَزَلَتْ {إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا} [التوبة: 39] قَالَ: كَانَ عَذَابُهُمْ حَبْسَ الْمَطَرِ عَنْهُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَعَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ مِنْ ثِقَاتِ الْمَرَاوِزَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2552 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے ایک قبیلے کو جہاد کے لئے بلایالیکن وہ نہ آئے تو یہ آیت نازل ہوئی ’’الا تنفروا يعذبكم عذابا آليمًا‘‘(التوبه:۳۹)’’ا گر کوچ نہ کر و گے تو تمہیں سخت سزادے گا‘‘(ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا ) ( ابن عباس رضی اللہ عنہ )فر ماتے ہیں :ان کا عذاب یہ تھا کہ ان سے بارشیں روک دی گئیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔اورعبد المؤمن بن خالدحنفی مراوزہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَجْدَةُ بْنُ نُفَيْعٍ ← عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ ← يزيد بن الحباب ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2552

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2553

2553 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى الْأَنْطَاكِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَمَرَّ بِأُنَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَاتَّبَعَهُ عَبْدٌ لِامْرَأَةٍ مِنْهُمْ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «فُلَانٌ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «مَا شَأْنُكَ؟» قَالَ: أُجَاهِدُ مَعَكَ قَالَ: «أَذِنَتْ لَكَ سَيِّدَتُكَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «ارْجِعْ إِلَيْهَا فَأَخْبِرْهَا فَإِنَّ مَثَلَكَ مَثَلُ عَبْدٍ لَا يُصَلِّي، إِنْ مُتَّ قَبْلَ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهَا وَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ» فَرَجَعَ إِلَيْهَا فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ، فَقَالَتْ: آللَّهِ هُوَ أَمَرَ أَنْ تَقْرَأَ عَلَيَّ السَّلَامَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَتِ: ارْجِعْ فَجَاهِدْ مَعَهُ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2553 - صحيح

حضرت حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ایک غزوہ کے دوران مد ینہ قبیلے کے کچھ لوگوں کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گز رہواتو ان میں سے ایک عورت کا غلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہولیا۔ کچھ راستہ طے ہو جانے کے بعد اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم فلا شخص ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہارا ارادہ کیا ہے؟ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہادکر نا چا ہتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری مالکہ نے تجھے اجازت دی ہے؟ اس نے کہا نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے پاس واپس چلا جا۔ اور اس کواطلاع دے ۔اس لیے کہ اگر تو اس کے پاس واپس جانے سے پہلے مر گیا تو تیری مثال اس غلام جیسی ہوگی جونمازنہیں پڑھتا۔ اور اس کو میرا سلام بھی کہنا ۔ وہ غلام لوٹ کر اپنی مالکہ کے پاس گیا اور اس کو تمام قصہ سنایا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! کیا واقعی انہوں نے تیرے ہاتھوں مجھے سلام بھیجا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں ۔اس کی مالکہ نے جوابا کہا: تو( ٹھیک ہے ) جاؤ ان کے ہمراہ جہاد کرو ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

الحارث بن عبد الله بن أبي ربيعة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى الْأَنْطَاكِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2553

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2554

2554 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلَّا الدَّيْنُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2554 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: شہید کے تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں سوائے قرض کے ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی مندرجہ ذیل حدیث مذکورہ حد یث کی شاھد ہے ۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 2554

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2555

2555 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ الْمَازِنِيُّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ » أَوَّلَ مَا يُهَرَاقُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ يُغْفَرُ لَهُ ذُنُوبُهُ "

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: شہید کے خون کا پہلا قطر ہ گر تے ہی اس کے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ الْمَازِنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2555

chevron_left Previous
1…1415161718
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section