Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2532

2532 - أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِيزِيلَ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، رَفَعَهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ؛ أَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يَعْدِلُ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَقَامَ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُوا آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا، فَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ، حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ، وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ الشَّيْخُ الزَّانِي وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2532 - صحيح

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے اور تین آدمی ایسے ہیں جن پراللہ ناراض ہے جن سے اللہ محبت کرتا ہے ( وہ یہ ہیں ) (۱ ) وہ آدمی جوکسی قوم کے پاس آئے اور ان سے اللہ کے نام پر سوال کرے اپنے اور ان کے درمیان رشتہ داری کا حوالہ نہ دے، ان میں سے ایک آدمی پیچھے ہٹ آئے اور یوں چپکے سے اس کو عطیہ دے کہ اس کے عطیے کواللہ اوراس لینے والے کے سوا کوئی نہ جانتا ہو۔ ( ۲) کچھ لوگ ساری رات سفر کرتے رہیں ہوں اور جب ان پر نیند کا شدید غلبہ ہوتو وہ ایک جگہ پر پڑاؤ ڈال کر سو جائیں اور وہ شخص کھڑاہوکر میری حمد و ثناء کرے اور میری آیات کی تلاوت کر تار ہے (۳)وہ آدمی جو ایک لشکر میں شریک ہو پھر دشمن سے جنگ ہواور اس کے لشکر کو شکست ہو جائے لیکن یہ مسلسل پیش قدمی کرتا رہے یہاں تک کہ قتل کر دیا جائے یا فتح حاصل ہو۔ اور وہ تین لوگ جن سے اللہ ناراض ہے( یہ ہیں ) ا۔ بوڑ ھازانی ۔ ۲-متکبر فقیر۔ ۳ - ظالم مالدار ۔

النَّبِيِّ ← زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ رَفَعَهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إبراهيم بن ديزيل ← عبد الرحمن بن الحسين القاضي

Hadith 2532

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2533

2533 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أُقَيْشٍ، كَانَ لَهُ رَبٌّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكَرِهَ أَنْ يُسْلِمَ حَتَّى يَأْخُذَهُ، فَجَاءَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: أَيْنَ بَنُو عَمَّتِي؟ فَقَالُوا: بِأُحُدٍ فَقَالَ: أَيْنَ فُلَانٌ؟ قَالُوا: بِأُحُدٍ قَالَ: أَيْنَ فُلَانٌ؟ قَالُوا: بِأُحُدٍ فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ، وَرَكِبَ فَرَسَهُ، ثُمَّ تَوَجَّهَ قَبْلَهُمْ، فَلَمَّا رَآهُ الْمُسْلِمُونَ، قَالُوا: إِلَيْكَ عَنَّا يَا عَمْرُو قَالَ: إِنِّي آمَنْتُ، فَقَاتَلَ حَتَّى جُرِحَ، فَحُمِلَ إِلَى أَهْلِهِ جَرِيحًا، فَجَاءَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ لِأُخْتِهِ: سَلِيهِ حَمِيَّةً لِقَوْمِكَ، أَوْ غَضَبًا لَهُمْ، أَمْ غَضَبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ: «بَلْ غَضَبًا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ، فَمَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَا صَلَّى لِلَّهِ صَلَاةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2533 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عمرو بن اقیش کا ایک آقا تھا ( عمرو بن اقیش ) اس وقت تک صرف اس لئے ایمان نہیں لائے تھے کہ کہیں اس کا آقا اس کو سزانہ دے ۔ وہ جنگ احد والے دن آئے اور پوچھنے لگے : میرے پھو پھی زاد بھائی کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: احد میں ۔ اس نے ایک اور شخص کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے جواب دیا کہ وہ بھی احد میں گیا ہوا ہے ۔ اس نے ایک اور کے متعلق پوچھا تو اس کے بارے میں بھی یہی جواب ملا۔ اس نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر ان کی طرف چل دیا ، جب مسلمانوں نے اس کو دیکھا تو کہنے لگے ،اے عمرو! پیچھے ہٹ کر رہو۔ اس نے کہا: میں ایمان لا چکاہوں ۔ پروہ جہاد میں شریک ہو گیا یہاں تک کہ زخمی ہوگیا ،اس کوزخمی حالت میں اس کے گھر بھیج دیا گیا ۔ پھر حضرت سعد بن معاذرضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اوران کی بہن سے کہا: اس سے پوچھو کہ تو نے اپنی قوم کی مروت یا ان کے لئے کسی غصہ میں جنگ لڑی ہے یا اللہ اوراس کے رسول کے لئے غصے میں لڑے ہو؟ اس نے کہا میں تو محض اللہ اوراس کے رسول کے لئے غصے میں لڑا ہوں ، وہ شخص فوت ہو گیا اور جنت میں داخل ہوا ، حالانکہ اس نے ایک بھی نماز نہیں پڑھی تھی ۔یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← حماد بن سلمة أنبأ محمد بن عمرو ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2533

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2534

2534 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّازُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثِنْتَانِ لَا تُرَدَّانِ، أَوْ قَالَ: قَلَّ مَا تُرَدَّانِ، الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، أَوْ عِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يُلْحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا " قَالَ مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ وَحَدَّثَنِي رِزْقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدَنِيُّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَتَحْتَ الْمَطَرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2534 - صحيح

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: دو( دعائیں) کبھی ردنہیں ہوتیں یا ( شاید فرمایا) بہت کم رد ہوتی ہیں (۱) اذان کے وقت کی دعا۔(۲) جنگ کے وقت ( جبکہ گھمسان کی جنگ ہورہی ہو مانگی ہوئی دعا ۔ ایک اور سند کے ہمراہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بھی بیان کیا ہے کہ بارش میں مانگی ہوئی دعا بھی قبول ہوتی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عبيد بن شريك البزاز ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2534

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2535

2535 - أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ» قَدْ كُنْتُ أَمْلَيْتُ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ مِنْ هَذَا الْكِتَابِ حَدِيثَ رُوَيْمِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ وَجَهِدْتُ إِذْ ذَاكَ أَنْ أَجِدَ لَهُ شَاهِدًا فَلَمْ أَجِدْ «وَهَذَا شَاهِدُهُ إِنْ سَلِمَ مِنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْعُمَرِيِّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2535 - إن سلم من خالد فجيد

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: رات کے وقت سفر کیا کرو کیونکہ رات کے وقت زمین سمیٹ دی جاتی ہے۔ میں نے اس کتاب کی کتاب مناسک الحج میں رویم بن یزید المقری کی سند کے ہمراہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث نقل کی تھی اور میں اس وقت سے اس کوشش میں تھا کہ مجھے اس کی کوئی شاہد حد یث مل جائے اور یہ حدیث اگر خالد بن یزید کے حوالے سے سلامت ہوتو اس کی شاہد ہے ۔

أَنَسٍ، ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر الرازي ← خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ

Hadith 2535

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2536

2536 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَلَا يَأْمَنُ أَنْ يُسْبَقَ، فَلَيْسَ بِقِمَارٍ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ، وَقَدْ أَمِنَ أَنْ يُسْبَقَ فَهُوَ قِمَارٌ» تَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَأَقَامَ إِسْنَادَهُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوشخص دوگھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑ اداخل کرے اور اس کو اپنے جیت جانے کا پختہ یقین نہ ہوتو یہ’’جوا‘‘نہیں ہے اور جوشخص دو گھوڑوں کے درمیان اپنا گھوڑ ا داخل کرے اور اس کواپنے جیت جانے کا سوفیصد یقین ہوتو یہ’’جوا‘‘ ہے۔ اس حدیث کوز ہری سے روایت کرنے میں سعید بن بشیر دمشقی نے سفیان بن حسین کی متابعت کی ہے اور اس کی سند کو قائم کیا ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← حصين بن نمير ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 2536

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2537

2537 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الرَّازِيُّ، نا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ» فَإِنَّ الشَّيْخَيْنِ وَإِنْ لَمْ يُخَرِّجَا حَدِيثَ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَسُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ فَهُمَا إِمَامَانِ بِالشَّامِ وَالْعِرَاقِ وَمِمَّنْ يُجْمَعُ حَدِيثُهُمْ وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا اعْتَمَدَا حَدِيثَ مَعْمَرٍ عَلَى الْإِرْسَالِ فَإِنَّهُ أَرْسَلَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2536 - تابعه سعيد بن بشير عن الزهري صحيح

سعید بن بشیر کی سند کے ہمراہ بھی مذکورہ حدیث مروی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اگر چہ سعید بن بشیر اورسفیان بن حسین کی روایات نقل نہیں کی ہیں لیکن شام اور عراق کے امام ہیں اور ان کی احادیث کو جمع کیا جا تا ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے شیخین رحمتہ اللہ نے معمر کی ارسال والی حدیث پر اعتمادکیا ہے کیونکہ معمر نے زہری سے ارسال کیا ہے۔

الزهري صحيح ← الزُّهْرِيِّ تابعه سعيد بن بشير ← الَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا اعْتَمَدَا حَدِيثَ مَعْمَرٍ عَلَى الْإِرْسَالِ فَإِنَّهُ أَرْسَلَهُ ← سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ فَهُمَا إِمَامَانِ بِالشَّامِ وَالْعِرَاقِ وَمِمَّنْ يُجْمَعُ حَدِيثُهُمْ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Hadith 2537

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2538

2538 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ، بِالرِّيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: " {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرَ مِنْكُمْ} [النساء: 59] عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّرِيَّةِ أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2538 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت حجاج بن محمد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ابن جریج نے یہ آیت پڑھی’’ يايها الذين امنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم‘‘(النساء:۵۹)”اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اورحکم مانو رسول کا اور ان کا جوتم میں حکومت والے ہیں‘‘ ( ترجمہ کنز الایمان امام احمد رضا ) اورفر مایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن قیس بن عدی کوایک لشکر میں بھیجا( اس وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی )۔ یہ حدیث یعلیٰ بن مسلم نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے بتائی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ بِالرَّيِّ،

Hadith 2538

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2539

2539 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَسَلَّحْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ سَيْفًا فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَامَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَعَجَزْتُمْ إِذَا بَعَثْتُ رَجُلًا، فَلَمْ يَمْضِ لِأَمْرِي أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ مَنْ يَمْضِي لِأَمْرِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2539 - على شرط مسلم

حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، میں نے ان میں سے ایک آدمی کو ہتھیار پہنائے ، جب ہم لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ملامت کر تے ہوئے فرمایا : جب میں نے ایک شخص کو تمہاری طرف بھیجا اور وہ میرے حکم کو پورا نہ کر سکا تو تم سے اتنا نہ ہو سکا کہ اس کی جگہ کسی ایسے آدمی کومقر ر کر دیتے جو میرے حکم کو پورا کر لیتا۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عقبة بن مالك ← بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Hadith 2539

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2540

2540 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: ثنا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلًا، تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ تَفَرُّقِكُمْ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ، إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَلَمْ يَنْزِلُوا بَعْدَ ذَلِكَ مَنْزِلًا، إِلَّا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى يُقَالَ: لَوْ بُسِطَ عَلَيْهِمْ ثَوْبٌ لَعَمَّهُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2540 - صحيح

حضرت ابوثعبلہ حشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کسی جگہ پر پڑاؤ ڈالتے تو وادیوں میں، پہاڑی راستوں میں بکھر جاتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا ان وادیوں اور پہاڑی راستوں میں بکھر جا نا شیطان کی طرف سے ہے، اس کے بعد وولوگ جہاں بھی پڑاؤ ڈالتے تو ایک دوسرے کے ساتھ یوں مل کر بیٹھتے کہ اگر کوئی بڑی چادران پر پھیلائی جائے تو سب اس کے نیچے آجائیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلًا تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ، ← أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ← مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، أَنَّهُ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 2540

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2541

2541 - أَخْبرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، حَدَّثَهُمْ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَتَخَلَّفُ عَنِ الْمَسِيرِ، فَيُزْجِي الضَّعِيفَ، وَيُرْدِفُ وَيَدْعُو لَهُمْ» صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2541 - على شرط مسلم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں سب سے پیچھے چلا کر تے تھے، کمزوروں کو دعا دیتے ہوئے( اور حوصلہ بڑھاتے ہوئے) ساتھ چلا تے رہتے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ «يَتَخَلَّفُ ← أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ← أَبِي ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ،

Hadith 2541

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2542

2542 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْعَدْلُ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ فَمَرَّ بِمَجْلِسِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ فَذَهَبُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ مُسْلِمٌ فَقَالَ: «إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانَهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2542 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت فرات بن حیان رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دے دیا جبکہ وہ ابوسفیان کا جاسوس تھا۔ وہ انصار کی ایک مجلس سے گز را تو کہنے لگا : میں مسلمان ہوں ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اس کو پکڑ کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اور آپ کو بتایا کہ یہ شخص اپنے آپ کومسلمان سمجھتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں ہم نے انہی کے ایمان پر چھوڑ رکھا ہے۔ فرات بن حیان بھی ان میں سے ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَبِيبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْعَدْلُ بِمَرْوَ،

Hadith 2542

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2543

2543 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَكِّيُّ، وَمُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ الْغَسَّانِيُّ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَكْرَهُونَ الصَّوْتَ عِنْدَ الْقِتَالِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2543 - على شرط البخاري ومسلم

قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جنگ کے وقت آواز یں لگانے کو نا پسند کر تے تھے ۔

قيس بن عبادة ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَكِّيُّ وَمُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ الْغَسَّانِيُّ ← أبو الحسن علي بن حمشاذ العدل

Hadith 2543

chevron_left Previous
1…131415…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section