المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2520
2520 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْقَصَّارُ، بِمِصْرَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، خَرَجَ فِي مَجْلِسٍ وَهُوَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَذْكُرُونَ سَرِيَّةً مِنَ السَّرَايَا، هَلَكَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيَقُولُ قَائِلٌ مِنْهُمْ: هُمْ عُمَّالُ اللَّهِ هَلَكُوا فِي سَبِيلِهِ، وَقَدْ وَجَبَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عَلَيْهِ. وَيَقُولُ قَائِلٌ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِمْ لَهُمْ مَا احْتَسَبُوا، فَلَمَّا رَأَوْا عُمَرَ مُقْبِلًا مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصَاهُ، سَكَتُوا فَأَقْبَلَ عُمَرُ حَتَّى سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: مَا كُنْتُمْ تَتَحَدَّثُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَذْكُرُ هَذِهِ السَّرِيَّةَ الَّتِي هَلَكَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَقُولُ قَائِلٌ مِنَّا: هُمْ عُمَّالُ اللَّهِ هَلَكُوا فِي سَبِيلِهِ وَقَدْ وَجَبَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عَلَيْهِ وَيَقُولُ قَائِلٌ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِمْ لَهُمْ مَا احْتَسَبُوا، فَقَالَ عُمَرُ: «اللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّ مِنَ النَّاسِ نَاسًا يُقَاتِلُونَ وَإِنَّ هَمَّهُمُ الْقِتَالُ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ، وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ نَاسًا يُقَاتِلُونَ رِيَاءً وَسُمْعَةً، وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ نَاسًا يُقَاتِلُونَ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ فَأُولَئِكَ الشُّهَدَاءُ، وَكُلُّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يُبْعَثُ عَلَى الَّذِي يَمُوتُ عَلَيْهِ، وَاللَّهِ مَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا مَفْعُولٌ بِهَا، لَيْسَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدْ بَيَّنَ لَنَا أَنَّهُ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «إِنَّمَا اتَّفَقَا مِنْ هَذَا الْبَابِ عَلَى حَدِيثِ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2520 - على شرط البخاري
حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں گئے ، وہاں پر کچھ لوگ بیٹھے کسی لشکر کے متعلق گفتگو کر رہے تھے، جو جہاد میں شہید ہو گئے تھے ، ان میں سے ایک نے کہا: وہ اللہ کے ملازم تھے ،اس کے راستے میں شہید ہوئے ہیں ، ان کا اجر اللہ پر واجب ہو چکا ہے، ایک نے کہا: ان کی جونیتیں تھیں ، ان کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ جب ان لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے عصا کے ساتھ لیک لگائے انہی کی طرف متوجہ ہیں تو سب خاموش ہوگئے ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور ان کو سلام کیا۔ آپ نے پوچھا تم کیا گفتگو کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم اس لشکر کے بارے میں بات کر رہے تھے ، جواللہ کی راہ میں شہید ہو گئے ، ہم میں سے ایک شخص کا موقف یہ ہے کہ وہ اللہ کے ملازم تھے ، وہ اسی کی راہ میں شہید ہوئے ہیں ،اس لئے اللہ کے ذمہ ان کا اجر واجب ہو چکا ہے اور ایک کا موقف یہ ہے کہ ان کی اچھی نیتوں کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جہاد کرتے ہیں اوران کی نیت صرف جہاد ہی کی ہوتی ہے تو وہ اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کی استطاعت بھی نہیں رکھتے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جور یا کاری کے لئے جہاد کر تے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جواللہ کی رضا کے حصول کی خاطر جہادکر تے ہیں ، یہی لوگ شہید ہیں اور ان میں سے ہرشخص اس حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر ان کو موت آئی ۔ خدا کی قسم ! کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ خدا کی قسم کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ اوریہ شخص وہ نہیں ہے جس کے بارے میں ہمیں پتہ ہے کہ ان کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے ہیں ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس موضوع پر ابوموسٰی کی روایت کردہ یہ حدیث نقل کی ہے’’ جوشخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے لڑے ، وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے‘‘
ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْقَصَّارُ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ،
Hadith 2520
