Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2520

2520 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْقَصَّارُ، بِمِصْرَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، خَرَجَ فِي مَجْلِسٍ وَهُوَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَذْكُرُونَ سَرِيَّةً مِنَ السَّرَايَا، هَلَكَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيَقُولُ قَائِلٌ مِنْهُمْ: هُمْ عُمَّالُ اللَّهِ هَلَكُوا فِي سَبِيلِهِ، وَقَدْ وَجَبَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عَلَيْهِ. وَيَقُولُ قَائِلٌ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِمْ لَهُمْ مَا احْتَسَبُوا، فَلَمَّا رَأَوْا عُمَرَ مُقْبِلًا مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصَاهُ، سَكَتُوا فَأَقْبَلَ عُمَرُ حَتَّى سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: مَا كُنْتُمْ تَتَحَدَّثُونَ؟ قَالُوا: كُنَّا نَذْكُرُ هَذِهِ السَّرِيَّةَ الَّتِي هَلَكَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَقُولُ قَائِلٌ مِنَّا: هُمْ عُمَّالُ اللَّهِ هَلَكُوا فِي سَبِيلِهِ وَقَدْ وَجَبَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عَلَيْهِ وَيَقُولُ قَائِلٌ: اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِمْ لَهُمْ مَا احْتَسَبُوا، فَقَالَ عُمَرُ: «اللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّ مِنَ النَّاسِ نَاسًا يُقَاتِلُونَ وَإِنَّ هَمَّهُمُ الْقِتَالُ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ، وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ نَاسًا يُقَاتِلُونَ رِيَاءً وَسُمْعَةً، وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ نَاسًا يُقَاتِلُونَ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ فَأُولَئِكَ الشُّهَدَاءُ، وَكُلُّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يُبْعَثُ عَلَى الَّذِي يَمُوتُ عَلَيْهِ، وَاللَّهِ مَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا مَفْعُولٌ بِهَا، لَيْسَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدْ بَيَّنَ لَنَا أَنَّهُ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «إِنَّمَا اتَّفَقَا مِنْ هَذَا الْبَابِ عَلَى حَدِيثِ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2520 - على شرط البخاري

حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں گئے ، وہاں پر کچھ لوگ بیٹھے کسی لشکر کے متعلق گفتگو کر رہے تھے، جو جہاد میں شہید ہو گئے تھے ، ان میں سے ایک نے کہا: وہ اللہ کے ملازم تھے ،اس کے راستے میں شہید ہوئے ہیں ، ان کا اجر اللہ پر واجب ہو چکا ہے، ایک نے کہا: ان کی جونیتیں تھیں ، ان کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ جب ان لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے عصا کے ساتھ لیک لگائے انہی کی طرف متوجہ ہیں تو سب خاموش ہوگئے ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور ان کو سلام کیا۔ آپ نے پوچھا تم کیا گفتگو کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم اس لشکر کے بارے میں بات کر رہے تھے ، جواللہ کی راہ میں شہید ہو گئے ، ہم میں سے ایک شخص کا موقف یہ ہے کہ وہ اللہ کے ملازم تھے ، وہ اسی کی راہ میں شہید ہوئے ہیں ،اس لئے اللہ کے ذمہ ان کا اجر واجب ہو چکا ہے اور ایک کا موقف یہ ہے کہ ان کی اچھی نیتوں کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو جہاد کرتے ہیں اوران کی نیت صرف جہاد ہی کی ہوتی ہے تو وہ اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کی استطاعت بھی نہیں رکھتے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جور یا کاری کے لئے جہاد کر تے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جواللہ کی رضا کے حصول کی خاطر جہادکر تے ہیں ، یہی لوگ شہید ہیں اور ان میں سے ہرشخص اس حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر ان کو موت آئی ۔ خدا کی قسم ! کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ خدا کی قسم کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ اوریہ شخص وہ نہیں ہے جس کے بارے میں ہمیں پتہ ہے کہ ان کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے ہیں ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس موضوع پر ابوموسٰی کی روایت کردہ یہ حدیث نقل کی ہے’’ جوشخص اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے لڑے ، وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے‘‘

ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْقَصَّارُ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ،

Hadith 2520

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2521

2521 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، أَنْبَأَ مُسَدَّدٌ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٌ، وَابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: وَأُخْرَى فَتَقُولُونُهَا لِمَنْ قُتِلَ فِي مَغَازِيكُمْ أَوْ مَاتَ: قُتِلَ فُلَانٌ وَهُوَ شَهِيدٌ أَوْ مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا وَلَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ أَوْقَرَ عَجُزَ دَابَّتِهِ أَوْ قَالَ رَاحِلَتِهِ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا يَلْتَمِسُ التِّجَارَةَ فَلَا تَقُولُوا ذَاكُمْ وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مَاتَ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ» هَذَا حَدِيثٌ كَبِيرٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَا وَاحِدٌ مِنْهُمَا لِقَوْلِ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ وَأَنَا ذَاكِرٌ بِمَشِيئَةِ اللَّهِ فِي كِتَابِ النِّكَاحِ مَا يُسْتَدَلُّ بِهِ عَلَى صِحَّتِهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2521 - صحيح

حضرت ابو العجفاء سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کچھ لوگ ایسے ہیں جو جہاد میں قتل ہونے والے یا مرنے والے کے متعلق کہتے ہیں: فلاں شخص قتل کر دیا گیا ہے اور وہ شہید ہے یا فلاں شخص شہادت کی موت مرا، یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ اس نے تجارت کی طلب میں سونے یا چاندی کے حصول کی غرض سے جنگ لڑی ہو، اس لئے تم ایسے مت کہا کرو بلکہ اس طرح کہا کروجس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے کہ جوشخص اللہ کی راہ میں قتل کر دیا گیایا مرگیاوہ جتنی ہے ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں نے اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ سلمہ بن علقمہ نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس کی روایت کرتے ہوئے’’انبنت عن ابی العجفاء ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور میں کتاب النکاح میں اس کی صحت کی دلیل ذکر کروں گا ۔انشاءاللہ تعالی ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِي ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، وَهِشَامٌ، وَابْنُ عَوْنٍ، ← إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، أَنْبَأَ مُسَدَّدٌ،

Hadith 2521

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2522

2522 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ غَزَا وَهُوَ لَا يَنْوِي فِي غَزَاتِهِ إِلَّا عِقَالًا، فَلَهُ مَا نَوَى» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ الَّذِي» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2522 - صحيح

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم سلم نے ارشادفر مایا: جوشخص اونٹ باند ھنے کی ایک رسی کے حصول کی خاطر جہاد میں شرکت کرے گا ، اس کے لئے اس کی نیت کے مطابق اجر ہوگا ۔ یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔ یعلیٰ بن امیہ کی روایت کرده در ج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ۔

جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ← يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، ← جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 2522

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2523

2523 - أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنِي فِي سَرَايَاهُ، فَبَعَثَنِي ذَاتَ يَوْمٍ، وَكَانَ رَجُلٌ يَرْكَبُ، فَقُلْتُ لَهُ أَرْحِلْ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِخَارِجٍ مَعَكَ قُلْتُ: لِمَ؟ قَالَ: حَتَّى تَجْعَلَ لِي ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ قُلْتُ: الْآنَ حِينَ وَدَّعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ مَا أَنَا بِرَاجِعٍ إِلَيْهِ أَرْحِلْ، وَلَكَ ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ، فَلَمَّا رَجَعْتُ مِنْ غَزَاتِي، ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطِهَا إِيَّاهُ فَإِنَّهَا حَظُّهُ مِنْ غَزَاتِهِ»

حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جنگی مہموں میں بھیجا کر تے تھے، ایک دن آپ نے مجھے (ایک جنگی مہم پر) روانہ کیا ۔ ایک شخص گھڑ سواری کیا کرتا تھا ، میں نے اس کو کہا کہ تیاری کرو ۔اس نے کہا: میں تیرے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا: اگر تین دینار مجھے دو گے تو میں چلوں گا۔ میں نے کہا: اب جبکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے الوداع ہو کر آ گیا ہوں ،اب ان کی طرف لوٹ کر نہیں جاؤں گا تم چلو (ٹھیک ہے) تمہیں تین دینارمل جائیں گے۔ پھر جب میں اس جنگ سے واپس لوٹا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو تین درہم دے دو کیونکہ تمہاری جنگ سے یہ اس کا حصہ ہے۔

يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، ← بَشِيرُ بْنُ طَلْحَةَ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2523

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2524

2524 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ أَخُو أَهْلِ الشَّامِ: أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثَنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَوَّلُ النَّاسِ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ، فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا» قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهِ؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى قُتِلْتُ قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنْ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ هُوَ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ، قَالَ: ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ، حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ، وَعَلَّمَهُ، وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ عَلَيْهِ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ فِيكَ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ. فَيَقُولُ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ هُوَ عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ، لِيُقَالَ: هُوَ قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَعْطَاهُ مِنْ أَنْوَاعِ الْمَالِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا عَلِمْتُ مِنْ شَيْءٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفِقَ فِيهِ إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهِ. قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ، لِيُقَالَ هُوَ جَوَادٌ، فَقَدْ قِيلَ ثُمَّ أُمِرَ بِهِ، فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ، حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجْهُ الْبُخَارِيُّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2524 - لم يخرجه البخاري وهو على شرطهما

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا: قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا وہ ایک شہید ہوگا ، اس کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا ، اللہ تعالی اس سے اپنی نعمتوں کا اعتراف کروائے گا ، وہ اعتراف کر لے گا ،اللہ تعالی فرمائے گا : تو نے میرے لئے کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا: یا اللہ ! تیری رضا کی خاطر میں لڑ تار ہا حتی کہ مجھے قتل کر دیا گیا۔اللہ تعالی ٰفرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، تو نے جہاداس لئے کیا تھا تا کہ لوگ تجھے بہادر کہیں ،سووہ کہہ لیا گیا۔ پھرحکم دیا جائے گا اور اس کو اوندھے منہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔ ایک ایسا شخص جس نے علم حاصل کیا اور اس کی تعلیم دی اور قرآن پڑھا ہوگا ،اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لا یا جائے ، اللہ تعالی اسے اپنی نعمتوں کا اعتراف کر وائے گا ، وہ اعتراف کر لے گا، اللہ تعالی فرمائے گا: تو نے ان کے بدلے کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا : تیری رضا کی خاطر میں نے علم سیکھا اور اس کی تعلیم دی اور تیری رضا کی خاطر قر آن پڑھاءاللہ تعالی فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے ،تو نے تو علم اس لئے حاصل کیا تھا تا کہ تجھے عالم کہا جائے اور تو نے قرآن اس لئے پڑھاتھا تا کہ تجھے قاری کہا جائے ،سووہ کہ لیا گیا۔ پھر حکم دیا جائے گا اوراس کواوند ھے منہ جہنم میں پھینک دیا جاۓ گا۔ ایک ایسا شخص جس کو اللہ تعالی نے وسعت دی اور قسم قسم کا مال عطا فرمایا، اس کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا ، اللہ تعالی اس کوا پنی نعمتوں کا اعتراف کر وائے گا ، وہ اعتراف کر لے گا ، پھر اللہ تعالی فرمائے گا: تو نے ان کے بدلے میں کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا: مجھے جس چیز کے متعلق بھی یہ پتہ چلا کہ اس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہے، میں نے وہاں خرچ کیا ،اللہ تعالی فرمائے گا : تو جھوٹا ہے،تو نے تو اس لئے خرچ کیا تھا تا کہ تجھے سخی کہا جائے ،سوکہہ لیا گیا ۔ پھر اللہ تعالی حکم دے گا اور اس کواوند ھے منہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا۔

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ

Hadith 2524

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2525

2525 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِيَّاكُمْ وَهَذِهِ الشَّهَادَاتِ أَنْ تَقُولَ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا، فَإِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ حَمِيَّةً، وَيُقَاتِلُ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا، وَيُقَاتِلُ وَهُوَ جَرِيءُ الصَّدْرِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ عَلَى مَا تَشْهَدُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى قَامَ فَحَمِدَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ لَقُوا الْمُشْرِكِينَ، فَاقْتَطَعُوهُمْ، فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ وَإِنَّهُمْ قَالُوا: رَبَّنَا بَلِّغْ قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ رَضِينَا، وَرَضِيَ عَنَّا رَبُّنَا فَأَنَا رَسُولُهُمْ إِلَيْكُمْ، إِنَّهُمْ قَدْ رَضُوا وَرَضِيَ عَنْهُمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ إِنْ سَلِمَ مِنَ الْإِرْسَالِ فَقَدِ اخْتَلَفَ مَشَايِخُنَا فِي سَمَاعِ أَبِي عُبَيْدَةَ مِنْ أَبِيهِ» وَلَهُ شَاهِدٌ مَوْقُوفٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2525 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس طرح کی گواہیاں دینے سے بچا کرو کہ فلاں شخص قتل کیا گیا ہے ، وہ شہید ہے، کیونکہ کوئی تو مروتالڑ تا ہے اور کوئی دنیا کی طلب میں لڑ تا ہے اور کوئی بہادری سے لڑتا ہے ، میں تمہیں بتا تا ہوں کہ کسی کے متعلق گواہی کیسے دیتے ہیں ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر سالشکر بھیجا،زیادہ دیرنہیں گزری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر اللہ تعالی کی حمد و ثناء کر نے کے بعد فرمایا تمہارے بھائی مشرکوں سے لڑے اور انہوں نے ان ( تمہارے بھائیوں) کو مار ڈالا ہے اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا اور انہوں نے یہ دعا مانگی تھی’’اے ہمارے رب ہماری قوم تک ہمارا یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم راضی ہیں اور ہمارا رب ہم پر راضی ہے ‘‘ تو میں ان کی طرف سے تمہیں پیغام دے رہا ہوں کہ وہ راضی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہے ۔ اگراس کی سند ارسال سے محفوظ ہوتو صحیح الاسناد ہے۔ابوعبیدہ کے اپنے والد سے سماع کے متعلق ہمارے مشائخ میں اختلاف پایا جا تا ہے ۔ درج ذیل موقوف حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے جو کہ شیخین رحمتہ اللہ کے معیار پر ہے ۔

أبا عبيدة بن عبد الله ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2525

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2526

2526 - أَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُذَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: خَرَجَ نَاسٌ فَقُتِلُوا فَقَالُوا: فُلَانٌ اسْتُشْهِدَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُقَاتِلُ لِلدُّنْيَا، وَيُقَاتِلُ لِيُعْرَفَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَمُوتُ عَلَى فِرَاشِهِ، وَهُوَ شَهِيدٌ، ثُمَّ تَلَا {وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ، أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ} [الحديد: 19] "

حضرت ہذیل بن شرحبیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ جہاد کے لئے نکلے اورقتل کر دیئے گئے ،لوگوں نے کہا: فلاں شخص شہید ہو گیا ،تو عبداللہ بولے آ دمی ( کبھی) حصول دنیا کی غرض سے لڑ تا ہے اور ( کبھی ) اس لئے لڑتا ہے تا کہ اس کی تعریف کی جائے لیکن ایک آدمی ایسا بھی ہوتا ہے جواپنے بستر پر مرتا ہے لیکن وہ شہید ہوتا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی’’ والذين امنوا بالله ورسله أولئك هم الصديقون والشهداء عند ربهم‘‘(الحديد:۱۹) ’’ اور وہ جواللہ اوراس کے سب رسولوں پر ایمان لائے وہی ہیں کامل سچے اور اوروں پر گواہ اپنے رب کے یہاں‘‘۔( ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا)

فُلَانٌ اسْتُشْهِدَ. ← خَرَجَ نَاسٌ فَقُتِلُوا ← هُذَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ← أَبِي قَيْسٍ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ،

Hadith 2526

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2527

2527 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَقِفُ الْمَوْقِفَ أُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ، وَأُرِيدُ أَنْ يُرَىَ مَوْطِنِي، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ {فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ، فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا، وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا} [الكهف: 110] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2527 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایسے مقام پر کھڑ ا ہوں کہ میں اللہ کی رضا کا ارادہ بھی کرتا ہوں اور یہ بھی ارادہ رکھتا ہوں کہ میرے میدان جنگ ( کے کارناموں کو بھی) دیکھا جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی اس کو کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ یہ آیت نازل ہوئی’’ فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه احدًا‘‘( الكهف:۱۱۰)’’ تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو، اسے چاہئے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے‘‘ ( ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا)۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

رَجُلٌ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← جَدِّي، ← إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني،

Hadith 2527

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2528

2528 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْجُمَحِيُّ الْمَكِّيُّ، ثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَوَّلُ النَّاسِ يَدْخُلُ النَّارَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، يُؤْتَى بِالرَّجُلِ، أَوْ قَالَ: بِأَحَدِهِمْ فَيَقُولُ: رَبِّ عَلَّمْتَنِي الْكِتَابَ، فَقَرَأْتُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ رَجَاءَ ثَوَابِكَ، فَيُقَالَ: كَذَبْتَ إِنَّمَا كُنْتَ تُصَلِّي، لِيُقَالَ قَارِئٌ مُصَلٍّ، وَقَدْ قِيلَ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِآخَرَ، فَيَقُولُ رَبِّ رَزَقْتَنِي مَالًا، فَوصَلْتُ بِهِ الرَّحِمَ، وَتَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَى الْمَسَاكِينِ، وَحَمَلْتُ ابْنَ السَّبِيلِ رَجَاءَ ثَوَابِكَ وَجَنَّتِكَ، فَيُقَالُ: كَذَبْتَ إِنَّمَا كُنْتَ تَتَصَدَّقُ وَتَصِلُ لِيُقَالَ إِنَّكَ سَمْحٌ جَوَادٌ، وَقَدْ قِيلَ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ، ثُمَّ يُجَاءُ بِالثَّالِثِ فَيَقُولُ: رَبِّ خَرَجْتُ فِي سَبِيلِكَ فَقَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى قُتِلْتُ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ رَجَاءَ ثَوَابِكَ وَجَنَّتِكَ، فَيُقَالُ: كَذَبْتَ إِنَّمَا كُنْتَ تُقَاتِلُ لِيُقَالَ إِنَّكَ جَرِيءٌ شُجَاعٌ، وَقَدْ قِيلَ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2528 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے تین آدمیوں کو جہنم میں ڈالا جائے گا، ان میں سے ایک کو لا یا جائے گا ، وہ کہے گا: اے اللہ ! تو نے مجھے قرآن سکھایا، میں دن رات تیری بارگاہ سے ثواب کی امید پر اس کی تلاوت کر تار ہا، اس کو کہا جائے گا: تو جھوٹا ہے ، تو تو اس لئے پڑھتا تھا تا کہ تیرے بارے میں کہا جائے کہ یہ قرآن پڑھنے والا قاری ہے ۔سووہ کہہ لیا گیا ، اس کو جہنم میں لے جاؤ ۔ پھر دوسرے کو لا یا جائے گا ، وہ کہے گا : اے اللہ ! تو نے مجھے مال عطا کیا تھا ، میں نے اس کے ساتھ صلہ رحمی کی مسکینوں پر صدقہ کرتا رہا اور مسافروں پر خرچ کرتا رہا ،صرف ثواب اور جنت کی نیت سے ۔ اس کو کہا جائے گا: تو جھوٹا ہے ،تو تو اپنے آپ کوسخی کہلوانے کے لئے صدقہ کیا کرتا تھا اور صلہ رحمی کر تا تھا ،سووہ کہہ لیا گیا ، اس کو جہنم میں لے جاؤ ۔ پھر تیسرے آدمی کولا یا جائے گا، وہ کہے گا اے اللہ ! میں تیری راہ میں نکلا اور تیری رضا کی خاطر لڑ تار ہا یہاں تک کہ مجھےلڑتے ہوئے قتل کر دیا گیا ، پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے میں نہیں مارا گیا ہوں ،صرف تیرے ثواب اور جنت کی امید میں ۔ اس کو کہا جائے گا تو جھوٹا ہے ،تو نے تو اس لئے جنگ لڑی تھی تا کہ تجھے دلیر اور بہادر کہا جائے ،سو وہ کہہ لیا گیا ،اس کو جہنم میں لے جاؤ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس انداز میں اس کونقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْجُمَحِيُّ الْمَكِّيُّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2528

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2529

2529 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ حَنَانِ بْنِ خَارِجَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْجِهَادِ وَالْغَزْوِ، فَقَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِنْ قَاتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، بَعَثَكَ اللَّهُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا، وَإِنْ قَاتَلْتَ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا بَعَثَكَ اللَّهُ مُرَائِيًا مُكَاثِرًا، يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو عَلَى أَيِّ حَالٍ قَاتَلْتَ، أَوْ قُتِلْتَ بَعَثَكَ اللَّهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ» حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے جہاداور غزوہ کے متعلق بتایئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمر و! اگر تو حصول ثواب کی خاطر صبر کر تے ہوئے جہاد کرے گا تو اللہ تعالی تجھے صابر (صبر کر نے والا )’’محتسب‘( ثواب کی نیت کر نے والا ) اٹھائے گا اور اگر تو ’’مرایئی‘‘ ( ریا کاری کر نے والا )اور’’مکاثر‘‘(فخر کر نے والا ) جہادکرے گا تو اللہ تعالی تجھے مرایمی اور مکاثر اٹھائے گا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ ← حَنَانِ بْنِ خَارِجَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Hadith 2529

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2530

2530 - أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ الثَّقَفِيُّ الزَّاهِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الْمَالِكِيُّ بِالرِّيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ بِمِصْرَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْقُرَشِيُّ، أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، أَنَّ يَعْلَىَ بْنَ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغَزْوِ وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ لَيْسَ لِي خَادِمٌ، فَأَلْتَمِسُ أَجِيرًا يَكْفِينِي، وَأُجْرِي لَهُ سَهْمَهُ، فَوَجَدْتُ رَجُلًا، فَلَمَّا دَنَا الرَّحِيلُ، أَتَانِي فَقَالَ: مَا أَدْرِي مَا السُّهْمَانِ وَمَا يَبْلُغُ سَهْمِي فَسَمِّ لِي شَيْئًا كَانَ السَّهْمُ أَوْ لَمْ يَكُنْ، فَسَمَّيْتُ لَهُ ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ، فَلَمَّا حَضَرَتْ غَنِيمَةً، أَرَدْتُ أَنْ أُجْرِيَ لَهُ سَهْمَهُ، فَذَكَرْتُ الدَّنَانِيرَ، فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ أَمْرَهُ فَقَالَ: مَا أَجِدُ لَهُ فِي غَزْوَتِهِ هَذِهِ فِي الدُّنْيَا إِلَّا دَنَانِيرَهُ الَّتِي سَمَّى «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2530 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن دیلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے یعلی ٰبن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا اعلان کر واد یا ، میں اس وقت بوڑ ھا تھا اور میرے پاس کوئی خادم بھی نہ تھا، میں نے سوچا کہ کسی شخص کو مز دوری پر رکھ لوں جو میرے ساتھ معاونت کر تار ہے اور میں اس کو ایک حصہ دے دوں گا ، تو مجھے ایک آدمی مل گیا ، جب روانگی کا وقت قریب آیا تو و ہ شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا، میں نہیں جانتا کہ دو حصے کیا ہوں گے اور ان میں سے میرے ایک حصے میں مجھے کیا ملے گا اس لئے آپ کوئی چیز معین کر دیں ، چاہے وہ ایک حصہ ہو یا نہ ہو۔ چنانچہ میں نے تین دینار تعین کر دیئے پھر جب ( جہادختم ہو گیا اور ہمیں فتح ہوئی )اور ہمیں مال غنیمت ملاتو میں نے ارادہ کیا کہ اس کا حصہ ، اس کی اجرت دے دوں پھر مجھے دیناروں والی بات یاد آ گئی پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس غزوہ میں ان کے حصہ میں دنیا کے مال میں صرف وہی دینار آئے ہیں جواس نے (اجرت کے طور پر) طے کئے تھے۔یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

آذَنَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، أَنَّ يَعْلَىَ بْنَ أُمَيَّةَ ← يحيى بن أبي عمرو السيباني ← عَاصِمُ بْنُ حَكِيمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْقُرَشِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الْمَالِكِيُّ بِالرِّيِّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ الثَّقَفِيُّ الزَّاهِدُ،

Hadith 2530

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2531

2531 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ، فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ، وَرَجَعَ حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2531 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : اللہ تعالی اس شخص پر بہت خوش ہوتا ہے، جواللہ کی راہ میں جہاد میں شریک ہو، اس کے ساتھیوں کو شکست ہو جائے اور اس وقت کی سختی کا اسے صحیح طور پر اندازہ بھی ہو جائے لیکن اس کے باوجود وہ میدان جنگ کی طرف لوٹ آئے ( اور لڑ تا ر ہے) یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا جائے ۔ اللہ تعالی اپنے فرشتوں سے فر ما تا ہے: میرے بندے کو دیکھو یہ میری بارگاہ میں ثواب کی رغبت اور میرے عذاب سے خوف کی وجہ سے میدان جنگ میں لوٹ آیا ہے یہاں تک کہ اس کا خون بہاد یا گیا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔ سندصحیح کے ہمراہ ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث شاہد ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← حماد بن سلمة أنبأ عطاء بن السائب ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2531

chevron_left Previous
1…121314…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section