المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2508
2508 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدَانَ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ أَبُو الْعَلَاءِ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: كُنْتُ أُسَايِرُ عَمَّارًا يَوْمَ الْجَمَلِ وَمَعَهُ قَرْنٌ مُسْتَمَطَّةٌ، بِسَرْجِهِ يَبُولُ فِيهِ، إِذَا بَالَ فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ، قَالَ: يَا مُخَارِقُ إِيتِ رَايَةَ قَوْمِكَ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِغَازٍ، وَأَنَا الْيَوْمَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ، قَالَ: بَلْ يَا مُخَارِقُ إِيتِ رَايَةَ قَوْمِكَ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ «يَسْتَحِبُّ أَنْ يُقَاتِلَ الرَّجُلُ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2508 - صحيح
حضرت مخارق بن سلیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں جنگ جمل کے دن حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا اور ان کی زین کے ساتھ ایک سینگ لٹک رہا تھا ، جب ان کو پیشاب آ تا تو وہ اس میں کر دیتے ، جب میدان جنگ میں پہنچے تو عمار مجھ سے کہنے لگے : اے مخارق! اپنی قوم کا جھنڈ الاؤ، میں نے کہا: آج میری حالت ٹھیک نہیں ہے ،اس لئے میں جنگ میں شریک نہیں ہوں گا۔ انہوں نے کہا: پھر بھی اے مخارق! اپنی قوم کا جھنڈ الا ؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ اپنی قوم کے جھنڈے کےنیچے جہاد کیا جائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
مُخَارِقِ بْنِ سَلِيمٍ ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، ← عُقْبَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ أَبُو الْعَلَاءِ الشَّيْبَانِيُّ، ← أبو سعيد عبد الله بن سعيد الكندي، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدَانَ،
Hadith 2508
