Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2496

2496 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْوَاحِدُ شَيْطَانٌ، وَالِاثْنَانِ شَيْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2496 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک شیطان ہے اور دو شیطان ہیں اور تین مسافر ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2496

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2497

2497 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَلَدِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ، وَعَنْ رُكُوبِ الْجَلَّالَةِ وَالْمُجَثَّمَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ فِيهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2497 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے ( منہ لگا کر) پانی پینے سے منع فرمایا ہے اور جلالہ ( وہ جانور جو گندگی کھاتا ہے) اور مجثمہ ( وہ جانور جس کو باندھ کر اس پر نیزوں اور تیروں وغیرہ سے نشانہ بازی کی جائے ) پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ ۔حضرت عبدالہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے تاہم اس میں چند الفاظ زائد ہیں ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَلَدِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2497

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2498

2498 - حَدَّثَنَاهُ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ إِدْرِيسَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَعَنِ الْجَلَّالَةَ وَعَنْ رُكُوبِهَا وَأَكْلِ لُحُومِهَا»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گدھے کا گوشت کھانے سے اور جلالہ کا گوشت کھانے سے اور اس پر سواری کرنے سے منع کیا ۔

جده عبد الله بن عمرو ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2498

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2499

2499 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، وَيَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَا: ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} [الأنعام: 152] وَ {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا} [النساء: 10] إِلَى قَوْلِهِ {سَعِيرًا} [النساء: 10] قَالَ: انْطَلَقَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ يَتِيمٌ، فَعَزَلَ طَعَامَهُ مِنْ طَعَامِهِ، وَشَرَابَهُ مِنْ شَرَابِهِ، يَفْصِلُ الشَّيْءَ مِنْ طَعَامِهِ فَيُحْبَسُ لَهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ، أَوْ يَفْسَدَ، فَيَرْمِي بِهِ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ} [البقرة: 220] إِلَى {عَزِيزٌ حَكِيمٌ} [البقرة: 220] فَخَلَطُوا طَعَامَهُمْ بِطَعَامِهِمْ، وَشَرَابَهُمْ بِشَرَابِهِمْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَإِنَّمَا أَخْرَجَهُ أَئِمَّتِنَا فِي الرُّخْصَةِ فِي الْمُنَاهَدَةِ فِي الْغَزْوِ «.» وَشَاهِدُهُ الْمُفَسِّرُ حَدِيثُ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2499 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ( ولا تقربو مال الیتم الا بالتی ھی احسن ( الا نعام 152) " اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقہ سے" ( ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا ) اور یہ آیت ۔ ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما ۔۔۔۔۔سعیرا تک ( النساء10)وہ جو یتیموں کا مل ناحق کھاتے ہیں وہ تو اپنے پیٹ مین نری آگ بھرتے ہیں اور کوئی دم جاتا ہے کہ بھڑکتے دھڑے میں جائیں گے( ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا )۔ نازل فرمائی تو جس کے پاس کوئی یتیم زیر کفالت تھا اس نے گھر جا کر اس کا کھانا اپنے کھانے سے اور اس کےمشروبات اپنے مشروبات سے الگ کر دیے اور اس کے کھانے پینے کی ہر چیز الگ کر کے رکھ دی ( اور صورت حال یہ ہو گئی ) کہ وہی اس کو کھاتا یا پھر وہ خراب ہو جاتی ، تو اس کو پھینک دیا جاتا ۔ یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بہت گراں گزری انہوں نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ ( یسالونک عن الیتامی قل اصاح لھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔عزیز حکیم) تک " اور تم سے سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ۔ اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والوں کو سنوارنے والے سے اور اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈالتا ، بے شک اللہ زبردست حکمت والا ہے "( ترجمہ کنز الایمان ، امام احمد رضا )۔یہ آیت عزیز حکیم تک نازل فرمائی پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کاکھانا اپنے کھانے کے ساتھ اور ان کا پینا اپنے پینے کے ساتھ ملا لیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ ہمارے آئمہ نے اس حدیث کو دوران جنگ ایک دوسر ے کا غلہ اکٹھا کرنے کی اجازت کے باب میں بیان کیا ہے ۔ وحشی بن حرب سے مروی ایک مفسر حدیث اس کا شاہد ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے۔ )

لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَ إِلَى قَوْلِهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى وَيَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2499

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2500

2500 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَمَا نَشْبَعُ. قَالَ: «فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ عَنْ طَعَامِكُمْ، اجْتَمِعُوا عَلَيْهِ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ يُبَارَكْ لَكُمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2500 - أخرجناه شاهدا

حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کھاتے ہیں ، لیکن ہمارے پیٹ نہیں بھرتے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید کہ تم اپنا کھانا الگ الگ کھاتے ہو ، سب لوگ کھانا جمع کر لیا کرو اس پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کر لیا کرو اس میں برکت ہو گی ۔

جده وحشي بن حرب أن رجلا ← أَبِيهِ ← وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيٍّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أبو محمد عبد الرحمن بن حمدان الجلاب

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2500

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2501

2501 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي هَاجَرْتُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ هَجَرْتَ مِنَ الشِّرْكِ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ؟» قَالَ: أَبَوَايَ قَالَ: «أَذِنَا لَكَ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَارْجِعْ فَاسْتَأْذِنْهُمَا، فَإِنْ أَذِنَا لَكَ، فَجَاهِدْ وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ «إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2501 - دراج واه

۲۵۰۱-حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،ایک شخص یمن سے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہجرت کے آیا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے شرک سے ہجرت تو کر لی ہے لیکن اصل ہجرت تو جہاد ہے ۔ کیا یمن میں تیرا کوئی ( رشتہ دار) ہے؟ اس نے کہا : جی ہاں میرے والدین ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے تجھے جہاد کی اجازت دی ہے؟ اس نے کہا نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اوران سے اجازت مانگ ،اگر وہ اجازت دے دیں تو جہاد کر ور نہ ان کی خدمت میں مشغول ہو جا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اس کو اس انداز میں بیان نہیں کیا تا ہم امام بخاری رحمتہ اللہ نے اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے یہ ان دونوں میں’مجاہد‘‘ تک حدیث ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا هَاجَرَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ مِنْ الْيَمَنِ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2501

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2502

2502 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، بِالرِّيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ، أَنَّ جَاهِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فَجِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ. قَالَ: «أَلَكَ وَالِدَةٌ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «اذْهَبْ فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلَيْهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2502 - صحيح

حضرت معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جاہمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : میں نے جہاد کرنے کا ارادہ کیا ہے اور آپ کے پاس اس سلسلے میں مشورہ کرنے آیا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تیری والدہ ( زندہ ) ہے؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جا،اس کی خدمت کر کیونکہ جنت اس کے قدموں نیچے ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا

نَعَمْ ← «أَلَكَ وَالِدَةٌ؟» ← إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فَجِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ. ← مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ، أَنَّ جَاهِمَةَ، أَتَى النَّبِيَّ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ بِالرَّيِّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2502

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2503

2503 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَرَأَ الْقُرْآنَ {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: 41] فَقَالَ: أَرَى أَنْ تُسْتَنْفَرُوا شُيُوخًا وَشُبَّانًا. فَقَالُوا: يَا أَبَانَا، لَقَدْ غَزَوْتَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَنَحْنُ نَغْزُو عَنْكَ فَأَبَى، فَرَكِبَ الْبَحْرَ حَتَّى مَاتَ، " فَلَمْ يَجِدُوا جَزِيرَةً يِدْفِنُوهُ إِلَّا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ، قَالَ: فَمَا تَغَيَّرَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2503 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کی یہ آیت ’’انفروا خفافاً وثقالا‘‘ (التوبة: ۴۱)’’ کوچ کر وہلکی جان سے چا ہے بھاری دل سے‘‘۔( ترجمہ کنزالایمان،امام احمدرضا ) تلاوت کی اور فر مایا: میرے خیال میں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم جوانوں اور بوڑھوں سب کو جنگ کے لئے لے چلوان کے بیٹے کہنے لگے: ابا جان ، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام حیات میں جہاد کیا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر ب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بھی جہاد میں شریک رہے ہیں ،اب آپ کی جگہ پر ہم جہاد کر یں گے ۔لیکن وہ نہ مانے ، پھر (ایک دفعہ )وہ سمندر کے سفر کے دوران انتقال کر گئے ( ان کے ہم سفروں کو) قریب کوئی جزیرہ نہ ملا،جس میں ان کی تدفین کی جاتی ، سات دن کے بعد ایک جزیرے تک پہنچے لیکن ابھی تک ( ان کی لاش اسی طرح تر و تازہ تھی اور) اس میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا تھا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَرَى أَنْ تُسْتَنْفَرُوا شُيُوخًا وَشُبَّانًا. ← أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ قَرَأَ الْقُرْآنَ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2503

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2504

2504 - أَخْبرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حَاتِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثنِي نَجْدَةُ بْنُ نُفَيْعٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِلَّا تَنْفِرُوا} [التوبة: 39] يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا قَالَ: «اسْتَنْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيًّا مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَتَثَاقَلُوا، فَأُمْسِكَ عَنْهُمُ الْمَطَرُ، وَكَانَ عَذَابُهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2504 - صحيح

حضرت نجد ہ بن نفیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالی کے اس قول ’’الا تنفروا يعذبكم عذابا اليما ً‘‘(التوبۃ ۳۹ ) ’’اگر نہ کوچ کرو گے تو تمہیں سخت سزادے گا‘‘۔ ( ترجمہ کنزالا یمان ،امام احمدرضا ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ( اس کا مطلب یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے ایک قبیلے کو جہاد کے لئے روانہ ہونے کا حکم دیالیکن وہ جہاد پر نہ گئے تو ان سے بارشیں روک دی گئیں اور یہ ان کا عذاب تھا ۔یہ حد یث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا

قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِلَّا تَنْفِرُوا} [التوبة: يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ← نَجْدَةُ بْنُ نُفَيْعٍ ← عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حَاتِمٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2504

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2505

2505 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، أَنْبَأَ شَرِيكٌ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ «لِوَاؤُهُ يَوْمَ دَخَلَ مَكَّةَ أَبْيَضَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2505 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس دن نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے ،اس دن آپ کا جھنڈ اسفید تھا۔یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ ( ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث مذکور ہ حد یث کی شاہد ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ آدَمَ، أَنْبَأَ شَرِيكٌ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2505

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2506

2506 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ، أَخْبَرَنِي أَبُو مِجْلَزٍ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ «لِوَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ، وَرَايَتُهُ سَوْدَاءَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2506 - يزيد ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لواء ( بڑاجھنڈا ) سفید اور آپ کا رایت ( چھوٹا جھنڈا) سیاہ تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو مِجْلَزٍ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ ← يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2506

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2507

2507 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ الْبَجَلِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا فِي الْحِجْرِ جَالِسٌ، أَتَانِي رَجُلٌ، فَسَأَلَنِي عَنِ {الْعَادِيَاتِ ضَبْحًا} [العاديات: 1] فَقُلْتُ لَهُ: «الْخَيْلُ حِينَ تُغِيرُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ تَأْوِي إِلَى اللَّيْلِ، فَيَصْنَعُونَ طَعَامَهُمْ، وَيُوقِدُونَ نَارَهُمْ» ، فَانْفَتَلَ عَنِّي فَذَهَبَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَهُوَ تَحْتَ سِقَايَةِ زَمْزَمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْعَادِيَاتِ فَقَالَ: هَلْ سَأَلْتَ عَنْهَا أَحَدًا قَبْلِي؟ قَالَ: نَعَمْ، سَأَلْتُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: هِيَ الْخَيْلُ حِينَ تُغِيرُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". قَالَ: فَاذْهَبْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ: تُفْتِي النَّاسَ بِلَا عِلْمٍ لَكَ، وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ أَوَّلَ غَزْوَةٍ فِي الْإِسْلَامِ لَبَدْرٌ، وَمَا كَانَ مَعَنَا إِلَّا فَرَسَانِ فَرَسٌ لِلزُّبَيْرِ، وَفَرَسٌ لِلْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، فَكَيْفَ يَكُونُ الْعَادِيَاتِ ضَبْحًا؟ " إِنَّمَا {الْعَادِيَاتِ ضَبْحًا} [العاديات: 1] مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، وَمِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى، {فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا} [العاديات: 4] حِينَ تَطَؤُهَا بِأَخْفَافِهَا وَحَوَافِرِهَا " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَنَزَعْتُ عَنْ قُولِي، وَرَجَعْتُ إِلَى الَّذِي قَالَ عَلِيٌّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» فَقَدِ احْتَجَّا بِأَبِي صَخْرٍ وَهُوَ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ الْخَرَّاطُ الْمِصْرِيُّ وَبِأَبِي مُعَاوِيَةَ الْبَجَلِيِّ وَهُوَ وَالِدُ عَمَّارِ بْنِ أَبِي مُعَاوِيَةَ الدُّهْنِيِّ الْكُوفِيِّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2507 - لا والله ولا ذكر لأبي معاوية في الكتب الستة ولا احتج البخاري بأبي صخر والخبر منكر

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں ایک مرتبہ میں حجر اسود کے قریب بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص میرے پاس آ کر’’ والعاديات ضبحا ‘‘ کی تفسیر پوچھے گا، میں نے اس کو کہا: ( اس سے مراد) گھوڑوں کی وہ جماعت ہے، جہاد کے اندرجن کی حالت متغیر ہو چکی ہو۔ پھر رات کا وقت ہوگیا اور مجاہدین کھانا بنانے اور آگ جلانے لگے اور وہ شخص مجھ سے منہ پھیر کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا ، اس وقت آپ آب زمزم کے چشمہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اس شخص نے آپ سے’’والعاديات ‘‘ کے متعلق پوچھا: آپ نے دریافت کیا‘ کیا تو نے مجھ سے پہلے کسی سے یہ بات پوچھی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں ۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بات پوچھی تھی ، انہوں نے جواب دیا ہے کہ اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں ، جہاد کے اندر جن کی حالت متغیر ہو جائے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ اور ان کو بلا کر میرے پاس لاؤ ( راوی ) فرماتے ہیں ) جب ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تم لوگوں کی اس چیز کا فتویٰ دیتے ہو جس کا تمہیں کچھ علم نہیں ۔ خدا کی قسم! اسلام کا سب سے پہلا غزوہ ، غزوۂ بدرتھا اور اس غزوے میں ہمارے پاس صرف دو گھوڑے تھے ۔ ایک گھوڑ احضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا تھا اور ایک حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا ۔ ان دوکوگھوڑوں کو جماعت کیسے کہا جا سکتا ہے؟ گھوڑوں کی جماعت تو عرفہ سے مزدلفہ اور مزدلفہ سے منی کی طرف (جاتے ہوئے دیکھنے میں آئی) تھی ، اس وقت جب وہ دوڑ تے ہوئے اپنے ٹاپوں سے غبار اڑار ہے تھے ، اس کوقر آن میں یوں بیان کیا گیا ہے’’والعاديات ضبحا ‘‘ ( پھر اس وقت غبارے اڑاتے ہیں )ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اپنا مؤقف چھوڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے موقف کی طرف رجوع کر لیا ۔یہ حد یث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ دونوں نے ابوصخر کی روایات نقل کی ہیں ۔ اور یہ حمید بن زیا دخراط مصری ہیں ۔اورابومعاویہ الجبلی کی روایات بھی نقل کی ہیں اور وہ عمار بن ابی معاویہ کے والد ہیں ، دہنی ہیں اور کوفی ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أبي معاوية البجلى، ← أَبُو صَخْرٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2507

chevron_left Previous
1…101112…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section