Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2484

2484 - أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنِّي لَآخِذٌ بِخِطَامِ النَّاقَةِ، لَازِمُهَا حَتَّى اسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا بِصُحْبَةِ، وَاقْلِبْنَا بِذِمَّةٍ، اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي قُفْلَ الْأَرْضِ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ» قَالَ أَبُو زُرْعَةَ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَجُلًا عَرَبِيًّا، لَوْ أَرَادَ أَنْ يَقُولَ وَعْثَاءَ السَّفَرِ لَقَالَ اللَّهُمَّ اقْلِبْنَا بِذِمَّةٍ، اللَّهُمَّ ازْوِ لَنَا الْأَرْضَ، وَسَيِّرْنَا فِيهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑے ہوئے تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس پر سوار ہوگئے تو دعا مانگی " اے اللہ ! سفر میں تو ہی ہمارا ساتھی ہے اور گھر والوں کا تو ہی ذمہ دار ہے ۔ اے اللہ ہمیں اچھا ساتھی عطا کر اور ذمہ داری ہمیں لوٹا دے اے اللہ ! مجھے زمین کا قبضہ عطا فرما اور ہم پر سفر آسان فرما ۔ اے اللہ میں سفر کی مشقوں اور واپسی کی شکستہ دلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں " ابو زرعہ فرماتے ہیں : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عرب النسل آدمی ہیں اگر وہ چاہتے تو یہ الفاظ بھی کہہ سکتے تھے وعثاء السفر ، اللھم اقلبنا بذمۃ اللھم ازولنا الارض ، وسیرنا فیھا ،

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عبد الجبار بن العباس ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← أحمد بن يعقوب الثقفي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2484

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2485

2485 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، قَالَ: وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفًا أَوْ حَايِشًا نَخْلٍ فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِذَا جَمَلٌ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّ إِلَيْهِ، وَزَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ ذَفَرَتَهُ فَسَكَنَ فَقَالَ: مَنْ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ؟ قَالَ: فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: هُوَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: «أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَ اللَّهُ إِيَّاهَا، فَإِنَّهُ شَكَا لِي أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2485 - صحيح

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سوار کروایا اور بڑی راز داری کے ساتھ مجھے ایک بات بتائی جو میں نے کسی کونہیں بتائی عبداللہ بن جعفر فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے کسی ایسی چیز کو بہت پسند کرتے تھے جو آپ کو چھپالے ، کوئی بلند جگہ عمارت ، ٹیلہ ، پہاڑ یا پھر کسی درخت کا گنجان حصہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( قضائے حاجت کے لیے ) ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے وہاں ایک اونٹ تھا اس نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ چپ ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس اونٹ کا مالک کو ن ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ (عبداللہ بن جعفر فرماتے ہیں ) ایک انصاری نوجوان آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس جانور کے متعلق اللہ سے نہیں ڈرتا؟ اللہ نے جس کو تیری ملکیت میں دیا ہے اس نے ہمیں شکایت کی ہے کہ تو اس کو بھوکا رکھت اہے اور اس کو مشقت میں ڈالتا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أحمد بن مهران الاصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2485

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2486

2486 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ارْكَبُوا هَذِهِ الدَّوَابَّ سَالِمَةً وَابْتَدِعُوهَا سَالِمَةً وَلَا تَتَّخِذُوهَا كَرَاسِيَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2486 - صحيح

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے صحابی ، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان جانوروں پر اطمینان کے ساتھ سواری کرو اور خوش اسلوبی کے ساتھ ان کو چھوڑ اکرو ان کو کرسی 0 سمجھ کر ہر وقت اس کے اوپر بیٹھے ) نہیں رہا کرو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَنَسٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← عمرو بن محمد بن منصور العدل ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2486

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2487

2487 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سُفْيَانَ الطَّائِيُّ، بِحِمْصَ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ، قَالَ: «يَا أَرْضُ، رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شِرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ، وَشَرِّ مَا خَلَقَ فِيكِ، وَمِنْ شَرِّ مَا دَبَّ عَلَيْكِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ، وَحَيَّةٍ وَعَقْرَبٍ، وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِ الْبَلَدِ، وَمِنْ شَرِّ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2487 - صحيح

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی غزوے یا سفر کے دوران رات ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا مانگتے" اے زمین ! میرا ور تیرا رب اللہ ہے ، میں تیرے شر سے اور جو کچھ تیر اندر ہے اس کے شر سے اور جو کچھ تیر اندر پیدا کیا گیا اس کے شر سے اور جو کچھ تیرے اوپر چلتا ہے اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور ہر درندے اور سانپ ، شیر اور بچھو کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور اس شہر کے رہنے والوں کے شر سے اور جننے والے اور جو کچھ جنا گیا اس سکے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا غَزَا أَوْ سَافَرَ فَأَدْرَكَهُ اللَّيْلُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← الزُّبَيْرَ بْنَ الْوَلِيدِ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ ← محمدُ بنُ عوفِ بنِ سفيانَ الطائيُّ بحمصَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2487

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2488

2488 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ كَعْبًا، حَدَّثَهُ أَنَّ صُهَيْبًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرَ قَرْيَةً يُرِيدُ دُخُولَهَا إِلَّا قَالَ حِينَ يَرَاهَا: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ، وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2488 - صحيح

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس بستی میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے جب اس پر نظر پرتی تو یہ دعا مانگتے ۔(ترجمہ)" اے اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اے سات آسمانوں اور جو کچھ ان میں ہے ان کے رب اور ساتوں زمینوں اور جو کچھ وہ اٹھائے ہوئے ہیں ان کے رب اور شیاطین اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ان کے رب اور آندھیوں اور جو وہ اڑا لے جاتی ہیں ان کے رب میں تجھ سے اس بستی اور اس کے رہنے والوں کی خیر مانگا ہوں اور اس بستی کے شر اور اس کے رہنے والوں کی شر سے اور جو کچھ اس میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَنَّ صُهَيْبًا صَاحِبَ النَّبِيِّ ← أَبِيهِ، أَنَّ كَعْبًا ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2488

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2489

2489 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ، يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةَ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِخِلَافٍ بَيْنَ النَّاقِلِينَ فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2489 - لم يخرجاه لخلاف بين أصحاب الزهري فيه

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اچھے ساتھی چار ہیں ، بہترین سر یہ وہ ہے جو چار سو پر مشتمل ہو ، بہترین بڑا لشکر وہ ہے جو چار ہزار پر مشتمل ہو بارہ ہزاز کا لشکر قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہو سکتا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔کیونکہ اس حدیث کو زہری سے نقل کرنے والوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو قِلَابَةَ ← أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2489

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2490

2490 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2490 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی بارگاہ میں بہترین دوست وہ ہے جو اپنے دوستوں کے لیے اچھا ہے اور اللہ کی بارگاہ میں وہ پڑوسی سب سے اچھا ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں حق چھا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← شُرَحْبِيلَ بْنِ شَرِيكٍ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ← الحسن بن حليم المروزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2490

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2491

2491 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَكَا نَاسٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ فَدَعَا بِهِمْ وَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالنَّسلَانِ» فَنَسَلْنَا فَوَجَدْنَاهُ أَخَفَّ عَلَيْنَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2491 - على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں چلنے ( میں تھکاوٹ ) کی شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو بلا کر فرمایا تیز چلو ہم تیز چلنے لگ گئے تو ہم نے اس طرح چلنے میں آسانی محسوس کی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

شكا ناس إلى النبي المشي فدعا بهم ← جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، أَنْبَأَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2491

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2492

2492 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا يَنْزِلُ مَنْزِلًا إِلَّا وَدَّعَهُ بِرَكْعَتَيْنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَعُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ مِمَّنْ يُجْمَعُ حَدِيثُهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2492 - لا فإن عبد السلام كذبه الفلاس وعثمان لين

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس مقام پر بھی ٹھہرتے وہاں سے روانہ ہونے سے پہلے دو رکعتیں ادا کرتے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور عثمان بن سعدان محدثین میں سے ہیں جن کی احادیث جمع کی جاتی ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ الْكَاتِبِ، ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو عمرو بن إسماعيل

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2492

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2493

2493 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ، مَا أَعْلَمُ لَنْ يَسِيرَ الرَّاكِبُ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ أَبَدًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2493 - صحيح

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان پتہ چل جائے جس کا مجھے پتہ ہے تو کبھی بھی کوئی مسافر اکیلے ایک رات بھی نہ گزارے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُسَدَّدٌ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2493

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2494

2494 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خَيْبَرَ فَتَبِعَهُ رَجُلَانِ وَرَجُلٌ يَتْلُوهُمَا يَقُولُ: ارْجِعَا حَتَّى أَدْرَكَهُمَا فَرَدَّهُمَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ، فَاقْرَأْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ، وَأَعْلِمْهُ أَنَّا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا، لَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ لَبَعَثْنَا بِهَا إِلَيْهِ. قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ «فَنَهَى عِنْدَ ذَلِكَ عَنِ الْخَلْوَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2494 - على شرط البخاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں خبیر سے ایک آدمی روانہ ہوا تو اس کے پیچھے دو آدمی چل دیئے اور ایک آدمی ان دونوں کوکہہ رہا تھا تم وہاں لوٹ جاؤ یہاں تک کہ وہ ان دونوں تک پہنچا اور ان کو واپس بھیج دیا ( پھر اس جانے والے سے ) کہا : یہ دونوں جنتا تھے ( جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ جاؤ تو میرا ) سلام عرض کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتانا کہ ہم لوگ اپنے صدقات والے گودام میں موجود ہیں ۔ اگر یہ صدقات اس کے ساتھ بھیجنے کی گنجائش ہوتی تو ہم ضروربھیج دیتے ۔ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے آدمی کے سفر کرنے سے منع فرمادیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

فَنَهَى عِنْدَ ذَلِكَ ← فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ ← فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا لَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ لَبَعَثْنَا بِهَا إِلَيْهِ ← إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ فَاقْرَأْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ السَّلَامَ وَأَعْلِمْهُ ← ارْجِعَا حَتَّى أَدْرَكَهُمَا فَرَدَّهُمَا ثُمَّ ← خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خَيْبَرَ فَتَبِعَهُ رَجُلَانِ وَرَجُلٌ يَتْلُوهُمَا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ محمد بن إِبْرَاهِيمُ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2494

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2495

2495 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَحِبْتَ؟» فَقَالَ: مَا صَحِبْتُ أَحَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّاكِبُ شَيْطَانٌ، وَالرَّاكِبَانِ شَيْطَانَانِ، وَالثَّلَاثَةُ رَكْبٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2495 - صحيح

حضرت عمروبن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی سفر سے واپس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تیرا ساتھی کون تھا ؟ اس نے کا کوئی بھی نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسافر شیطان ہے اور دو مسافر دو شیطان اور تین مسافر، مسافر ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ وہ حدیث درج ذیل ہے ۔

ما صحبت أحدا ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «مَنْ صَحِبْتَ؟» ← جده أن رجلا قدم من سفر ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2495

chevron_left Previous
1…91011…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section