Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2376

2376 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا أَخْرَجَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أَخْرَجُوا نَبِيَّهَمْ لَيَهْلِكُنَّ. قَالَ: فَنَزَلَتْ {أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ} [الحج: 39] وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَؤُهَا «أَذِنَ» قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: فَعَلِمْتُ أَنَّهَا قِتَالٌ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «وَهِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2376 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اہل مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( مکہ) سے نکالا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا ہے یقینا ً یہ ہلاک ہو جائیں گے ( ابن عباس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں تب یہ آیت نازل ہوئی ۔ ترجمہ۔ پروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کفار لڑتے ہیں اس بناء پر کہ ان ظلم ہوا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے " ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کو "اذن " (معروف) پرھا کرتے تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا مجھےپتہ چل گیا کہ اس آیت میں جہاد کا حکم دیا جا رہا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جہاد کے متعلق نازل ہونے والی یہ سب سے پہلی آیت ہے ۔

أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: فَعَلِمْتُ أَنَّهَا قِتَالٌ. ← فَنَزَلَتْ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَؤُهَا «أَذِنَ» ← إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أَخْرَجُوا نَبِيَّهَمْ لَيَهْلِكُنَّ. ← لِلَّهِ ← أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ ← لَمَّا أَخْرَجَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2376

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2377

2377 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ الْقَاشَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَأَصْحَابًا لَهُ، أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ كُنَّا فِي عِزٍّ وَنَحْنُ مُشْرِكُونَ، فَلَمَّا آمَنَّا صِرْنَا أَذِلَّةً. فَقَالَ: «إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ، فَلَا تُقَاتِلُوا الْقَوْمَ» فَلَمَّا حَوَّلَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، أَمَرَهُ بِالْقِتَالِ، فَكَفُّوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ} [النساء: 77] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2377 - على شرط البخاري

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ ساتھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی ! جب ہم مشرک تھے تو بہت عزت کی زندگی گزارہے تھے لیکن جب سے ایمان لائے ہیں تب سے ہم ذلیل ہو گئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے عفودرگزر کا حکم دیا گیا ہے اس لیے تم لوگوں سے مت لڑنا ( ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو جہاد کا حکم نازل ہوا تو وہ لوگ جہاد کے لیے تیار نہ ہوئے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (ترجمہ) "کیاتم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں کہا گیا اپنے ہاتھ روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو پھرجب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں بعض لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد "(النساء77)۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَصْحَابًا لَهُ، أَتَوُا النَّبِيَّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ الْقَاشَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ

Hadith 2377

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2378

2378 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا رَوْحٌ، ثنا حَبِيبُ بْنُ شِهَابٍ الْغُبَرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يَقُولُ: أَتَيْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَا وَصَاحِبٌ لَنَا قَالَ: فَلَقِيَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عِنْدَ بَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمَا؟ فَأَخْبَرَنَاهُ فَقَالَ: انْطَلِقَا إِلَى نَاسٍ عَلَى تَمْرٍ وَمَاءٍ، إِنَّمَا يَسِيلُ وَادٍ بِقَدَرِهِ قُلْنَا: كَثُرَ خَيْرُكَ اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَاسْتَأْذَنَ لَنَا فَسَمِعْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تَبُوكَ فَقَالَ: «مَا فِي النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ آخِذٌ بِعِنَانٍ، فَيُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَيَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ، وَمِثْلُ رَجُلٍ بَادٍ فِي غَنَمِهِ يُقْرِي ضَيْفَهُ وَيُؤَدِّي حَقَّهُ» قَالَ فَقُلْتُ: أَقَالَهَا؟ قَالَ: قَالَهَا ثَلَاثًا. فَكَبَّرْتُ وَحَمِدْتُ وَشَكَرْتُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2378 - صحيح

حضرت حبیب بن شہاب الغبری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے والد کا یہ بیان ہے کہ میں اور میرا ایک ساتھی ( حضرت عبداللہ ) ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو ان کے دروازے کے قریب ہماری ملاقات ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے کہا تم کون ہو؟ ہم نے ان کو اپنے متعلق بتایا انہوں نے کہا تم ان لوگوں کے پاس جاؤ جن کے پاس پانی اور کھجوریں ہیں کسی بھی وادی سے اسی کی مقدار میں بہاؤ نکلتا ہے ۔ ہم نے ان کو دعائے خیر دیتے ہوئے کہا ہمارے لیے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اجازت لیجئے انہوں نے ہمیں اجازت دلوائی ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا لوگوں میں اس جیسا کوئی شخص نہیں ہے جو اپنے جانور کی لگام پکڑے فی سبیل اللہ جہاد کرے اور لوگوں کے شرسے بچے اور اس جیسا بھی کوئی شخص نہیں ہے جو اپنے جانوروں کے ریوڑ میں رہتا ہو مہمان نوازی کرتا ہو ( حبیب بن شہاب ) فرماتے ہیں میں نے کہا کیا واقعی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے ؟ تو میرے والد نے جوابا ً کہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین مرتبہ فرمایا تو میں نے اللہ تعالیٰ کی تکبیر کہی اور اس کی حمد کی اور اس کا شکر ادا کیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي ← حَبِيبُ بْنُ شِهَابٍ الْغُبَرِيُّ، ← رَوْحٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي

Hadith 2378

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2379

2379 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مُوسَى الْعَدْلُ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يَمُوتَ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ؟ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2379 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ مرتبے کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا آدمی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جائے یا طبعی موت مر جائے کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جس کا مرتبہ اس کے قریب تر ہے وہ شخص جو الگ تھلگ کسی گھائی میں رہتا ہو ۔ پابند سے نماز پڑھتا ہو ، زکورۃ ادا کر تا ہو اور اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْمُعَافَی بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مُوسَى الْعَدْلُ

Hadith 2379

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2380

2380 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُضِيفٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ؟ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلٌ عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ، أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ أَوْ عَلَى قَدَمَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ، وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلٌ فَاجِرٌ جَرِيءٌ يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2380 - صحيح

حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے یوں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کیا میں تمہیں سب سے اچھے اور سب سے برے شخص کے ابرے میں نہ بتاؤں ( پھر فرمایا ) سب سے اچھا وہ آدمی ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے یا اونٹ پر سوار ہو کر یا پیدل ہی جہاد کرتا رہے یہاں تک کہ اس کو مت آجائے اور سب سے برا شخص وہ ہے جو بے عمل ، دلیر ہو اللہ کی کتاب پڑھتا ہو لیکن وہ مذکورہ کاموں میں سے کوئی کام نہ کرتا ہو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْخَطَّابِ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2380

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2381

2381 - أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْغِفَارِيُّ أَبُو مَعْنٍ، ثنا زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ بِمِنًى وَحَدَّثَنَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَوْمٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ، فَلْيَنْظُرْ كُلُّ امْرِئٍ لِنَفْسِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2381 - على شرط البخاري

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہاد کا ایک دن بغیر جہاد کے ہزار دونوں سے بہتر ہے اس لیے ہر آدمی کو اپنے اوپر غور کر لینا چاہیے۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ بِمِنًى، ← أَبِي صَالِحٍ مَوْلَی عُثْمَانَ ← زهرة بن معبد القرشي ← أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْغِفَارِيُّ أَبُو مَعْنٍ، ← الحسن بن حليم المروزي

Hadith 2381

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2382

2382 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشِعْبٍ فِيهِ عُيَيْنَةُ مِنْ مَاءٍ عَذْبٍ، فَأَعْجَبَهُ طِيبُهُ وَحُسْنُهُ، فَقَالَ: لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ، وَأَقَمْتُ فِي هَذَا الشِّعْبِ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَفْعَلُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ مَقَامَ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِي أَهْلِهِ سِتِّينَ عَامًا، أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ، وَيُدْخِلَكُمُ الْجَنَّةَ، اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فُوَاقَ نَاقَةٍ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2382 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک صحابی رسول ایک پہاڑی راستے سے گزر رہے تھے وہاں پر میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ بہہ رہا تھا ان کو وہ مقام بہت پسند آیا انہوں نے سوچا کتنا ہی اچھا ہو کہ میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اس مقام پر آکر رہائش اختیار کر لوں۔ پھر ان کو خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیے بغیر مجھےیہ کام نہیں کر نا چاہیے پھر انہوں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہیں کرنا اس لیے کہ جہاد میں تمہارا ٹھہرنا اپنے گھر میں رہ کر ساٹھ سال تک نمازیں پڑھنے سے بہتر ہے کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے اور تمہیں جنت میں داخل کر ے؟ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے وہ پکا جنتی ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ،

Hadith 2382

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2383

2383 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَقَامُ الرَّجُلِ فِي الصَّفِّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ عُبَادَةِ رَجُلٍ سِتِّينَ سَنَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2383 - على شرط البخاري

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی کا صف جہاد میں کھڑا ہونا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي.

Hadith 2383

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2384

2384 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَعَدْنَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: «لَوْ نَعْلَمُ أَيَّ الْأَعْمَالِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ، عَمِلْنَاهُ. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ، وَهُوَ الْعَزِيزِ الْحَكِيمُ} » إِلَى آخِرِ السُّورَةِ «فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» هَكَذَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ بِمَكَّةَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الْأَوْزَاعِيُّ هَكَذَا قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا ابْنُ كَثِيرٍ هَكَذَا قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عُقْبَةَ وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو الْوَلِيدِ هَكَذَا " قَالَ الْحَاكِمُ: «وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ الشَّيْبَانِيُّ هَكَذَا» وَقَرَأَ عَلَيْنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: «السُّورَةَ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا» رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ مِنْ أَوَّلِ الْإِسْنَادِ إِلَى آخِرِهِ "

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بیٹھے ہوئے یہ باتیں کر رہے تھے کہ اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ کون سا عمل پسند ہے ؟ تو ہم وہی عمل بجا لائیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ( سبح للہ ما فی السموات وفا فی الارض وھو العزیز الحکیم ) اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت ہمیں پڑھ کر سنائی ۔ اوزاعی نےبھی ایسے ہی کہا کہ یحیٰ بن ابی کثیر نے مکہ میں ہمارے سامنے یہ سورت پڑھی اور محمد بن کثیر فرماتے ہیں ہمارے سامنے اوزاعی نے ایسے ہی سورت پڑھی ، ابو الحسن بن عقبہ فرماتے ہیں ہمارے سامنے ابو الولید نے اسی طرح سورت پرھی اور امام حاکم فرماتے ہیں ہمارے استاد ابو الحسن شیبانی نے ہمارے سامنے یہ سورت ایسے ہی پڑی اور امام حاکم ابو عبداللہ نے ہمارے سامنے شروع سے لے کر آخر تک پوری سورت پڑھی ، ولید بن مسلم نے اوزاعی سے سند سے شروع سے لے کر آخر تک پوری روایت کی ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، ← أبو الوليد محمد بن أحمد بن برد الأنطاكي ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِىُّ

Hadith 2384

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2385

2385 [ص:79] أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: لَوْ نَعْلَمُ أَيَّ الْأَعْمَالِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّ الَّذِي حَمَلَهُمَا عَلَى تَرْكِهِ رِوَايَةُ الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ بِخِلَافِ رِوَايَةِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ وَغَيْرِهِ "

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ہم نے کہا اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کو کونسا عمل سب سے زیادہ پسند ہے ؟ پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ ولی بن مسلم زیاد کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے ۔)

كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ النَّبِيِّ فَقُلْنَا: لَوْ نَعْلَمُ أَيَّ الْأَعْمَالِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ← [ص:149]

Hadith 2385

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2386

2386 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادَةَ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَدَّثَهُ وَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: لَوْ عَلِمْنَا أَيَّ الْأَعْمَالِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. " وَهَذَا لَا يُقَالُ حَدِيثُ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ فَإِنَّ الْهِقْلَ بْنَ زِيَادٍ وَإِنْ كَانَ مَحِلَّهُ الْإِيقَانُ وَالثَّبْتُ فَإِنَّهُ شَكَّ فِي إِسْنَادِهِ وَمِنَ الدَّلِيلِ عَلَى صِحَّةِ إِسْنَادِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْفَزَارِيَّ أَحْفَظُ أَصْحَابِ الْأَوْزَاعِيِّ رَوَاهُ بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ فِيهِ بِالْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2384 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھےہوئے تھے ہم نے کہا اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کوکون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے پھر اس کےبعد گزشتہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی ۔ ولید بن مسلم کی حدیث کے متعلق یہ بات نہ کہی جائے ، اس لیے کہ ہقل بن زیاد اگرچہ قابل اعتماد راوی ہیں لیکن انہوں نے اپنی سند میں شک بیان کیا ہے اور ابو سلمہ کی سند کے ہمراہ چند الفاظ کے اضافے کے ساتھ حدیث ذکر کی ہے ۔

كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْنَا: لَوْ عَلِمْنَا أَيَّ الْأَعْمَالِ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْهِقْلُ بْنُ زِيَادَةَ، ← أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ← جَدِّي، ← أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني

Hadith 2386

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2387

2387 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: اجْتَمَعْنَا فَتَذَاكَرْنَا أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَسْأَلُهُ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ ثُمَّ تَفَرَّقْنَا، وَهِبْنَا أَنْ يَأْتِيَهُ أَحَدٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَنَا، فَجَعَلَ يُومِي بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ، «فَقَرَأَ عَلَيْنَا {سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ} » إِلَى أخِرِ السُّورَةِ. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ إِلَى آخِرِهَا قَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو سَلَمَةَ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا قَالَ مَحْبُوبٌ: وَقَرَأَهَا عَلَيْنَا أَبُو إِسْحَاقَ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، يَعْنِي سُورَةَ الصَّفِ

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دفعہ ہم اکٹھے بیٹھے آپس میں یہ گفتگو کر رہے تھے کہ کون شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر دریافت کرے کہ اللہ تعالیٰ کو کون ساعمل سب سے زیادہ پسند ہے پھر ہم وہاں سے چلے گئے اور یہ طے نہ کرسکے کہ آپ کے پاس کون جائے گا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف پیغام بھیجا اور ہمیں بلوایا ہم سب جمع ہو گئے اور ہم اپنا مسئلہ حل ہو جانے کی خوشی میں ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرنے لگے پھر آپ نے ہمارے سامنے " سبح للہ ما فی السموات وما فی الاض " آخر تک ساری سورت پڑھی ۔ ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ ہمار ےسامنے عبداللہ بن سلام نے بھی پوری سورت پڑھی یحیٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں ہمارے سامنے ابو سلمہ نے شروع سے لیکر آخر تک پوری سورت پڑھی محبوب فرماتے ہیں ہمارے سامنے ابو اسحق نے شروع سے آخر تک پوری سورت پڑھی ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى الأَنْطَاكِىُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي.

Hadith 2387

chevron_left Previous
1234…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section