Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2224

2224 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حِرْزِةَ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِينَا أَبُو الْيَسَرِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ مَعَافِرِيٌّ وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدٌ مَعَافِرِيٌّ وَمَعَهُ ضُبَارَةُ صُحُفٍ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: كَأَنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ سَفْعَةً مِنْ غَضِبٍ. قَالَ: أَجَلْ كَانَ لِي عَلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ الْحَرَامِيِّ مَالٌ، فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ، فَقُلْتُ أَثَمَّ هُوَ؟ قَالُوا: لَا، فَخَرَجَ ابْنٌ لَهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ أَبُوكَ؟ قَالَ: سَمِعَ كَلَامَكَ فَدَخَلَ أَرِيكَةَ أُمِّي. فَقُلْتُ: اخْرُجْ فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ، فَخَرَجَ إِلَيَّ فَقُلْتُ لَهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ مِنِّي. قَالَ: أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُكَ وَلَا أَكْذِبُكَ، خَشِيتُ وَاللَّهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ، أَوْ أَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ، وَكُنْتَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: آللَّهِ، وَكُنْتَ وَاللَّهِ مُعْسِرًا؟ فَقُلْتُ: آللَّهِ. قَالَ: آللَّهِ. فَقُلْتُ: آللَّهِ. قَالَ: آللَّهِ. قَالَ: فَنَشَرَ الصَّحِيفَةَ وَمَحَا الْحَقَّ، وَقَالَ إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً فَاقْضِ، وَإِلَّا فَأَنْتَ فِي حِلٍّ، فَأَشْهَدُ لَبَصُرَتْ عَيْنَايَ هَاتَانِ، وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى عَيْنَيْهِ، وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ هَاتَانِ وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، فَأَشَارَ إِلَى نِيَاطِ قَلْبِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا وَوَضَعَ لَهُ، أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَكَذَلِكَ رُوِيَ مُخْتَصَرًا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَرِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ وَحَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي الْيَسَرِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2224 - على شرط مسلم

حضرت عباد ہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے میں اور میرے والد انصار کے اس قبیلے میں ان کے ہلاک ہونے سے پہلے طلب علم کی غرض سے آئے ہماری سب سے پہلی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ابو الیسر سے ہوئی ان کے ساتھ انکا بیٹا تھا ان پر اور ان کے بیٹے پر خاکستری رنگ کی چادر تھی اور ان کے پاس کپڑوں کا ایک گٹھا تھا ۔ میرے والد نے ان سے پوچھا کیا بات ہے ؟ آپ کا چہرہ غصے سے سرخ کیوں ہو رہا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا ہاں فلاں بن فلاں حرامی کے ذمے میرا کچھ مال تھا ۔ میں اس کے گھر گیا اور پوچھا کیا وہ گھر میں ہے ؟ گھرو الوں نےجواب دیا : نہیں پھر اسکا بیٹا باہر نکلا میں نے اس سے پوچھا تیرا باپ کہاں ہے ؟ اس نےجواب دیا وہ آپ کی آواز سن کر میری امی کے پلنگ کے نیچے گھس گیا ہے میں نے آواز لگائی کہ باہر نکلو کیونکہ مجھے سب معلوم ہے کہ تم کہاں ہو ۔ پھر وہ باہر نکل کر آیا تو میں نے اس سے کہا : کیا وجہ ہے ؟ تو مجھ سے یوں چھپتا کیوں پھر تا ہے ؟ اس نے کہا خدا کی قسم میں جو بھی کہوں گا سچ کہوں گا اور تیرے ساتھ جھوٹ نہیں بولوں گا ۔ خدا کی قسم ! مجھے یہ خدشہ تھا کہ اگر میں تیرے ساتھ ہم کلام ہوا تو جھوٹ بولنا پڑے گا یا وعدہ کرنا پڑے گا جو میں پورا نہ کرسکوں گا حالانکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی ہوں ۔ میں نے کہا کیا تم اللہ کی قسم کھاکر یہ بات کہہ رہے ہو؟ کہ تم واقعی تنگ دست ہو اس نے کہا جی ہاں میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تنگدست ہوں ۔ میں نے پھر اس کو اللہ کی قسم دلائی اس نے پھر قسم کھا لی ( عبادہ ) فرماتے ہیں پھر اس نے رجسٹر نکالا اور اس کا حق مٹا دیا اور کہا اگر تیرے پاس قرضہ کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز ہے تو دے دو ورنہ جب ادا کر سکو کر دینا پھر انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں آنکھوں پر رکھ کر کہا میری یہ دونوں آنکھیں گواہ ہیں اور اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر کہا ۔ میرے ان دونوں کانوں نے سنا ہے اور اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور میرے دل نے اس کو یاد کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے گا اور اس کو معاف کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ (رحمت) میں جگہ دے گا ۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ یونہی یہ حدیث زید بن اسلم اور ربعی بن میراش اور حنظلہ بن قیس نے ابوالیسر سے روایت کی ہے ۔

وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَبْلَ ← خَرَجْتُ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أبي حرزة يعقوب بن مجاهد ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2224

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2225

2225 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ وَأَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ الدَّيْنُ، فَإِذَا حَلَّ الدَّيْنُ، فَأَنْظَرَهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلُهُ صَدَقَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2225 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تنگدست کو مہلت دے اس کے لیے قرض کی ادائیگی کا دن آنے تک ہر دن کے بدلے میں صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور جب ادائیگی کا دن آ جائے لیکن وہ اس کے بعد بھی مہلت دے تو اسی طرح ہر دن کے بدلے صدقے کا ثواب ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← عَفَّانُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2225

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2226

2226 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: حُوسِبَ رَجُلٌ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ خَيْرٌ، وَكَانَ ذَا مَالٍ، وَكَانَ يُدَاينُ النَّاسَ، وَكَانَ يَقُولُ لِغِلْمَانِهِ: مَنْ وَجَدْتُمُوهُ غَنِيًّا، فَخُذُوا مِنْهُ، وَمَنْ وَجَدْتُمُوهُ مُعْسِرًا، فَتَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنِّي، فَقَالَ اللَّهُ: «أَنَا أَحَقُّ أَنْ أَتَجَاوزَ عَنْهُ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ أُسْنِدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ،

حضرت ابو مسعود بدری کا فرمان ہے ایک شخص کاحساب لیا گیا تو اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ نکلی جبکہ وہ شخص مالدار تھا اور لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے ملازمین کو یہ ہدایت دیا کرتا تھا کہ جس کا مالدار پاؤ اس سے وصولی کرو اور جس کو تنگدست پاؤ اس سے درگزر کرو، اللہ تعالیٰ مجھ سے درگزر کرے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اس در گزر کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اسے نقل نہیں کیا ۔ اور اس سند کو عبداللہ بن نمیر نے اعمش کے واسطے سے مسند کیا ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے ) ٍ

اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ، ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2226

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2227

2227 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ بَالَوَيْهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حُوسِبَ رَجُلٌ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ خَيْرٌ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2226 - على شرط البخاري ومسلم

عبداللہ بن نمیر ، اعمش کے ذریعے ابو وائل کے واسطے سے حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک شخص کا حساب لیا گیا تو اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہ نکلی پھر اس کےبعد پوری حدیث بیان کی ۔

اَبِیْ مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِیِّ، ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ بَالَوَيْهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2227

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2228

2228 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، فَقَالَ لَهُ: وَاللَّهِ مَا عِنْدِي قَضَاءٌ أَقْضِيكَهُ الْيَوْمَ. قَالَ: فَوَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَ، أَوْ تَأْتِيَ بِحَمِيلٍ يَحْمِلُ عَنْكَ. قَالَ: وَاللَّهِ مَا عِنْدِي قَضَاءٌ، وَمَا أَجِدُ أَحَدًا يَحْمِلُ عَنِّي. قَالَ: فَجَرَّهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لَازِمِي وَاسْتَنْظَرْتُهُ شَهْرًا وَاحِدًا، فَأَبَى حَتَّى أَقْضِيَهُ أَوْ آتِيَهُ بِحَمِيلٍ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا أَجِدُ حَمِيلًا وَلَا عِنْدِي قَضَاءٌ الْيَوْمَ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَسْتَنْظِرُهُ إِلَّا شَهْرًا وَاحِدًا؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَأَنَا أَتَحَمَّلُ بِهَا عَنْكَ» قَالَ: فَتَحَمَّلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَأَتَى بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ؟ قَالَ: مِنْ مَعْدِنٍ قَالَ: «فَاذْهَبْ، فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيهَا لَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ» قَالَ: فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ» «لِعَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو وَالدَّرَاوَرْدِيُّ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2228 - صحيح

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک آدمی نے کسی سے دس دینار لینے تھے اور وہ مسلسل اس کے پیچھے پڑا ہو ا تھا جبکہ وہ مقروض کہہ رہا تھا خدا کی قسم آپ کو دینے کے لیے آج میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ اس نے کہا یا تو تُو مجھےقرضہ واپس کر دے یا اپناکوئی ضامن دے دے ورنہ میں تیرا پیچھا نہیں چھوڑوں گا ۔ اس نے کہا خدا کی قسم نہ تو میرے پاس ادائیگی کے لیےکچھ ہے اور نہ میرے پاس کوئی ایسا آدمی ہے جو میری طرف سے یہ ذمہ داری اٹھالے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہ مقروض اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا او رکہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرے پیچھے پڑا ہوا ہے جبکہ میں اس سے ایک مہنے کی مہلت لینا چاہتا ہوں اور یہ مان نہیں رہا اور ادائیگی یا ضامن کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ میں نے اس کو کہا ہے کہ میرے پاس ضمانت کے لیے کوئی آدمی نہیں ہے اور نہ ہی ادائیگی کے لیے آج کوئی چیز میرے پاس ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : اس کو صرف ایک مہینے کی مہلت دے دے لیکن اس نے انکار کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری طرف سے میں ضمانت دیتا ہوں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے اس کی ضمانت دے دی تو وہ آدمی چلا گیا اور حسب وعدہ مقررہ دنوں کے بعد آگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا تو نے یہ سونا کہاں سے لیا؟ اس نےکہا معدن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لے جاؤ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی جانب سے دس دینار ادا کر دیے۔ یہ حدیث عمروبن ابی عمرو کی وجہ سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور دراور دی کی وجہ سے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے میعار پر ہے لیکن شیخین نے اس کونقل نہیں کیا ۔

فَجَرَّهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← وَاللَّهِ مَا عِنْدِي قَضَاءٌ، وَمَا أَجِدُ أَحَدًا يَحْمِلُ عَنِّي. ← فَوَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَ، أَوْ تَأْتِيَ بِحَمِيلٍ يَحْمِلُ عَنْكَ. ← لَهُ: وَاللَّهِ مَا عِنْدِي قَضَاءٌ أَقْضِيكَهُ الْيَوْمَ. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ علي بن عبد العزيز

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2228

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2229

2229 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ هَانِئٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، قَالَ: بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجِئْتُ أَتَقَاضَاهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ ثَمَنَ بَكْرِي. قَالَ: " نَعَمْ، لَا أَقْضِيكَهُ إِلَّا لِحِينِهِ، ثُمَّ قَضَانِي، فَأَحْسَنَ قَضَائِي، ثُمَّ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اقْضِ بَكْرِي، فَقَضَاهُ بِغَيْرِ أَمَدٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَفْضَلُ مِنْ بَكْرِي. فَقَالَ: «هُوَ لَكَ، إِنَّ خَيْرَ الْقَوْمِ خَيْرُهُمْ قَضَاءً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2229 - صحيح

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان گائے بیچی پھر میں اس کی قیمت لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گائے کی رقم ادا کر دیئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! میں اسی وقت تجھے ادائیگی کروں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ادائیگی کی اور بہت اچھی ادائیگی کی پھر آپ کے پاس ایک دیہاتی آیا اور کہنےلگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گائے دیجیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اس کو دے دی ۔ اس نےکہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میر گائےسے بہت اچھی گائے ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تیری ہی ہے ۔ قوم میں بہترین شخص وہ ہوتا ہے جو سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہوتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ هَانِئٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2229

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2230

2230 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ، بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، أَنْبَأَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ سَعِيدٍ الثَّوْرِيَّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ، بَزًّا مِنْ هَجَرَ، أَوِ الْبَحْرَيْنَ، فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَرَى مِنَّا سَرَاوِيلَ، وَقَبَاءً، وَوَزَّانٌ يَزِنُ بِالْأُجْرَةِ، فَدَفَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّمَنَ فَقَالَ: «زِنْ وَأَرْجِحْ» رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ

سوید بن قیس کا فرمان ہے میں اور حضرت مخرمہ عبدی ہجریا ( شاید یہ فرمایا ) بحرین سے کاٹن کے کپڑے لائے جب ہم منیٰ میں پہنچے تو ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک شلوار اور جبہ خریدا ۔ وہاں پر ایک شخص اجرت پر وزن کرتا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ثمن دے کر کہا ان کا وزن کرو اور تولو اور تول ذرا زیادہ رکھنا ۔ اسی حدیث کو سفیان نے سماک بن حرب سے روایت کیا ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، أَنْبَأَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ← عبد الله بن إسحاق الخزاعي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2230

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2231

2231 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَفْوَانَ، يَقُولُ: بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَاوِيلَ، «فَوَزَنَ لِي فَأَرْجَحَ» أَبُو صَفْوَانَ كُنْيَةُ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ هُمَا وَاحِدٌ مِنْ صَحَابِيِّي الْأَنْصَارِ. «وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

سمان بن حرب بیان کرے ہیں ابو صفوان فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شلوار بیچی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ثمنون کروایا اور تول زیادہ رکھا ۔ ابو صفوان ، سوید بن قیس کی ہی کنیت ہے اور یہ ایک ہی شخص ہے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں اور یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبَا صَفْوَانَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← شُعْبَةُ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أحمد بن مهدي بن رستم الأصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2231

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2232

2232 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْكَيْلِ وَالْوَزْنِ: «إِنَّكُمْ قَدْ وُلِّيتُمْ أَمْرًا فِيهِ هَلَكَةُ الْأُمَّةِ السَّالِفَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2232 - حسين بن قيس ضعفوه

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تولنے اور ماپنے والوں سے فرمایا تم نے ایسا پیشہ اپنا رکھا ہے ( جس میں کوتاہی کی وجہ سے ) سابقہ امتیں ہلاک ہو گئیں ۔ یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ علي بن عبد العزيز

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2232

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2233

2233 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ التَّاجِرُ، حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ كَسْرِ سِكَّةِ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةِ بَيْنَهُمْ، إِلَّا مِنْ بَأْسٍ، أَوْ أَنْ يُكْسَرَ الدِّرْهَمُ، فَيُجْعَلَ فِضَّةً، وَيُكْسَرَ الدِّينَارُ فَيُجْعَلَ ذَهَبًا» وَلَمْ يَذْكُرِ الْأَنْصَارِيُّ فِي حَدِيثِهِ وَالِدَ عَلْقَمَةَ وَذَكَرَهُ الْمُعْتَمِرُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2233 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت علقمہ بن عبداللہ قرنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی گزر گاہ کو توڑنے سے منع کیا ہے البتہ کسی ضرورت کی بناء پر جائز ہے ۔ اور درہموں کو توڑ کر چاندی بنانے اور دیناروں کو توڑ کر سونا بنانے سے منع فرمایا ہے ۔ انصاری نے اپنی حدیث میں علقمہ کے والد کا ذکر نہیں کیاجبکہ معتمر کا ذکر کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ، ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ التَّاجِرُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2233

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2234

2234 - أَخْبَرَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنْبَأَ مَالِكُ بْنُ الْخَيْرِ الزَّبَادِيُّ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ سَعْدٍ التُّجِيبِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْخَمْرَ، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَشَارِبَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَبَايِعَهَا، وَسَاقِيَهَا، وَمُسْقِيَهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ» وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2234 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا اللہ تعالیٰ نے شراب کو بنانے والے ا کو بنوانےوالے ، اس کو پینے والے ، اس کو اٹھانے والے اور جس کی طرف اٹھایا جائے اور اس کے بیچنے والے اس کو پلانے والے اور پلوانے والے پر لعنت فرمائی ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث اس کی شاہد ہے (جو کہ درج ذیل ہے )

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنْبَأَ مَالِكُ بْنُ الْخَيْرِ الزَّبَادِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2234

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2235

2235 - أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ الرَّازِيُّ بِبَغْدَادَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَدْلُ بِنَيْسَابُورَ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنِ اللَّهُ الْخَمْرَ، وَلَعَنَ سَاقِيهَا، وَشَارِبَهَا، وَعَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَبَايِعِهَا وَمُبْتَاعَهَا، وَآكِلَ ثَمَنِهَا»

حضرت عبداللہ ابن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے شراب پر لعنت فرمائی اور اس کے پلانے والے ، پینے والے ، نچوڑنے والے ، نچڑوانے ، اٹھانے والے ، اٹھوانے والے بیچنے والے خریدنے والے اور اس کی کمائی کھانے والے پر ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَائِلٍ، ← فُلَيْحُ بْنُ فُلَيْحٍ، ← الْمُعَافَی بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ الرَّازِيُّ بِبَغْدَادَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَدْلُ بِنَيْسَابُورَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2235

chevron_left Previous
1…8910…21
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section