المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2224
2224 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي حِرْزِةَ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَبْلَ أَنْ يَهْلِكُوا، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِينَا أَبُو الْيَسَرِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ مَعَافِرِيٌّ وَعَلَى غُلَامِهِ بُرْدٌ مَعَافِرِيٌّ وَمَعَهُ ضُبَارَةُ صُحُفٍ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: كَأَنِّي أَرَى فِي وَجْهِكَ سَفْعَةً مِنْ غَضِبٍ. قَالَ: أَجَلْ كَانَ لِي عَلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ الْحَرَامِيِّ مَالٌ، فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ، فَقُلْتُ أَثَمَّ هُوَ؟ قَالُوا: لَا، فَخَرَجَ ابْنٌ لَهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ أَبُوكَ؟ قَالَ: سَمِعَ كَلَامَكَ فَدَخَلَ أَرِيكَةَ أُمِّي. فَقُلْتُ: اخْرُجْ فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ، فَخَرَجَ إِلَيَّ فَقُلْتُ لَهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنِ اخْتَبَأْتَ مِنِّي. قَالَ: أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُكَ وَلَا أَكْذِبُكَ، خَشِيتُ وَاللَّهِ أَنْ أُحَدِّثَكَ فَأَكْذِبَكَ، أَوْ أَعِدَكَ فَأُخْلِفَكَ، وَكُنْتَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: آللَّهِ، وَكُنْتَ وَاللَّهِ مُعْسِرًا؟ فَقُلْتُ: آللَّهِ. قَالَ: آللَّهِ. فَقُلْتُ: آللَّهِ. قَالَ: آللَّهِ. قَالَ: فَنَشَرَ الصَّحِيفَةَ وَمَحَا الْحَقَّ، وَقَالَ إِنْ وَجَدْتَ قَضَاءً فَاقْضِ، وَإِلَّا فَأَنْتَ فِي حِلٍّ، فَأَشْهَدُ لَبَصُرَتْ عَيْنَايَ هَاتَانِ، وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى عَيْنَيْهِ، وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ هَاتَانِ وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، فَأَشَارَ إِلَى نِيَاطِ قَلْبِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا وَوَضَعَ لَهُ، أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَكَذَلِكَ رُوِيَ مُخْتَصَرًا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَرِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ وَحَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي الْيَسَرِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2224 - على شرط مسلم
حضرت عباد ہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے میں اور میرے والد انصار کے اس قبیلے میں ان کے ہلاک ہونے سے پہلے طلب علم کی غرض سے آئے ہماری سب سے پہلی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ابو الیسر سے ہوئی ان کے ساتھ انکا بیٹا تھا ان پر اور ان کے بیٹے پر خاکستری رنگ کی چادر تھی اور ان کے پاس کپڑوں کا ایک گٹھا تھا ۔ میرے والد نے ان سے پوچھا کیا بات ہے ؟ آپ کا چہرہ غصے سے سرخ کیوں ہو رہا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا ہاں فلاں بن فلاں حرامی کے ذمے میرا کچھ مال تھا ۔ میں اس کے گھر گیا اور پوچھا کیا وہ گھر میں ہے ؟ گھرو الوں نےجواب دیا : نہیں پھر اسکا بیٹا باہر نکلا میں نے اس سے پوچھا تیرا باپ کہاں ہے ؟ اس نےجواب دیا وہ آپ کی آواز سن کر میری امی کے پلنگ کے نیچے گھس گیا ہے میں نے آواز لگائی کہ باہر نکلو کیونکہ مجھے سب معلوم ہے کہ تم کہاں ہو ۔ پھر وہ باہر نکل کر آیا تو میں نے اس سے کہا : کیا وجہ ہے ؟ تو مجھ سے یوں چھپتا کیوں پھر تا ہے ؟ اس نے کہا خدا کی قسم میں جو بھی کہوں گا سچ کہوں گا اور تیرے ساتھ جھوٹ نہیں بولوں گا ۔ خدا کی قسم ! مجھے یہ خدشہ تھا کہ اگر میں تیرے ساتھ ہم کلام ہوا تو جھوٹ بولنا پڑے گا یا وعدہ کرنا پڑے گا جو میں پورا نہ کرسکوں گا حالانکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی ہوں ۔ میں نے کہا کیا تم اللہ کی قسم کھاکر یہ بات کہہ رہے ہو؟ کہ تم واقعی تنگ دست ہو اس نے کہا جی ہاں میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تنگدست ہوں ۔ میں نے پھر اس کو اللہ کی قسم دلائی اس نے پھر قسم کھا لی ( عبادہ ) فرماتے ہیں پھر اس نے رجسٹر نکالا اور اس کا حق مٹا دیا اور کہا اگر تیرے پاس قرضہ کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز ہے تو دے دو ورنہ جب ادا کر سکو کر دینا پھر انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں آنکھوں پر رکھ کر کہا میری یہ دونوں آنکھیں گواہ ہیں اور اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر کہا ۔ میرے ان دونوں کانوں نے سنا ہے اور اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اور میرے دل نے اس کو یاد کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی تنگدست کو مہلت دے گا اور اس کو معاف کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سایہ (رحمت) میں جگہ دے گا ۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ یونہی یہ حدیث زید بن اسلم اور ربعی بن میراش اور حنظلہ بن قیس نے ابوالیسر سے روایت کی ہے ۔
وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَبْلَ ← خَرَجْتُ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أبي حرزة يعقوب بن مجاهد ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2224
