المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2212
2212 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا حَيْثُ تُوضَعُ الْجَنَائِزُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ قِبَلَ السَّمَاءِ، ثُمَّ خَفَضَ بَصَرَهُ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ التَّشْدِيدِ» قَالَ: فَعَرَفْنَا وَسَكَتْنَا، حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ؟ قَالَ: «فِي الدَّيْنِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قُتِلَ رَجُلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2212 - صحيح
محمد بن حجش بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے جہاں پر جنازے رکھے جاتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا پھر اپنی آنکھوں کو جھا لیا اور اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ کر بولے " سبحان اللہ ، سبحان اللہ اور کتنی سختی ہے جو اللہ نے نازل کی ہے ( محمد بن حجش رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں ہم سمجھ گئے اور خاموش رہے ۔ اگلے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سی سختی ہے ؟ جو اللہ نے نازل کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( وہ سختی) قرضے میں ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر کوئی شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جائے لیکن اس کے اوپر قرضہ ہو ، اللہ تعالیٰ اس کو اس وقت تک جنت میں داخل نہیں کرئے گا جب تک وہ اپنا قرضہ نہ ادا کر دے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا۔
محمد بن جحش ← أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ، ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ
Hadith 2212
