Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2212

2212 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا حَيْثُ تُوضَعُ الْجَنَائِزُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ قِبَلَ السَّمَاءِ، ثُمَّ خَفَضَ بَصَرَهُ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ التَّشْدِيدِ» قَالَ: فَعَرَفْنَا وَسَكَتْنَا، حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ؟ قَالَ: «فِي الدَّيْنِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قُتِلَ رَجُلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2212 - صحيح

محمد بن حجش بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے جہاں پر جنازے رکھے جاتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا پھر اپنی آنکھوں کو جھا لیا اور اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ کر بولے " سبحان اللہ ، سبحان اللہ اور کتنی سختی ہے جو اللہ نے نازل کی ہے ( محمد بن حجش رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں ہم سمجھ گئے اور خاموش رہے ۔ اگلے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سی سختی ہے ؟ جو اللہ نے نازل کی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( وہ سختی) قرضے میں ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر کوئی شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جائے لیکن اس کے اوپر قرضہ ہو ، اللہ تعالیٰ اس کو اس وقت تک جنت میں داخل نہیں کرئے گا جب تک وہ اپنا قرضہ نہ ادا کر دے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا۔

محمد بن جحش ← أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ، ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Hadith 2212

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2213

2213 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ: «هَا هُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟» فَسَكَتَ الْقَوْمُ، وَكَانَ إِذَا ابْتَغَاهُمْ بِشَيْءٍ سَكَتُوا، ثُمَّ قَالَ: هَا هُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ: هَذَا فُلَانٌ. فَقَالَ: «إِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ حُبِسَ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ، بِدَيْنٍ كَانَ عَلَيْهِ» فَقَالَ رَجُلٌ: عَلَيَّ دَيْنُهُ. فَقَضَاهُ وَهَكَذَا رَوَاهُ فِرَاسٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کیا یہاں پر فلاں قبیلے کا کوئی آدمی موجود ہے ؟ لوگ خاموش رہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ عادت تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کسی چیز کے متعلق دریافت کرتے تو وہ خاموش رہتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا یہاں پر فلاں قبیلے کا کوئی آدمی موجود ہے ؟ تو ایک شخص بولا : یہ فلاں آدمی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا ساتھی جنت کے دروازے پر روک دیا گیا ہے کیونکہ اس کے ذمہ قرضہ تھا ( جو اس نے ادا نہیں کیا تھا ) اس شخص نے کہا : اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے پھر اس نے وہ قرضہ ادا کر دیا ۔ اسی طرح یہ حدیث فراس سے شعیبہ سے روایت کی ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَبْدِيُّ، ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل،

Hadith 2213

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2214

2214 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ، عَنْ فِرَاسٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: «هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟» فَنَادَى ثَلَاثًا لَا يُجِيبُهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي مَاتَ بَيْنَكُمْ قَدِ احْتُبِسَ عَنِ الْجَنَّةِ مِنْ أَجْلِ الدَّيْنِ الَّذِي عَلَيْهِ، فَإِنْ شِئْتُمْ فَافْدُوهُ، وَإِنْ شِئْتُمْ فَأَسْلِمُوهُ إِلَى عَذَابِ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِخِلَافٍ فِيهِ مِنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ "

فراس نے شعبی کے واسطے سے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور فرمایا: کیا یہاں پر کوئی فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہی جملہ دہرایا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی جو تم میں سے فوت ہو گیا ہے وہ اپنے قرضیہ کی وجہ سے جنت کے دروازے پر روک دیا گیا ہے ۔ اگر تم چاہو تو اسکی طرف سے قرضہ ادا کرو اور اگر تم چاہو تو اس کو اللہ کے عذاب کے سپرد کر دو۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اس میں سعید بن مسروق کے متعلق اختلاف کی وجہ سے شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

«إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي مَاتَ بَيْنَكُمْ قَدِ احْتُبِسَ ← «هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟» فَنَادَى ثَلَاثًا لَا يُجِيبُهُ أَحَدٌ، ثُمَّ ← صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ← فِرَاسٍ، ← يَزِيدَ الدَّالاَنِيِّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← فِرَاسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2214

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2215

2215 [ص:31] أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ بْنِ مُشَنَّجٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. وَلِمُعْتَذَرٍ أَنْ يُعَلِّلَ رِوَايَةَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَفِرَاسِ بْنِ يَحْيَى مِنْ رِوَايَةِ الْأَئِمَّةِ الْأَثْبَاتِ عَنْهُمَا بِمِثْلِ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

مذکورہ سندکے ہمراہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی فرمان منقول ہے ۔ کسی عذر پیش کرنے والے کے لیے یہ گنجائش موجود ہے کہ وہ اس جیسی روایت کی بنا پر قابل اعتماد ائمہ کی روایت میں سے اسماعیل بن ابی خالد اور فراس بن یحیٰ کی روایت کو معلل قرار دے دے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← سمعان بن مشنج ← الشَّعْبِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَرَّاقُ، ← سمعان بن مشنج ← الشَّعْبِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ، ← [ص:149]

Hadith 2215

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2216

2216 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَيْوَةَ بْنَ شُرَيْحٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ «لَا تَحْتِفُوا أَنْفُسَكُمْ» فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا نَحْتِفُ أَنْفُسَنَا؟ قَالَ: «بِالدَّيْنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2216 - صحيح

حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے آپ کو مصیبت میں مبتلا مت کرو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا ہم اپنے آپ کو مصیبت میں کیسے گرفتار کر سکتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کے ساتھ ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا۔

لِأَصْحَابِهِ «لَا تَحْتِفُوا أَنْفُسَكُمْ» فَقِيلَ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ ← شُعَيْبِ بْنِ زُرْعَةَ، ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2216

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2217

2217 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ فَارَقَ الرُّوحَ وَالْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ، دَخَلَ الْجَنَّةَ: الْغُلُولُ وَالدَّيْنُ وَالْكِبْرُ " تَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ فِي إِقَامَةِ هَذَا الْإِسْنَادِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2217 - تابعه أبو عوانة على شرط البخاري ومسلم

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مرتے وقت تین چیزوں سے بری ہو گا وہ جنت میں جائے ۔1۔ دھوکہ دہی ۔2۔ قرض۔3۔ تکبر ۔ اس حدیث کو سند کو قائم رکھنے میں قتادہ سے روایت کرنے میں ابو عوانہ نے قتادہ کے متابعت کی ہے ۔ جیسا کہ درج ذیل ہے ۔

ثَوْبَانَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← عبد الوهاب بن عطاء أنبأ سعيد ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل،

Hadith 2217

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2218

2218 - أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ مَاتَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ، الْكِبْرُ وَالْغُلُولُ وَالدَّيْنُ دَخَلَ الْجَنَّةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ تین چیزوں تکبر ، دھوکا دہی اور قرضے سے بری ہو وہ جنتی ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

ثَوْبَانَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ،

Hadith 2218

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2219

2219 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، وَدَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجِسْتَانِيُّ، قَالُوا: أَنْبَأَ هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرَافِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ «وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِرِوَايَةَ الثَّوْرِيِّ قَالَ فِيهَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَلَى حِفْظِهِ وَإِتْقَانِهِ أَعْرَفُ بِحَدِيثِ أَبِيهِ مِنْ غَيْرِهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2219 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تک قرضہ ادا نہ کردیا جائے اس وقت تک مومن کی روح ( لٹکتی) رہتی ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا کیونکہ ثوری کی روایت میں مسعد بن ابراہیم اور ابو سلمہ کے درمیان عمر بن ابی سلمہ کا واسطہ ہے اور ابراہیم بن سعید اپنے حفظ اور اتقان کی وجہ سے اپنے والد کی احادیث دوسروں سے زیادہ جانتےتھے ۔

دعلج بن أحمد السجستاني ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Hadith 2219

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2220

2220 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَرْثَدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهً حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تک قرضہ ادا نہ کر دیا جائے اس وقت تک مومن کی روح معلق ( لٹکتی ) رہتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَکَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَرْثَدِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ← أَبِيهِ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2220

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2221

2221 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ إِبْلِيسَ يَئِسَ أَنْ تُعْبَدَ الْأَصْنَامُ بِأَرْضِ الْعَرَبِ، وَلَكِنَّهُ سَيَرْضَى بِدُونِ ذَلِكَ مِنْكُمْ بِالْمُحَقَّرَاتِ مِنْ أَعْمَالِكُمْ، وَهِيَ الْمُوبِقَاتُ، فَاتَّقُوا الْمَظَالِمَ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّ الْعَبْدَ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ مَا يَرَى أَنَّهُ يُنَجِّيهِ، فَلَا يَزَالُ عَبْدٌ يَقُومُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ إِنَّ فُلَانًا ظَلَمَنِي مَظْلَمَةً، فَيُقَالُ: امْحُوا مِنْ حَسَنَاتِهِ حَتَّى لَا يَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2221 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ سر زمین عرب پر بتوں کی عبادت کی جائے گی لیکن وہ اس کے علاوہ تمہارے چھوٹے چھوٹے ہلاکت خیز اعمال پر پُر امید ہے اس لیے جب تک ہو سکے ظلم سے بچو کیونکہ ایک بندہ قیامت کے دن آئے گا اور اس کے پاس اتنی نیکیاں ہو ں گی کہ وہ سمجھ رہا ہو گا کہ ان سے اس کی نجات ہو جائے گی پھر کوئی نہ کوئی بندہ اللہ کی بارگاہ میں اس کے متعلق عرض کرتا رہے گا یا اللہ اس بندے نے مجھ پر ظلم کیا تھا تو اس کی نیکیاں مظلوم کو دی جاتی رہیں گی یہاں تک کہ اس کے نامہ اعمال میں کوئی نیکی نہیں بچے گی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم الهجري ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Hadith 2221

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2222

2222 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي أَمْرِهِ، وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَلَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ، وَلَا دِرْهَمٌ، وَلَكِنَّهَا الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ، وَمَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ وَهُوَ يَعْلَمُ، لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ، وَمَنْ قَالَ فِي مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ، حُبِسَ فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ حَتَّى يَأْتِيَ بِالْمَخْرَجِ مِمَّا قَالَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2222 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے حدود اللہ میں ناحق سفارش کی اس نے اللہ کی معاملہ میں اسکی نافرمانی کی اور جو شخص وفات کے وقت مقروض ہو تو وہاں ( محشر میں ) ادائیگی کے لیے درہم و دینار نہیں ہیں بلکہ وہاں تو نیکیاں اور گناہ ہیں اور جو شخص جان بوجھ کر حق جھگڑا کر کے وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے جب تک اس سے نکل نہ آئے اور جس شخص نے کسی مومن پر الزام لگایا اس کو درغتہ الخبال ( جہنم کی ایک وادی ) میں قید کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اپنے الفاظ واپس لے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا۔ عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے حدود اللہ میں سفارش کی اس نے اللہ کے معاملے میں اس کی مخالفت کی اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کے ذمہ قرضہ ہو تو وہاں پر قرضہ کی ادائیگی کے لیے کوئی درہم و دینار نہیں ہے بلکہ وہاں تو نیکی اور گناہ ہیں اور جو شخص جان بوجھ کر ناحق جھگڑا کرے وہ جب تک اس سے نکل نہ آئے اس وقت تک اللہ کی ناراضگی میں ہے اور جس شخص نے کسی مومن پر تہمت لگائی وہ اس وقت تک روغۃ الخبال میں رہے گا جب تک کہ اپنی تہمت سے رجوع نہ کرے ( یعنی جب تک توبہ نہ کر لے) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← زُهَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ،

Hadith 2222

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2223

2223 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ وَكَانَ يُدَاينُ النَّاسَ، فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا، فَلَمَّا هَلَكَ قَالَ اللَّهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ، وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا بَعَثْتُهُ يَتَقَاضَى، قُلْتُ لَهُ: خُذْ مَا تَيَسَّرَ، وَاتْرُكْ مَا تَعَسَّرَ، وَتَجَاوَزْ لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا. قَالَ اللَّهُ: فَقَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2223 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک آدمی تھا جس نے کبھی کوئی نیکی کا کام نہیں کیا تھا وہ لوگوں کو قرضہ دیا کرتا تھا اور اپنے سفیر سے کہتا تھا خوشحال سے وصولی کر لو اور تنگدست کو چھوڑ دیا کرو اور معاف کر دیا کرو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دے جب وہ شخص فوت ہوا تو اللہ نے فرمایا کیا تو نے کبھی کوئی نیک کام کیا ؟ اس نےکہا نہیں البتہ میرا ایک غلام تھا اور میں لوگوں کو قرضہ دیا کرتے تھے جب میں اپنے غلام کو قرض کی وصولی کے لیے بھیجتا تو اس کو یہ ہدایت کیا کرتا تھا کہ خوشحال سے وصولی کرنا اور تنگدست کو چھوڑ دینا اور درگزر کرنا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے در گزر کرے۔ اللہ نے فرمایا میں نے تجھےمعاف کر دیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبِي ← شعيب بن الليث بن سعد ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2223

chevron_left Previous
1…789…21
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section