Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2200

2200 - فَحَدَّثْنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، وَأَبُو مُوسَى قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُهْدَةُ الرَّقِيقِ أَرْبَعُ لَيَالٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ عَلَى الْإِرْسَالِ فَإِنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَلَهُ شَاهِدٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2200 - صحيح الإسناد لكن الحسن لم يسمع من عقبة

ہشام الد ستوائی قتادہ کے واسطے سے حضرت عقبہ بن عامر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غلام کی ذمہ داری صرف چار دن تک ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے البتہ اس میں ارسال موجود ہے کیونکہ عقبہ بن عامر سے حسن کا سماع ثابت نہیں ہے ۔ درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کو شاہد ہے ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← هِشَامٌ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← هشام بن علي السدوسي، ← فَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ،

Hadith 2200

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2201

2201 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ حِبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ رَجُلًا ضَعِيفًا وَكَانَ قَدْ سُفِعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةً، فَجَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخِيَارَ فِيمَا اشْتَرَى ثَلَاثًا، وَكَانَ قَدْ ثَقُلَ لِسَانُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْ وَقُلْ: لَا خِلَابَةَ " فَكُنْتُ أَسْمَعْهُ يَقُولُ: لَا خِذَابَةَ، لَا خِذَابَةَ، وَكَانَ يَشْتَرِي الشَّيْءَ وَيَجِيءُ بِهِ أَهْلَهُ، فَيَقُولُونَ: هَذَا غَالٍ فَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَيَّرَنِي فِي بَيْعِي [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2201 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حبان بن منقذ ضعیف آدمی تھے اور کسی صدمے کی وجہ سے انکاذہن بھی کمزور ہو چکا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے خرید کردہ اشیاء میں تین دن کا اختیار دیا تھا ۔ ان کی زبان بھی توتلی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کہا تم تجارت کرتے وقت کہہ دیا کرو " لا خلابۃ" ( یعنی کوئی دھوکہ دہی نہیں چلے گی )۔ میں نے خود ان سے سنا ہے وہ ( زبان کے ثقل کی وجہ سے صحیح لفظ ادا نہ کر پاتے جب وہ " لا خلابۃ" کہتے تو یہ الفاظ نکلتے) لا خذا بۃ لا خذابۃ ۔ وہ کوئی بھی چیز خرید کر گھر لے آیا کرتے تھے اگر گھر والے کہتے کہ تم مہنگے داموں خرید کر لائے ہو تو وہ کہتے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیع میں اختیار دیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Hadith 2201

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2202

2202 - أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ الضَّبِّيُّ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُجَبَّرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَالدَّيْنِ وَلَيْسَ عِنْدَكَ قَضَاءٌ؟ فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ، فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلُهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2202 - ابن مجبر وهاه أبو زرعة وقال النسائي متروك لكن وثقه أحمد

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ قرضہ لیا کرتی تھیں ان سے کہا گیا تم قرضہ کیوں لیتی ہو؟ جبکہ اسکی ادائیگی کا بھی تمہارے پاس کوئی معقول بندوبست نہیں ۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے جو شخص قرضہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسکی مدد کرتا ہے ۔ تو میں اسی مدد کی طلبگار ہو ں۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا اور محمد بن علی بن حسین کے واسطے سے بھی ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایسی ہی روایت منقول ہے ۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے )

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُجَبَّرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← محمد بن غالب بن حرب الضبي ← أبو النضر محمد بن محمد الفقيه

Hadith 2202

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2203

2203 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ، يَقُولُ: كَانَتْ عَائِشَةُ تَدَّانُ، فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَالدَّيْنِ؟ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ» وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ مَيْمُونَةَ "

محمد بن علی فرماتے ہیں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قرضہ لیا کرتی تھیں ان سے پوچھا گیا آپ قرضہ کیوں لیتی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ، جو شخص قرض ادا کرنے کی نیت رکھتا ہو گا، اس کو اللہ تعالیٰ کی مدد ملے گی ۔ اور میں اسی مدد کی متلاشی ہوں ۔ ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی (درج ذیل ) حدیث اس کی شاہد ہے ۔

محمد بن علي ← الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ،

Hadith 2203

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2204

2204 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَحَدَّثَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُذَيْفَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَدَّانُ، فَتُكْثِرُ، فَقِيلَ لَهَا فِي ذَلِكَ فَقَالَتْ: «لَا أَدَعُ الدَّيْنَ، لِأَنَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنًا، فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ»

ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے یہ قرضہ لیا کرتی تھیں اور قرضہ بہت زیادہ ہو جاتا۔ ان سے اس بارے میں پوچھا گیا ( کہ آپ اس قدر زیادہ قرض کیوں لیتی ہیں ) تو انہوں نے جواباً کہا میں قرض لینا چھوڑوں گی کیونکہ مقروض کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد سے اور میں وہی مدد چاہتی ہوں ۔

أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ» ← «لَا أَدَعُ الدَّيْنَ، لِأَنَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنًا، ← مَيْمُونَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَدَّانُ، فَتُكْثِرُ، فَقِيلَ لَهَا فِي ذَلِكَ ← عمران بن حذيفة ← زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ، ← مَنْصُورٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 2204

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2205

2205 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ الْخَلَدِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، فَأَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ مَعَ الدَّائِنِ، حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ، مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يَكْرَهُهُ اللَّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَشَاهِدَهُ حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2205 - صحيح

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ مقروض کے ساتھ ہے جب تک اس کا قرضہ ادا نہ ہو جائے جبکہ وہ ایسے عمل کا مرتکب نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد موجود ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأَسْلَمِيُّ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، فَأَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ← أَبُو نُعَيْمٍ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ الْخَلَدِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،

Hadith 2205

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2206

2206 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَدَايَنَ بِدَيْنٍ، وَفِي نَفْسِهِ وَفَاؤُهُ، ثُمَّ مَاتَ، تَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَرْضَى غَرِيمَهُ بِمَا شَاءَ، وَمَنْ تَدَايَنَ بِدَيْنٍ وَلَيْسَ فِي نَفْسِهِ وَفَاؤُهُ، ثُمَّ مَاتَ، اقْتَصَّ اللَّهُ لِغَرِيمِهِ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2206 - بشر متروك

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرضہ لے اور اس کے دل میں اسکی ادائیگی کا ارادہ ہو ( لیکن وہ قرضہ ادا کیے بغیر ہی ) مر جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے گا اور اس کے قرض خواہ کو اس کی خواہش کے مطابق راضی کر دے گا اور اگر کوئی قرضہ لے لیکن اس کے دل میں اسکی ادائیگی کا ارادہ نہ ہو اور وہ ( ادا کیے بغیر ) مر جائے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے قرض خواہ کو اس سے بدلہ دلوائے گا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← بِشْرِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أبو المثنى

Hadith 2206

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2207

2207 - حَدَّثَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ قُرَيْشٍ قَالَا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَانِ قَطَرِيَّانِ غَلِيظَانِ خَشِنَانِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ثَوْبَيْكَ خَشِنَانِ غَلِيظَانِ وَإِنَّكَ تَرْشَحُ فِيهِمَا فَيَثْقُلَانِ عَلَيْكَ، وَإِنَّ فُلَانًا قَدِمَ لَهُ بَزٌّ مِنَ الشَّامِ فَلَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَأَخَذْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ بِنَسِيئَةٍ إِلَى مَيْسَرَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا يُرِيدُ مُحَمَّدٌ يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِثَوْبِي وَيَمْطُلُنِي فِيهِمَا، فَأَتَى الرَّسُولُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ كَذَبَ قَدْ عَلِمُوا أَنِّي أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ وَأَدَّاهُمْ لِلْأَمَانَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِي وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ رُوِيَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ مُخْتَصَرًا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2207 - على شرط البخاري

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو موٹی کھردری چادریں تھیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی یہ دونوں چادریں بہت موٹی اور کھردری ہیں ۔ آپ کو ان میں پسینہ آتا ہے جس کی وجہ سے آپ کو بہت مشقت ہوتی ہے ۔ فلاں آدمی نے ملک شام سے کاٹن کے کپڑے منگوائے ہیں اگر آپ کی طرف کوئی آدمی بھیج دیں اور اس سے دو چار دیں کشادگی آنے تک ادھار کے طور پر لے آئیں ( تو بہت ہی اچھا ہو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی طرف ایک آدمی بھیجا جس نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پیغام دیا تو اس نے جواباً کہا میں یہ جانتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم چاہتا ہے کہ وہ مجھ سے کپڑا لے لے اور پھر اس کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرتا رہے ( یوں کہہ کر اس نےکپڑا دینے سے انکار کر دیا ) وہ شخص نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس معاملے کی اطلاع دی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جھوٹا ہے تم نے مجھے جانتے ہو کہ میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور سب سے زیادہ امانت کی ادائیگی کا خیال کرتا ہوں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور یہ حدیث شعبہ کے واسطے سے عمارہ بن ابی حفصہ سے مختصراً روایت کی گئی ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ بُرْدَانِ قَطَرِيَّانِ غَلِيظَانِ خَشِنَانِ، فَقُلْتُ: ← عَائِشَةَ ← عِكْرِمَةَ، ← عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ قُرَيْشٍ

Hadith 2207

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2208

2208 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، وَعَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثَوْبَاكَ غَلِيظَانِ فَلَوْ نَزَعْتَهُمَا وَبَعَثَتْ إِلَى فُلَانٍ التَّاجِرِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْكَ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، قَالَ: «فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ ابْعَثْ إِلَيَّ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ؟ فَأَبَى»

شعبہ نے عمارہ بن ابی حفصہ کے واسطے سے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے یہ دونوں کپڑے بہت موٹے ہیں اگر آپ یہ نہ پہنیں اور فلاں تاجر کو پیغام بھیج دیں کہ وہ آپ کو آسانی آنے تک ( قرضے کے طور پر ) دو کپڑے بھیج دے (تو بہت اچھا ہو ) راوی فرماتے ہیں۔ آپ نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ مجھے آسانی آنے تک دو کپرے بھیج دے لیکن اس نے انکار کر دیا ۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← عِكْرِمَةَ، ← عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، وَعَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2208

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2209

2209 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ وَالْحُسَيْنُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَتْ عِيرٌ فَابْتَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا بَيْعًا، فَرَبِحَ أَوَاقٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَتَصَدَّقَ بِهَا بَيْنَ أَبْنَاءِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ: «لَا أَشْتَرِي مَا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ» قَدِ احْتَجَّ الْبُخَارِيُّ بِعِكْرِمَةَ، وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ بِسِمَاكٍ وَشَرِيكٍ «وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2209 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ایک تجارتی قافلہ آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سودا کیا اس سودے میں کافی مقدارمیں سونے کا نفع ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام بنی عبدالمطلب کی اولاد وں میں صدقہ کر دیا اور فرمایا ہم وہ چیزیں نہیں خریدتے جس کو ہمارے نزدیک کوئی قیمت نہیں ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عکرمہ کی اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سماک اور شریک کی روایات نقل کی ہیں ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شَرِيکٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،

Hadith 2209

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2210

2210 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُبَيْدٍ الدَّارِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدَّيْنُ رَايَةُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُذِلَّ عَبْدًا وَضَعَهَا فِي عُنُقِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2210 - بشر واه

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قرضہ زمین میں اللہ تعالیٰ کا جھنڈا ہے جب وہ کسی بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے تو اس کی گردن پر گاڑد یتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اس صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بِشْرُ بْنُ عُبَيْدٍ الدَّارِسِيُّ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ،

Hadith 2210

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2211

2211 - أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا جَدِّي، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ، فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ، وَأَنْتَ الْآخِرُ، فَلَا شَيْءَ بَعْدَكَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَمِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ، وَالْمَغْرَمِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2211 - صحيح

ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کے ہمراہ دعا مانگا کرتے تھے اے اللہ تو ہی اول ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تو ہی آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے ، میں ہر اس جانور سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسکی لگام تیرے ہاتھ میں ہے اور میں گناہ ، کاہلی ، قبر کے عذاب ، دوزخ کے عذاب ، دولت مندی کی آزمائس اور فقر کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں گناہوں کی جگہوں سے اور قرضے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← ابْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ،

Hadith 2211

chevron_left Previous
1…678…21
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section