المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2189
2189 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَاهَانَ الْخَزَّازُ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «بِعْنَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا فَانْتَهَيْنَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2189 - على شرط مسلم وشاهده صحيح
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں " ام ولد " کو بیچا کرتے تھے ۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے ہمیں اس سے روک دیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اس صحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ ایک صحیح حدیث اس حدیث کی شاہد بھی ہے ( جو کہ درج ذیل ہے ۔)
جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَاهَانَ الْخَزَّازُ بِمَكَّةَ،
Hadith 2189
