Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2189

2189 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَاهَانَ الْخَزَّازُ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «بِعْنَا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا فَانْتَهَيْنَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2189 - على شرط مسلم وشاهده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں " ام ولد " کو بیچا کرتے تھے ۔ پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے ہمیں اس سے روک دیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اس صحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ ایک صحیح حدیث اس حدیث کی شاہد بھی ہے ( جو کہ درج ذیل ہے ۔)

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَاهَانَ الْخَزَّازُ بِمَكَّةَ،

Hadith 2189

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2190

2190 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا «نَبِيعُ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2190 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں " ام ولد " کو بیچا کر تے تھے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2190

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2191

2191 - فَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَا: حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدُهَا، فَهِيَ حُرَّةٌ بَعْدَ مَوْتِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ تَابَعَهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سبرَةَ الْقُرَشِيُّ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2191 - حسين متروك

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو عورت اپنے آقا کے لیے بچہ پیدا کر ے تو وہ اس ( آقا) کی موت کے بعد آزاد ہے ۔ یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اس حدیث کو حسین بن عبداللہ سے روایت کرنے میں ابو بکر بن سبرہ نے شریک کی متابعت کی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے ۔ )

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 2191

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2191.1

2191 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، حَدَّثَنَا أَبُو عِصْمَةَ سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُمِّ إِبْرَاهِيمَ: حِينَ وَلَدَتْهُ: «أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2191 - حسين متروك

حضرت ابو بکر بن سبرہ کی سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضر ت ابراہیم پیدا ہو ئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم کی ماں ( ماریہ قبظیہ) کے متعلق فرمایا اس کے بچے نے اس کو آزاد کر ادیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو عِصْمَةَ سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، ← أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببخارى،

Hadith 2191.1

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2192

2192 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَحِبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتَّى يَحْمَرَّ وَيَصْفَرَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي النَّهْي عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتَّى يَزْهِيَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2192 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ہونے سے پہلے گندم کو بیع سے ، سیاہ ہونے سے پہلے انگوروں کی بیع سے اور سرخ یا زرد ہونے سے پہلے کھجوروں کے بیع سے منع فرمایا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحین میں نقل نہیں کیا گیا تاہم اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے نافع کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پکنے سے پہلے کھجوروں کی خرید و فروخت سے ممانعت پر مشتمل حدیث نقل کی ہے ۔

أَنَسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ حُمَيْدٌ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَحِبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2192

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2193

2193 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ السَّاعِدِيَّ، وَابْنَ عَبَّاسٍ يُفْتِي الدِّينَارُ بِالدِّينَارَيْنِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ وَأَغْلَظَ لَهُ، قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا يَعْرِفُ قَرَابَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِي مِثْلَ هَذَا يَا أَبَا أُسَيْدٍ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، وَصَاعُ حِنْطَةٍ بِصَاعِ حِنْطَةٍ وَصَاعُ شَعِيرٍ بِصَاعِ شَعِيرٍ، وَصَاعُ مِلْحٍ بِصَاعِ مِلْحٍ، لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ» فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا هَذَا شَيْءٌ كُنْتُ أَقُولُهُ، وَلَمْ أَسْمَعْ فِيهِ بِشَيْءٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ، وَعَتَيقُ بْنُ يَعْقُوبَ شَيْخٌ قُرَشِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2193 - على شرط مسلم

ابو زبیر مکی بیان کرتے ہیں ابو سعید ساعدی اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یہ فتویٰ دیا کرتے تھے کہ دو دیناروں کے بدلے ایک دینار بیچنا جائز ہے ۔ اس پر ابو اسید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہت سخت گفتگو کی ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ رشتہ داری کے بارے میں پتہ ہو اور وہ اس انداز میں میرے ساتھ سخت بات کرنے کی جراءت کر سکتا ہے ۔ ابو اسید بولے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک دینار ایک دینار کے بدلے ، ایک درہم ایک درہم کے بدلے ایک صاع گندم ایک صاع گندم کے بدلے ایک صاع جو ایک صاع جو کے بدلے ایک صاع نمک ایک صاع نمک کے بدلے میں بیچی جائے تو ان میں ذرا بھی زیادتی کی گنجائش نہیں ہے تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بولے موقف تو میرا بھی یہی ہے لیکن اس سلسلے میں میں نے کوئی حدیث نہیں سن رکھی تھی ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیین میں اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا گیا اور عتیق بن یعقوب قرشی شیخ ہیں اہل مدینہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔

ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا كُنْتُ أَظُنُّ ← لَهُ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ وَأَغْلَظَ لَهُ، ← أَبَا سَعِيدٍ السَّاعِدِيَّ، وَابْنَ عَبَّاسٍ يُفْتِي الدِّينَارُ ← أَبِي الزبير المكي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،

Hadith 2193

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2194

2194 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّمَّارُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَةً، وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا، فَمُرْهُ أَنْ يُعْطِيَنِيَ أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطِهَا إِيَّاهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ» فَأَبَى وَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ فَقَالَ بِعْنِي نَخْلَكَ بِحَائِطِي قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي فَجَعَلَهَا لَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ مِنْ عِذْقٍ رَدَاحٍ لِأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ» مِرَارًا فَأَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ، فَإِنِّي بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَتْ: قَدْ رَبِحْتَ الْبَيْعَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» وَلَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2194 - على شرط مسلم وشاهده ثم ذكر حديث رقم 1295

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں آدمی کا ایک درخت ہے جبکہ میں اس باغ میں رہائش پذیر ہوں ۔ آُ اس کو حکم دے دیں کہ وہ یہ درخت مجھے دیدے تاکہ میں باغ میں ( بے فکر ہو کر ) رہائش رکھ سکوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : یہ درخت اس کو جنت کے ایک درخت کے بدلے دے دو ۔ اس نے انکار کر دیا ۔ حضرت ابو واحداح رضی اللہ عنہ اس آدمی کے پاس گئے اور فرمایا تم یہ درخت مجھے میرے باغ کے عوض بیچ دو۔ اس نے بیچ دیا تو ابو دحداح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بار گاہ میں آئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے وہ درخت اس سے اپنےباغ کے عوض خرید کر اس کو دے دیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو دحداح کے لیے جنت میں کتنے خوشے دار بڑے بڑے درخت ہیں آپ نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی۔ ابوداحداح اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہا اے ام وحداح باغ سے نکلو کیونکہ میں نے یہ باغ جنت کے ایک درخت کے کے عوض بیچ دیا ہے۔ ام وحداح بولی آپ نے بہت نفع بخش سودا کیا ہے یا ( شاید ) اس سے ملتا جلتا کوئی دوسرا جملہ بولا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر " صحیح" ہے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ۔ ( جو کہ درج ذیل ہے ۔ )

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَجُلًا ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أبو نصر عبد الملك بن عبد العزيز التمار ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Hadith 2194

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2195

2195 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْعَدْلُ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ النَّهْدِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عِذْقًا وَقَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عِذْقِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " بِعْنِي عِذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ قَالَ: لَا. قَالَ: «هَبْهُ» قَالَ: لَا. قَالَ: «فَبِعْنِيهِ بِعِذْقٍ فِي الْجَنَّةِ» قَالَ: لَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَأَيْتُ أَبْخَلَ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ»

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی میرے باغ میں فلاں شخص کا ایک درخت ہے جس کی وجہ سے مجھے شدید تکلیف ہوتی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ اس کا جو درخت فلاں شخص کے باغ میں ہے مجھے بیچ دے ۔ اس نے انکار کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہبہ کر دو وہ نہ مانا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر جنت کے درخت کے بدلے بیچ دو م اس نے اس بات سے بھی انکار کر دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اس سے بڑا بخیل شخص آج تک نہیں دیکھا البتہ جو شخص سلام کرنے میں بخیل ہو ( وہ اس سے بھی بڑا بخیل ہے ۔)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ النَّهْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْعَدْلُ

Hadith 2195

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2196

2196 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ أَحْسِبُهُ مِنْ مُرَّةَ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالِ بْنِ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبِي هِلَالُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُمَرَ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ مِنَ الْكَذِبِ أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ، وَكَفَىَ بِالْمَرْءِ مِنَ الشُّحِّ أَنْ يَقُولَ آخُذُ حَقِّي لَا أَتْرُكُ مِنْهُ شَيْئًا» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ فَإِنَّ آبَاءَ هِلَالِ بْنِ الْعَلَاءِ أَئِمَّةٌ ثِقَاتٌ وَهِلَالٌ إِمَامُ أَهْلِ الْجَزِيرَةِ فِي عَصْرِهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2196 - صحيح وآباء هلال ثقات

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ دوہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے اور آدمی کے بخیل ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ یہ کہے میں اپنا پورا حق وصول کر کے رہوں گا اور اس میں سے کچھ بھی نہیں چھوڑوں گا ۔ یہ اسناد صحیح ہے کیونکہ ہلال بن علاء کے آباء ثقات ائمہ ہیں اور ہلال خود اپنے زمانے کے اہل جزیرہ کے امام تھے ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أبو غالب ← أَبُو عُمَرَ بْنُ هِلَالٍ، ← أَبِي هِلَالُ بْنُ عُمَرَ، ← أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالِ بْنِ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ← أَحْسِبُهُ مِنْ مُرَّةَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2196

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2197

2197 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اشْتَرَى صَفِيَّةَ مِنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2197 - على شرط مسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ کلبی سے سات غلاموں کے عوض حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو خریدا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← موسى بن داود الضبي وعفان بن مسلم ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2197

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2198

2198 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فِي عُهْدَةِ الرَّقِيقِ ثَلَاثُ لَيَالٍ» قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: كَيْفَ يَكُونُ هَذَا؟ قَالَ: إِذَا وَجَدَ الْمُشْتَرِي عَيْبًا بِالسِّلْعَةِ، فَإِنَّهُ يَرُدُّهَا فِي تِلْكَ الْأَيَّامِ، وَلَا يَسْأَلُ الْبَيِّنَةَ، فَإِذَا مَضَتْ عَلَيْهِ أَيَّامٌ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرُدَّهَا إِلَّا ببَيِّنَةٍ أَنَّهُ اشْتَرَاهَا، وَذَلِكَ الْعَيْبُ بِهَا وَإِلَّا فَيَمِينُ الْبَائِعِ أَنَّهُ لَمْ يَبِعْهُ وَبِهِ دَاءٌ. هَكَذَا قَالَ سَعِيدٌ وَهَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2198 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غلام کی ذمہ داری تین دن تک ہے سعید فرماتے ہیں میں نے قتادہ سے کہا : یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا جب مشتری عیب پر مطلع ہو تو وہ ان ایام میں لوٹا سکتا ہے اور اس صورت میں اس سے کوئی گواہ بھی نہیں مانگا جائے گا لیکن اگر یہ مدت گزر جائے تو لوٹا نے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس بات پر گواہ پیش کرے کہ خریدتے وقت اس میں عیب موجود تھا ۔ اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے تو پھر اگر بائع قسم کھا ئے کہ اس نے عیب دار حالت میں نہیں بیچا تو اس کی قسم معتبر ہو گی ۔ اسی طرح سعید اور ہمام نے قتادہ سے اور یونس بن عبید نے حسن سے روایت کی ہے ۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل،

Hadith 2198

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2199

2199 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عُهْدَةَ فَوْقَ أَرْبَعٍ» وَأَمَّا خِلَافُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ إِيَّاهُمَا

یونس بن عبید ، حسن کے واسطے سے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چار دن سے زیادہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ ہشام دستوائی کا احتلاف : اس حدیث کی سند میں ہشام دستوائی کا ان کے ساتھ اختلاف ہے ( کیونکہ وہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کے ذریعے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ( ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہیں )۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← الْحَسَنِ، ← هشيم أنبأ يونس بن عبيد ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ،

Hadith 2199

chevron_left Previous
1…567…21
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section