Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2154

2154 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السُّوقِ فَرَأَى حِنْطَةً مُصَبَّرَةً فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَوَجَدَ بَلَلًا، فَقَالَ: «أَلَا مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2154 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن جعفر ، علاء کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پر گندم کا ایک ڈھیر دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈال دیا تو اس میں گیلا پن محسوس کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہم سے دھوکہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ اسماعیل بن جعفر بن ابی کثیر رضی اللہ عنہ کی حدیث :

جَاءَ النَّبِيُّ إِلَى السُّوقِ فَرَأَى حِنْطَةً مُصَبَّرَةً فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَوَجَدَ بَلَلًا، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← سعيد بن أبي مريم انبأ محمد بن جعفر ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ،

Hadith 2154

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2155

2155 - فَأَخْبَرَنَاهُ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صَبِرَةٍ مِنْ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟» فَقَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنِّي» وَقَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» وَأَمَّا شَرْحُ الْحَالِ فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَكُلُّهَا صَحِيحَةٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2155 - رواه مسلم مختصرا

اسماعیل بن جعفر ، ابو العلاء رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر گندم کے ایک ڈھر کے پاس سے ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس ڈھیر میں داخل کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں میں تری محسوس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گندم والے یہ کیا ہے ؟ اس نےجواباً کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش برسنے کی کی وجہ سے یہ گیلی ہو گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس ( گیلی گندم) کو ڈھیر کی اوپر والی جانب کیوں نہیں کیا تاکہ لوگوں کو یہ نظر آتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہمارے ساتھ دھوکہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سہیل کی حدیث ان کے والد کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے ساتھ بددیانتی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ تاہم ان احادیث کی تشریح کو شیخین نے نقل نہیں کیا حالانکہ وہ تمام کے تمام امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیارپر صحیح ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَحَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← فَأَخْبَرَنَاهُ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ،

Hadith 2155

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2156

2156 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَقِيعِ فَرَأَى طَعَامًا يُبَاعُ فِي غَرَائِرَ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَأَخْرَجَ شَيْئًا كَرِهَهُ فَقَالَ: «مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ «وَعَمُّ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ هُوَ الْحَارِثُ بْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2156 - صحيح

حضرت عمیر بن سعید رضی اللہ عنہ اپنے چچا کے حوالے سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ نا تجربہ کاروں کو گندم بیچی جا رہی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اس میں سے کوئی ناپسندیدہ چیز نکل آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہم سے بددیانتی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ یہ حدیث صحیح ہے اور عمیر بن سعید کا چچا ، حارث بن سوید النخعی رضی اللہ عنہ ہے ۔

عَمِّہٖ ← عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2156

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2157

2157 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ، بِالرِّيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي مَالِكٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سِبَاعٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ نَاقَةً مِنْ دَارٍ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ فَلَمَّا خَرَجْتُ بِهَا أَدْرَكَنِي وَاثِلَةُ وَهُوَ يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اشْتَرَيْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بَيَّنَ لَكَ مَا فِيهَا؟ قُلْتُ: وَمَا فِيهَا، إِنَّهَا لَسَمِينَةٌ ظَاهِرَةُ الصِّحَّةِ؟ قَالَ: أَرَدْتَ بِهَا سَفَرًا أَوْ أَرَدْتَ بِهَا لَحْمًا؟ قُلْتُ: أَرَدْتُ بِهَا الْحَجَّ. قَالَ: فَارْتَجِعْهَا. فَقَالَ صَاحِبُهَا: مَا أَرَدْتَ إِلَّا هَذَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ تُفْسِدُ عَلَيَّ. قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَبِيعَ شَيْئًا، إِلَّا بَيَّنَ مَا فِيهِ، وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ عَلِمَ ذَلِكَ إِلَّا بَيَّنَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2157 - صحيح

ابو سباع فرماتے ہیں کہ میں نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی حویلی سے ایک اونٹنی خریدی جب میں اس کو لے کر نکلا تو آگے سے واثلہ آملے وہ اپنے تہہ بند کوگھسیٹتے ہوئے آ رہا تھا ۔ اس نے پوچھا اے عبداللہ ! کیا یہ تم نے خریدی ہے ؟ میں نےکہا جی ہاں ! اس نےکہا اس میں جو عیب ہے وہ اس نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے؟ میں نے کہا اس کو کیا ہوا ہے ؟ بظاہر تو یہ اچھی خاصی صحت مند ہے ۔ اس نے کہا: آپ اس پر سفر کرنا چاہتے ہو یا سفرکے ارادہ سے خریدی ہے ؟ میں نے کہا میں نے حج پر جانے کے لیےیہ خریدی ہے اس نے کہا تو پھر یہ واپس کر دیں اس کے مالک نےکہا یہ تم نے خود ہی پسند کی تھی اللہ تعالیٰ آپ کی صلاح فرمائے تو نے اسکا نقص میرے اوپر ظاہر کر دیا ۔ پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے " کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ عیب بتائے بغیر کوئی عیب دار چیز بیچے " اور جو شخص اس کے عیب کو جانتا ہے اس کے لیے جائز نہیں ہےکہ اس کو چھپائے ۔ یہ حدیث الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أبو سباع ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِکٍ ← أبو جعفر الرازي ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ، بِالرِّيِّ،

Hadith 2157

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2158

2158 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ جَمِيعِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ أَوْ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2158 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کونسا کسب سے زیادہ پاکیزہ یا زیادہ افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا : آدمی کا اپنے ہاتھ کا اپنے ساتھ کمانا اور ہر وہ تجارت جونیکی اور بھلائی پر مشتمل ہو ۔

سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ أَوْ أَفْضَلُ ← خاله أبي بردة: ← جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ ← وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ← شَرِيکٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2158

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2159

2159 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْكَسْبِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «كَسْبٌ مَبْرُورٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَوَائِلُ بْنُ دَاوُدَ وَابْنُهُ بَكْرٌ ثِقَتَانِ وَقَدْ ذَكَرَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ أَنَّ عَمَّ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَإِذَا اخْتَلَفَ الثَّوْرِيُّ وَشَرِيكٌ فَالْحُكْمُ لِلثَّوْرِيِّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2159 - صحيح

حضرت سعید بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے چچا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کونسا کسب سب سے افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ کسب جو شبہ ، جھوٹ اور خیانت سے پاک ہو ۔ یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل کیا ۔ اور وائل بن دائود اور ان کا بیٹا بکردونوں ثقہ ہیں اور یحیٰ بن معین نے یہ ذکر کیا ہے کہ سعید بن عمیر کا چچا براء بن عازب رضی اللہ عنہ ہے اور جب ثوری اور شریک کا اختلاف ہو تو فیصلہ ثوری کے حق میں ہوتا ہے ۔

عَمِّہٖ ← سعيد بن عمير ← وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ

Hadith 2159

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2160

2160 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: «كَسْبُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ، وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ» وَهَذَا خِلَافٌ ثَالِثٌ عَلَى وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَا عَنِ الْمَسْعُودِيِّ وَمَحَلُّهُ الصِّدْقِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2160 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ پاکیزہ " کسب " کونسا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر وہ تجارت جو شبہ ، جھوٹ اور خیانت سے پاک ہو ۔ ابو وائل پر یہ تیسرا اختلاف ہے تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے مسعودی کی روایات نقل نہیں کی ہیں حالانکہ وہ " صدوق " ہیں ۔

قِيلَ ← أَبِيهِ ← عَبَايَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ← وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أحمد بن النضر

Hadith 2160

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2161

2161 - أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي، أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ، قَالَ: فَتَحَمَّلَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ؟» قَالَ: مِنْ مَعْدِنٍ قَالَ: «لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهَا لَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ» فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2161 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے مقروض سے دس دینار لینے تھے جس کی وجہ سے وہ اس مقروض کے پیچھے پڑا ہو اتھا ۔ اس نےکہا خدا کی قسم میں اس وقت تک تیری جان نہیں چھوڑوں گا جب تک تو میرے دیناروں کی ادائیگی نہیں کر دیتا یا تو کوئی ضامن نہیں دینا ( ابن عباس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ضمانت دے دی اور حسب وعدہ و ہ مقرر ہ معیاد پر آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تم نے یہ سونا کہاں سے لیا ہے ؟ اس نےکہا زمین سے نکلا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس میں بھلائی نہیں ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود اس کی جانب سے دیناروں کی ادائیگی کر دی ۔

من معدن. ← لَهُ النَّبِيُّ «مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ؟» ← فَتَحَمَّلَ بِهَا النَّبِيُّ فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ، ← وَاللَّهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي، أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ،

Hadith 2161

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2162

2162 - حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، لَا يَبْقَى فِيهِ أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا، فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ» وَقَدِ اخْتَلَفَ أَئِمَّتُنَا فِي سَمَاعِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنْ صَحَّ سَمَاعُهُ مِنْهُ فَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2162 - سماع الحسن من أبي هريرة بهذا صحيح

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ ہر شخص سود کھا رہا ہو گا۔ اگر کوئی ( بلاواسطہ) سود نہیں کھا رہا ہو گا تو اس کو بھی اس کے اثرات ہر حال پہنچ ہی جائیں گے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حسن کے سماع کے متعلق ہمارے ائمہ میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اگر حسن کا حضرت ابوہریرہ سے سماع ثابت ہو جائے تو یہ حدیث صحیح ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ

Hadith 2162

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2163

2163 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي عَزْرَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُحْتَكَرَ الطَّعَامُ» قَدْ أَخْرَجَ مُسْلِمٌ حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ» وَهَذَا الْحَدِيثُ أَحَدُ مَا يُنْقَضُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَصِحَّ حَدِيثُ صَحَابِيٍّ لَا يَرْوِي عَنْهُ تَابِعِيَّانِ، فَإِنَّ مَعْمَرًا هَذَا لَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَمَّا حَدِيثُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ فَلَيْسَ بِذَلِكَ اللَّفْظِ، وَقَدْ رُوِيَ فِي الزَّجْرِ، عَنِ احْتِكَارِ الطَّعَامِ وَالتَّقَاعُدِ عَنْ مُوَاسَاةِ الْمُسْلِمِينَ فِي الضِّيقِ الْأَخْبَارُ لَابُدَّ مِنْ ذِكْرِهَا فِي هَذَا الْمَوْضِعِ كَمَا دَفَعَ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهِ فِي الْوَقْتِ فَمِنْهَا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2163 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندم ذخیر کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے محمد بن عبداللہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ " ذخیرہ اندوزی" صرف گنہگار ہی کرتا ہے ۔ اور یہ حدیث ان احادیث میں شمار ہوتی ہے جن کے بارے میں صحیح نہ ہونے کا اعتراض ہوتا ہے کیونکہ اس میں صحابی سے روایت کرنے والے تابعی دو نہیں ہیں کیونکہ اس معمر سے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی نے روایت نہیں کی اور قاسم کی ابو امامہ سے روایت کردہ حدیث کے الفاظ یہ نہیں ہے ۔ اور ذخیرہ اندوزی سے ممانعت اور تنگی کے حالات میں مسلمانوں کی امداد نہ کرنے پر سختی کے سلسلے میں متعدد احادیث مروی ہیں ۔ اس مقام پر ان کا ذکر ضروری ہے ( جیسا کہ ایک وقت میں مسلمانوں نے ا س ذمہ داری کو نبھا یا تھا )۔پہلی حدیث۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ ← جَابِرٍ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أحمد بن حازم بن أبي عزرة ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 2163

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2164

2164 - مَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَالِمِ بْنِ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُحْتَكِرُ مَلْعُونٌ» وَمِنْهَا: [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2164 - علي بن سالم ضعيف

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ذخیرہ اندوز لعنتی ہیں ۔ دوسری حدیث ۔

عُمَرَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← علي بن سالم بن ثوبان ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← مَا

Hadith 2164

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2165

2165 - مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ احْتَكَرَ طَعَامًا أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ اللَّهِ وَبَرِئَ اللَّهُ مِنْهُ، وَأَيُّمَا أَهْلِ عَرْصَةٍ أَصْبَحَ فِيهِمُ امْرُؤٌ جَائِعًا، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُمْ ذِمَّةُ اللَّهِ،» وَمِنْهَا: [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2165 - عمرو بن الحصين العقيلي تركوه وأصبع بن زيد الجهني فيه لين

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے چالیس دن تک ذخیرہ اندوزی کی وہ اللہ سے بری ہو گیا اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہو گیا اور کسی حویلی میں اگر ایک شخص بھوکے رات گزارے تو ان تمام ( حویلی والوں) سے اللہ کا ذمہ بری ہو گیا اور وہ اللہ سے بری ہو گئے ( یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق ختم کر بیٹھے) ( تیسری حدیث)

ابْنِ عُمَرَ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← أصبغ بن زيد الجهني ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ، ← مَا

Hadith 2165

chevron_left Previous
1234…21
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section