Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2368

2368 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَهَبَ الْأَنْصَارُ بِالْأَجْرِ كُلِّهِ قَالَ: «لَا، مَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ لَهُمْ وَأَثْنَيْتُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2368 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: سارا اجر تو انصار لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ یہ تو اس حمد و ثناء اور ان دعاؤں کا اثر ہے جو تم نے ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مانگی ہیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

لِلنَّبِيِّ ذَهَبَ الْأَنْصَارُ بِالْأَجْرِ كُلِّهِ ← أَنَسٍ، أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← هشام بن علي ومحمد بن أيوب ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2368

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2369

2369 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرْبِيُّ، قَالَا: ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ آتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنَّكُمْ كَافَيْتُمُوهُ، وَمَنِ اسْتَجَارَكُمْ بِاللَّهِ فَأَجِيرُوهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِلْخِلَافِ الَّذِي بَيْنَ أَصْحَابِ الْأَعْمَشِ فِيهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2369 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جو تم سے اللہ کے نام پر انگے تم اس کو دے دو اور جو تم س ے اللہ کے نام پر پناہ مانگے تو اس کو پناہ دے دو اور جو تمہیں تحفہ دے تم اس کا بدلہ دو اگر بدلہ دینے کے لیے کوی چیز میسر نہ ہو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ تم سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ پورا کر دیا اور جو تم سے اللہ کے نام پر فریاد رسی چاہے تم اس کی فریادرسی دو۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ کیونکہ اس میں اعمش کے شاگردوں میں اختلاف ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرْبِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 2369

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2370

2370 - أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِمَارٍ وَهُوَ يَمْشِي، فَقَالَ: ارْكَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: «إِنَّ صَاحِبَ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ، إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي» قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2370 - على شرط مسلم

حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گدھا لے کر آیا ، اس وقت آپ پیدل چل رہے تھے اس آدمی نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سوارہو جائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جانور کا ملک آگے سوار ہونے کازیادہ حقدار ہے البتہ اگر تم خود ہی مجھے آگے بٹھا دو (تو کوئی حرج نہیں) اس نے کہا تو میں نے ایسا کر دیا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ بِحِمَارٍ وَهُوَ يَمْشِي، فَقَالَ: ارْكَبْ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← إبراهيم بن هلال ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ،

Hadith 2370

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2371

2371 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ، مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2371 - صحيح

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی گمشدہ چیز کو اپنے پا س جگہ دی تو وہ گمشدہ ہی ہے جب تک کہ اس کا اعلان نہ کرواؤ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ،

Hadith 2371

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2372

2372 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: «تُعَرَّفُ وَلَا تُغَيَّبُ، وَلَا تُكْتَمُ، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2372 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ (گری پڑی چیز) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا اعلان کراؤ۔ اس کو غیب مت کرو اور اس کو چھپاؤ مت۔ اگر اس کا مالک آجائے ( اس کو دے دی جائے ) ورنہ اللہ کا مال ہے وہ جسے چاہتا ہے اسے دیتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُطَرِّفٍ ← الْعَلَاءِ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُوسَى، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2372

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2373

2373 - أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2373 - صحيح

حضرت عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجی کا لقطہ (اٹھانے سے) منع فرمایا ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہم نے اس کو نقل نہیں کیا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2373

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2374

2374 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْنَاهُ مِنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورٍ وَيَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي كَنْزٍ وَجَدَهُ رَجُلٌ: «إِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهُ فِي قَرْيَةٍ مَسْكُونَةٍ، أَوْ فِي سَبِيلٍ مَيْتَاءَ، فَعَرِّفْهُ، وَإِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهُ فِي خَرِبَةٍ جَاهِلِيَّةٍ، أَوْ فِي قَرْيَةٍ غَيْرِ مَسْكُونَةٍ، أَوْ غَيْرِ سَبِيلٍ مَيْتَاءَ، فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ» قَدْ أَكْثَرْتُ فِي هَذَا الْكِتَابِ الْحُجَجَ فِي تَصْحِيحِ رِوَايَاتِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ إِذَا كَانَ الرَّاوِي عَنْهُ ثِقَةً وَلَا يُذْكَرُ عَنْهُ أَحْسَنَ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ وَكُنْتُ أَطْلُبُ الْحُجَّةَ الظَّاهِرَةَ فِي سَمَاعِ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَلَمْ أَصِلْ إِلَيْهَا إِلَى هَذَا الْوَقْتِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2374 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو ملنے والے خزانے کے متعلق ارشاد فرمایا اگر تجھے یہ رہائشی علاقے یا ویرانے راستے سے ملا ہے تو اس کا اعلان کر اور اگر تجھے یہ جاہلیت کی ویران جگہ سے یا غیر رہائشی علاقے سے یا غیر ویران راستے سے ملا ہے تو اس میں زمینی دہاتوں میں خمس لازم ہے ۔ عمرو بن شعیب کی روایات کو صحیح قرار دینے میں اس کتاب میں، میں نے کافی دلیلیں ذکر کی ہیں ۔ جب ان سے روایت کرنے والے ثقہ ہو اور ان سے ان روایات سے بڑھ کر زیادہ بہتر روایات ذکر نہیں کی گئیں اور میں مسلسل کسی ایسی دلیل کی تلاش میں رہا جو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے شعیب بن عمرو سے شعیب بن محمد کے سماعت پر بین ثبوت ہو لیکن ابھی تک مجھے ایسی کوئی دلیل نہیں ملی ۔

جده عبد الله بن عمرو ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← سَمِعْنَاهُ مِنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورٍ وَيَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ،

Hadith 2374

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2375

2375 - حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَسْأَلُهُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَةٍ، فَأَشَارَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَى ذَاكَ، فَسَلْهُ. قَالَ شُعَيْبٌ: فَلَمْ يَعْرِفْهُ الرَّجُلُ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: بَطَلَ حَجُّكَ. فَقَالَ الرَّجُلُ فَمَا أَصْنَعُ؟ قَالَ: «أَحْرِمْ مَعَ النَّاسِ، وَاصْنَعْ مَا يَصْنَعُونَ، وَإِذَا أَدْرَكْتَ قَابِلًا، فَحُجَّ وَأَهْدِ» فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَهُ، فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَلْهُ، قَالَ شُعَيْبٌ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَهُ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ قَالَ: مَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقَالَ قُولِي مِثْلُ مَا قَالَا «هَذَا حَدِيثُ ثِقَاتٍ رُوَاتُهُ حُفَّاظٌ، وَهُوَ كَالْآخِذِ بِالْيَدِ فِي صِحَّةِ سَمَاعِ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو هَذَا آخِرُ مَا أَدَّى إِلَيْهِ اجْتِهَادِي مِنَ الزِّيَادَةِ فِي كِتَابِ الْبَيْعِ عَلَى مَا خَرَّجَهُ الْإِمَامَانِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو الْحُسَيْنِ الْقُشَيْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» وَقَدْ ذَكَرْتُ فِي ضِمْنِ هَذَا الْكِتَابِ كُتُبًا قَدْ تَرْجَمَهَا الْبُخَارِيُّ فِي آخِرِ كِتَابِ الْبُيُوعِ فَمِنْهَا كِتَابُ السَّلَمِ، وَكِتَابُ الشَّفَعَةِ، وَكِتَابُ الْإِجَارَةِ، وَكِتَابُ الْحَوَالَةِ، وَكِتَابُ الْحَرْثِ، وَكِتَابُ الْمُزَارَعَةِ، وَكِتَابُ الْمُسَاقَاةِ، وَكِتَابُ الْعَطَايَا، وَكِتَابُ الْهِبَاتِ، وَكِتَابُ الْقِرَاضِ، وَكِتَابُ اللُّقَطَةِ، وَكِتَابُ الْمَظَالِمِ، وَكِتَابُ التَّعَفُّفِ، عَنِ الْمَسْأَلَةِ، وَكِتَابُ الرَّهْنِ، وَكِتَابُ الشَّرِكَةِ، وَكِتَابُ الْعِتْقِ، وَكِتَابُ الْمُكَاتَبِ، وَكِتَابُ الشَّهَادَاتِ، وَكِتَابُ الصُّلْحِ، وَكِتَابُ الشُّرُوطِ، وَكِتَابُ الْوَصَايَا، وَكِتَابُ الْوَقْفِ، وَإِنَّمَا شَرَحْتُهَا فِي آخِرِ هَذَا الْكِتَابِ لِئَلَّا يَتَوَّهَمَ مُتَوَهِّمٌ أَنِّي أَخْلَيْتُ كِتَابَ الْبُيُوعِ عَنْ هَذِهِ الْكُتُبِ وَاللَّهُ الْمُعِينُ عَلَى مَا أُؤَصِّلُهُ مِنْ تَتَبُّعِ آثَارِ الْإِمَامَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ حَسْبِي وَنِعْمَ الْوَكِيلُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2375 - صحيح

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، ایک آدمی عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ایک ایسے شخص کے بارے میں مسئلہ پوچھا ، جس نے حالت احرام میں اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستر ی کی تھی تو انہوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ان سے جا کر مسئلہ پوچھا شعیب فرماتے ہیں ، وہ آدمی ان کو نہ پہچان سکا، اس لیے میں اس کے ساتھ گیا ۔ اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا : تیرا حج ضائع ہو گیا اس آدمی نے کہا تو میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا لوگوں کے ساتھ احرام باندھے رکھو اور جیسے یہ ارکان ادا کرتے ہیں تم بھی کرتےر ہو اور اگلے سال دوبارہ حج کرو اور قربانی دو، وہ شخص لوٹ کر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں بھی اس کے ہمراہ تھا ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر پوچھو میں اس کے ہمراہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرح جواب دیا ۔ پھر ہم دونوں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ کا جواب دیا پھر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اسے کہا تم کیا کہتے ہو ؟ اس نے جواب دیا میں بھی وہی کہتا ہوں جو دونوں بزرگوں نے کہا ہے ۔ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں ھافظ ہیں اور یہ حدیث شعیب بن محمد کے ان کے دادا عبداللہ بن عمر سے سماع کے ثبوت پر مضبوط دلیل ہیں۔

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ النَّيْسَابُورِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ

Hadith 2375

chevron_left Previous
1…18192021
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section