المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2356
2356 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُيِّمَتْ أُمِّي، وَقَدِمَتِ الْمَدِينَةَ، فَخَطَبَهَا النَّاسُ، فَقَالَتْ: لَا أَتَزَوَّجُ إِلَّا بِرَجُلٍ يَكْفُلُ لِي هَذَا الْيَتِيمَ. فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَعْرِضُ غِلْمَانَ الْأَنْصَارِ، فِي كُلِّ عَامٍ فَيُلْحِقُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْهُمْ» قَالَ: فَعُرِضْتُ عَامًا، فَأَلْحَقَ غُلَامًا، وَرَدَّنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَلْحَقْتَهُ وَرَدَدْتَنِي وَلَوْ صَارَعْتُهُ لَصَرَعْتُهُ. قَالَ: «فَصَارِعْهُ» فَصَارَعْتُهُ فَصَرَعْتُهُ فَأَلْحَقَنِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2356 - صحيح
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ماں بیوہ ہو گئی اور مدینہ المنور ہ آتی تو کئی لوگوں نے ان کو پیغام نکاح بھیجا لیکن انہوں نے یہ جواب دیا کہ میں صرف اس شخص سے نکاح کروں گی جو اس یتیم کی پرورش کا ذمہ لے گا تو ایک انصاری شخص نے ( یہ شرط منظور کرتے ہوئے) ان سے نکاح کر لیا ۔ سمرہ فرماتے ہیں ہر سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے لڑکوں کا جائزہ لیا کرتے تھے ان میں سے جو اس قابل ہوتا اس کو ( فوج میں ) شامل کر لیا جتا تھا ، سمرہ فرماتے ہیں ایک سال مجھے بھی پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے لڑکے کو شامل کر لیا اور مجھے واپس بھیج دیا میں نےعرض کیا یار سول اللہصلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس کو شامل کر لیا ہے اور مجھے چھوڑ دیا حالانکہ اگر میں اس سے کشتی کروں تو میں اس کو چت کر سکتاہوں ، حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ میری کشتی کروائی میں نے اسے بچھاڑ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی شامل کر لیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← هُشَيْمٌ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ،
Hadith 2356
