Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2356

2356 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُيِّمَتْ أُمِّي، وَقَدِمَتِ الْمَدِينَةَ، فَخَطَبَهَا النَّاسُ، فَقَالَتْ: لَا أَتَزَوَّجُ إِلَّا بِرَجُلٍ يَكْفُلُ لِي هَذَا الْيَتِيمَ. فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَعْرِضُ غِلْمَانَ الْأَنْصَارِ، فِي كُلِّ عَامٍ فَيُلْحِقُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْهُمْ» قَالَ: فَعُرِضْتُ عَامًا، فَأَلْحَقَ غُلَامًا، وَرَدَّنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَلْحَقْتَهُ وَرَدَدْتَنِي وَلَوْ صَارَعْتُهُ لَصَرَعْتُهُ. قَالَ: «فَصَارِعْهُ» فَصَارَعْتُهُ فَصَرَعْتُهُ فَأَلْحَقَنِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2356 - صحيح

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ماں بیوہ ہو گئی اور مدینہ المنور ہ آتی تو کئی لوگوں نے ان کو پیغام نکاح بھیجا لیکن انہوں نے یہ جواب دیا کہ میں صرف اس شخص سے نکاح کروں گی جو اس یتیم کی پرورش کا ذمہ لے گا تو ایک انصاری شخص نے ( یہ شرط منظور کرتے ہوئے) ان سے نکاح کر لیا ۔ سمرہ فرماتے ہیں ہر سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے لڑکوں کا جائزہ لیا کرتے تھے ان میں سے جو اس قابل ہوتا اس کو ( فوج میں ) شامل کر لیا جتا تھا ، سمرہ فرماتے ہیں ایک سال مجھے بھی پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے لڑکے کو شامل کر لیا اور مجھے واپس بھیج دیا میں نےعرض کیا یار سول اللہصلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس کو شامل کر لیا ہے اور مجھے چھوڑ دیا حالانکہ اگر میں اس سے کشتی کروں تو میں اس کو چت کر سکتاہوں ، حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ میری کشتی کروائی میں نے اسے بچھاڑ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی شامل کر لیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← هُشَيْمٌ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَرَوِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ،

Hadith 2356

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2357

2357 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَيَّانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، أَنَّهُ كَانَ شَرِيكَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ فِي التِّجَارَةِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَالَ: «مَرْحَبًا بِأَخِي وَشَرِيكِي لَا يُدَارِي وَلَا يُمَارِي» وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2357 - صحيح

حضرت سائب بن ابی سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اسلام کے اوائل میں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر تجارت کیا کرتے تھے جس دن مکہ فتح ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بھائی شریک کو خوش آمدید ، نہ کوئی دھوکہ دیں گے اور نہ جھگڑا ہو گا ۔ اس کے بعد باقی حدیث ذکر کی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← وُهَيْبٌ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ ← أحمد بن ملاعب بن حيان ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Hadith 2357

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2358

2358 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَوْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَاهَانَ الْخَرَّازُ بِمَكَّةَ، عَلَى الصَّفَا، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى الْبَقِيعَ وَقَالَ: «لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ» قَدِ اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِهِ «لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ» وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا وَهُوَ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2358 - على شرط البخاري ومسلم وأخرجا منه آخره

حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیع کو حمی بنایا اور فرمایا : اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کی حمی نہین ہے ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے زہری سے روایت کردہ اس کی سند کےہمراہ یونس کی یہ حدیث نقل کی ہے ۔ " لا حمی الا للہ ولرسولہ" لیکن اس انداز مین انہوں نے اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔ حلانکہ یہ صحیح الاسناد ہے ۔

Hadith 2358

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2359

2359 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَلَهُ شَاهِدٌ بِزِيَادَةٍ فِي الْمَتْنِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2359 - على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اضافی) پانی بیچنے سے منع کیا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجد ہے جس کا متن کچھ زیادہ ہے ۔ ( وہ حدیث درج ذیل ہے ) )۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ،

Hadith 2359

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2360

2360 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا دَاوُدُ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ»

حضرت ایاس بن عبدان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضافی پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔

إِيَاسِ بْنِ عَبْدَانَ، ← أَبِي الْمِنْهَالِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَکِّيُّ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ إسماعيل بن قتيبة

Hadith 2360

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2361

2361 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُمْنَعُ نَقْعُ الْبِئْرِ وَهُوَ الرَّهْوُ» قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ أَبِيَ يَقُولُ: إِنَّ الرَّهْوَ أَنْ تَكُونَ الْبِئْرُ بَيْنَ شُرَكَاءَ فِيهَا الْمَاءُ فَيَكُونَ لِلرَّجُلِ فِيهَا فَضْلٌ فَلَا يَمْنَعُ صَاحِبَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» إِنَّمَا اتَّفَقَا مِنْ هَذَا الْبَابِ عَلَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «لَا يُمْنَعْ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2361 - صحيح

حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا " رہو" کنویں کے اضافی پانی کو نہ روکا جائے ۔ عبدالرحمن اپنے والد کا بیان نقل کرتےہیں کہ " رہو" کا مطلب یہ ہے کہ ایک کنواں چند لوگوں کا مشترکہ ہو جس میں پانی ہو ان میں سے ایک آدمی کا حصہ زیادہ ہو تو وہ اپنے ساتھی کو منع نہ کرے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ امام بخاری مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس باب میں زہری کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے سعید اور ابو سلمہ کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کیا ہے ۔ گھاس روکنے کے لیے اضافی پانی نہ روکا جائے ۔

أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← عَائِشَةَ ← أُمِّهِ عَمْرَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 2361

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2362

2362 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَزَّازُ الرَّازِيُّ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَضَى فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ، وَمُذْنِبٍ أَنَّ الْأَعْلَىَ يُرْسِلُ إِلَى الْأَسْفَلِ، وَيَحْبِسُ قَدْرَ كَعْبَيْنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2362 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نرم زمین اور پتلے نالے کے بہاؤ کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا کہ اوپر والا نیچے والے کی طرف پانی چھوڑے گا اور ٹخنوں کے برابر روک سکتا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← أَبِي الرِّجَالِ، ← مالک بن أنس ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَزَّازُ الرَّازِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Hadith 2362

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2363

2363 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ عَنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ، وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ، فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يَرُدَّهُ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2363 - صحيح

حضرت زید بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو اپنے بھائی کی طرف سے مانگے بغیر اور خوش آمدید کیے بغیر کوئی اچھی چیز ملے تو وہ واپس نہ کر ۔ بلکہ اسے قبول کر لے کیونکہ یہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

«مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ ← النَّبِيِّ ← خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ،

Hadith 2363

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2364

2364 - حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ، فِي دَارِهِ بِصَنْعَاءَ وَأَطْعَمَنِي خَزِيرَةً فِي دَارِهِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ، فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا، فَتُخْرِجُهُ لَهُ مِنِّي الْمَسْأَلَةُ، فَأُعْطِيهِ إِيَّاهُ، وَأَنَا كَارِهٌ، فَيُبَارَكُ لَهُ فِي الَّذِي أُعْطِيهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2364 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ سے مانگنے میں اصرار مت کیا کرو کیونکہ خدا کی قسم ! جب تم مجھ سے کوئی چیز مانگتے ہو کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ میں بڑی مشکل سے اس کا سوال پورا کرتا ہوں ( تو اس طرح اسمیں برکت نہیں رہتی اس لیے) برکت اسی میں ہوتی ہے جو میں اپنی خوشی سےدوں ۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔

مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ← أَخِيهِ ← وَهْبَ بْنَ مُنَبِّهٍ، فِي دَارِهِ بِصَنْعَاءَ وَأَطْعَمَنِي خَزِيرَةً فِي دَارِهِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2364

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2365

2365 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، قَالَا: ثنا أَبُو قِلَابَةَ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنِ نُجَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَهْدَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقْحَةً، فَأَثَابَهُ مِنْهَا بِسِتِّ بَكَرَاتٍ، فَتَسَخَّطَهَا الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ فُلَانٍ، أَهْدَى إِلَيَّ لِقْحَةً فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا فِي وَجْهِ بَعْضِ أَهْلِهِ، فَأَثِبْتُهُ مِنْهُ بِسِتِّ بَكَرَاتٍ فَتَسَخَّطَهَا، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا أَنْ تَكُونَ مِنْ قُرَيْشِيٍّ، أَوْ أَنْصَارِيٍّ، أَوْ ثَقَفِيٍّ، أَوْ دَوْسِيٍّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2365 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی تحفہ میں دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاس کے بدلے میں اس کو چھ اونٹ دیے ۔ وہ شخص اتنے پر راضی نہ ہوا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فلاں شخص کی طرف سے مجھے کور عذر بیان کرے گا جس نے مجھے ایک اونٹنی تحفہ دی تھی اور میں نے اس کے گھرانے کے کچھ لوگوں کی (حالت زار ) طرف دیکھتے ہوئے اس کو چھ اونٹ بدلے میں دیے لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ میں صرف قریشی ، انصاری ، ثقفی یا دوسی سے تحفہ قبول کروں گا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ

Hadith 2365

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2366

2366 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ بُجَيْرٍ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَوْهَا لَهُ، فَقَالَ لِي: «احْلُبْهَا وَدَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2366 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے گھرو الوں نے کچھ اونٹیناں دے کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بار گاہ میں بھجیا تا کہ میں وہ اونٹنیاں آپ کو تحفہ دے دی جائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کا دودھ دھولو اور کچھ دودھ تھنوں میں چھوڑ دو ۔

بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ أَهْدَوْهَا لَهُ ← ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ، ← يَعْقُوبَ بْنِ بُجَيْرٍ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← مُسَدَّدٌ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو المثنى

Hadith 2366

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2367

2367 - حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي شَهْرِ رَمَضَانَ سَنَةَ سَبْعٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبِي، حَدَّثَتْنِي أُمُّ خَالِدِ بِنْتُ خَالِدٍ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ، فَقَالَ: «مَنْ تَرَوْنَ أَكْسُو هَذِهِ؟» فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ» قَالَتْ: فَأَتَى بِي فَأَلْبَسَنِيهَا بِيَدِهِ، وَقَالَ: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي» يَقُولُهَا مَرَّتَيْنِ، وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَلَمٍ فِي الْخَمِيصَةِ أَصْفَرَ وَأَحْمَرَ، وَيَقُولُ: «يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سَنَا سَنَا» وَالسَّنَا بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْحَسَنُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2367 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کچھ کپڑے پیش کیے گئے جن میں کالے رنگ کی ایک چھوٹی چادر تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں یہ کس کو پہناؤں گا؟ لوگ خاموش رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس اُم خالد کو بلاؤ( ام خالد) کہتی ہیں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے وہ چادر مجھے اوڑھائی اور فرمایا اس کو استعمال کر کے پرانی اور بوسیدہ کر دو ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو مرتبہ فرمائی ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چادر میں سبز اور زرد رنگ کے نقش و نگار کو دیکھتے ہوئے فرمانے لگے اے ام خالد ! یہ سنا ہے ،یہ سنا ہے حبشی زبان میں سنا کا مطلب " خوبصورت " ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطاب صحیح ہے لیکن دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي، حَدَّثَتْنِي أُمُّ خَالِدِ بِنْتُ خَالِدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو مُسْلِمٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ ← الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، إِمْلَاءً فِي شَهْرِ رَمَضَانَ

Hadith 2367

chevron_left Previous
1…18192021
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section