Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2142

2142 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا كُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ الْمُسْلِمُ مَعَ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» كُلْثُومٌ هَذَا بَصَرِيٌّ قَلِيلُ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ شَاهِدٌ فِي مَرَاسِيلِ الْحَسَنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2142 - كلثوم بن جوشن ضعفه أبو حاتم

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان ایماندار اور سچا تاجر قیامت کے دن شہداء کے ہمراہ ہو گا۔ یہ کلثوم بصری ہیں اور ان کی مرویات بہت کم ہیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے انکی روایات نقل نہیں کیں ۔ حسن کی مراسل میں مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ درج ذیل ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← كُلْثُومُ بْنُ جَوْشَنٍ الْقُشَيْرِيُّ، ← کَثِیْرُ بْنُ ھِشَامِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2142

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2143

2143 - أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایماندار ، سچا تاجر ( قیامت کے دن ) انبیاء کرام ، صدیقین اور شہدا کے ہمراہ ہوں گے۔

«التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← الْحَسَنِ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← سُفْيَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ

Hadith 2143

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2144

2144 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى بِالْمَدِينَةِ، فَوَجَدَ النَّاسَ يَتَبَايَعُونَ، فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ» فَاسْتَجَابُوا لَهُ، وَرَفَعُوا أَبْصَارَهُمْ وَأَعْنَاقَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّ التُّجَّارَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقَى وَبَرَّ وَصَدَقَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2144 - صحيح

حضرت رفاعہ بن رافع رزقی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عیدگاہ کی طرف گئے تو وہاں پر کچھ لوگوں کو خریدو فروخت کرتے پایا تو فرمایا : اے گروہ تاجراں ! تو سب لوگ آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنی گردنیں اور آنکھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھا کر دیکھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک تاجر لوگ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ فاجر ہوں گے ، سوائے ان تاجروں کے جو اللہ سے ڈرنے والےہیں نیکی کرنے والے اور سچ بولنے والے ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور اما م مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ،

Hadith 2144

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2145

2145 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِبْلٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ التُّجَّارَ هُمُ الْفُجَّارُ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ؟ قَالَ: «بَلَى، وَلَكِنَّهُمْ يَحْلِفُونَ فَيَأْثَمُونَ، وَيُحَدِّثُونَ فَيَكْذِبُونَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَقَدْ ذَكَرَ هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ سَمَاعَ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ مِنْ أَبِي رَاشِدٍ، وَهِشَامٌ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ وَأَدْخَلَ أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارِ بَيْنَهُمَا زَيْدَ بْنَ سَلَّامٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2145 - صحيح

حضرت عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک تاجر لوگ گنہگار ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال نہیں کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابا ً فرمایا : ہاں تاجر لوگ قسمیں کھاتے ہیں جسکی وجہ سے گنہگار ہو جاتے ہیں اور گفتگو کے دوران جھوٹ بولتے ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اور ہشام بن ابی عبد اللہ نے ابو راشد سے یحییٰ ابن ابی کثیر کا سماع ثابت کیاہے اور ہشام ثقہ راوی ہیں اور ابان بن یزید عطار نے ( اپنی سند میں ) یحیٰ ابن ابی کثیر اور ابو راشد ) دونوں کے درمیان زید بن سلام کو داخل کیا ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل حدیث میں واضح ہے )۔س

"إنَّ التُّجَّارَ همُ الفُجَّارُ". ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ← أبو راشد الحبراني أنه ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَارِثِيُّ، ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ببغداد

Hadith 2145

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2146

2146 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «التُّجَّارُ هُمُ الْفُجَّارُ، التُّجَّارُ هُمُ الْفُجَّارُ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ؟ قَالَ: «بَلَى، وَلَكِنَّهُمْ يَقُولُونَ فَيَكْذِبُونَ، وَيَحْلِفُونَ فَيَأْثَمُونَ»

ابان بن یزید العطار نے یحییٰ ابن کثیر کے بعد زید بن سلا م کے واسطے سے ابو راشد الجرانی سے روایت کیا ہے کہ عبد الرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تاجر ہی گنہگار ہیں ، تاجر ہی گنہگار ہیں ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال نہیں کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا کیوں نہیں ، لیکن یہ گفتگو میں جھوٹ بولتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں اس لیے گنہگار ہو جاتے ہیں ۔

«التُّجَّارُ هُمُ الْفُجَّارُ، التُّجَّارُ هُمُ الْفُجَّارُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ← أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Hadith 2146

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2147

2147 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ: أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ عُبَيْدٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَفِيضَ الْمَالُ، وَيَكْثُرَ الْجَهْلُ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَتَفْشُوَ التِّجَارَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَإِسْنَادُهُ عَلَى شَرْطِهِمَا صَحِيحٌ إِلَّا أَنَّ عَمْرَو بْنَ تَغْلِبَ لَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ الْحَسَنِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2147 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مال کی کثرک ہو گی ، جاہلوں کی کثرت ہو گی ، فتنے ظاہر ہوں گے اور تجارت عام ہو جائے گی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور اس اسکی سند امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے ۔ا لبتہ عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کا حسن کے علاوہ اور دوسرا کوئی راوی نہیں ہے ۔

عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبِي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ

Hadith 2147

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2148

2148 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ الْعَدْلُ، قَالَا: حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: «لَا أَدْرِي» فَلَمَّا أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: «يَا جِبْرِيلُ، أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟» قَالَ: لَا أَدْرِي حَتَّى أَسْأَلَ رَبِّي فَانْطَلَقَ جِبْرِيلُ فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّكَ سَأَلْتَنِي أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ وَإِنِّي قُلْتُ لَا أَدْرِي، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي فَقُلْتُ: " أَيُّ الْبُلْدَانِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: أَسْوَاقُهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَقَدْ رَوَاهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَعَمْرُو بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْمِقْدَامِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2148 - زهير ذو مناكير هذا منها وابن عقيل فيه لين وله شاهد صحيح ثم ذكر حديث رقم 2149

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بار گاہ میں آیا اور بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہر کی کونسی جگہ سب سے زیادہ بری ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نہیں معلوم ! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت جبریل امین علیہ السلام آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےپوچھا : اے جبریل ! شہر کی کونسی جگہ سب سے زیادہ بری ہے ؟ جبریل نے جواباً کہا مجھے نہیں معلوم میں اپنے رب سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ پھر حضرت جبریل امین علیہ السلام تشریف لے گئے اور کچھ عرصہ کے بعد تشریف لائے اور بولے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا کہ شہر کی سب سے بری جگہ کون سی ہے؟ اور میں نے جواباً کہا تھا کہ مجھے نہیں معلوم میں اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر بتاؤں گا چنانچہ میں نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا تھا کہ شہر کی کونسی جگہ سب سے بری ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا " بازار " یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اور اس حدیث کو قیس بن ربیع اور عمرو بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ابو المقدام کے واسطے سے عبداللہ بن محمدبن عقیل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ ایک صحیح حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد بھی ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ الْعَدْلُ،

Hadith 2148

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2149

2149 - حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِسِنْجَانِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ السَّعْدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ فَقَالَ: «لَا أَدْرِي» قَالَ: فَأَيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ فَقَالَ: «لَا أَدْرِي» فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: «سَلْ رَبَّكَ» فَقَالَ جِبْرِيلُ: مَا نَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَفَضَ انْتِفَاضَةً، كَادَ أَنْ يُصْعَقَ مِنْهُمَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا صَعِدَ جِبْرِيلُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ فَقُلْتَ: لَا أَدْرِي. وَسَأَلَكَ: أَيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ فَقُلْتَ: لَا أَدْرِي. قَالَ: فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَحَدِّثْهُ أَنَّ «خَيْرَ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ، وَأَنَّ شَرَّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2149 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کونسی جگہ سب سے زیادہ اچھی ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا اس نے پوچھا کونسی جگہ سب سے زیادہ بری ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نہیں جانتا، آپ کی خدمت میں حضرت جبریل علیہ السلام آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے یہ بات پوچھ کر آؤ تو جبریل کہنے لگے ہم اللہ تعالیٰ سے کچھ پوچھا نہیں کرتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کپکپی طاری ہو گئی ۔ قریب تھا کہ رسول اللہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہو جاتی جب جبریل علیہ السلام اوپر گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آ پ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوچھ رہے ہیں کہ کونسا مقام سب سے بہتر ہے ؟ اور تم نےجواب دیا کہ میں نہیں جانتا : انہو ں نے پوچھا کونسا مقام سب سے برا ہے ؟ تم نے اس سے بھی لا علمی کا اظہار کر دیا ( عبداللہ ) فرماتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام نے اقرار کر لیا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو بتا دو کہ سب سے بہتر مقام " مساجد " ہیں اور سب سے بر ا مقام " بازار " ہیں ۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِسِنْجَانِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ السَّعْدِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ،

Hadith 2149

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2150

2150 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيَلِيَنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجْهُ الْبُخَارِيُّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2150 - لم يخرجه البخاري وهو على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمای تم میں سے سمجھدار لوگ میرے زیادہ قریب رہا کریں پھر وہ جوا ن کے قریب ہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں اور آپس میں اختلاف مت کیا کرو کہ (اگر تم بے جا اختلاف سے باز نہیں آؤ گے تو ) تمہارے دل بدل جائیں گے اور تم بازار کے فتنہ سے بچ کر رہو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Hadith 2150

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2151

2151 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ عَنِ ابْنِ أبِي أَوْفَى بِهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: 77] الْآيَةَ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ رَجُلًا أَقَامَ سِلْعَةً لَهُ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا مَا لَمْ يُعْطَ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ لَهُ. الْحَدِيثُ وَهَذَا غَيْرُ ذَاكَ بِزِيَادَةِ نُزُولِ الْآيَةِ وَغَيْرِهَا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2151 - صحيح

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنا سامان بیچنے کے لیے کھڑا تھا اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا یہ یہ سامان اس کو اتنے میں پڑا ہے حالانکہ اس کو وہ سامان اتنے میں نہیں پڑا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی " ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانھم ثمنا قلیلا ' ( جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں )(ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ اور حضرت اعمش رضی اللہ عنہ کی ابو صالح کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث نقل کی ہے کہ ایک شخص نے اپنے سامان پر قسم کھائی اس کے بعد پوری حدیث ذکر کی ۔ تاہم اس حدیث میں اور سابقہ حدیث میں نزول آیت اور دیگر اضافہ کا فرق ہے ۔

ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← ابْنِ أبِي أَوْفَى بِهَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الْآيَةَ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، ← اِبْرَاھِیْمَ السَّکْسَکِیَّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Hadith 2151

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2152

2152 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَىَ بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ إِنْ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ أَنْ لَا يُبَيِّنَهُ لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2152 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عقبہ بن عام الجہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو عیب دار چیز اس کا عیب بیان کیے بغیر بیچے۔یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور اما م مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اسے نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاسَۃَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2152

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2153

2153 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، قَالَا: أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا، فَأَعْجَبَهُ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَإِذَا هُوَ بِطَعَامٍ مَبْلُولٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا " وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدٌ وَإِسْمَاعِيلُ ابْنَا جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2153 - رواه مسلم بلفظ آخر

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو گندم بیچ رہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اچھا لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلے کے ڈھیر میں اپنا ہاتھ ڈالا تو اس میں گندم گیلی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا جبکہ اس حدیث کو جعفر ابن کثیر کے بیٹوں محمد اور اسماعیل نے " علاء" کے واسطے سے روایت کیا ہے ۔ محمد بن جعفر رضی اللہ عنہ کی حدیث :

عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Hadith 2153

chevron_left Previous
1234…21
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section