Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2344

2344 - حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْجُرْجَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ، ثنا أَبِي، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَاضَرَةِ وَالْمُنَابَذَةِ» قَالَ الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ: الْمُخَاضَرَةُ أَنْ لَا يُبَاعَ شَيْءٌ مِنْهَا حَتَّى يَحْمَرَّ أَوْ يَصْفَرَّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَقَدْ تَفَرَّدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2344 - صحيح تفرد بإخراجه البخاري

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ، مخاضرہ اور منابذہ سے منع کیا ہے ۔ استاد ابو الولید فرماتے ہیں مخاضرہ کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک کھجوریں نہ بیچی جائیں جب تک سرخ یا زرد نہ وہ جائیں یہ حدیث صحیح الا سناد ہے اور اس کو صرف امام بخار ی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے ۔

الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَاضَرَةِ وَالْمُنَابَذَةِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← اِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ طَلْحَۃَ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْقَاسِمِ، ← حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ ← أَبُو نُعَيْمٍ الْجُرْجَانِيُّ ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ

Hadith 2344

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2345

2345 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ، مَنْ ضَارَّ ضَارَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2345 - على شرط مسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نہ نقصان کرو نہ کراؤ جو کسی کو نقصان دے گا اللہ اس کو نقصان دے اور جو کسی کو مشقت میں مبتلا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو مشقت میں مبتلا کر ے گا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2345

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2346

2346 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ، فَغَسَّلْنَاهُ، وَكَفَّنَّاهُ، وَحَنَّطْنَاهُ، وَوَضَعْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ تُوضَعُ الْجَنَائِزُ عِنْدَ مَقَامِ جِبْرِيلَ ثُمَّ آذَنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَجَاءَ مَعَنَا خُطًى، ثُمَّ قَالَ: «لَعَلَّ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنًا؟» قَالُوا: نَعَمْ، دِينَارَانِ فَتَخَلَّفَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُمَا عَلَيَّ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هُمَا عَلَيْكَ وَفِي مَالِكَ وَالْمَيِّتُ مِنْهُمَا بَرِيءٌ» فَقَالَ: نَعَمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ: «مَا صَنَعَتِ الدِّينَارَانِ؟» حَتَّى كَانَ آخِرَ ذَلِكَ قَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «الْآنَ حِينَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2346 - صحيح

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص فوت ہو گیا ۔ ہم نے اس کو غسل دے کر اور کفن وغیرہ پہنا کر تیار کر کے مقام جبرائیل کے پاس جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں وہاں رکھ دیا پھر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے بلایا آپ ہمارے ساتھ پیدل چلتے ہوئے تشریف لے آئے آپ نے فرمایا: شاید کہ تمہارے اس ساتھی کےذمے کچھ قرضہ ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا جی ہاں! دو دینار ہیں آپ پیچھےہٹ گئے ابو قتادہ نےکہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ دو درہم میں ادا کر دوں گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دونوں درہم اب تیرے ذمہ ہیں اور تیر ے ہی مال سے دیے جائیں گے اور میت اس سے بری ہے ۔ ابوقتادہ نے کہا ٹھیک ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اس کےبعد جب بھی ابو قتادہ کی آپ سے ملاقات ہوتی تو آپ اس سے ان دو دیناروں کے متلق ضرور پوچھتے حتیٰ کہ جب ابو قتادہ نے یہ بتایا کہ میں نے اس کے دو دہم ادا کر دیے ہیں تو آپ نے اس سے پوچھنا چھوڑ دیا اور فرمایا اب اس شخص کو ٹھنڈک پہنچی ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَابِرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Hadith 2346

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2347

2347 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ زِيَادٍ الْفَقِيهُ بِالدَّامَغَانِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرَّهْنُ مَحْلُوبٌ وَمَرْكُوبٌ» قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَكَرِهَ أَنْ يَنْتَفِعَ بِشَيْءٍ مِنْهُ «هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ» وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ لِإِجْمَاعِ الثَّوْرِيِّ وَشُعْبَةَ عَلَى تَوْقِيفِهِ عَنِ الْأَعْمَشِ وَأَنَا عَلَى أَصْلِي أَصَّلْتُهُ فِي قَبُولِ الزِّيَادَةِ مِنَ الثِّقَةِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2347 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رہن کا دودھ دھویا جائے گا اور اس پر سواری کی جائے گی ۔ اعمش فرماتے ہیں میں نے اس حدیث کا تذکرہ ابراہیم سے کیا تو انہوں نے رہن سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانے کو ناپسند کیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا کیونکہ ثوری اور شعبہ دونوں نے اس کو اعمش کے حوالے سے موقف کیا ہے اور میں ثقہ کے جانب سے زیادتی کو قبول کرنے میں اپنے قانون پر عمل پیرا ہوں ۔

الرَّهْنُ مَحْلُوبٌ وَمَرْكُوبٌ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ أبو المثنى ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو العباس أحمد بن زياد الفقيه

Hadith 2347

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2348

2348 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «حَجَرَ عَلَى مُعَاذٍ مَالَهُ، وَبَاعَهُ فِي دَيْنٍ عَلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2348 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ پر قرضے کی وجہ سے ان کا مال بیچ دیا تھا اور ان کو تصرفات سے روک دیا تھا ۔ وہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا

أَبِيهِ ← ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← هشام بن يوسف الصنعاني، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْكَرَابِيسِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 2348

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2349

2349 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ الْأَعْيَنُ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَمِّي عَمْرُو بْنُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ حَدَّثَنِي أَبِي زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اسْتَصْغَرَ نَاسًا يَوْمَ أُحُدٍ مِنْهُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ يَعْنِي نَفْسَهُ وَالْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَسَعْدٌ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَذَكَرَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2349 - صحيح

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں غزوہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بہت کم لوگ رہ گئے تھے جن میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ( یعنی وہ خود ) براء بن عازب رضی اللہ عنہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سعد رضی اللہ عنہ ابو سعدی خدری رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور جابر عبداللہ رضی اللہ عنہ کا نام شامل ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ← عَمِّي عَمْرُو بْنُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ← مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ الْأَعْيَنُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَبَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Hadith 2349

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2350

2350 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مُوسَى قَالَا: أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةَ؛ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يُفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2350 - على شرط مسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۔1۔ بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔2۔ مدہوش سے یہاں تک کہ ہوش میں آجائے ۔3۔سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ بیدار ہو جائے ۔ تبصر: یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

الْمَعْتُوهِ حَتَّى يُفِيقَ، ← ثَلَاثَةَ؛ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، ← رُفِعَ الْقَلَمُ ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أبو الوليد الطيالسي وموسى بن إسماعيل ← أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أبو بكر بن إسحاق وأبو محمد بن موسى

Hadith 2350

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2351

2351 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، مُرَّ عَلَى عَلِيٍّ بِمَجْنُونَةِ بَنِي فُلَانٍ، قَدْ زَنَتْ، وَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِرَجْمِهَا، فَرَدَّهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَقَالَ لِعُمَرَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَرْتَ بِرَجْمِ هَذِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ " قَالَ: صَدَقْتَ فَخَلَّى عَنْهَا. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: «بِالْحَجْرِ عَلَى الْمَجْنُونِ وَالْمَجْنُونَةِ مِمَّا لَا أَعْلَمُ فِيهِ خِلَافًا بَيْنَ الْعُلَمَاءِ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ فلاں قبیلے کی ایک پاگل عورت کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب سے لے کر گزرے ، یہ عورت زنا کی مرتکب ہوئی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے رجم کا حکم دیا تھا ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کو لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا اے امیر المومنین ! اس کو رجم کرنے کا آپ نے حکم دیا ہے ؟انہؤں نے کہا جی ہاں! حضرت علی نے فرمایا : کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۔ 1۔ وہ مجنون جس کی عقل زائل ہو چکی ہے ۔ 2۔سویا ہوا ، یہاں تک کہ اٹھ جائے ۔ 3۔بچہ ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اقرار کرتے ہوئے) کہا آپ سچ کہہ رہے ہیں اور اس خاتون کی سزا معاف کر دی ۔ ابو عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجنون مرد اور عورت پر مواخذہ نہ ہونے کے متعلق میری معلومات کے مطابق علماء کے درمیان کوئی اختلا ف نہیں ۔

أَمَا تَذْكُرُ ← نَعَمْ ← لِعُمَرَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَرْتَ بِرَجْمِ هَذِهِ؟ ← أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِرَجْمِهَا، فَرَدَّهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ مُرَّ عَلَى عَلِيٍّ بِمَجْنُونَةِ بَنِي فُلَانٍ، قَدْ زَنَتْ، ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي،

Hadith 2351

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2352

2352 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الضَّبُعِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَالصُّلْحُ خَيْرٌ} [النساء: 128] فِي رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ قَدْ طَالَتْ صُحْبَتُهَا، وَوَلَدَتْ مِنْهُ أَوْلَادًا، فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَبْدِلَ بِهَا، فَرَاضَتْهُ عَلَى أَنْ تَقَرَّ عِنْدَهُ وَلَا يَقْسِمَ لَهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2352 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (آپ فرماتی ہیں )یہ آیت " والصلخ خیر " ( اور صلح خوب ہے ۔) اس آدمی کے متعلق نازل ہوئی جس کے نکاح میں ایک خآتون تھی وہ کافی عرصہ اس کے نکاح میں رہی اور اس سے کئی بچے بھی پیدا ہوئے پھر اس شخص نے اس کو طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا لیکن اس خاتون نے اپنے شوہر کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اس کو اپنے پاس رکھ لے اور اس کے لیے باری مقررر نہ کرے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الحسن بن علي بن زياد ← أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي

Hadith 2352

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2353

2353 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَوْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، " جَعَلَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ وَأَحْسِبُ فِي ذَلِكَ نَزَلَتْ {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: 128] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2353 - على شرط مسلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں حضرت سودہ رضی اللہ عنہ نے اپنا دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے کر دیا اور میرا یہ خیال ہے کہ درج ذیل آیت انہی کے متعلق نازل ہوئی " اور اگر عورت اپنے شوہر کی زیادتی یا بے رغبتی کا اندیشہ کرے"۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ العباس بن الفضل الأسفاطي

Hadith 2353

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2354

2354 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتِ «الْهُدْنَةُ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَهْلِ مَكَّةَ بِالْحُدَيْبِيَةِ أَرْبَعَ سِنِينَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2354 - بل ضعيف فإن عاصما ضعفوه وهو أخو عبيد الله بن عمر

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل مکہ کے درمیان حدیبیہ والی صلح چار سال تک قائم رہی ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Hadith 2354

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2355

2355 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَنَا زَعِيمٌ، وَالزَّعِيمُ الْحَمِيلُ، لِمَنْ آمَنَ بِي، وَأَسْلَمَ، وَهَاجَرَ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2355 - على شرط مسلم

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر ایمان لائے اور مسلمان ہو جائے میں اس کے لیے جنت کے اندر گھر کا زعیم ( ضامن ) ہوں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← عمرو بن مالك أنه ← أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Hadith 2355

chevron_left Previous
1…18192021
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section