Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2320

2320 - فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ، لَهُ غُنْمُهُ، وَعَلَيْهِ غُرْمُهُ»

حضرت محمد بن زبیدی رضی اللہ عنہ نے زہری کے ذریعے سعید بن مسیب کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ق نے ارشاد فرمایا رہن کو نہیں روکا جائے گا اس کا منافع اس ( کے مالک ) کے لیے ہے اور اس کا تاوان بھی اسی کے ذمہ ہے ۔ معمر بن راشد کی حدیث :

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ← عِمْرَانُ بْنُ بَکَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ← فَحَدَّثَنَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى،

Hadith 2320

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2321

2321 - فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَفِيدُ، ثنا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرَّوَّاسُ، ثنا كُرَيْدٌ أَبُو يَحْيَى، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُغْلَقُ الرَّهْنُ، لَكَ غُنْمُهُ، وَعَلَيْكَ غُرْمُهُ»

حضرت معمر بن راشد رضی اللہ عنہ نے زہری کے ذریعے سعید بن مسیب کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رہن کو اس لیے روکا نہیں جائے گا کہ اس کا منافع تیرے لیے ہو اور اس کا تاوان تیرے ذمے ہو ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← كُرَيْدٌ أَبُو يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرَّوَّاسُ، ← موسى بن زكريا التستري، ← فَحَدَّثْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَفِيدُ،

Hadith 2321

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2322

2322 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ثنا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ: «أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِذَا خَانَ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا» وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2322 - صحيح

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے فریقین اگر ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کریں تو ان دونوں میں تیسرا " میں " ہوتا ہوں اور اگر کوئی خیانت کرے تو میں ان کے درمیان سے نکل جاتا ہوں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Hadith 2322

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2323

2323 - حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْهَاشِمِيُّ بِالْكُوفَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرْزَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَهَبَ هِبَةً، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ يَثِبْ مِنْهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ إِلَّا أَنْ نَكِلَ الْحَمْلَ فِيهِ عَلَى شَيْخِنَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2323 - على شرطهما إلا أن نكل الحمل فيه على شيخنا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ہبہ کرے وہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب تک کہ وہ وہاں سے اٹھ نہ جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کی مگر اس کو روایت کرنا ہمارا مشائخ کے لیے بہت مشکل ہے ۔

النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو أَحْمَدَ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْهَاشِمِيُّ بِالْكُوفَةَ،

Hadith 2323

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2324

2324 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمَنْصُورِ، أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ بِبَغْدَادَ فِي دَارِ الْخِلَافَةِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَتِ الْهِبَةُ لِذِي رَحِمٍ مُحَرَّمٍ لَمْ يَرْجِعْ فِيهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2324 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ذی رحم محرم کو تحفہ دے کر واپس نہیں لیا جا سکتا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ

Hadith 2324

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2325

2325 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدِينِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنَ رُكَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخْرِجَ بَنِي النَّضِيرِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَمَرْتَ بِإِخْرَاجِنَا وَلَنَا عَلَى النَّاسِ دُيُونٌ لَمْ تَحِلَّ، قَالَ: «ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2325 - الزنجي ضعيف وعبد العزيز ليس بثقة

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نصیر قبیلہ کو نکالنے کا فیصلہ کیا تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے ہمیں نکالنے کا فیصلہ کر دیا جبکہ ہمارا بہت سارا قرضہ لوگوں کے ذمہ باقی ہے جس کو ابھی تاریخ نہیں آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( جو چھوڑ سکتے ہو ) چھوڑ دو اور ( جو نہیں چھوڑ سکتے ) وہ جلدی وصول کرلو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يُخْرِجَ بَنِي النَّضِيرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدِينِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الجوهري ببغداد

Hadith 2325

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2326

2326 - حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّامَاتِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَكَّةُ مُنَاخٌ لَا تُبَاعُ رِبَاعُهَا، وَلَا تُؤَاجَرُ بُيُوتُهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «شَاهِدُهُ حَدِيثُ أَبِي حَنِيفَةَ الَّذِي» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2326 - إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر ضعفوه

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مکہ اقامت گاہ ہے اس کے مکانات کو نہ بیچا جائے اور اس کی عمارتوں کو کرایے پر نہ دیا جائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ امام اعظم ابو حنیفہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّامَاتِيُّ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ

Hadith 2326

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2327

2327 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، وَأَبُو جَعْفَرِ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْكَرِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَكَّةُ حَرَامٌ، وَحَرَامٌ بَيْعُ رِبَاعِهَا وَحَرَامٌ أَجْرُ بُيُوتِهَا» قَدْ صَحَّتِ الرِّوَايَاتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ صُلْحًا فَمِنْهَا: [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2327 - عبيد الله بن أبي زياد لين

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مکہ قابل احترام شہر ہے اس کی زمینیں بیچنا اور اس کے مکانات کرایے پر دینا حرام ہے ۔ یہ روایات صحیح ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں صلح کے عالم میں داخل ہوئے ۔ ( ان میں سے ایک حدیث درج ذیل ہے )

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← أبو حنيفة ← الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْكَرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، وَأَبُو جَعْفَرِ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ

Hadith 2327

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2328

2328 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ عَارِمٍ، وَهُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَا: ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَارَ إِلَى مَكَّةَ لِيَفْتَحَهَا قَالَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: «اهْتِفْ بِالْأَنْصَارِ» فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَجِيبُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَجَاءُوا كَأَنَّمَا كَانُوا عَلَى مِيعَادٍ، ثُمَّ قَالَ: " اسْلُكُوا هَذِهِ الطَّرِيقَ وَلَا يَشْرُفَنَّ لَكُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَمَّنْتُمُوهُ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَتَحَهَا اللَّهُ عَلَيْهِ فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ الَّذِي يَلِي الصَّفَا، فَصَعِدَ الصَّفَا، فَخَطَبَ النَّاسَ وَالْأَنْصَارُ أَسْفَلَ مِنْهُ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَخَذَتْهُ الرَّأْفَةُ بِقَوْمِهِ وَالرَّغْبَةُ فِي قَرْيَتِهِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ الْوَحْيَ بِمَا قَالَتِ الْأَنْصَارُ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، تَقُولُونَ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ الرَّأْفَةُ بِقَوْمِهِ وَالرَّغْبَةُ فِي قَرْيَتِهِ» قَالَ: «فَمَنْ أَنَا إِذًا، كَلَّا وَاللَّهِ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ حَقًّا، فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ، وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ» قَالُوا: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا قُلْنَا ذَلِكَ إِلَّا مَخَافَةَ أَنْ يُعَادُونَا. قَالَ: «أَنْتُمْ صَادِقُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ» قَالَ: «فَوَاللَّهِ مَا مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا بَلَّ نَحْرَهُ بِالدُّمُوعِ» وَمِنْهَا [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2328 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ انصار کو بلاؤ ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے آواز دی اے انصار یو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آؤ تو وہ سب لوگ ( اتنی جلدی ) آ گئے گویا کہ انہوں نے پہلے سے وعدہ کر رکھا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا اس راستے سے چلو اور راستے میں جو بھی ملے اسے امن دو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح مکہ سے سرفراز فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ اللہ کا طواف کیا اور دورکعت نوافل ادا کئے پھر کوہ صفا سے متصل دروازے سے باہر نکلے اور کوہ صفا پر چڑھ کر لوگوں کو خطبہ دیا اس وقت انصاری لوگ آپ کے قریب ہی تھے انصاری ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے کہ آدمی بحر حال اپنی قوم پر ہی نرمی کرتا ہے اور اپنے علاقے میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انصاریوں کی یہ گفتگو وحی کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصاریو ! تم یہ کہتے ہو کہ آدمی اپنی قوم پر نرمی کر ہی لیتا ہے اور اپنے علاقے میں دلچسپی لیتا ہے ۔ آپصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو میں کون ہوں ؟ خدا کی قسم ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا سچا رسول ہوں میرا جینا تمہارا ساتھ ہے اور میرا مرنا تمہارے ساتھ ہے ۔ انصاریوں نے جواباً کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تو یہ بات صرف اس خوف کی وجہ سے کی ہے کہیں وہ ہم سے دشمنی نہ کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں سچے ہو ( ابو ہریرہ ) فرماتے ہیں : خدا کی قسم ! ( اس دن لوگ اس قدر روئے) کہ آنسوؤں کے ساتھ ہر شخص کا دامن تر ہو گیا ( ان میں سے ایک حدیث یہ بھی ہے )۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ عَارِمٍ، وَهُدْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ علي بن عبد العزيز ← مَا

Hadith 2328

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2329

2329 - مَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ، وَقَالَ: «اقْتُلُوهُمْ، وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2329 - صحيح

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن چار رمرد اور دو عورتوں کے سوا ہر شخص کو امان دی اور ( ان چھے کے متعلق ) فرمایا یہ اگر تمہیں کعبہ کے پردوں میں لپٹے ہوئے مل جائیں تو ان کو مار ڈالو ( وہ چار مرد یہ تھے ) ۔1۔ حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ ( یہ اس دن بھاگ کر بچ گئے تھے پھر ایمان لے آئےتھے ۔ 2۔ عبداللہ بن خطل ۔3۔ مقیس صبابہ ( بعض روایات میں مقیس بن ضبانہ ہے )۔4۔ حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ ( انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پناہ لے لی تھی پھر انہی کی حفاظت میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر کلمہ پڑھ لیا تھا )

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← السُّدِّيِّ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ الصَّفَّارُ، ← مَا

Hadith 2329

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2330

2330 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثَنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ يُقَالُ لَهُ سَرَّقٌ فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا الِاسْمُ؟ قَالَ: اسْمٌ سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَنْ أَدَعَهُ قُلْتُ وَلِمَ سَمَّاكَ؟ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ مَوَالِيَّ بَاعُونِي، وَاسْتَهْلَكْتُ أَمْوَالَهُمْ، فَأَتَوْا بِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَنْتَ سَرَّقٌ» وَبَاعَنِي بِأَرْبَعِ أَبْعِرَةٍ، فَقَالَ لِلْغُرَمَاءِ الَّذِينَ اشْتَرُونِي: «مَا تَصْنَعُونَ بِهِ؟» قَالُوا: نُعْتِقُهُ. قَالُوا: فَلَسْنَا بِأَزْهَدَ فِي الْآخِرَةِ مِنْكُمْ، فَأَعْتَقُونِي بَيْنَهُمْ، وَبَقِيَ اسْمِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2330 - على شرط البخاري

حضرت زید بن اسلم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اسکندر یہ میں ایک شخص کو دیکھا جس کو " سرق" کہا جاتا ہے میں نے اس سے پوچھا یہ کیا نام ہے ؟ اس نے جواب دیا میرا یہ نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا اور میں اس کو ہر گز نہیں چھوڑ سکتا میں نے پوچھا آپ کا یہ نام کیوں رکھا گیا ؟ اس نے کہا میں مدینہ منورہ آیا اور ان کو خبر دی کہ میرے مالکوں نے مجھے بیچ دیا ہے اور ان کے اموال پلاک ہو گئے ہیں وہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو"سرق" ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اونٹنیوں کے عوض بیچ دیا اور جن تاجروں نے مجھے خریدا تھا آپ نے ان سے کہا تم اس کا کیاکرو گے؟ انہوں نے کہا ہم اس کو آزاد کر یں گے انہوں نے کہا آخرت کی تم سے زیادہ ہمیں ضرورت ہے تو انہوں نے وہیں پر مجھے آزاد کر دیا اور میرا یہ نام باقی بچ گیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

نُعْتِقُهُ. ← لِلْغُرَمَاءِ الَّذِينَ اشْتَرُونِي: «مَا تَصْنَعُونَ بِهِ؟» ← «أَنْتَ سَرَّقٌ» وَبَاعَنِي بِأَرْبَعِ أَبْعِرَةٍ، ← قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ مَوَالِيَّ بَاعُونِي، وَاسْتَهْلَكْتُ أَمْوَالَهُمْ، فَأَتَوْا بِي النَّبِيَّ ← اسْمٌ سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ أَدَعَهُ قُلْتُ وَلِمَ سَمَّاكَ؟ ← رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ يُقَالُ لَهُ سَرَّقٌ فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا الِاسْمُ؟ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Hadith 2330

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2331

2331 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ غَيْرَ مَرَّةٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ أَنْبَأَ شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَأَمَرَنِي بِبَيْعِ أَخَوَيْنِ، فَبِعْتُهُمَا، وَفَرَّقْتُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «أَدْرِكْهُمَا فَارْتَجِعْهُمَا وَبِعْهُمَا جَمِيعًا وَلَا تُفَرِّقْ بَيْنَهُمَا» هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَقَدْ قِيلَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ عَنْ عَلِيٍّ وَهُوَ صَحِيحٌ أَيْضًا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2331 - على شرط البخاري ومسلم غريب

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قیدی آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو بھائی بیچنے کا حکم دیا میں نے ان دونوں کو بیچ دیا اور الگ الگ کر کے بیچا پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر بتایاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو ڈھونڈو اور واپس لو اور اکٹھا بیچو اور ان کو جدانہ کرو۔ یہ حدیث غریب ہے وریہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا اور اس کی سند حکم کے بعد میمون بن ابی شبیب کے واسطے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہے اور یہ بھی صحیح ہے ۔

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← عبد الوهاب بن عطاء أنبأ شعبة ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ غَيْرَ مَرَّةٍ،

Hadith 2331

chevron_left Previous
1…161718…21
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section