Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
المستدرك على الصحيحين

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain

by أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحاكم النيسابوري

8,836 Hadith692 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2296

2296 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا شَرِيكٌ، وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ» قَالَ الْعَبَّاسُ: قُلْتُ لِطَلْقٍ: اكْتُبُ «شَرِيكٌ» وَأَدَعُ «قَيْسٌ» ؟ قَالَ: أَنْتَ أَبْصَرُ. «حَدِيثُ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَلَهُ شَاهِدٌ عَنْ أَنَسٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2296 - على شرط مسلم وشاهده

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو تجھے امانت دے اس کی امانت اس کے سپرد کرو اور جو تم سے خیانت کر ے تم اس سے خیانت مت کرو ۔ عباس فرماتے ہیں میں نے طلق سے کہا کہ میں شریک کا نام لکھتا ہوں اور قیس کو چھوڑ دیتا ہوں ( یہ عمل کیسا ہے ؟) انہوں نے جواب دیا : آپ شریک کی حدیث کو زیادہ سمجھتے ہیں ۔ ابو حصین سے روایت کردہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← شَرِيكٍ وَقَيْسٍ ← طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2296

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2297

2297 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، ثنا ابْنُ شَوْذَبٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جو تجھے امانت دے اس کی امانت ادا کرو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے تم اس کے ساتھ خیانت مت کرو۔

أَنَسٍ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← ابْنِ شَوْذَبٍ ← اَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ ← أحمد بن الفضل العسقلاني ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2297

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2298

2298 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو الْمُثَنَّى، قَالَ: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً، أَوْ يَهَبَ هِبَةً، فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدُ، فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ، فَإِذَا شَبِعَ، قَاءَ، ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ خِلَافًا فِي عَدَالَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ إِنَّمَا اخْتَلَفُوا فِي سَمَاعِ أَبِيهِ مِنْ جَدِّهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2298 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی کے لیے جائز نہیں ہے کہ تحفہ دے کر واپس لے ، سوائے والد کے جو وہ اپنی اولاد کو دیتا ہے ( کہ وہ واپس لے سکتا ہے ) تحفہ دے کر واپس لینے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کتا کھا کھا پیٹ بھر لے ، جب اس کا پیٹ بھر جائے تو قے کر دے اور پھر دوبارہ اس قت کو چاٹنے لگ جائے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ عمرو بن شعیب کی عدالت کے متعلق کوئی اختلاف میری نظر سے نہیں گزرا اختلاف اس بات میں ہے کہ ان کے والد نے ان کے دادا سے سماع کیا ہے یا نہیں ؟

النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ← طَاوْسٍ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو الْمُثَنَّى، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2298

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2299

2299 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَحَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ أَمْرٌ فِي مَالِهَا، إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عُمَرَ الْحَافِظَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ زِيَادٍ الْفَقِيهُ النَّيْسَابُورِيُّ يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْوَرَّاقَ يَقُولُ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ: عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: هُوَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَقَدْ صَحَّ سَمَاعُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مِنْ أَبِيهِ شُعَيْبٍ وَصَحَّ سَمَاعُ شُعَيْبٍ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2299 - صحيح

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عورت کو اپنے مال میں کوئی اختیار نہیں ہے جبکہ اس کا شوہر اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخار ی رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ ( امام حاکم اپنی سند کے ہمراہ بیان کرتے ہیں ) محمد بن علی بن حمد ان وراق نے کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن جنبل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کیا عمروبن شعیب نے اپنے والد سے کسی حدیث کا سماع کیا ہے ؟ انہوں نے جوابا ً کہا وہ عمرو بن شعیب بن محمد عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ شعیب کا اپنے والد شعیب سے سماع ثابت ہے اور شعیب کا اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ وَحَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← هشام بن علي ومحمد بن غالب ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2299

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2300

2300 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْهُ أَدْرُعًا يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ: أَغَصْبٌ يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ عَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ» وَلَهُ شَاهِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا "

حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن اس سے چندزر ہیں ادھار مانگیں، اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ غصب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ یہ عاریت ہے ( اگر یہ ضائع ہو گئی تو) اس کا ضمان دیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے ( جو کہ درج ذیل ہے )

أَبِيهِ ← أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← يزيد بن هارون، أنبأ شريك، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2300

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2301

2301 - أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْقُرَشِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَدْرُعًا وَسِنَانًا فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ؟ قَالَ: «عَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2301 - على شرط مسلم

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن صفوان بن امیہ سے کچھ زرہیں اور نیزے کے پھل عاریتاً لیے ۔ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ عاریت ہے ؟ اس کی ادائیگی کی جائے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( ہاں) یہ عاریت ہے اس کی ادائیگی کی جائے گی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْقُرَشِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2301

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2302

2302 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ» ثُمَّ إِنَّ الْحَسَنَ نَسِيَ حَدِيثَهُ فَقَالَ: هُوَ أَمِينُكَ لَا ضَمَانَ عَلَيْهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2302 - على شرط البخاري

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو تو نے لیا ہے وہ تیرے ہی ذمہ ہے جب تک کہ تو ادا نہ کر دے پھر حسن اپنی حدیث کو بھول گیا اور کہا وہ تیرا " امین " ہے اس پر کوئی ضمان ( تاوان ) نہیں ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل کیا گیا ۔

على اليد ما أخذت حتى تؤديه ثم إن الحسن نسي حديثه ← النَّبِيِّ ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← سعيد بن عامر وعبد الوهاب بن عطاء ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2302

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2303

2303 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بُرْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا جَمَاهِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْغَسَّانِيُّ، بِدِمَشْقَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِيَةٌ، فَدَخَلَتْ حَائِطًا، فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَكُلِّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا «فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا، وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَةِ بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ عَلَى أَهْلِ الْمَاشِيَةِ مَا أَصَابَتْ مَاشِيَتُهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى خِلَافٍ فِيهِ بَيْنَ مَعْمَرٍ وَالْأَوْزَاعِيِّ، فَإِنَّ مَعْمَرًا قَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2303 - صحيح على خلاف فيه بين معمر والأوزاعي

حضرت برا ء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ان کی ایک سرکش اونٹنی تھی ایک دفعہ وہ کسی کےباغ میں گھس گئی اور بہت بربادی کی ( یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوا تو ) آپ نے اس سلسلے میں کچھ کلام کرنے کے بعد یہ فیصلہ فرمایا کہ دن کے وقت باغ والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے باغات کی حفاظت کریں اور رات کے وقت جانور والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو سنبھال کر رکھیں اور جانور والوں کے ذمے اس کی ادائیگی ہے جو ان کے جانوروں نے نقصان کیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے جبکہ اس میں معمر اور اوزاعی کے مابین اختلاف ہے کیونکہ معمر نے یہ حدیث زہری کے واسطے سے حرام بن محیصہ سے ان کے والد سے روایت کی ہے ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← حرام بن محيصة الأنصاري، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ← جَمَاهِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْغَسَّانِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْمِصِّيصِيُّ، ← أَبُو الْوَلِيدِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بُرْدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2303

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2304

2304 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقَدَّاحُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَضَرْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَتَاهُ رَجُلَانِ تَبَايَعَا سِلْعَةً فَقَالَ أَحَدُهُمَا: أَخَذْتُ بِكَذَا وَكَذَا. وَقَالَ الْآخَرُ: بِعْتُ بِكَذَا وَكَذَا. فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي مِثْلِ هَذَا قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِ هَذَا «فَأَمَرَ الْبَائِعَ أَنْ يُسْتَحْلَفَ، ثُمَّ يُخَيَّرَ الْمُبْتَاعُ، إِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ «إِنْ كَانَ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ حَفِظَ فِي إِسْنَادِهِ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، فَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ» قَالَ: أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ أُخْبِرْتُ عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: وَقَالَ حَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُبَيْدٍ "

حضرت عبدالملک بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( وہ فرماتے ہیں کہ ) میں حضرت ابو عبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ان کے پاس دو آدمی آئے جنہوں نے ایک دوسرے کو کوئی چیز بیچی تھی ان میں سے ایک کہہ رہا تھا : میں نے اتنے میں یہ چیز خریدی ہے اور دوسرا کہہ رہا تھا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھا اور آپ کے پاس اسی طرح کا ایک معاملہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فروخت کرنے والے سے کہا کہ وہ قسم کھائے پھر خریدار کو یہ اختیار دے دیا کہ چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے ۔ اگر سعید بن سالم نے اپنی سند میں عبدالملک بن عبید کو محفوظ رکھا ہے تو یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ ہمیں ابو بکر بن اسحق نے عبداللہ بن احمد بن جنبل کے واسطے سے ان کے والد سے محمد بن ادریس شافعی سے حدیث بیان کی ہے اور اس کے آخر میں احمد بن جنبل نے کہا کہ ہشام بن یوسف نے ابن جریج انہوں نے اسماعیل بن امیہ ، انہوں نے عبدالملک بن عبید اور انہوں نے احمد بن جنبل سے روایت کی اور حجاج نے کہا اعور عبدالملک بن عبید ہے ۔

ابْنُ جُرَيْجٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2304

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2305

2305 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ حِمْلَ خَبَطٍ، فَلَمَّا وَجَبَ لَهُ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْتَرْ» فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ مِثْلَكَ بَيِّعًا عَمْرُكَ اللَّهُ مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: «مِنْ قُرَيْشٍ» تَابَعَهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2305 - تابعه ابن وهب عن ابن جريج على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے درخت کی شاخوں کا ایک گٹھہ خریدا ( راوی فرماتے ہیں ) میرا یہ خیال ہے وہ شخص بنی عامر بن صعصعہ میں سے تھا ، جب سودا پکا ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کہا پسند کر لیں دیہاتی نے جوابا ً اللہ تعالیٰ تجھے لمبی عمر دے میں نے آج تک تیرے جیسا سودا گر نہیں دیکھا، تمہارا تعلق کس خاندان سے ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( میرا تعلق ) قریش سے ہے ۔ اس حدیث کو ابن جریج سے روایت کرنے میں ابن وہب نے یحیٰ بن ایوب کی متابعت کی ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

جَابِرٍ ← ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← الْمُعَافَی بْنُ سُلَيْمَانَ ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2305

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2306

2306 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا وَهْبُ بْنُ يَزِيدَ بْنَ مَوْهَبٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى مِنْ أَعْرَابِيٍّ حِمْلَ خَبَطٍ فَلَمَّا وَجَبَ الْبَيْعُ، قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْتَرْ» فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ عَمْرُكَ اللَّهُ بَيِّعًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے درختوں کے گرے ہوئے پتے خریدے جب سودا پکا ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چن لو دیہاتی نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کی تجارت میں برکت دے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل کیا گیا ۔

جَابِرٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، ← وَهْبُ بْنُ يَزِيدَ بْنَ مَوْهَبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2306

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2307

2307 - أَخبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْكُوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْآخِذُ وَالْمُعْطِي سَوَاءٌ فِي الرِّبَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2307 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، سود لینے والا اور دینے والا دونوں (گناہ میں ) برابر کے شریک ہیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبَا الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيَّ ← شُعْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْكُوفِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2307

chevron_left Previous
1…141516…21
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door
2. Science Book
    1. Door
3. The Book of Purity
    1. Door
4. The first book of prayer
    2. Chapter at the prayer timetable3. Chapter on the virtue of the five daily prayers4. Insurance section
5. The Friday Book
    4. Insurance section
6. The two Eid prayers book
    4. Insurance section
7. The Witr Book
    4. Insurance section
8. From the book on voluntary prayer
    4. Insurance section
9. The Omission Book
    4. Insurance section
10. The Ascension Book
    4. Insurance section
11. Eclipse Book
    4. Insurance section
12. The Fear Prayer Book
    4. Insurance section